” بارہ ماسوں“ کی جمالیات اور شکیل الرحمٰن

شکیل الرحمٰن اُردو میں جمالیاتی تنقید کے نمائندہ ناقد ہیں۔ اس کام کے لئے وہ جمالیات کی نئی نئی شقیں دریافت کرتے رہتے ہیں اور موضوعات کے انتخاب میں اپنی جدت طرازی اور عمل مطالعہ کا لوہا بھی منواتے رہتے ہیں۔ اب کے انھوں نے ”بارہ ماسے“ کی جمالیات پر گفتگو کی ہے۔ 20 صفحات پر مشتمل یہ چھوٹی سی کتاب ”اُردو میں بارہ ماسے کی روایات : مطالعہ و متن“ ان کی تخلیقی تنقید کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔

Read more

ایک بیدار شاعر: ساحرؔ

ادیب شاعر یا کسی فنکار کے غور و خوض کا دائرہ جدا گانہ ہوتا ہے۔ فنکار جو کچھ سمجھتا ہے اس کے اظہار پر بھی قدرت رکھتا ہے۔ فنکار کا مشاہدہ ہی اس کی تخلیق کا ابتدائی مرحلہ ہوتا ہے جسے وہ جذب کر لیتا ہے اور یہ جذب و انجذاب کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے اور فنکار اپنے فن کے قالب میں ڈھال کر اسے پیش کرنے کا ہنر جانتا ہے۔ یہی اس ادیب یا شاعر کی

Read more

اسرار الحق مجاز: ادبی اہمیت

  مجازؔ کی انقلابی اور رومانی نظموں اور غزلوں پر گفتگو کے بعد یہ سوال پھر بھی باقی رہتا ہے کہ مجاز کی ادبی اہمیت کیا ہے۔ بالخصوص آج کے سیاق میں، کیا مجاز صرف عہدِ گزشتہ کے شاعر ہیں؟ یا شعری مزاج میں تبدیلی کے بعد آج وہ صرف ادبی تاریخ کا ایک ورق ہیں۔ جس کے بارے میں منظر سلیم نے لکھا ہے : ”یہ نغمے تیزی سے بدلتے ہوئے شعری مزاج کے ساتھ ساتھ پرانے ہوتے جا

Read more

اپنی ہی تیغ ادا سے آپ گھائل ہو گیا

منیر نیازی کے جتنے اشعار مشہور ہیں، شاید اس سے زیادہ اُن کی باتیں مشہور ہیں۔ وہ باتیں جو وہ خود کیا کرتے تھے، یا وہ باتیں جو ان کے بارے میں کی جاتیں۔ منیر نیازی ایک پیچیدہ کردار تھے ان کو سمجھنا خاصا مشکل کام ہے۔ وہ جس قدر منفرد شاعر تھے اسی طرح کی منفرد شخصیت بھی رکھتے تھے۔ ہر ایک دوسرے شخص سے منفرد، بالکل ایک عجوبہ۔ ان کو دیکھیں تو اچھا لگتا ہے، باتیں سنیں تو

Read more

شہرِ ہزار دَر اور ماہ تمام

سمَاعتوں کو نوید ہو کہ ہوائیں خوشبو کے گیت لے کر دریچۂ گُل سے آ رہی ہیں برسوں ہوئے، گئی رات کے کسی ٹھہرے ہوئے سناٹے میں، ایک کچی عمر کی لڑکی نے اپنے رب سے دعا مانگی کہ وہ اُس پر اُس کے اندر کی لڑکی کو منکشف کر دے۔ دُعا قبول ہوئی اور اس لڑکی کو چاند کی تمنا کرنے کی عمر میں ذات کے شہِر ہزار دَر کا اسم عطا کر دیا گیا۔ پھر جب موسم آیا

