دو 4 سال کے بچوں کی موت پر پراپیگنڈے اور الزامات کی جنگ کیسے لڑی گئی؟

ماریانا سپرنگ - نامہ نگار برائے ڈس انفارمیشن اور سوشل میڈیا


عمر سمن توو اور عمر بلال البنا
عمر سمن ثوو اور عمر بلال البنا دونوں اسرائیل غزہ جنگ میں مارے گئے
غزہ میں کشیدگی کے ابتدائی دنوں میں چار سال کے دو بچے ہلاک ہوئے جن میں سے ایک فلسطینی جبکہ دوسرے کا تعلق اسرائیل سے تھا۔ لیکن سوشل میڈیا پر بہت سے پیغامات میں ان ہلاکتوں پر افسوس ظاہر کرنے کے بجائے اس پر شک کیا جاتا رہا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔

عمر بلال البنا اور عمر سمن ٹوو ایک دوسرے سے تقریباً 23 کلومیٹر دور غزہ اور اسرائیل کے درمیاں لگی باڑ کے قریب کے علاقوں میں رہتے تھے۔ دونوں ایک دوسرے سے کبھی نہیں ملے تھے لیکن دونوں کو گھر سے باہر کھیلنا بہت پسند تھا۔

گذشتہ ہفتے ان دونوں بچوں کی تصویریں مجھے میری سوشل میڈیا فیڈ پر بھی نظر آئیں۔ یہ دونوں اسرائیل اور حماس کے درمیان چھڑ جانے والی جنگ کی نذر ہو گئے۔

میں نے ان بچوں کے گھر والوں، دوستوں اور ان واقعات کے عینی شاہدین کو ڈھونڈنے کی سر توڑ کوشش کی اور آخر کار میں اس میں کامیاب ہو گیا۔ ان دونوں ہی بچوں کی کہانیاں المناک ہیں۔

7 اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے حماس کے حملے میں عمر سمن ٹوومیں ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے چار دن بعد غزہ شہر کے زیتوں نامی علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں عمر بلال البنا ہلاک ہو گئے۔

ان دونوں بچوں کی ہلاکت کے بعد جس طرح سے سوشل میڈیا پر صارفین نے ان بچوں کی ہلاکت سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا یا یوں کہہ لیجیے کہ ان کی ہلاکت کی تردید کی، یہ اسرائیل اور غزہ میں جاری جنگ سے عین مماثلت رکھتی ہے۔ درحقیقت یہ سوشل میڈیا پر جاری لفظوں کی ایک جنگ ہے۔

بچوں کے خلاف ہونے والے تشدد کو کم کرنے یا اس سے انکار کرنے کی ایک بھرپور اور کھلی کوشش کی گئی ہے۔

ان جھوٹے الزامات نے اپنے پیاروں کے کھونے پر غمزدہ خاندان، دوستوں اور جنھوں نے ان واقعات کو دیکھا ان سب کو شدید ذہنی صدمہ پہنچایا ہے۔

’یہ اصلی بچہ نہیں، یہ ایک گڑیا ہے‘

فلسطینی عمر بلال البنا کی والدہ یاسمین نے انسٹاگرام پر اپنے بچے کو یاد کیا اور لکھا کہ ’میری زندگی کی روشنی‘ میرے بچے۔‘

دو فوٹوگرافروں نے میرا عمر کی والدہ سے رابطہ کروایا اور میں نے سوشل میڈیا پر ان کی پروفائلز اور اپنے پاس دستیاب تفصیلات کے ساتھ ان کا موازنہ کیا تاکہ یہ جان سکوں کہ واقعی یہ عمر کی ہی والدہ ہیں۔

عمر اپنے بڑے بھائی ماجد کے ساتھ باہر کھیل رہے تھے جب وہ اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی بمباری کی زد میں آئے۔ میں نے وہ ویڈیو دیکھی جس میں ماجد نے ان کی تصدیق کی۔

اس ویڈیو کلپ میں وہ بیان کرتے ہیں کہ کس طرح حملہ ان کے پڑوسی کے گھر پر ہوا اور پھر کس طرح اس گھر کا ملبہ عمر پر آ گرا۔ ماجد بھی اس واقعے میں زخمی ہوئے۔ فوٹیج میں ان کی ٹانگ پر پٹی بندھی ہوئی دیکھی جا سکتی ہے اور وہ حیران اور پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔

میں نے عمر کی موت کے بارے میں جو پہلی آن لائن پوسٹ دیکھی وہ ایکس (سابق ٹویٹر) پر شئیر ہوئی۔ اس پوسٹ میں ایک ویڈیو بھی شامل تھی جس میں ایک سُرمئی رنگ کی پولو شرٹ میں ایک شخص کو سفید رنگ کے کپڑے یا کمبل میں لپٹی ایک چھوٹے بچے کی میت کو سینے سے لگائے دکھایا جا سکتا ہے۔ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ سفید کپڑے میں لپٹا وہ بچہ عمر تھا۔

