فلسطینی ہیڈ اسکارف ۔ کفیہ
اسرائیل اور فلسطین کے موجودہ جنگی تنازعہ کے تناظر میں، ایک دفعہ پھر، فلسطینی ہیڈ اسکارف، سوتی کپڑے سے بنا، سیاسی طور پر مشہور ترین ٹکڑا، جسے عربی زبان میں کفیہ کہتے ہیں، زیر بحث ہے۔ برلن کے تمام اسکولوں میں، صوبائی حکومت کی طرف سے، اس اسکارف کے پہننے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس پابندی کی بنیادی وجہ، جرمنی کے سب سے بڑے شہر برلن سے، دنیا کو تاثر نہ جانا کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران، یہودیوں کے ہولوکاسٹ نامی واقعات کو ابھی بھی پذیرائی مل رہی ہے۔
ایسی پابندیوں کے باوجود، 7 اکتوبر سے شروع ہونے والے خطرناک تنازعہ کے بعد سے، جرمنی کی سڑکوں پر بہت سے لوگ، کفیہ، جسے اختصار کے ساتھ ”پالی اسکارف“ بھی کہتے ہیں، پہنے نظر آتے ہیں۔ شروع میں یہ بے ضرر رومال، فیلڈ ورکرز کو سورج کی تپش سے بچانے کے لئے مستعمل تھا۔ 1940 کی دہائی میں، برلن میں مستقل سکونت پذیر، یروشلم کے مفتی جناب محمد امین الحسینی نے، فلسطینی کالونیل حکومت برطانیہ اور مملکت فلسطین میں آئے ہوئے اسرائیلی مہاجرین کے خلاف جبکہ عربی دیہی آبادیوں کی یکجہتی کے حق میں، کفیہ پہننے کا فتویٰ دیا تھا۔ اس سے پہلے اکثریتی عرب باشندے، مراکش کے شہر فیض کی مناسبت سے فیض نامی ہیڈ اسکارف پہنتے تھے۔ 1937 سے، ترکیہ کی سلطنت عثمانیہ میں بھی فیض بطور قومی ہیڈ اسکارف مروجہ تھا۔
مغربی دنیا بشمول جرمنی میں، 1970 سے 1974 کی دہائیوں میں، فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن کے صدر، اور الفتح نامی تنظیم کے بانی رُکن اور چیئرمین جناب یاسر عرفات مرحوم کی وجہ سے، یہ اسکارف متعارف ہوا تھا۔ یاسر عرفات نے 1993 میں اسرائیل کے خلاف اپنی مسلح مزاحمت ترک کر دی تھی۔ فلسطینیوں اور اسرائیل کے ساتھ دسمبر 1994 میں امن معاہدے کی وجہ سے، نوبل کمیٹی نے یاسر عرفات اور اسرائیل کے صدور جناب شمعون پیئرس اور جناب اسحاق بینن، تینوں کو، مشترکہ طور پر امن نوبل پرائز سے نوازا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ یاسر عرفات کے ”پالی اسکارف“ پہننے کے انداز میں ایک خاصیت پنہاں تھی۔ وہ اسے دائیں کندھے پر اس طرح لٹکایا ہوا رکھتے تھے کہ یہ اسکارف فلسطین بشمول اسرائیل کا نقشہ لگتا تھا۔ یاسر عرفات کے دور ہی میں اس اسکارف کا وسیع پیمانے پر استعمال نظر آیا تھا۔ یہ کوئی ثقافتی تخصیص نہیں تھی۔ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف، بائیں بازو کے لوگ اسے اپنی تشخیص کے لئے پہنتے تھے۔ حکومتی غلط پالیسیوں کے خلاف مظاہروں میں، لوگ اسے اپنی شناخت چھپانے کے لئے بھی پہنتے تھے۔ پولیس کی طرفِ سے آنسو گیس کے استعمال کے خلاف بعض اوقات، اسکارف کو منہ پر لپیٹنے سے ڈھال کا کام بھی لیا جاتا تھا۔ اور اشتہاری مجرموں کو چہرے چھپانے میں بھی مدد ملتی تھی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، پالی اسکارف، سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف، تیسری دنیا کے ممالک کی کالونیل حکومتوں سے آزادی اور مظلوموں کے حق میں یک جہتی کا نشان سمجھا جاتا تھا۔ یہ موقف بائیں بازو نظریات کے حامی اپنائے ہوئے تھے۔ فلسطینی، سرمایہ دارانہ نظام کی بین الاقوامی جد و جہد کے برعکس، صرف اپنی آزادی اور اسرائیل کا مقبوضہ علاقوں سے انخلاء کے لئے کوشاں تھے اور یہ اسکارف پہنتے تھے۔ یہ اسکارف فلسطینی فیوڈل کلاس نہیں پہنتی تھی۔ بعد میں بعض ڈیزائنر نے، اس کے ”کپڑے“ سے مختلف ملبوسات ڈیزائن کیے تھے۔ اس کو شال بنا کر بھی، گلے میں لٹکایا جاتا تھا۔ خصوصاً بطور کشمیری شال پسندیدگی سے پہنا جاتا تھا۔ 1990 کی دہائی سے، جرمنی کی نیو نازی تنظیموں کے بعض اراکین، یا/اور دائیں بازو کے لوگ، اپنی مجالس میں اس کو پہنتے ہیں۔
آخر میں ایک دلچسپ واقعہ:
برلن کے ”ایوان نمائندگان“ میں ایک نسبتاً چھوٹی سیاسی جماعت کا ایک رکن پالی اسکارف پہن کر آیا تھا۔ اس پر جرمنی میں یہودیوں کی مرکزی تنظیم نے پر زور مذمت کے ساتھ اس رکن کو مذمتی خط بھی لکھا تھا۔