Read more

فراقؔ: تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

بیسویں صدی عیسوی کو دنیائے اُردو ادب میں تحریکوں اور رجحانات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جبکہ انیسویں صدی میں یہ فضا یکسر مختلف تھی۔ مگر جیسے ہی یہ دور ختم ہوا عقلیت پسندی کی تحریک پوری شدت کے ساتھ وارد ہوئی۔ اور اس کے ساتھ کئی اور تحریکیں دیکھتے ہی دیکھتے منظر ِ عام پر آ نا شروع ہو گئیں۔ ان تمام تحریکوں کا ادب پر براہ راست اثر پڑا۔ شاعری ہو یا پھر نثر، فنی، فکری، لسانی، اسلوبیاتی

Read more

روایتی اور تجریدی افسانوں کی ماہیت

ہمارے افسانوی ادب نے نئی کروٹیں لیں اور چند نئے لکھنے والوں نے افسانہ نگاری کی اس روایت سے انحراف کیا جو پریم چند سے لے کر ترقی پسندوں تک چلی آئی تھی۔ ان لوگوں نے علامتی انداز میں تجریدی افسانے لکھنے کا سلسلہ شروع کیا جسے ”جدید افسانے“ کا نام دیا گیا۔ یہ لوگ دیکھتے ہی دیکھتے بہت کم عرصے میں پورے ادبی منظر نامے پر چھا گئے۔ پھر کچھ دنوں کے بعد یہ بھی محسوس کیا گیا کہ

Read more

بنت داہر: ایک نئی سمت

جنت مکانی قاضی عابد صاحب کہا کرتے تھے : ”مطالعہ پاکستان ایک ایسا مضمون ہے جس میں نا تو مطالعہ ہے اور نہ ہی پاکستان۔“ خیر، اسی مطالعہ پاکستان میں محمد بن قاسم کی جو کہانی سنائی گئی وہ اس قدر دلچسپ اور سحر انگیز تھی کہ وہ لا محالہ ہیرو ہی لگتا تھا۔ کوئی ناہید نامی لڑکی تھی جس کو سندھ میں راجہ داہر نے کال کوٹھڑی میں بند کر رکھا تھا۔ اور جب اس کے صبر کا پیمانہ

Read more

نوجوانوں کے نفسیاتی غموض – نفسیاتی مطالعہ

اکثر نوجوانوں میں تدبر، تفکر اور شعور کے عجیب و غریب مظاہر و واقعات رونما ہوتے ہیں، جو خود نوجوانوں یا ان کے والدین یا ان کے گرد و پیش کے لوگوں کے اضطراب و حیرانی کا باعث ہوا کرتے ہیں۔ چناں چہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض لڑکے یا لڑکیاں ایسی ہیں جن پر انتہائی شرم ساری کا عالم طاری ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ لوگوں سے میل جول قائم نہیں کر سکتے۔ اور بعض

Read more

اُردو افسانہ :بیان اور بیانیہ کی آمیزش

فن قصہ گوئی کے تشکیلی عناصر میں ”بیانیہ“ کو اولیت حاصل ہے۔ بیانیہ کے بغیر کسی قصے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا مگر قصے کا بیانیہ عام بیان سے مختلف ہوا کرتا ہے۔ عام بیان میں صرف ترسیل کو مرکزیت حاصل رہتی ہے، جبکہ قصے کا بیانیہ، طریقہ اظہار پر مرتکز رہتا ہے۔ افسانہ یوں تو فن قصہ گوئی کی مکمل اکائی کا محض ایک جزو ہے لیکن وقت کے بہاؤ کے ساتھ اب افسانہ ایک خود مکتفی

Read more

وجودیت کا تاریخی پسِ منظر

اب سے سینکڑوں سال پہلے جب انسان کو فکر و شعور کی صلاحیت نئی نئی ودیعت کی گئی تو اس وقت اس میں فہم و فراست کی یہ صلاحیت انتہائی خام صورت میں تھی۔ چنانچہ اپنی فکر کے اس ابتدائی مراحل میں اس نے اپنے سامنے اونچا ہونے والی ہر اس شے یا واقعے کو اپنا معبود بنا لیا کہ جو اسے فائدہ یا نقصان پہنچا سکتا تھا۔ مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اس کے شعور میں بھی استحکام

