نواز شریف اور چیلنجز: دلوں میں ولولے جاگے امیدیں لوٹ آئی ہیں؟

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں محمد نواز شریف پاکستان واپس آ چکے ہیں۔ چار سال قبل 2019 میں وہ علاج کے لیے لندن گئے تھے۔ یہ ماننا پڑے گا کہ نواز شریف ملکی تاریخ کی وہ منفرد شخصیت ہیں، چالیس برس بعد بھی سیاست جن کے گرد گھوم رہی ہے۔ بظاہر یوں لگ رہا ہے کہ میاں نواز شریف کئی اطراف سے ٹھوس ضمانتوں کے بعد واپس آ رہے ہیں لیکن ان کے لئے سیاسی چیلنجز بھی کم بڑے نہیں۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ وہ ان سے کیسے نمٹتے ہیں کیونکہ چار برسوں میں اردو محاورے کے مطابق پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔
ملکی سیاست کے ساتھ معاشی حالات میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ مسلم لیگ نون کے پاس بیچنے کے لیے بظاہر نوے کی دہائی میں موٹرویز سے سی پیک، میٹروز اور سب سے بڑھ کر 2013 سے 2017 تک دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے سمیت بہت کچھ ہے اسی دور میں افراط زر یعنی مہنگائی ملکی تاریخ کی نچلی ترین سطح پر اور گروتھ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر تھی۔ نواز شریف لندن میں بیٹھ کر بھی پاکستانی حالات سے باخبر رہنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
تو انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ عمران خان نے انتخابی سیاست کے پچھلے تمام روایتی سٹرکچر توڑ دیے ہیں، اور بہت کچھ بدل گیا ہے۔ ان تبدیلیوں کے باوجود بھی مسلم لیگ نون کے بیشتر رہنماؤں کا خیال ہے کہ نواز شریف کی آمد سے معاملات بہتری کی طرف جائیں گے۔ جبکہ ان کے سیاسی حریفوں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی سیاسی تاریخ اور موجودہ حالات کو مدنظر رکھا جائے تو ان کے لیے آنے والا وقت آسان نہیں ہو گا۔ اقتدار سے محرومی کے بعد آغاز میں نواز شریف نے ’ووٹ کو عزت دو ‘ کا مزاحمتی بیانیہ اپنایا۔ 2018 میں نواز شریف اور ان کی بیٹی کا نیب سے سزا پا کر جیل جانا، ان کی اہلیہ کلثوم نواز کی وفات، دوران قید عام انتخابات میں ان کی جماعت کی شکست اور پی ٹی آئی کا اقتدار میں آنا، یہ سب اس کی وجہ بنا۔
نواز شریف علاج کے لیے لندن گئے اور وہاں بیٹھ کر ملکی سیاست میں کردار ادا کرتے رہے۔ اس دوران 13 جماعتی اتحاد پی ڈی ایم نے عمران خان کے خلاف بیانیہ بنایا کہ انھیں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ملک پر مسلط کیا گیا۔ نواز شریف پی ڈی ایم کے جلسوں میں اپنی تقریروں میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پر سنگین الزامات عائد کرتے رہے۔
2020 کے اواخر میں مسلم لیگ کا سیاسی بیانیہ اچانک بدلا حکومت کو خراب معاشی صورتحال کا ذمہ دار اور فوج پر سیاست میں مداخلت کا الزام عائد کرتے کرتے، جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی حمایت کر دی گئی۔ اس کے بعد ان کے سیاسی حریف عمران خان کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات میں دراڑ آئی۔ تو ’ایک پیج پر ‘ ہونے کا بیانیہ بھی ختم ہو گیا۔ اپریل 2022 میں عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے کرسی سے ہٹانے کے بعد مسلم لیگ حکومت میں آئی تو مزاحمتی بیانیہ مفاہمتی بیانیہ بن گیا۔
