سرکاری ظہرانہ اور بھٹو صاحب


بھٹو صاحب کے دور میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر، پاکستان کے دورے پر تھے اور انہیں سرکاری ظہرانے پر مدعو کیا گیا۔ بھٹو صاحب نے ظہرانے میں جن لوگوں کو مدعو کیا تھا ان سے ایک روز قبل میٹنگ کی اور تمام ایس او پیز طے ہوئے۔ ظہرانے کے دوران بھٹو صاحب میزبان کی نشست پر بیٹھے تھے۔ ان کی ساتھ والی نشست پر ہنری کسنجر بیٹھے تھے، جبکہ ہنری کسنجر کے مقابل مولانا کوثر نیازی تشریف فرما تھے۔ کھانا لگ چکا تھا کوئی بات چل پڑی اور بھٹو صاحب ذرا تفصیل میں چلے گئے اتنے میں مولانا کوثر نیازی نے سامنے سے ایک انگور کا دانہ اٹھایا اور منہ میں ڈال دیا۔ (بالکل اسی طرح جیسے ہم میں سے اکثر لوگ ضیافتوں میں ابھی میزبان نے شروع ہی نہیں کیا ہوتا اور باقی لوگ کم ازکم سلاد اور رائتے پر ہاتھ صاف کر لیتے ہیں میزبان دراصل اس ضیافت میں مہمان اور دیگر لوگوں کے لیے گائیڈ ہوتا ہے اس کی حیثیت ایک امام کی ہوتی ہے، یہ اخلاقیات کے سخت منافی ہے کہ اس کے طریقہ کار سے ہٹ کر کوئی چیز اٹھائی جائے اور اس کی بھی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بھی عمومیت کا لحاظ رکھے۔ بلکہ یہ اس بات کی غمازی ہوتی ہے کہ نہ یہ اچھے اداروں سے پڑھے ہیں اور نہ ان کی خاندانی تربیت ہوئی ہے۔ )

خیر میں بات کر رہا تھا، کہ جیسے ہی مولانا نے انگور کا دانہ چبایا ہنری کسنجر طنزیہ، مسکرا دیے اور بھٹو صاحب نے سارا معاملہ دیکھ لیا بھٹو صاحب اعلٰی اخلاقیات کی حامل شخصیت تھے۔ انہیں یہ سخت ناگوار گزرا اور چہرہ سرخ ہو گیا۔ کھانا ختم ہوا، مہمانوں کو الوداع کیا گیا مگر مولانا کوثر نیازی کو روک لیا اور خوب غصہ نکالا کہ آپ ذرا سا صبر کا مظاہرہ بھی نہیں کرسکے۔ بھٹو صاحب اعلیٰ ظرف کے مالک تھے، بڑا آدمی وہ ہے جو اپنے سے چھوٹے کی غلطی پر سرزنش تو کرے مگر غصہ اترتے ہی مہربان ماں کی طرح گلے سے لگا لے۔ دوسرے روز غصہ ٹھنڈا ہوا اور مولانا کو گھر چائے پہ مدعو کیا اور معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ اس کے مزید ازالے کے لیے آئندہ الیکشن میں غالباً سانگھڑ سے ٹکٹ دینے کا وعدہ کیا۔ الیکشن قریب آئے مولانا نے الیکشن مہم بڑے زور و شور سے شروع کی اور ایک بڑے جلسے کا اہتمام کر کے بھٹو صاحب کو مدعو کیا۔ بھٹو صاحب جب اسٹیج پر پہنچے تو تاحد نگاہ انسانوں کا سمندر تھا۔ یہ جلسہ پاکستان کے تاریخی جلسوں میں سے ایک تھا۔ بھٹو صاحب بہت خوش تھے اور اپنی تقریر سے لوگوں کا خوب خون گرمایا۔ تقریر ختم کر کے بھٹو صاحب جب جانے لگے تو مولانا نے داد طلب نظروں سے تحسینی کلمات سننے کی خواہش کی تو بھٹو صاحب نے کہا مولانا! آپ یہ حلقہ ہار گئے ہو، مولانا یہ غیر متوقع جواب سن کر جیسے ان کو کرنٹ لگا ہو کہنے لگے بھٹو صاحب وہ کیسے؟

بھٹو صاحب مسکرائے اور کہا،
”مولانا، یہ لوگ خود آئے ہوئے نہیں تھے، لائے ہوئے تھے“
اور پھر ایسا ہی ہوا مولانا وہ حلقہ بری طرح سے ہار گئے۔

Facebook Comments HS