اس ویڈیو کلپ کو شیئر کرنے والے شخص نے ویڈیو کی تفصیل بتاتے ہوئے غلط طور پر دعویٰ کیا کہ ’حماس مایوس ہے!‘ انھوں نے مبینہ طور پر غلط معلومات دیتے ہوئے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ حماس نے ’ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ایک مردہ فلسطینی بچے کو دکھایا گیا ہے لیکن یہ حقیقت میں بچہ نہیں بلکہ بچے جیسی دیکھنے والی ایک گڑیا ہے۔‘

اس صارف نے مزید یہ بھی کہا کہ ’یہ حماس اور فلسطینیوں کی جھوٹی، من گھڑت اور پروپیگنڈہ کے طور پر پھیلانے والے ایک گروہ کی کارستانی ہے‘ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حماس کی جانب سے اپنے اکاؤنٹس پر پہلے یہ ویڈیو شیئر کی گئی اور بعد میں اسے ہٹا دیا کیونکہ یہ حقیقت پر مبنی نہیں تھی۔

ایکس کے مطابق، ویڈیو اور جھوٹے دعووں پر مبنی اس پوسٹ کو 38 لاکھ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔ اس ویڈیو اور پوسٹ میں حماس پر لگائے جانے والے الزامات کو پھر ایکس پر ہی اسرائیل کی حمایتی اور سرکاری اکاؤنٹ نے مزید پھیلایا یعنی آگے شیئر کیا۔

اسرائیل کے اس سرکاری اکاؤنٹ نے ایک نئی پوسٹ شیئر کی، اس بار سفید کمبل میں بچے کی وہی ویڈیو پیش کی گئی ہے، اور پھر اسی ویڈیو سے حاصل کی گئی ایک تصویر پر بچے کے چہرے کے گرد گول دائرہ لگا ہوا ہے۔

تصویر میں فراہم کردہ تفصیل میں لکھا کہ ’حماس نے غلطی سے ایک گڑیا (جی ہاں ایک گڑیا) کی ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں بتایا گیا کہ یہ آئی ڈی ایف (اسرائیل ڈیفنس فورسز) کے حملے میں ہونے والی ہلاکتوں کا حصہ ہے۔‘

تاہم کچھ ہی دیر کے بعد ایکس پر دیگر مُمالک کے سرکاری اکاؤنٹس نے اسی کو دوبارہ شئیر کیا اور اس پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، ان مُمالک میں فرانس اور آسٹریا بھی شامل ہیں۔ ابھی اس سلسلے کو زیادہ وقت نہیں گُزرا تھا کہ اسرائیل کی حمایت اور حماس کے خلاف سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے اس دعویٰ کو اسرائیل سے ہی دیگر حماس مخالف اکاؤنٹس کی جانب سے مزید پھیلانے کا کام شروع ہو گیا۔

اسرائیل کے بعد انڈیا سے بھی اسرائیل کی حمایت میں سوشل میڈیا پر آواز اُٹھی اور وہاں سے بھی اس ویڈیو کو شئیر کیا گیا۔

ہر بار سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی پوسٹ میں یہ الزام لگایا جانے لگا کہ حقیقت میں یہ کسی بچے کی میت نہیں بلکہ ایک گڑیا ہے۔ میں نے یہ پوری ویڈیو دیکھی ہے اور میں بڑے واضح طور پر یہ کہ سکتا ہوں کہ کوئی گڑیا نہیں بلکہ حقیقت میں عمر کی میت ہے۔

میں نے اصل فوٹیج کو ایک فلسطینی فوٹوگرافر مومین الحلبی کے انسٹاگرام پیج پر اسے جانچنے کے لیے ٹریک کیا۔ انھوں نے سرمئی رنگ کی قمیض پہنے اس آدمی کی اصل ویڈیو بنائی تھی جس نے عمر کی میت اٹھا رکھی تھی چنانچہ میں نے اس سے رابطہ کر لیا۔

میں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کے لیے کام کرنے والے ایک اور فوٹو جرنلسٹ محمد عابد سے بھی رابطہ کیا۔ جو حادثے کے وقت وہاں موجود تھے۔ انھوں نے سفید چادر میں لپٹے اُس بچے کی تصویر کھینچی جس میں وہی بچہ دیکھا جا سکتا ہے۔ اس تصویر کو تصاویر کے حصول کے لیے استعمال ہونے والی معتبر ویب سائٹ ’گیٹی امیجز‘ پر بھی اپ لوڈ کر دیا گیا۔