عمران خان نے مسلم لیگ کی جگہ لی اور اسٹیبلشمنٹ مخالف سیاسی بیانیہ اپنایا۔ مسلم لیگ نون نے ڈیل کو ترجیح دی۔ اکثر سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے ہے اس وقت نواز شریف وہ کردار ادا کر رہے ہیں جو 2018 میں عمران خان ادا کر رہے تھے 2018 میں مسلم لیگ نون کے ساتھ جو ہوا، وہی اب تحریک انصاف کے ساتھ ہو رہا ہے۔ صرف سیاسی کردار تبدیل ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ ن، کا موقف ہے کہ۔ ’ہم نے یہ فیصلہ عوام کی بہتری کے لیے کیا۔ ہم نے اپنی سیاست پر ریاست کو ترجیح دی۔
ورنہ عمران خان کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہو جاتا۔ پاکستانی سیاست میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہمیشہ زیر بحث رہا اگرچہ کہا جاتا رہا کہ فوج کا پاکستان کی سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ 23 نومبر 2022 کو اپنے الوداعی خطاب میں سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے اعتراف کیا کہ فوج پر تنقید اس لیے ہوتی ہے کہ فوج گزشتہ 70 سال کے دوران سیاست میں غیر آئینی مداخلت کرتی رہی۔ تاہم فروری 2021 میں یہ متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ فوج آئندہ سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی۔
9، مئی کو عسکری تنصیبات پر حملوں کے بعد فوج کا کردار ایک بار پھر سامنے آیا جب ذمہ داروں کے خلاف بہر صورت کارروائی کا اعلان کیا گیا اس موقع پر پی ڈی ایم نے فوج کا مکمل ساتھ دیا۔ جبکہ تحریک انصاف اسے‘ غیر علانیہ مارشل لاء سے تعبیر کرتی رہی۔ اس کا بیانیہ یہ رہا کہ نو مئی کو دراصل عسکری بالادستی مستحکم کرنے کے لیے اچھالا گیا۔
پاکستانی عدلیہ ملک کے سیاسی نظام میں مداخلت کرنے والوں جواز مہیا کرتی رہی اور اپنے فیصلوں سے سیاسی انجینیئرنگ اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے لوگوں کو اقتدار میں لاتی اور نکالتی رہی۔ گزشتہ چند سالوں میں عدلیہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھائے گئے۔ پہلے مسلم لیگ نون نے عدلیہ پر عمران خان کی حمایت کا الزام لگایا تو اب تحریک انصاف یہ شکوہ کر رہی ہے کہ انھیں عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا۔ سیاست میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ معاشرے اور عوام کے رویوں میں خاصی تبدیلی آئی ہے۔
معاشرے میں عدم برداشت اور سیاسی تفریق بڑھ گئی ہے۔ جس کا سبب عمران خان کی سیاست کو قراردیا جاتا ہے کہ ’انہوں نے معاشرے میں عدم برداشت، سیاست میں نفرت اور بد تمیزی کے کلچر کو فروغ دیا۔ اس وقت ملکی معیشت سیاستدانوں، عوام اور فوج سب کے لیے ہی اہم ہے۔ آنے والے دنوں میں سیاست میں بیانیے کا پہیہ اسی پر چلتا نظر آتا ہے۔ نواز شریف مزاحمتی بیانیہ ترک کر کے اب معاشی بیانیے کے ساتھ آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ لیگی راہنماؤں کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے پہلے کی طرح اب بھی معیشت ٹھیک کر لیں گے۔ اب آئیے دیکھتے ہیں کہ نواز شریف کو آنے والے دنوں میں کیا چیلنجز درپیش ہوں گے۔
1۔ موجودہ حالات میں عوام کا اعتماد حاصل کرنا اور پرانے ووٹ بینک کی بحالی ہے۔ اگلے انتخابات میں نوجوان ووٹ بینک اہم اور فیصلہ کن ہو گا۔ جو بہت کچھ الٹ پلٹ سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کے حامیوں کی صورت میں انھیں ایک مضبوط مخالف دھڑے کا سامنا ہو گا۔ نواز شریف الیکشن کا معرکہ کیسے سر کرتے ہیں یہ آنے والا وقت بتائے گا کیونکہ ابھی تک پنجاب کے جتنے سروے آئے ہیں وہ مسلم لیگ نون کے لیے حوصلہ افزا نہیں۔