Read more

وجودیت کا تاریخی پس منظر

اب سے سینکڑوں سال پہلے جب انسان کو فکر و شعور کی صلاحیت نئی نئی ودیعت کی گئی تو اس وقت اس میں فہم و فراست کی یہ صلاحیت انتہائی خام صورت میں تھی۔ چنانچہ اپنی فکر کے اس ابتدائی مراحل میں اس نے اپنے سامنے اونچا ہونے والی ہر اس شے یا واقعے کو اپنا معبود بنا لیا کہ جو اسے فائدہ یا نقصان پہنچا سکتا تھا۔ مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اس کے شعور میں بھی استحکام

Read more

دو قومی نظریہ اور تشکیل پاکستان

پاکستان کو اب اپنے مفہوم و معانی، مدعا اور کردار کے حوالے سے ایک نظریہ کے مترادف قرار دیا جاتا ہے۔ اس پیش پا افتادہ بات کو ایک طویل عرصے سے اکتا دینے کی حد تک دہرایا جا چکا ہے۔ اور اب اس کو ایک بدیہی صداقت سمجھا جانے لگا ہے۔ اس تصور کی متواتر جارحانہ وکالت نے ان تمام مساعی کو پس پشت ڈال دیا ہے جو خاص طور پر پاکستان کے علمی اداروں میں معروضی تجزیوں کے لئے

Read more

تمثیل، استعارہ، علامت اور اساطیر

موضوع سے قطع نظر جب ہم شاعری کی مرکزی ساخت کے متعلقات کی طرف توجہ کرتے ہیں تو حسی ادراک، استعارہ، تمثیل اور دیو مالائی عناصر کی شمولیت کے پیش نظر اس کا نثر سے امتیاز کرنا پڑتا ہے۔ شاعری کی تنظیم کے لیے استعارہ اور بحر کو خاص اہمیت حاصل ہے اور ان دونوں عناصر کے اشتراک کے بغیر اس کا مقصد مکمل نہیں ہو سکتا۔ ان سے ایک طرف حسی اور جذباتی ادراک ہوتا ہے جو شاعری کو

Read more

شعری ہیئت اور معنویت

مشرقی تنقید میں یہ خیال عام یہ ہے کہ اعلیٰ قسم کی شاعری وہی ہو سکتی ہے جو بعض اصول و ضوابط پر پوری اترتی ہو اور اس کا معیار وزن اور ترنم کے تقاضوں کی تکمیل سے قائم کیا جاتا ہے۔ اس نظریہ میں ایک خامی یہ محسوس ہوتی ہے کہ اس سے شعری آہنگ کا تعلق محض الفاظ کی صوتی بنیادوں تک محدود رہ جاتا ہے اور قاری کے ذہن پر اس کا اثر قائم نہیں ہو پاتا۔

Read more

انتون چیخوف کی تخلیقی حسیات

  دنیائے افسانہ نگاری کے دو امام مانے جاتے ہیں جن میں سے ایک موپساں اور دوسرا چیخوف ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موپساں ایک بہت بڑا فسانہ نگار ہے اور تنقیدی سطح پر یہ فیصلہ کرنا شاید ممکن نہیں کہ موپساں اور چیخوف میں کون سا بڑا افسانہ نگار ہے (اور یہ فیصلہ کرنا کوئی ضروری بھی نہیں) مگر میں ذاتی طور پر چیخوف کو زیادہ پسند کرتا ہوں اور اس کی وجہ اس لئے نہیں بتانا

Read more

نیر مسعود کا تخلیقی تخیل

  افسانہ نگاری نیر مسعود کی زندگی میں دوسرے موڑ پر سامنے آتی ہے۔ اس سے قبل وہ محقق، نقاد اور زبان و ادب کے عالم کے طور پر شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ نیر مسعود افسانہ نگاری میں اپنی مثال آپ ہیں۔ انھوں نے افسانے کا ایک منفرد اسلوب ایجاد کیا اور پھر اس انداز کو اوج کمال تک پہنچایا۔ ان کے انداز کی پیروی یا نقل ناممکن معلوم ہوتی ہے۔ افسانوں کی فضا ء اور ماحول اور بیان،

Read more

اردو افسانے کا دوسرا جنم : ایک تعارف

  ”اردو افسانے کا دوسرا جنم“ حال ہی میں شائع ہونے والی تحقیقی و تنقیدی کتاب ہے۔ جس کو ڈاکٹر خاور نوازش اور ڈاکٹر عبدالعزیز ملک نے مرتب کیا۔ مرتبین نے افسانوی دور کو چار ادوار میں تقسیم کیا۔ پریم چند اور ان کے ہم عصروں کا پہلا دور، دوسرے دور کو ترقی پسند تحریک کے دور سے منسوب کیا، تیسرے دور کو تقسیم ہندوستان اور جدیدیت سے منسوب کیا اور چوتھا دور ستر کی دہائی کے بعد کے لکھنے

Read more

مغربی تہذیب اتنی معتوب کیوں؟

  تہذیب کے معنی اور اس کی نشو و نما کے قوانین کا سوال اس وقت مزید اہم ہوجاتا ہے جب ایک نئی تہذیب تشکیل پا رہی ہوتی ہے اور عالمی ترقی کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہو رہا ہوتا ہے۔ مغرب میں ایک طویل سیاہ دور کے بعد جب مذہب کا فکرو نظر پر بہت گہرا اثر تھا، پندرہویں صدی عیسوی میں روشن خیالی (انلائٹنمنٹ ) کی تحریک کا آغاز ہوا، تو لوگوں نے سماج، قانون

Read more

عزت، غیرت اور عورت

  عزت کیا ہے؟ کسی شخص کی قدر اس کی اپنی نظروں میں؟ یا وہ ضوابط جو روایتی معیار کردار تشکیل کرتے ہیں؟ لیکن عزت ایک اور چیز بھی ہے۔ یعنی عورت کا جنسی کردار۔ ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں، یہاں عورت کو اپنی جنس پر کوئی اختیار نہیں۔ اس کی ذاتی زندگی اور مستقبل کے بارے میں فیصلے اس کے مرد رشتے دار ہی کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں جب کسی کے گھر بیٹی پیدا ہوتی ہے، یہ اس

Read more

مرزا غالب کی جمالیات

  غالبؔ اسلامی برصغیر کے اس پر آشوب عہد میں تھے جب ٹیلی گراف، انفیلڈ اور دخانی جہازوں نے طاقت کا پانسہ یکسر مغرب میں پلٹ دیا تھا۔ مغلوں کی حکومت تو 1803ء میں اسی سمے دم توڑ چکی تھی جب جنرل لیک کی فوجیں دہلی میں داخل ہوئیں۔ اس وقت لال قلعے کے مکین مادھولال سندھیا کے زیر نگیں تھے۔ ویسے بھی آئندہ چند برسوں میں مغل بادشاہ کو صرف دو لاکھ سالانہ کا وظیفہ خوار بن کر رہنا

Read more

سر مقتل کی ضبطی پر: حبیب جالب

  مرے ہاتھ میں قلم ہے مرے ذہن میں اجالا مجھے کیا دبا سکے گا کوئی ظلمتوں کا پالا مجھے فکر امن عالم تجھے اپنی ذات کا غم میں طلوع ہو رہا ہوں تو غروب ہونے والا یہ اشعار اردو ادب کے معروف شاعر اور جمہوریت کے حق میں سینہ سپر رہنے والے حبیب جالب ؔکے ہیں۔ حبیب جالبؔ، یعنی ایک ایسی شخصیت جو تادم حیات نہ کبھی کسی حکمراں کے سامنے جھکے اور نہ ہی عوام کے مسائل اور

Read more

قاضی راشدؔ محمود کی خاکہ نگاری

  خاکہ نگاری ایک ایسا فن ہے جو ہر عہد، ہر ملک اور ہر زبان میں اس کے نمونے اور نقوش ملتے ہیں۔ زندگی اور زمانے کے بدلتے ہوئے مزاج و میلان، نشیب و فراز ڈوبتی ابھرتی انسانی زندگی کے تمام رنگ و روپ خاکہ نگاری میں دیکھنے اور پڑھنے کو ملتے ہیں۔ معاملہ، معاشرتی و سماجی، علمی و ادبی ہو یا سیاسی، بڑی شخصیت ہو یا معمولی، عالم ہو یا جاہل، حکمراں ہو یا سماج کا ایک ادنیٰ انسان،

