بوسنیا کی چشم دید کہانی
یو این کے دستور کے مطابق مشن میں چھ ماہ کا عرصہ مکمل ہونے پر ہر افسر ایک میڈل اور ایک سند کا حق دار ٹھہرتا تھا۔ اس مقصد کے لیے جو تقریب منعقد ہوتی تھی اسے سرکاری طور پر میڈل پریڈ کا نام دیا جا تا تھا۔ جب کہ یار لوگ اسے ”میڈل پہ ریڈ“ کہتے تھے۔ پاکستانی دستے کی میڈل پریڈ 25 اپریل 1997 کو سرائیوو میں ہونا طے پائی تھی۔ اس تقریب کے انتظام میں ہمارے پرانے دوست مرزا اور میمن پیش پیش رہے۔ اس کے انعقاد کے لیے ایک فوجی عمارت ڈوم آرمیہ کو منتخب کیا گیا۔ اس عمارت کا کرایہ سو مارک فی گھنٹہ تھا لیکن اس کے منتظم میجر حارج نے پاکستان اور پاکستانیوں سے جذبۂ خیر سگالی کے اظہار کے طور پر اسے بالکل مفت فراہم کیا۔
میں اقبال، عظیم، ندیم اور فاروق اکٹھے سٹولک سے علی الصبح روانہ ہوئے۔ ہرزے گووینا میں اگرچہ موسم مکمل طور پر تبدیل ہو چکا تھا لیکن بوسنیا میں برف باری کا سلسلہ ابھی بھی بند نہیں ہوا تھا۔ یبلا نیسا سے لے کر سرائیو تک سڑک کے کناروں کو چھوتی ہوئی تازہ برف دور دور تک وادیوں میں پھیلی ہوئی تھی۔ سرائیوو تھوڑی دیر پہلے تھمنے والی بارش سے بھیگا ہوا تھا۔
9 بجے ریہرسل کا وقت طے تھا اور ہم اس سے تھوڑی ہی دیر قبل ڈوم آرمیہ پہنچ گئے۔ یہ میڈل پریڈ اگرچہ اس دستے کے لیے تھی جو پچھلے سال جون میں یہاں پہنچا تھا، لیکن اس سال مارچ میں آنے والے نئے دستے کے تمام افسران بھی اس میں مدعو تھے۔ تقریب کا آغاز گیارہ بجے ہونا تھا۔ ریہرسل سے فارغ ہو کر ہم ان دوستوں سے گھل مل گئے جن سے پچھلے سال 14 اگست کی تقریب کے بعد آج پہلی مرتبہ ملاقات ہو رہی تھی۔ سرحد پولیس سے تعلق رکھنے والے ہم چھ ڈی ایس پی آج پہلی مرتبہ بوسنیا میں اکٹھے ہوئے تھے۔
اتنے ہی ڈی ایس پی ایک سال سے کچھ زیادہ عرصہ بعد پولیس ٹریننگ کالج سہالہ میں بھی جمع ہوئے تھے۔ ہمارا تعلق مختلف صوبوں سے تھا اور ہم یہاں موٹروے کی ٹریننگ حاصل کر رہے تھے۔ دن گیارہ بجے، چالیس منٹ پر محیط چائے کا وقفہ ہوا کرتا تھا۔ روزانہ کی تاکید کے باوجود ہمارا اردلی ہمیشہ چائے لے کر اس وقت لوٹتا تھا جب وقفہ تقریباً ختم ہونے کو ہوتا تھا۔ ہمارے سینئر ساتھی رشید صاحب کا تعلق پنجاب سے تھا۔ میں نے ان سے ایک دن شکایت کی کہ آخر اس اردلی پر ہماری بات کا اثر کیوں نہیں ہوتا۔
پنجاب میں کسی ڈی ایس پی کی شکل کوئی قسمت والا ہی دیکھتا ہے۔ یہاں ایک کیا چھ ڈی ایس پی بیک وقت اکٹھے ہیں۔ میرا خیال ہے اردلی ہوش و حواس کھو بیٹھا۔ وہ بولے
تقریب کے صدر کمشنر IPTF اور مہمان خصوصی SRSG تھے۔ کمشنر واسر مین سرو قامتی میں غالب کے محبوب اور شکل میں میؔر کی دلی کے اوراق مصور کی یاد دلاتے تھے۔ ان کا تعلق ڈنمارک سے تھا۔ SRSG سویڈن کی وزارت خارجہ کے ایک سینئر افسر تھے۔ انھوں نے اس سال کے آغاز میں پاکستانی عہدے دار اقبال رضا صاحب کی جگہ سنبھالی تھی جو اب جنرل اسمبلی میں کسی عہدے پر فائز کیے گئے تھے۔
ڈوم آرمیہ کی پہلی منزل پر واقع وسیع و عریض ہال جس میں کوئی ایک ہزار کے لگ بھگ نشستوں کا انتظام تھا، تقریباً بھرا ہوا تھا۔ تقریب میں حسب روایت تمام ممالک کی پولیس کے دستہ کمانڈر، سینئر افسران اور یو این کے دوسرے اداروں کے عہدے دار بھی مدعو تھے۔
تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس کے بعد قومی ترانہ بجایا گیا جس کی دھن پہ ہال کے مختلف حصوں سے بلند ہوتی ہوئی آوازیں ہم آہنگ ہو گئیں۔ اس کے بعد کمانڈر دستہ ایس ایس پی زبیر صاحب نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ جواب میں کمشنر IPTF اور SRSG نے پاکستانی دستے کی خدمات کو سراہتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا۔ اس حوالے سے SRSG نے تو اس فیاضی کا مظاہرہ کیا کہ ہم میں سے بہت سوں پر اپنی ایسی گوناگوں خوبیوں کا انکشاف پہلی مرتبہ ہوا۔
اس کے بعد میڈل اور اسناد کی تقسیم کا مرحلہ آیا۔ ہال کے ایک طرف کھڑے افسران کو یہ میڈل کمشنر IPTF اور دوسری طرف SRSG نے دیے۔ پھر نچلی منزل پر مہمانوں کو کھانے کے لیے مدعو کیا گیا۔ سیڑھیاں اترتے ہوئے میں نے اقبال سے پوچھا۔ SRSG نے ہماری تعریف میں جس دریا دلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔ جواب میں وہ مسکرا دیا اور پھر منہ میرے کان کے قریب لا کر بولا
ع۔ کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
پر تکلف کھانے کے بعد غیر ملکی مہمانوں نے اپنی اپنی راہ لی اور ہم تقریب کے دوسرے حصے یعنی دستہ اجلاس میں شرکت کی غرض سے دوبارہ اوپر آ گئے۔ اجلاس میں افسران کو مشن کے دوران پیش آنے والے مختلف عمومی مسائل پر بحث کی گئی۔ چوں کہ ہمارا مشن ایک ماہ بعد اختتام پذیر ہونے کو تھا، لہٰذا اس بحث میں ہماری دلچسپی خارج از امکان تھی۔ اجلاس کے دوران سب انسپکٹر جاوید نے اپنی وہ پنجابی نظم سنائی جو مشن کے تجربے کی تمثیل تھی اور جس کا پہلا شعر پاکستانی اہل موسطار کے ہاں زباں زد عام تھا۔
پنج جون دی رات نوں سی میں یورپ جانڑاں
پنجھے بہہ کے رات گزاری لہور میں جاناں
جاوید جب بھی یہ نظم سناتا تھا تو یہ وضاحت ضرور کرتا تھا کہ لفظ جاناں اس نے فراز کی ایک غزل سے متاثر ہو کر استعمال کیا ہے۔ اس کے جواب میں اس کے تھانے دار ساتھی اس طرح داد میں سر ہلاتے تھے جیسے فراؔز کی شاعری اور اس کے محاسن کو ان سے بہتر بھلا کون جانتا ہے۔
میرا کچھ ایسا ہی گماں میرے ایک ریڈر کے بارے میں بھی تھام۔ وہ اقبال اور غالب کا جب بھی ذکر کرتا تو انھیں اقبال صاحب اور غالب صاحب پکارتا۔ ایک دن میں نے اس کی تصحیح کرنا چاہی کہ اقبال اور غالب کے نام کے ساتھ صاحب نہیں لگاتے سر یہ عجیب بات ہے۔ افسران کے ناموں کے ساتھ صاحب کا اضافہ ٹھیک ہے لیکن اقبال اور غالب کے ناموں کے ساتھ کیوں نہیں۔ وہ بولا۔ میں اب ماسوائے اس کے اور کیا کہہ سکتا تھا۔
ع۔ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
ڈوپ آرمیہ سے جب ہم باہر نکلے تو دن کے تین بج رہے تھے۔ سرحد پولیس کے تمام ڈپٹی صاحبان آج رات کے کھانے پر زینیسا میں ساجد علی کے ہاں مدعو تھے۔ زینیسا میں ہی زوہیب اللہ کی بھی پوسٹنگ تھی۔ وہ ہمارے دستے کا واحد افسر تھا جس نے ڈسٹرکٹ کمانڈر کے عہدے تک ترقی پائی تھی۔ اس طرح اس کے بارے میں ایڈی گرین کی پیشین گوئی سچ ثابت ہوئی تھی۔ اس کے اور ساجد علی کے تعلقات بس رسمی سے تھے۔ اپنی اپنی جگہ پر دونوں کو کچھ ایسے گلے شکوے تھے کہ ایک دوسرے کے بارے میں ان کی رائے
ع۔ ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
کا تاثر لیے ہوئے تھی۔ ان کی اس رائے کو بدلنے کے لیے میں نے جب بھی کوئی کوشش کرنا چاہی تو اقبال کی اصلی ڈی ایس پی والی تھیوری دیوار بن کر سامنے آ گئی۔ اس تھیوری کا لب لباب یہ تھا کہ اصلی ڈی ایس پی وہ ہوتا ہے جو دو ساتھیوں کے درمیان صلح و صفائی سے حتی المقدور پرہیز کرے کیونکہ ہر طرف امن اور شانتی ہو تو زندگی بے مزا سی ہو جاتی ہے۔
میں اقبال، گل افضل اور رشید سرائیوو سے سیدھے زینیسا کے لیے روانہ ہوئے۔ میں اور اقبال آج دوسری مرتبہ وہاں جا رہے تھے۔ ساجد علی کا گھر شہر سے باہر واقع تھا۔ اس کے پاس دو کمروں پر مشتمل ایک گھر کے اوپر والا حصہ تھا، جہاں وہ اکیلا رہتا تھا۔ نچلی منزل پر پکی عمر کے مالک مکان جوڑے کا بسیرا تھا۔ اس شام ہمارے لیے کھانا خاتون خانہ ہی نے بنایا تھا۔ تڑکے والے چاولوں کے ساتھ بیک کی ہوئی مچھلی۔ کھانا اس قدر لذیذ تھا کہ اس کی لذت کی یاد سے آج بھی منہ میں پانی بھر آتا ہے۔
وسوکو جہاں رشید اور گل افضل کا قیام تھا، یہاں سے کچھ زیادہ فاصلے پر نہ تھا لہٰذا کھانے کے بعد وہ دونوں ہم سے رخصت ہو گئے۔ زوہیب اللہ کھانے پر تو نہ آیا لیکن بعد میں رات گئے ہم سے ملنے اور اگلی دوپہر کے کھانے کی دعوت دینے آیا۔
اگلی صبح میں اور اقبال جب سو کر اٹھے تو ساجد دفتر جا چکا تھا۔ زینیسا میں دریائے بوسنا سے ذرا ہٹ کر ایک کئی منزلہ عمارت کے دو فلور IPTF نے کرائے پر لے رکھے تھے۔ ایک منزل زینیسا اسٹیشن کے طور پر استعمال ہو رہی تھی جب کہ دوسری منزل پر ڈسٹرکٹ کمانڈر، ڈپٹی ڈسٹرکٹ کمانڈر اور ضلع کی سطح کے دوسرے عہدے داروں کے دفاتر تھے۔ ہم تیار ہو کر کوئی گیارہ بجے نکلے اور سیدھے یہاں چلے آئے۔
ہم زوہیب اللہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بوڑھی خاتون ہاتھ میں درخواست تھامے اس کے دفتر میں داخل ہوئی۔ زوہیب اللہ نے اس سے درخواست لی اور اسے بیٹھنے کے لیے کہا۔ وہ 1994 ء میں سرب علاقے سے بے گھر اور بے اولاد ہو کر زینیسا آئی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا سربوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہو گیا تھا۔ یہ درخواست اس کی نعش کی زینیسا منتقلی کے بارے میں تھی۔ درخواست پڑھنے کے بعد زوہیب اللہ نے انٹر کام کے ذریعے ترجمان کو بلایا اور اسے کہا کہ خاتون کو بتائے کہ اس طرح کے معاملات میں بین الاقوامی پولیس بے اختیار ہے۔ بہتر ہے وہ اس سلسلہ میں UNHCR سے رابطہ کرے۔ اس پر خاتون جذباتی ہو گئی۔
میں جس ادارے سے بھی رابطہ کرتی ہوں، مجھے ایسا ہی جواب ملتا ہے۔ آخر میں جاؤں تو کہاں جاؤں۔ وہ رندھے ہوئے گلے کے ساتھ بولی۔
زوہیب اللہ کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا، وہ خاموش رہا۔ بوڑھی خاتون بھی اس سے آگے کچھ نہ بولی اور گم سم سی ہو گئی۔ تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد میں نے ترجمان سے کہا کہ خاتون اگر محسوس نہ کریں تو میں ایک سوال پوچھوں۔ خاتون نے اثبات میں سر ہلایا۔
آپ کے بیٹے کی موت کو چار سال ہو چکے ہیں۔ قبر میں اس کا جسم بھلا کب سلامت ہو گا جو اسے زینیسا منتقل کریں گی۔ میں نے کہا۔
میرا سوال سن کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
یہ سوال مجھ سے کئی لوگ پوچھتے ہیں۔ میرا بس ایک ہی جواب ہے اور وہ یہ کہ میرا بیٹا شہید ہے اور اس کی قبر میں صرف ہڈیاں ہی کیوں نہ پائی جائیں میں انھیں بھی اس سرب گاؤں میں رہنے نہیں دوں گی اور انھیں زینیسا کے قبرستان شہداء میں دوسرے شہداء کے شانہ بہ شانہ مٹی کے سپرد کروں گی۔ مجھ پر اس کی قربانی کا یہ قرض ہے جو میں ضرور اتاروں گی۔ وہ گلوگیر آواز میں بولی۔
میں اپنے سوال پر شرمندہ تھا اور اس کے بے بس عزم پر اندر سے بلند ہونے والی آواز پر کان لگائے خاموش تھا
ع۔ دل صاحب اولاد سے انصاف طلب ہے
زوہیب اللہ نے زینیسا کے سینٹر میں ایک بڑے اچھے ریستوران میں ہمیں دوپہر کا کھا نا کھلایا۔ بوسنیا میں سال بھر کے قیام کے دوران یہ پہلا موقع تھا کہ کسی دوست نے کھانے کی دعوت ایک ریستوران میں دی تھی۔ زوہیب اللہ کی اس وضع داری سے اقبال بہت متاثر ہوا۔ زینیسا سے سٹولک واپس لوٹتے ہوئے راستے میں اس نے مجھ سے کہا
ساجد اور زوہیب اللہ کے جھگڑے میں دل نہیں مانتا کہ زوہیب اللہ کچھ ایسا قصور وار ہو سکتا ہے، کیوں تمہارا کیا خیال ہے؟
مستند ہے ”تیرا“ فرمایا ہوا۔ میں نے طنزاً کہا
شاعری اس کا شعار نہ تھا لہٰذا ایسے مواقع پر راہ سخن بھی کم ہی نکلتی تھی۔ اب کے بھی ایسا ہی ہوا اور بات وہیں ختم ہو گئی۔