2۔ مختصر عرصے میں پرکشش سیاسی بیانیہ تشکیل دینا، جس سے یہ واضح ہو کہ نوجوانوں کو بہتر سسٹم اور نظام میں اصلاحات اور روزگار ملے گا۔
3۔ ملک میں سیاسی استحکام اور تلخیاں کم کرنا۔ پاکستانی سیاست اس وقت شدید پولرائزیشن کا شکار ہے، اگر اسی صورتحال میں الیکشن ہوئے تو سیاسی تلخی اور عدم استحکام ختم نہیں ہو گا۔
4۔ ملکی معیشت کی بحالی، پاکستان کی معیشت اور سیاست بنیادی فیصلوں کی متقاضی ہے۔ آئی ایم ایف اور دوسرے عالمی مالیاتی اداروں کے قرضے اور مہنگائی سے عوام کو کیسے چھٹکارا دلایا جائے۔
5۔ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہو اس کے لیے بھی ایک ایسا روڈ میپ بنانا جس میں پرانی غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔ ماضی میں بھی فوج سے نواز شریف کا ٹکراؤ سیاست اور معیشت میں فوج کی مداخلت کے باعث ہوتا رہا ہے۔
6۔ نواز شریف عمر اور صحت کے جس حصے میں ہیں، پارٹی پر ان کی گرفت پہلے جیسی ہے یا نہیں یہ بھی ایک چیلنج ہے جو آنے والا وقت بتائے گا اور کیا وہ سکیورٹی چیلنجز میں انتخابی مہم کا مومینٹم جاری رکھ پائیں گے۔
7۔ نواز شریف کی افتاد طبع یہ رہی ہے کہ وہ حکومت میں آنے کے کچھ عرصے بعد ہر چیز پر اپنا کنٹرول چاہتے ہیں جو اس ملک میں ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ماضی میں بھی ان کے اقتدار سے جانے کا سبب بنی ہے۔
8۔ نواز شریف زیادہ دیر تک کیا مفاہمت کی سیاست کر پائیں گے؟ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نواز شریف وزیراعظم بننے تک مفاہمتی انداز اختیار کر کے خاموش رہیں گے لیکن پھر اپنی جبلت کے تحت ان کی حکومت اٹھارہ ماہ چلے یا تین سال ’وہ اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر ضرور لیں گے۔
9۔ نواز شریف کو عمران خان سے ملنے یا عمران خان بننے کی صلاحیتیں دی جا رہی ہیں۔ نواز شریف کیا عمران خان کو جن کا مسئلہ ہے ان کے لیے چھوڑ دیں گے کہ وہ اس سے نمٹیں یا سیاسی سپرمیسی کے قیام کے لیے مداخلت کی راہ اپنائیں گے۔
10۔ سیاسی جماعتوں کا مقابلہ، عدالتوں میں مقدمات کا سامنا، اس تاثر کو زائل کرنا کہ وہ کسی سمجھوتہ کے تحت واپس آئے ہیں۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی جیسی جماعتوں کے تحفظات دور کرنا۔
نواز شریف نے مینار پاکستان پر مثبت انداز اختیار کیا ہے لیکن پاکستان کی سیاست کے اجزائے ترکیبی مختلف ہیں۔ پاکستان کے سینئر اور تجربہ کار ترین سیاستدان کے طور پر اس کی سمجھ آ جانی چاہیے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ نواز شریف کو پارلیمنٹ کی حاکمیت اور سویلینز کے اختیارات صرف لندن یا اڈیالہ جیل میں یاد آتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے دور اقتدار میں وہ پارلیمنٹ آٹھ ماہ اور سینیٹ میں ایک سال تک نہ گئے۔ چھ، چھ ماہ تک کابینہ کے اجلاس تک نہیں بلاتے تھے۔ اگر اب بھی یہی صورت حال رہی تو چوتھی بار اقتدار کا راستہ کھلنے کا ”معجزہ“ المناک انجام سے دوچار ہو سکتا ہے۔ مسلم لیگی حلقے تو نواز شریف کی آمد پر اس کیفیت میں ہیں کہ:
تمھارے گھر پلٹتے ہی مقدر پھر سے چمکا ہے
دلوں میں ولولے جاگے امیدیں لوٹ آئی ہیں
لیکن زمینی حقائق کے مطابق نواز شریف کو دیکھنا ہو گا کہ عوام کے مسائل کیا ہیں اور انہیں کیسے حل کیا جا سکتا ہے،
ان کو درپیش چیلنجز بڑے ہیں ان کے لیے دیکھیں کہ وہ کیا حکمت عملی اپناتے ہیں، کیا وہ ان سے نپٹ پائیں گے؟ اس کے لیے آنے والے دنوں کا انتظار کرنا پڑے گا۔ ’۔