تصویر کے ساتھ کیپشن میں ’غزہ شہر میں الشفا ہسپتال کے مردہ خانے کے باہر‘ کے مناظر کو بیان کیا گیا ہے۔ اس پر 12 اکتوبر 2023 کی تاریخ درج ہے۔ اسی دن ویڈیو کو انسٹاگرام پر مومین الحلبی نے شیئر کیا تھا۔

دیگر فیکٹ چیکنگ کرنے والی تنظیموں جیسے آلٹ نیوز نے بھی اصل تصاویر اور ویڈیوز کے ماخذ کا پتہ لگایا ہے۔

دونوں فوٹو جرنلسٹ نے مجھے اس بات کی تصدیق کے لیے مزید تفصیلات فراہم کیں کہ ویڈیو اور تصویر مردہ خانے کے باہر الشفا ہسپتال میں ہی لی گئی تھی۔ تفصیلات میں اس دن ہسپتال کی صورتحال اور سرمئی رنگ کی قمیض پہنے شخص کے بارے میں بھی بتایا گیا جو عمر کے رشتہ دار تھے۔

ان دونوں نے مجھے واضح طور پر بتایا کہ جس بچے کی تصویر دی گئی ہے وہ گڑیا نہیں بلکہ حقیقت میں چھوٹا بچہ، عمر بلال البنا تھا۔ انھوں نے اضافی تصاویر بھی شیئر کیں جنھیں میں نے مومین الحلبی کی اصل ویڈیو فوٹیج سے ملایا تاکہ بچے کی شناخت کی تصدیق کی جا سکے۔

ہمارے آپس میں رابطے کے بعد محمد عابد نے اپنے کیمرے سے بنائی جانے والی ایک تصویر کو اپنی انسٹاگرام سٹوری پر ڈال کر کیپشن میں لکھا ہے ’یہ گڑیا کی تصویر نہیں، میں نے اس تصویر کو بنایا تھا اور یہ حقیقت میں اُسی بچے کی ہی ہے۔‘

ایسا لگتا ہے کہ تصویر میں عمر کی جلد کا رنگ وہ چیز تھی جس نے لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ یہ ایک بچہ نہیں گڑیا ہے۔ لیکن عابد اس بارے میں کہتے ہیں کہ انھوں نے غزہ میں ہونے والے حملوں میں ہلاک ہونے والے کئی بچوں کی تصویریں بنائی ہیں اور ان سب کی جلد ایک جیسی دیکھائی دیتی ہے۔

عمر کی والدہ یاسمین نے تصدیق کی کہ ان کا بیٹا ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’بچوں اور معصوم لوگوں کے قتل کے بارے میں‘ بولے جانے والے جھوٹ ’درست نہیں، بلکہ بہت تکلیف دہ ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جو لوگ حقیقت نہیں جانتے انھیں یہ کہنے کا کوئی حق نہیں کہ وہ کوئی بچہ نہیں بلکہ گڑیا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’وہ (اسرائیلی حکومت) جھوٹ بول رہے ہیں اور اپنے جرائم اور قتلِ عام سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے حقیقت پر پردہ ڈال رہے ہیں۔‘

برطانیہ میں اسرائیلی سفارت خانے کے ترجمان نے ان سوشل میڈیا پوسٹس یا عمر کی موت پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’غلط معلومات کے واقعات کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے‘ تاہم انھوں نے بی بی سی کی جانب سے پوچے جانے والے سوالات کے جواب میں بی بی سی پر ہی غلط معلومات پھیلانے کا الزام لگایا۔

ایکس نے تبصرے کے لیے بی بی سی کی درخواست کا جواب تا حال نہیں دیا۔

’عمر معاوضے پر کام کرنے والا ایک اداکار تھا‘

اور اب کہانی اسرائیل میں ہلاک ہونے والے بچے عمر کی۔

سمن ٹوو خاندان کے دوست مور لاکوب نے مجھے بتایا ’عمر ایک فرشتہ تھا۔ وہ بہت خوبصورت اور پیارا اور معصوم تھا۔ وہ اپنی بہنوں کے بہت قریب تھا۔ وہ سب ہمیشہ ساتھ کھیلتے تھے اور سب ایک دوسرے کے اچھے دوست تھے۔‘

مور لاکوب نے مجھے بتایا کہ انھوں نے اس سے تصدیق کی کہ وہ (عمر کا خاندان) اپنی پناہ گاہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں لیکن یہ آخری پیغام تھا۔

ان کی طرف کے دوستوں کو بھیجے گئے مزید پیغامات آج تک کسی نے نہیں پڑھے۔

مور لاکوب کو بعد میں پتہ چلا کہ عمر کے والدین، تمر اور یوناتن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ عمر کے علاوہ اس کی بڑی بہنیں شاخر اور اربیل اس وقت مارے گئے جب ان کے گھر کو آگ لگ گئی۔ ان کی موت پر بڑے خبر رساں اداروں نے خبریں دیں۔

ایک تصویر میں اپنے والدین اور بہنوں سے گھرا ہوا عمر مسکرا رہا ہے۔

اس تصویر کو اسرائیلی حکومت کے ایکس اکاؤنٹ نے شیئر کیا گیا۔ اس پوسٹ میں لکھا گیا ’حماس کے دہشت گردوں کے ہاتھوں ایک پورے خاندان کا صفایا کر دیا گیا ہے۔ کوئی الفاظ نہیں ہیں۔ بس اب اُن کی یاد ہی باقی ہے۔‘ اسے سابق اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے بھی شیئر کیا تھا۔

لیکن جب میں نے نیچے دیے گئے کمنٹس میں جہاں بہت سارے لوگ اس اندوہناک واقعے اور شدید صدمے کے بارے میں بات کر رہے تھے اور مدد کی پیشکش کر رہے تھے وہیں کچھ لوگ ایسے بھی تھے کہ جن کے خیالات ایسے تھے کہ جن کی توقع نہیں تھی۔

حماس کی حمایت کرنے والے متعدد اکاؤنٹس نے دعویٰ کیا کہ عمر ایک ’اداکار‘ تھا کیونکہ حماس نے ’بچوں کو قتل نہیں کیا‘۔

دوسروں کا کہنا تھا کہ یہ ’یہودی پراپیگنڈے کی بہترین (مثال) ہے۔‘ ایک نے لکھا اس کا ’کوئی ثبوت نہیں ہے‘ وہ مر چکے ہیں اور کہا کہ ’جھوٹ بولنا بند‘ کرو۔

مختلف سوشل میڈیا سائٹس پر سمن ٹوو فیملی سے متعلق کئی دیگر پوسٹس اور ویڈیوز دیکھنے کو ملیں جن میں ایسے ہی تبصرے دیکھنے کو ملے۔

کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ وہ اور ان کی بہنیں ’کرائسیس ایکٹرز‘ تھے جنھیں اداکاری کرنے پر اجرت یا اس کام کا معاوضہ دیا گیا۔

میں نے کمنٹس کرنے والی پروفائلز کو دیکھا۔ ان میں سے بہت سے لوگ دنیا بھر کے دیگر مُمالک کے رہائشی معلوم ہوئے۔ کئی حماس کی حمایت کرتے اور ایک جوڑا مقبوضہ غرب اردن میں مقیم کا بھی انھیں میں دکھائی دیا۔

یہ بہت زیادہ فالوورز والے اکاؤنٹس نہیں تھے۔ تاہم، ان کی جانب سے شیئر کی جانے والی پوسٹ کا مجموعی اثر وسیع تر اور وائرل سوشل میڈیا بیانیہ کو تقویت دیتا نظر آیا۔ یہ بیانیہ یہ تجویز کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس طرح کے تشدد کے ثبوت کے باوجود حماس نے کسی بچے کو قتل نہیں کیا ہے۔

دیگر غلط کمنٹس جو میں نے دیکھے ہیں وہ کہتے ہیں کہ قتل حقیقت میں ہوئے، لیکن حماس اس کا ذمہ دار نہیں۔ ایک صارف نے لکھا، ’میرا خیال ہے کہ یہ خود اسرائیل نے کیا ہے‘ جس نے ان بچوں کو مارا اور اسرائیلی ’حماس کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کر رہے تھے۔‘

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں اپنے گھر سے مجھ سے بات کرتے ہوئے مور لاکوب نے کہا کہ سوشل میڈیا پر تبصروں کی وجہ سے اس وقت انھیں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے کہ جب وہ اپنے دوستوں کے لیے غمگین ہیں۔

انھوں نے کہا ’میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ دنیا یاد رکھے اور جانے کہ کیا ہوا ہے۔

’میں اس کا جواب کیسے دے سکتی ہوں؟ مجھے ثابت کرنا ہے کہ وہ مر چکے ہیں؟ پانچ قبروں کو ان کے خوبصورت جسموں سے بھرنے کی کیا ضرورت تھی؟‘

انھوں اس قسم کی آن لائن غلط معلومات کو ’نا مناسب، تکلیف دہ اور ظالمانہ‘ قرار دیا۔

جب میں نے انھیں بتایا کہ کس طرح سوشل میڈیا پر ان بچوں سے متعلق بات ہو رہی ہے تو وہ یہ جان کر مزید افسردہ ہو گئیں۔

انھوں نے کہا ’میرا دل ہر ایک بے گناہ (شخص) کے لیے دھڑکتا ہے جو حماس کی کارروائیوں کی وجہ سے مارا گیا۔ یہ ٹھیک نہیں ہے.‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 31231 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments