پروفیسر شیر علی: جہالت اور تنزل پذیر معاشرہ


پروفیسر شیر علی کے واقعے پر سب سے اہم نکتہ عبدالستار کا ہے۔ عبدالستار لکھتے ہیں کہ پروفیسر شیر علی ہار گیا اور ہجومی نفسیات یا ”ہرڈ مینٹیلٹی“ جیت گئی۔ روشن خیالی اور علم ہار گیا اور بے ہنگم طاقت جیت گئی، گلیلیو اور جان۔ ٹی۔ سکوپس کو 21 ویں صدی میں پھر سے شکست کا سامنا کرنا پڑ گیا اور کلیسیائی ذہنیت سرخرو ہو گئی۔

علم کی معراج یہ ہے کہ آپ دلیل اور علم سے اس خلا کو پر کریں جس سے جہالت پروان چڑھتی ہے۔ جبر سے کسی شخص کو قائل کرنا انسانی صلاحیت کی معراج نہیں ہے۔ اپنی ہی تعلیمات کو درست ماننا اور اور ان تعلیمات کو جبر کے ذریعے کسی سے منوانا ثابت کرتا ہے کہ یہ علم نہیں ہے بلکہ آپ کی اپنی نظریات ہیں جسے آپ ہر صورت صحیح اور حتمی مانتے ہیں اور ان تعلیمات کو لوگوں سے زبردستی منوائے جاتے ہیں۔ اس عمل میں بعض اوقات ریاست بھی ان کی مد کرتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ پروفیسر شیر علی کے ساتھ جو کچھ ہوا یا جو کچھ کروایا گیا ہے وہ لوگ اس قدر طاقتور کیوں ہے اور انہیں اس قدر معاشرے میں آزاد کیوں چھوڑا گیا ہے کہ وہ کسی بھی شخص پر حملہ آور ہوسکتے ہیں اور ان سے کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے۔ تنزل پذیر معاشرے میں ہر اس شخص کو زد و کوب کیا جاتا ہے جس کی نظریات معاشرے کی اجتماعی نظریات سے مختلف ہے۔ پروفیسر شیر علی کا قصور یہ نہیں تھا کہ انہوں نے طلباء کو ڈارون کے نظریہ ارتقاء سے روشناس کرایا بلکہ اس کا قصور یہ ہے کہ وہ ایسے معاشرے کا حصہ ہے جہاں کسی شخص کو مارنے کے لئے پر تشدد ہجوم کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے اور یہ کام پرتشدد ہجوم سے باآسانی کروایا جاتا ہے۔

ترقی کے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ رجعت پسندوں کا شاخسانہ ہے۔ گویا یہ صرف اپنی تعلیمات کی ترقی چاہتے ہیں۔ یہ لوگ فقط قوت پریقین رکھتے ہیں البتہ سائنسی سوچ سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہے کیونکہ ان کی دکانداری کا بنیاد ہی رجعت پسندانہ نظریات پر ہیں اور اس سے متضاد جتنے نظریات ہیں انہیں جڑ سے اکھاڑنا ان کی پہلی ترجیح ہے۔ ایسے صورت میں پروفیسر شیر علی کا معافی مانگنا بالکل ٹھیک لگتا ہے۔ لیکن سوال پھر بھی وہی کا وہی رہتا ہے کہ یہ لوگ طاقتور کیوں ہے اور ان کی سرپرستی ریاست کیوں کر رہی ہے۔ جہالت اور پسماندگی کو عروج اور رعایتیں ہم نے اپنے ہاتھوں سے بخشے ہیں۔

گلیلیو کی مثال ہم پیش کرتے ہیں تو وہ کیس پروفیسر شیر علی کے کیس سے مختلف ہے اگرچہ گلیلیو نے بھی چرچ سے معافی مانگی تھی تو کم از کم چرچ کو پرتشدد ہجوم جیسے ہتھیار کی مدد حاصل نہیں تھی۔ لہذا یہاں پر گر آپ ایک سائنسی سوچ رکھتے ہیں تو پھر آپ کو صرف ایک طاقت سے نہیں کئی طاقتوں سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔

Facebook Comments HS