Read more

قاضی عابد صاحب کی یاد میں

  قاضی صاحب سے میرا پہلا تعارف ایم اے کی کلاس میں ہوا۔ وہ ان دنوں صدر شعبہ تھے اور ہر دم متحرک رہا کرتے تھے۔ انھوں نے ہمیں تیسرے میقات میں جدید اردو شاعری پڑھائی تھی۔ مجھے ابھی تک یاد ہے، ایک دن وہ کلاس میں آئے اور میرے سامنے منیر نیازی کا کوئی شعر پڑھا۔ اور مجھ سے پوچھنے لگے، ملک صاحب! ذرا بتائیں گے یہ کس کا شعر ہے اور اپنے اندر کیا تعلیم رکھتا ہے۔ تعلیم

Read more

گلزار : بحیثیت افسانہ نگار

  گلزار کے فن کار ہونے میں شبہ نہیں۔ لیکن فن اور فن کار میں فرق ہوتا ہے۔ اور ہر فن کے تقاضے الگ ہیں۔ ضروری نہیں کہ ایک زمرے کا فنکار دوسرے زمرے میں بھی اتنا ہی کامیاب ہو۔ فلم کی شہرت اپنی جگہ، گلزار کہانی کے فن میں ایسے کھرے نکلیں گے، ان کا گمان بھی نہیں تھا۔ ادب کے بہت سے معاملات عشق کی طرح ہیں۔ ان میں منصوبہ بندی یا فارمولا سازی نہیں چلتی، بلکہ بہت

Read more

غناسطیت یا ناسٹسزم کیا ہے؟

  غناسطی یا غناسطیت ایک اصطلاح ہے جس کا اردو ترجمہ ”عرفانیت“ کیا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ ایک الیہاتی فلسفہ ہے اس کی ابتداء کب اور کہاں سے شروع ہوئی اس کے بارے میں تاریخ ہنوز خاموش ہے۔ اس کی بنیادی مبادیات مختلف کرنتھوں اور اتیمتھیس کی آیات بنیں اور قاموس الکتاب میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ مگر مختلف محققین نے اپنے تئیں اس کی شرح بھی کی اور مبادیات کے حوالے سے کچھ مباحث بھی

Read more

”خواب گاہ میں ریت“ ( قدیم و جدید اسلوب کا ایک منفرد تجربہ)

  اردو شاعری کے جدید منظر نامے کے باب میں کہا جاتا ہے کہ ”برصغیر پاک و ہند میں جدید شاعری کا آغاز آزادی کے بعد ہوا“ ۔ شاعری کے اس نئے رنگ و آہنگ کو علی العموم ترقی پسند تحریک کے رد عمل کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس ردعمل کے نتیجے میں باقاعدہ ایک اور تحریک کا آغاز ہوتا ہے، جس کو ”جدیدیت“ کا نام دیا گیا۔ اس نئے رجحان یا تحریک کے زیر اثر کی جانے

Read more

پکاسو اور کیوب ازم پینٹنگ کی تحریک

  (مختصر تعارف، مباحث اور تناظر) کیوب ازم، ڈاڈا ازم اور ایبسٹرکٹ آرٹ بنیادی طور پر مصوری کی اصطلاحات ہیں جو بعد میں ادب میں بھی شامل ہو گئیں۔ ادب کی یہ خاصیت ہے کہ یہ لفظی اظہاریہ کے ذریعے وہ سب کچھ کرنے کے لئے میدان فراہم کرتا ہے جو مصوری یا صنم تراشی میں بیان ہوتا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ مختلف اصناف فراہم کر کے اس عمل کو اور بھی آسان اور دلچسپ بنا دیتا ہے۔

