پاکستان کا نظام تعلیم قبل مسیح سے بھی بوسیدہ ہے
پاکستان کا نظام تعلیم قبل مسیح سے بھی بوسیدہ ہے بجائے کہ ہم نظام میں کچھ اصلاحات کا سوچے ہم اساتذہ پر چڑھ دوڑے ہیں۔ آپ اگر قبل مسیح ارسطو کے نظام تعلیم کا مطالعہ کریں تو یہ بات آپ پر واضح ہوتی ہو گی کہ بچوں کی تعلیم و تربیت ریاست کی ذمہ داری ہوتی تھی۔ تمام بچوں کو ریاست اپنے زیر سایہ لے لیتی تھی اور پھر ان کے لیے الگ الگ کیٹگریز بنائی گئی تھیں۔ جو سب سے اچھے اور قابل دماغ ہوتے تھے ان کو سیاستدان بنایا جاتا تھا۔
جو اس سے کم دوسرے درجے کے ذہین کو بزنس مین بنایا جاتا تھا۔ جو اس سے بھی کم ذہین ہوتے تھے ان کو سرکاری ملازمتوں میں شامل کیا جاتا تھا اور یہ فیصلہ ریاست بچوں کی نشوونما کے دوران کرتی تھی۔ اس دوران ریاست بچوں کی کس مضمون میں دلچسپی ہے اس بارے مکمل آگاہ رہتی تھی۔ پاکستان کا نظام تعلیم رٹا سسٹم پر قائم شدہ ہے۔ تمام ہی بچوں کے لیے سرکاری سکولوں میں ایک جیسا نصاب ایک جیسے اساتذہ اور ایک جیسا ہی ماحول ہے۔
میٹرک تک نظام تعلیم ایک جیسا اور میٹرک کے بعد بھی بچوں کی کوئی تربیت اس نظریے کے ساتھ نہیں کی جاتی کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ کر سکیں یا وہ یہ فیصلہ کر سکیں کہ ان کی دلچسپی کس مضمون میں ہے وہ اس کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔ یہاں بھی والدین اور اساتذہ کو کلی اختیار ہے وہ فیصلہ کرتے ہیں بچے کو ڈاکٹر، انجینیئر بنانا ہے یا کس فیلڈ میں لے کر جانا ہے بچے سے کوئی نہیں پوچھتا۔ یہ طریقہ کار ہی غلط ہے۔
اگر حکومت اس بنیاد پر نجکاری کر رہی ہے اور سکولوں کو پرائیویٹائز کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اساتذہ کام نہیں کرتے یا سرکاری سکولوں کا رزلٹ اچھا نہیں تو یہ بات ٹوٹلی غلط ہے۔ سب سے پہلے تو آپ یہ دیکھیں کہ آپ سرکاری سکولوں کو بچے کون سے دیتے ہیں۔ وہ والدین جو ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتے ہیں ان کے تو سکولوں کا لیول ہی الگ ہے۔ وہ تو ان سکولوں میں بچے داخل کرواتے ہیں جن کی فیسوں کا عام شخص تصور بھی نہیں کر سکتا۔
دوسرے نمبر پر سرکاری ملازمین مڈل کلاس طبقہ آتا ہے۔ وہ بھی اپنی حیثیت کے مطابق بچے پرائیویٹ سکولز کو ہی دیتے ہیں سرکاری سکولوں میں ان ملازمین کے بچے بھی نہیں جاتے۔ تیسرے نمبر پر وہ طبقات ہے جن کی مالی حیثیت تو اچھی نہیں لیکن ان کو اپنے بچوں کو پڑھانے کا شوق بہت ہے ان کی بھی بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ وہ بچوں کو پرائیویٹ سکول میں داخل کروائیں۔ تو یہاں آپ یہ دیکھیں کہ آپ کی کریم آپ کے سرکاری ملازمین جو بچوں کو پڑھانے کے خواہشمند ہوتے ہیں جنہوں نے بچے پر توجہ دینی ہے جو اس کو چیک اینڈ بیلنس کرتے ہیں وہ سارے تو اپنے بچے پرائیویٹ سکولز لے جاتے ہیں۔
اب جا کر بچ جاتے ہیں صرف وہ بچے جن کے والدین بچوں کو پڑھانے میں دلچسپی ہی نہیں رکھتے۔ یہاں دو طبقات ہیں ایک بالکل غریب طبقہ جن کا مقصد یہ ہے بچہ پانچ سات تک پڑھ جائے تاکہ وہ تھوڑا سا لکھنا پڑھنا سمجھ لے اور بس اس کے بعد وہ اس کو کسی بھی کام پر کسی بھی ہوٹل پر یا کسی بھی دکان پر لگا دیں گے اور ان کی ڈیلی انکم شروع ہو جائے گی۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جن کے شہر میں اپنی دکانیں ہیں ان کا مقصد صرف بچے کو میٹرک کروانا ہے جیسے تیسے تاکہ وہ میٹرک کر جائے اور باپ کے ساتھ اس کا بزنس سنبھال لے اور اس میں اچھے خاصے امیر بزنس مین بھی شامل ہیں۔
اب اگر یہاں اساتذہ کی کارکردگی کی بات کریں تو مان لیا کہ سرکاری سکولوں میں خرابیاں ہیں۔ اساتذہ پڑھانے میں دلچسپی بھی نہیں رکھتے۔ رٹا سسٹم ہر طرف ہی رائج ہے۔ پاکستان میں صرف سرکاری سکولوں میں نہیں پرائیویٹ سکولوں میں بھی رٹا سسٹم رائج ہے لیکن اس کے باوجود سرکاری سکولوں کے ریزلٹ قابل ستائش ہیں۔ اساتذہ ان بچوں کو جن کا گھر کا ماحول پڑھنے کا نہیں ہوتا پالش کر کے بورڈ میں پوزیشنیں بھی لے کر دے رہے ہیں اور غریب والدین کو قائل بھی کر رہے ہیں کہ ان کا بچہ پڑھنے والا ہے ٹیلنٹڈ ہے قابل ہے یہ پڑھ لکھ کر زندگی میں اگے بڑھ سکتا ہے۔
جبکہ اس کے برعکس پرائیویٹ سکولز کالجز کو تو پہلے ہی کریم مل رہی ہے۔ پہلے ہی لائق بچے مل رہے ہیں۔ پہلے ہی ان والدین کے بچے مل رہے ہیں جو خود بچوں کو پڑھانے میں دلچسپی رکھنے ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے ایک ماڈل سیکشن بنایا ہوا ہے اور صرف اس میں لائق ترین بچوں کو رکھ کر ان کو الگ سے ٹائم دے کر پڑھا کر اور ان کے پورے شہر میں بورڈز، پینا فلیکس لگائے جا رہے ہیں۔ جبکہ باقی چھ سیکشنوں کا حال آپ کسی بھی پرائیویٹ کالج اور سکول میں جا کر دیکھ لیں ان کی حالت بیان کے قابل ہی نہیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ حکومت نجکاری کرنے کے کوشش کر رہی ہے جس کی اپنی کوئی منتخب حیثیت ہی نہیں ہے۔ دنیا میں کہیں نگران حکومت کے پاس اس طرح کے اختیارات یا آئین سازی کا حق نہیں ہوتا۔ پنجاب حکومت کو عوام کا مینڈیٹ ہی حاصل نہیں ہے تو وہ کیسے سکولوں کی نجکاری کر سکتی ہے۔ جس چیز کی ضرورت ہے اس طرف نہ اسٹیبلشمنٹ کی توجہ ہے نہ حکومت کی۔ ہمیں تعلیمی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ہمارا نظام تعلیم بوسیدہ ہو چکا ہے۔
آپ یہ دیکھیں کہ ایک دکان پہ کام کرنے والا ایک طالب علم کہہ لیں وہ اپنے ایک انپڑھ استاد سے جو اس کو پریکٹیکلی سکھا رہا ہے بہترین علم حاصل کر رہا ہے جبکہ اس کے مقابل ہمارے سکول پڑھے لکھے جاہل پیدا کر رہے ہیں۔ ملک میں کامرس کالجز، ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹس اور ٹی ٹی سی کالجز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ والدین بچوں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے عادی ہیں۔ اساتذہ رٹا لگوانے کے عادی ہیں تو نظام تعلیم کیسے بہتر ہو سکتا ہے۔
اگر پینشن اور گریجویٹی کے مسئلے کو دیکھا جائے تو کوئی بھی نظام دنوں میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اگر آپ کا خزانہ خالی ہے آپ کے پاس ملازمین کو پینشن اور گریجویٹی دینے کے پیسے نہیں ہیں تو اس کا کوئی میکنزم بنائیں۔ آپ نئی بھرتی کنٹریکٹ پر کریں۔ آپ ملک میں دوسرے اخراجات کم کریں۔ آپ کے افسر شاہی، آرمی اور سیاستدانوں کے اتنے اخراجات ہیں کہ جس کا عام فرد تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اساتذہ کو اپ پیٹرول، میڈیکل فیسلٹی کچھ بھی نہیں دے رہے جبکہ آپ کی افسر شاہی یہ تمام فیسلٹیز لینے کے باوجود کرپشن بھی بے انتہا کی کر رہی ہے۔
اس کے باوجود قصوروار صرف اساتذہ کرام ہیں۔ دوسرے لفظوں یہی کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے اسکولوں کی بلڈنگز پر نظریں جمائی ہوئی ہیں۔ خدارا ٹیچرز کا ایک مقام ہے اس کو اتنا پامال نہ کرے۔ گوجرانوالہ میں جو ٹیچرز کے ساتھ کیا گیا ہے دنیا کی مہذب قوموں میں کہیں ٹیچرز کے ساتھ یہ سلوک نہیں کیا جاتا اگر گورنمنٹ ٹیچرز کو عزت نہیں دے گی تو سٹوڈنٹس اور ان کے والدین کیسے ایک ٹیچر کو عزت دیں گے۔ نظام تعلیم، نصاب میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔


