نوجوانوں کے نفسیاتی غموض – نفسیاتی مطالعہ


اکثر نوجوانوں میں تدبر، تفکر اور شعور کے عجیب و غریب مظاہر و واقعات رونما ہوتے ہیں، جو خود نوجوانوں یا ان کے والدین یا ان کے گرد و پیش کے لوگوں کے اضطراب و حیرانی کا باعث ہوا کرتے ہیں۔ چناں چہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض لڑکے یا لڑکیاں ایسی ہیں جن پر انتہائی شرم ساری کا عالم طاری ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ لوگوں سے میل جول قائم نہیں کر سکتے۔ اور بعض ایسے ہیں جنھوں نے نفس کی غلامی اور خواب ہائے بیداری کی تابع داری قبول کر لی ہے، اور کئیوں پر غصہ کا احساس اس طرح چھایا ہوا ہے کہ وہ کسی چیز سے راضی ہی نہیں ہوتے، بعضوں پر غیض و غضب، تہور اور مقابلہ کے دورے پڑتے رہتے ہیں، معمولی حادثات سے بھی نمٹنے کی ان کے اندر تاب نہیں رہتی۔

کچھ نوجوان ایسے ہیں کہ لوگوں سے روبرو گفت گو کرنا ان کو بار معلوم ہوتا ہے، بعض خفیہ عادت میں مبتلا ہیں جن سے وہ چھٹکارا نہیں پا سکتے، نوجوانوں کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جس کی نفسیاتی زندگی گونا گوں قلق و اضطراب اور عصبی عوارض سے گھری ہوئی ہے، یہی حال ان افراد کا ہے جو خاندان سے اپنے تعلقات منقطع کر لیتے ہیں اور دور بھاگتے ہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل حال ہیں کہ جب کبھی ان کو معمولی سا واقعہ پیش آتا ہے تو جان بوجھ کر گویا تجاہل عارفانہ سے سنجیدہ مریض بن جاتے ہیں۔ اور اکثر و بیشتر ان کو خود اذیتی میں سکون ملتا ہے اور شاید اذیت کوشی میں زیادہ!

اس طرح کی مثالیں ہمارے معاشرے میں عام ہیں۔ جن سے شاید شاذ و نادر ہی کوئی نوجوان محفوظ ہو، بلوغت کے مرحلہ میں نفسیاتی زندگی میں ہم جس حیرت و اضطراب، انتشار اور الجھن سے دوچار ہوتے ہیں وہ تمام انہی مشکلات کی تفسیر و توضیح ہیں، یا یہ غالباً اس صحیح توجہ اور لازمی رہ نمائی کے فقدان کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کا احاطہ اس سن میں نوجوانوں کو کرنا چاہیے۔ لیکن ان برگشتہ مظاہر و آثار میں سے اکثر ان ناخوش گوار رجحانات اور بری عادات کی باقی ماندہ نشانیاں ہیں جن کو فرد نے اپنے بچپن ہی میں اختیار کر لیا ہے، یہ صرف وہ علامات ہیں جو کم سنی کے دور کی اولین تربیت کی خرابی اور کوتاہی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

بچوں کو گوناگوں چیزوں سے سابقہ پڑتا ہے، مختلف لوگوں سے میل جول رکھنے کے سلسلے میں، اپنے کھیلوں اور اپنے کاموں میں اس کو بے شمار مشکلات درپیش ہوتی ہیں، جن کے مقابلے میں وہ اپنی روش اور اپنے طرز کو کچھ اس طرح تبدیل کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے جو ان پیش شدہ مشکلات اور دشواریوں سے ہم آہنگ کر سکیں۔ گاہے بچہ اپنی اس جدوجہد اور تصرف میں کامیاب ہو جاتا ہے اور ان مشکلات اور الجھنوں کا ایسا مناسب حل دریافت کر لیتا ہے جس پر اس کا نفس اس کے جذبات اور اس کے گرد و پیش کے لوگ رضا مند ہو جاتے ہیں، یا یہ کہ، ان پیچیدگیوں کا کوئی موزوں حل معلوم کرنا اس کے لئے دشوار اور محال ہو جاتا ہے تو وہ اپنے جذبات و خواہشات کے طوفانی جوش کو کم کرنے کے لئے دوسرے راستے تلاش کر لیتا ہے، چند ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو جب کوئی مشکل درپیش آئے تو اس کو دور کرنے کی تدبیر و جدوجہد میں وہ ناکام رہتے ہیں، اس لئے کہ وہ یا تو تند مزاج اور غضب نازک ہو جاتے ہیں یا اپنے گرد و پیش جو افراد ہوتے ہیں ان کو مار پیٹ کرتے ہیں، یا بعض اور عداوت کے عناصر ان کے مزاج میں داخل ہو جاتے ہیں یا وہ لوگوں سے دور بھاگ کر اپنے خوابوں کی وادیوں میں گم ہو جاتے ہیں یا وہ عصبی المزاج ہو جاتے ہیں یا خواہ مخواہ اپنے مرض کا مظاہرہ کرنے لگ جاتے ہیں، جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی توجہ اور مہربانی کو اپنی طرف کر لیں۔

چنانچہ جس بچے کا کھلونا کوئی دوسرا بچہ چھین لیتا ہے اول تو وہ اس کھلونے کو اپنے زور بازو سے واپس کر لینے کی کوشش کرے گا۔ اور اگر وہ اس میں کامیاب نہ ہو تو وہ چھیننے والے سے مارپیٹ کرے گا، گالی گلوچ کرے گا، اس کا کھلونا جھپٹ لے گا، یا جنگ و جدل چھوڑ کر کسی اور چیز سے کھیلنے کی طرف رخ کرے گا یا چیخنا چلانا شروع کرے گا اور اپنی مدد کے لئے بڑوں کو پکارے گا، اگر وہ تمام کوششوں میں ناکام ہو جائے تو اس پر یاس و نومیدی چھا جاتی ہے یا تھوڑی دیر کے لئے وہ غضب کی خاموش آگ میں جلتا رہتا ہے۔

بچہ ان تمام تصرفات اور کوششوں میں کبھی ایسے مرحلے تک جا پہنچتا ہے کہ جس پر اس کا نفس اور اس کے جذبات و خواہشات راضی ہو جاتے ہیں۔ اگر وہ سماج کی طرف سے اس تصرف اور جدوجہد کی توہین نہیں پاتا ہے تو جب کبھی اس کو کوئی مصیبت اور مشکل درپیش ہوتی ہے تو وہ بعینہ یہی جدوجہد اور تصرف کی تکرار کرتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ روش مرور زمانہ سے مستحکم عادت بن جاتی ہے۔ چناں چہ جو شخص تنہائی اور خواب ہائے بیداری میں اپنے جذبات و خواہشات کی پیاس بجھانے کا سامان پائے گا تو وہ ان دونوں کو اوروں پر اپنی معمولی سی مشکل اور معمولی سے ٹکراؤ کے وقت، ترجیح دے گا۔

اور جو فرد ستم ظریفی یا دروغ بافی یا فریب دہی میں اپنے نفس کی راحت پائے گا وہ اسی میں پناہ لینے کے لئے دوڑے گا۔ اور جس شخص کو اپنی ہر مشکل اور مصیبت کے وقت اپنے والدین کا سہارا نظر آئے گا وہ ان ہی کی طرف دوڑے گا، تاکہ وہ اس کی الجھنوں کو دور کریں اور جس بھنور میں وہ گھر چکا ہے اس سے نجات حاصل کرسکے۔

اسی طرح بچے چند نفسیاتی رجحانات، عادات، جدوجہد اور تصرف کے طریقوں کی فضا میں جو ان ہوتے ہیں، جن میں سے بعض صالح اور موفق طبعیت ہوتے ہیں اور دیگر چند اجنبی اور خلل پذیر اور فساد انگیز، جو بچوں پر دور شباب میں لازم ہو جاتے ہیں یا مردانگی کے ادوار میں ان میں باقی رہتے ہیں۔

اگر ہم ان بری عادات کی تکوین کے اولین اسباب کو تلاش کریں تو ہمیں ایک ایسا بچہ مختلف خواہشات و جذبات کے درمیان (جو کش مکش برپا رہتی ہے ) اس کے ارد گرد دکھائی دے گا یا وہ اس کی مختلف ضبط شدہ رغبتوں کے اطراف میں نظر آئے گا۔ چونکہ بچہ امن اور سلامتی کا محتاج ہوتا ہے، اسے لطف و توجہ کی ضرورت دامن گیر ہوتی ہے اور اجتماعی شہرت اور اقتدار کا جذبہ بھی اس کے اندر کارفرما ہے اور یہ تمام ضروریات جو زبردست اجتماعی خواہشات میں سے ہیں ان میں سے بعض وہ ہیں جو بسا اوقات ایسے حالات سے دوچار ہو جاتے ہیں جو ان کی رضا جوئی اور سیرابی کے راستوں کو بند کر دیتے ہیں۔ اس لئے یہ تمام امور آداب معاشرت کی بہت سی مشکلات اور دشواریوں کو پیدا کرنے کا باعث ہو جاتے ہیں۔ چناں چہ جو بچہ اپنی کسی زبردست خواہش کو براہ راست پوری کرنے سے عاجز ہو جائے تو وہ گاہے ایسے پرپیچ اور برگشتہ راستوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے جو اس خواہش کو سیراب کرتے ہیں۔

ان عوامل میں توازن پیدا کرنے کے لئے ایک فرد پر سماجی اور انفرادی دونوں سطحوں پر چند اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ اپنے بچوں کی بہتر تربیت کے لئے ضروری ہے کہ ہم ان تمام امور پر خصوصی توجہ دیں او ر ان کو داخلی کٹھن اور نفسیاتی پیچیدگیوں سے مکمل طور پر مکت کریں۔ اگر ہم نے بروقت اپنے بچوں کے لئے ضروری اقدامات نہ کیے ( جن کا اجمالی مطالعہ متذکرہ بالا ہے ) تو اس پرشور اور متحیر انگیز دنیا میں نتائج بھی خوفناک ہو سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS