آنسو نہیں روڈ میپ میاں صاحب
چونکہ میں نے تاریخ بہت زیادہ نہیں پڑھی اس لئے یقین سے تو نہیں کہہ سکتی مگر مجھے لگتا یوں ہے کہ شاید ہی کوئی اور ملک دنیا میں ایسا ہو جہاں کے سیاسی راہنما جلسے کی سٹیج پر قوم کو روڈ میپ کی بجائے اپنے آنسو دکھانے لگ جائیں۔ قوم منتظر تھی کہ میاں محمد نواز شریف وطن واپسی پر ایک مضبوط معاشی پالیسی کا اعلان کریں گے جو بجلی کے بلوں اور پیٹرول کی قیمتوں کے نیچے دبی قوم کے لئے کچھ نہ کچھ ریلیف کا باعث ضرور بنے گی مگر لاکھوں کروڑوں روپے سیاسی جلسوں کی نذر کر دینے والی بد نصیب قوم کے حصے میں حکمرانوں کے شکوے اور آنسوؤں کے سوا کچھ نہ آیا۔
آئیے ان قوموں کی جانب دیکھیں جنہوں نے خود کو سنوار لیا اور دنیا کے لئے ماڈل بنے۔ 1980 ءاور 1990 کی دہائی تک ترکی کا حال بھی ہمارے ملک پاکستان سے کوئی مختلف نہیں تھا۔ معیشت، سیاست، معاشرت، صحت، تعلیم غرض ہر شعبہ روبہ زوال تھا اور بہتری کے کوئی حالات نظر نہیں آ رہے تھے، لیکن پھر ان لوگوں نے ایسا کیا کیا کہ حالات یکسر بدل گئے؟ انہوں نے دو چیزوں کو یقینی بنایا: ایک تعلیم پر خصوصی توجہ دی گئی اور اس کے لئے سب سے زیادہ بجٹ مختص کیا گیا۔
دوسرا ترک عوام اور معاشرے میں ملک اور وطن کی بہتری اور ترقی کا احساس اجاگر کیا گیا۔ اس احساس نے حب الوطنی کے جذبات کو ابھارا اور معاشرہ اچھے اور برے کی تمیز کرنے لگا۔ حکومت نے معیشت کو سنبھالا، تاجروں، سرمایہ کاروں اور کاروباری حضرات کو اعتماد میں لے کر اپنی نئی حکمت عملی بنائی۔ تعلیم، عوامی شعور اور اقتصادی بہتری نے ترکی کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دیا، جس کا سفر اب بھی جاری ہے۔
آج اگر ترکی دنیا کی تیز رفتاری سے ترقی کرنے والی معیشت ہے، تو اس کی وجہ وہ سیاسی پارٹی ہے، جو جمہوری طریقے سے، سلیقہ مندی اور اہتمام کے ساتھ بنائی گئی۔ من مانی کرنے والی اس فوجی قیادت کا تمام تر جاہ و جلال انہوں نے خاک میں ملا دیا، جو حکومتوں کے تختے الٹتی، اپنی مرضی کے جج مقرر کراتی اور سیاسی لیڈروں کی تذلیل کیا کرتی۔ وہ لوگ سٹیج پر کھڑے ہو کر رو رو کر نہیں دکھاتے رہے بلکہ انہوں نے عوام کو راستہ دکھایا اور ایسی پالیسیاں بنائیں کہ اندھیرے اجالوں میں بدل گئے۔
ہم سے شاید مستقبل قریب تک تو یہ نہ ہو پائے کیوں کہ نو آبادیات کے نتیجے میں اس ملک کی عوام کا ایک خاص مزاج ہے جو کہ ہمارے دکھوں اور مسائل کی بہت ساری وجوہات میں سے شاید سب سے اہم وجہ ہے۔ میں اس بات کی زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتی کہ ہمارے ملک کے ساتھ کیا ہوا کیوں ہوا بلکہ اس پہ بات کرنا چاہتی ہوں کہ جو ہو گیا اب اس سے باہر آنے کے لئے کیا کیا ہو سکتا ہے یا کیا جاسکتا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ کوئی بھی ملک جس میں قدرتی وسائل اور افرادی قوت ہو وہ ایک مربوط منصوبہ بندی کے بعد بہت جلد اپنے مسائل کا حل ڈھونڈنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
اس وقت ہمارے مسائل کا حل الیکشن بھی نہیں ہیں کیونکہ ہم بغیر پولیٹیکل اور الیکشن ریفارمز کے الیکشن کرواتے ہیں تو نتیجہ کچھ زیادہ مختلف نہیں ہو گا مگر ہاں اخراجات ان قرضوں میں مزید اضافے کا باعث ضرور بنیں گے جنہوں نے پہلے ہی ہمیں یوں جکڑ رکھا ہے کہ بہت سے فیصلوں میں ہماری خودمختاری بھی داؤ پر ہے۔
لہٰذا سب سے پہلے تمام سیاسی جھگڑوں کو بھلا کر سیاسی قائدین کو جیلوں سے نکال کر ڈائیلاگ کے لئے ساتھ بٹھانا ہو گا۔ باہمی مشاورت سے ایک قومی حکومت کو تشکیل دینا ہو گا جس میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہو۔
ملک میں صحیح معنوں میں تعلیمی ایمرجنسی لگانا ہوگی اور ایسے جامع پروگرام متعارف کرانا ہوں گے جو تعلیم حاصل کرنے والوں اور تعلیم دینے والوں دونوں کے لئے کسی نہ کسی حد تک پرکشش ہوں ناکہ پینشن کے خاتمے جیسے اعلانات کر کے رہی سہی کسر بھی نکال دی جائے۔ ان پرکشش مراعات میں ان نوجوانوں کے لئے سہولتیں متعارف کرائی جا سکتی ہیں جو تعلیم یافتہ مگر بے روزگار ہیں۔ ان کو ان کے علاقوں میں بطور اساتذہ عارضی تعیناتی مگر اچھی کارکردگی کے نتیجے میں سکالرشپ سکیم متعارف کرائی جا سکتی ہے۔ یہ سکالرشپ جدید ٹیکنالوجی حاصل کرنے، ریسرچ اور مختلف کھیلوں کے مقابلوں میں شرکت کے لئے دنیا کے مختلف ممالک کے ہو سکتے ہیں۔
ہم زرعی ملک ہیں، چھوٹے کسانوں کی سرپرستی سے جتنا ممکن ہو زرعی پیداوار کو نہ صرف بڑھایا جائے بلکہ حکومت اس کی ترسیل کو یقینی بنائے۔ بنگلہ دیش، چین اور انڈیا جیسے ہمسایہ ممالک کو اپنی زرعی اجناس کی برآمدات نہ صرف ہمیں کثیر زرمبادلہ کا ذریعہ بن سکتی ہیں بلکہ اخراجات کو بھی کم کر سکتی ہیں۔
ملک میں گھریلو دستکاری کو باقاعدہ فروغ دے کر اس کو بھی زرمبادلہ کا ذریعہ بنایا جائے اور اس کام کی نگرانی بھی ان نوجوانان وطن کے سپرد کی جائے جنہیں تعلیمی ایمرجنسی پروگرام کا حصہ بنایا گیا ہو تاکہ وہ ان مصنوعات کی حکومت کے بنائے گئے سینٹرز تک پہنچ کو یقینی بنائیں۔ اس طرح بہت زیادہ سرمایہ لگائے بغیر آپ کی خواتین اور نوجوانوں کو روزگار بھی ملے گا اور ملک کو سرمایہ بھی۔
ملک میں کھیلوں کو فروغ دے کر ایسے مقابلے منعقد کیے جائیں جن سے اصل ٹیلنٹ ہنٹ کیا جا سکے اور ان کھلاڑیوں کو دنیا بھر میں متعارف کرایا جائے۔
ڈرامہ اور فلم انڈسٹری کو ترجیحی بنیادوں پر توجہ دے کر بطور انڈسٹری زرمبادلہ کا ذریعہ بنایا جائے۔
اوورسیز پاکستانیوں کو پرکشش مراعات اور سہولیات دے کر ملکی قرضے اتارنے کی ترغیب دلائی جائے۔
عروج و زوال قوموں کی تاریخ کا حصہ ہوا کرتے ہیں۔ جب کڑا وقت آتا ہے تو قومیں اپنے لیڈرز ہی طرف دیکھ رہی ہوتی ہیں کہ ان کو کوئی راستہ دکھایا جائے تو میری نہ صرف میاں محمد نواز شریف بلکہ تمام سیاسی ایلیٹ سے یہی اپیل ہے کہ خدارا اس ملک میں اب بھی بہت پوٹینشل ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے اپنا سمجھا جائے اور اپنوں کو کوئی ختم ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔ قوم کو راہ دکھائیے۔ ہم سب منتظر ہیں اس صبح روشن کے جس کے لئے محنت کرتے کرتے قائد نے اپنی صحت اور جان تک کی پرواہ نہ کی اور جان قربان کر دی مگر یہ قوم ایک صدی کا سفر کر کے بھی اپنی درست سمت کے تعین میں ناکام ہی دکھائی دیتی ہے۔