Read more

ہیدونزم یا فلسفہ خوشی کیا ہے؟ مختصر تعارف اور اردو شاعری میں بطور تناظر

  اردو شاعری میں حزن و ملال کے موضوعات ہوں یا پھر غم زیست بطور فلسفہ، ایسے موضوعات کی اردو شاعری میں بھرمار ہے اور ان موضوعات کے حوالے سے کئی شعرا نمائندہ ہیں۔ میر ؔ نے غم کو فلسفہ بنایا تو وہیں فانی ایک قنوطی شاعری کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ غم کے بعد خوشی یا نا امیدی کے بعد رجائیت کا بیان یہ بھی ایک رواجی بات ہے۔ اردو شاعری بیسویں صدی میں داخل ہوتے ہی، متنوع

Read more

اسلام: چند عصری مسائل – مذہب، ریاست اور سیاست کے تناظر میں

  ”اسلام: چند عصری مسائل“ ڈاکٹر منظور احمد کی نو مضامین پر مشتمل ایک کتاب ہے۔ جو پیس پبلی کیشنز، لاہور سے 2015ء میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں مختلف پہلوؤں سے، فکری پیرائے میں دین فطرت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب دیباچے میں لکھتے ہیں : ”کیا موجودہ زمانے میں اسلام پر عمل اسی رسمی طریقے سے مفید ہو گا، جس طریقے سے ہم اب تک کرتے آئے ہیں؟ یا ہمیں اسلام سے اپنے موجودہ مسائل کے

Read more

مسلم دنیا میں فکری جمود – مسائل، وجوہات اور سدباب

اٹھارہویں صدی عیسوی میں روشن خیالی کی تحریک ایسی تحرک تھی جس نے روایت اور قائم نظریے کے بجائے استدلال اور انفرادیت کے استعمال کی وکالت کی۔ روشن خیالی نے بہت ساری انسانی اصلاحات کیں۔ اور اپنے منشور کی بنیاد عقل اور انسان دوستی پر رکھی۔ یہ تحریک بڑی شدت کے ساتھ بنیاد پرست طبقوں سے ٹکرائی۔ اور فطری رد عمل کے طور پر کلیسا اس کا حریف ٹھہرا۔ اس تحریک نے کلیسا کی اجارہ داری کو مکمل طاقت کے

Read more

تفہیم دانائے راز : اقبال شناسی از ڈاکٹر منظور احمد

علامہ محمد اقبال بلاشبہ ایک انقلابی و ارتکازی شاعر، مفکر اور فلسفی تھے۔ آپ کے تمام تر نظریات جس قدر پر مغز اور پر تاثیر ہیں اسی طرح نزاعی بھی ہیں۔ آپ کے نظریات پر مختلف ادوار میں مختلف پہلوؤں پر تنقید کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اور تفہیم اقبال کے باب میں اب تک کئی کتب منظر عام پر آ چکی ہیں۔ جہاں ناقدین کی اکثریت اقبال سے اتفاق کرتی اور ان کی رطب السان نظر آتی ہے وہیں

Read more

تاریخ کے نئے زاویے – سیاست، سماج اور مذہب کے تناظر میں

قوموں کا عروج و زوال تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ عروج و زوال کیوں ہوتا ہے؟ اس کے پس منظر میں کون سے عوامل کام کرتے ہیں؟ کیا اس کو کسی ضابطے او ر قانون کے تحت بیان کیا جا سکتا ہے؟ یا ہر تہذیب کا عروج اور زوال ایک خاص دائرے میں ہوا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو مؤرخ ایک مسئلہ کی صورت اٹھاتے ہیں اور پھر اس عمل کو وسیع تناظر میں دیکھتے ہیں۔ آرنلڈ ٹوائن

Read more

جدیدیت، نوآبادیاتی نظام اور مذہب کا تاریخی منظرنامہ

جدیدیت کی تحریک کی نظریاتی بنیادیں فرانسس بیکن، روبن ڈیکارٹ، تھا مس ہو بس جیسے مفکرین کے افکار میں پائی جاتی ہیں، جن کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ یہ دنیا اور کائنات عقل، تجربہ اور مشاہدہ کے ذریعے قابل دریافت (Deterministic) ہے، اور اس کے تمام حقائق تک سائنسی طریقوں سے رسائی ممکن ہے۔ اس لیے حقائق کی دریافت کے لیے کسی اور سرچشمہ کی نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ اس کا وجود ہے۔ صرف وہی حقائق قابل

Read more