ہما اور ٹریسی
شکاگو میں اکتوبر کا ایک دن ہے اور ٹھنڈک ہونے کی وجہ سے اپنے گھر کا تھرمو اسٹیٹ سیٹ کیا تو اس کے ساتھ ہما نے سکون کا ایک سانس لیا کہ وہ بغیر کسی فکر کے اپنے گھر کا درجہ حرارت خود کنٹرول کر سکتی تھیں۔ کیونکہ ٹریسی میری زندگی سے جا چکی ہے، انہوں نے کہا۔ ہمیں معمول کی زندگی میں ہر پل کوئی نہ کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی اُلجھن ہمیں ستا رہی ہوتی ہے۔ ہم پریشان ہو رہے ہوتے ہیں مگر الجھن کو سلجُھا نہیں پاتے۔ ہم اپنی مشکل کا اظہار ان افراد کے ساتھ نہیں کر پاتے جن کی وجہ سے ہمیں تکلیف پہنچ رہی ہے بلکہ اندر ہی اندر کُڑھتے رہتے ہیں کیونکہ ہمارے لاشعور میں دیگر لوگوں سے تعلق خراب ہونے کا خوف ہوتا ہے، ہم دوسروں کی نظروں میں برُے نہیں بننا چاہتے اور ہر وقت ہر دلعزیز رہنا چاہتے ہیں۔ ہمیں بچپن سے بھی یہی سکھایا جاتا ہے کہ ہمیشہ دوسروں کی ہاں میں ہاں ملانی ہے۔ بالخصوص لڑکیوں کو تو ہر وقت تابعدار اور دوسروں کے لیے راحت کا سامان ہونا چاہیے۔ ایک قدامت پسند معاشرے میں ایسی ذہن سازی آگے چل کر زندگی میں بڑے مسائل کھڑے کر دیتی ہے۔
میں نے سوچا کہ مجھے بھی دوسرے لوگوں کی طرح ائر بی اینڈ بی میں میزبان بننا چاہیے تاکہ اس سے میں مزید پیسے کما سکوں، ہما بولیں۔ میرے بچے بڑے ہو کر اپنے گھروں کے ہوچکے ہیں اور اپنے شوہر کے مر جانے کے بعد میں اس کشادہ گھر میں اکیلی ہی رہ رہی تھی۔ اس لیے میں نے اپنے گھر کے اضافی کمروں کو صاف ستھرا کر کے اور ان میں ضروری سامان رکھ کر ان کی اچھی سی تصویریں کھینچیں اور ائر بی اینڈ بی کی ویب سائٹ پر لگائیں۔ محض چند گھنٹوں کے بعد کسی نے کمرہ کرائے پر لینے کی درخواست بھیجی۔ ٹریسی سے میری پہلی ملاقات اس طرح ہوئی جب اس نے میرا کمرہ کچھ دنوں کے لیے کرائے پر لیا۔ کچھ زیادہ کام یا تردد کے بغیر یہ اضافی انکم مجھے بہت اچھی محسوس ہوئی۔ ائر بی اینڈ بی میں مہمان طرح طرح کے ہوسکتے ہیں اس لیے کچھ ہفتوں کے بعد ٹریسی اور میں نے ائر بی اینڈ بی کو نکال کر ہم دونوں کے درمیان ایک کرائے کا ایگریمنٹ بنالیا۔ میں نے اس کمرے کی مارکیٹ ویلیو سے اس کو آدھی قیمت میں کرائے پر دیا۔ میں نے یہ سوچا کہ ایک پچپن سالہ بیوہ اکیلی خاتون اگر میری مستقل کرائے دار ہوں تو اگر اس سے انکم کم بھی ہو تو زیادہ ٹھیک رہے گی۔ ہم ڈرتے بھی ہیں کہ اجنبی لوگوں میں سے کیا معلوم کوئی جرائم پیشہ نکلیں۔
انٹرنیٹ کی دنیا میں بہت ساری نئی سہولیات تخلیق ہوئی ہیں جن میں اوبر، نیوی گیشن سسٹم اور عارضی رہائش کی جگہیں شامل ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں عموماً اچھے ہوٹل کافی مہنگے بھی ہوتے ہیں اور سفر کے دوران کھانے پینے اور معمولی چیزوں پر بہت پیسے خرچ ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ہم اپنی ضروریات کی چیزیں بھول آئے ہوں تو وہ ہمیں خریدنی پڑتی ہیں حالانکہ وہ ہمارے پاس پہلے سے ہوتی ہیں جیسا کہ فون کا چارجر یا ہیئر برش وغیرہ۔ ائر بی اینڈ بی دنیا بھر میں مقبول ایک ویب سائٹ ہے جس کو استعمال کر کے ہم کسی ہوٹل میں رکنے کے بجائے کسی اپارٹمنٹ یا گھر میں ٹھہر سکتے ہیں جہاں ہر ضروری چیز موجود ہوتی ہے اور بالکل گھر میں رہنے کی طرح کا آرام میسر ہوتا ہے۔
جی ہاں، میں نے ہما سے کہا کہ جب میں بوسٹن میں اینڈوکرائن کی کانفرنس میں گئی تو وہ جس ہوٹل میں تھی وہ کافی مہنگا تھا۔ چار سو ڈالر فی روز کا کمرہ لینے کے بجائے کانفرنس سے تقریباً آدھے میل دو ایک اپارٹمنٹ ائر بی اینڈ بی سے کرائے پر لیا جس سے میری بہت بچت ہوئی۔ چھ سات روز وہاں سے ہوٹل میں پیدل چل کر آنے جانے سے میں اس کانفرنس کے اختتام تک خود کو لوکل ہی محسوس کرنے لگی۔
ہما نے کہا کہ 2020 میں کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کی وجہ سے کافی تعداد میں لوگ نوکریوں سے ہاتھ دھو رہے تھے۔ ٹریسی کی نوکری بھی جاتی رہی۔ اب وہ کمرے کا کرایہ نہیں دے سکتی تھی۔ مگر میں نے اس سے کمرہ خالی کروانے کی بجائے نوکری ملنے تک کمرہ استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ چند مہینوں کے بعد اس کو ایک دوسری نوکری مل گئی اور اس نے پھر سے کرایہ دینا شروع کر دیا۔ لیکن دو تین مہینوں کے بعد یہ نوکری بھی جاتی رہی۔ میں نے اس کو تسلی دی کہ کوئی بات نہیں، جب تک تمہیں اگلی نوکری ملے تب تک میں تم سے کرایہ نہیں لوں گی۔ اس وقت میرا یہی خیال تھا کہ وہ ذمہ دار خاتون ہے اور صرف دو تین مہینوں کی ہی بات ہے۔ لیکن یوں ہوا کہ ٹریسی نے نوکری کی تلاش بالکل بند کر دی اور پورا سال گزر گیا اور میں نے دیکھا کہ اس کو اگلی نوکری تلاش کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ بلا فکر میرے گھر میں رہائش پذیر تھی۔ جب کہ مکان کے سارے بل میں خود ادا کرتی تھی۔ دن کے وقت جب میں اپنی نوکری پر مصروف ہوتی تھی تو سارے گھر کو ٹھنڈا یا گرم رکھنے کے لیے مستقل نظام چل رہا ہوتا تھا حالانکہ جب ہم گھر پر نہ ہوں تو ائر کنڈیشنر بند کر سکتے ہیں۔ ٹریسی کی آمد سے قبل میں، بجلی اور پانی کی بچت کر سکتی تھی مگر اب یہ بھی ممکن نہیں رہا تھا۔
جب میں اپنی نوکری پر مغز ماری کر رہی ہوتی اس وقت ٹریسی میرے گھر پر ٹی وی دیکھتی رہتی تھی۔ چونکہ اس کے کمرے کا اندرونی دروازہ لاونج میں کھلتا تھا اس لیے وہ ہمارا لاونج، ڈائننگ ٹیبل اور کچن استعمال کرنے میں بھی آزاد تھی۔ صرف اپنے کمرے کے فریج تک محدود رہنے کے بجائے اس نے میرے کچن کے فریج میں بھی اپنا سامان رکھنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے کبھی کبھار میرے اپنے لیے جگہ نہیں رہتی تھی۔ بات میری غیر موجودگی میں میرے گھر پر قبضے تک محدود رہتی تو شاید زیادہ تکلیف نہ ہوتی۔ مگر مسئلہ اس وقت زیادہ گمبھیر ہوا جب ٹریسی نے میرا نجی وقت لینا شروع کر دیا۔ جب بھی مجھے کچن میں پاتی تو وہ وقت بے وقت ٹپک پڑتی اور مجھے کھانا بناتے دیکھتی، اپنے بچپن کے قصے سناتی اور مجھے بتاتی کہ معمولی سے کام مثلاً پیاز کاٹنا، یا برتن دھونا کس طرح بہتر طریقے سے کیا جاسکتا ہے۔ سارا دن گھر میں اکیلے رہ کر اس کو کسی سے باتیں کرنے کی ضرورت ہوگی مگر میں اس کے لیے صحیح انتخاب نہیں تھی۔ بطور ایک سیکرٹری میری ایک ذمہ دارانہ اور مصروف پیشہ ورانہ زندگی ہے۔ دن بھر لوگوں کی بپتا اور شکایتیں سنتے، اور اپنا کام نبٹاتے تھک ہار جب میں گھر جاتی ہوں تو مجھے شام کو پر سکون لمحات کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اگلے دن کے لیے تازہ دم ہو سکوں۔ میرے اس سکون میں خلل پڑ رہا تھا۔
میں کسی کی مدد کر کے ایک ذہنی کوفت اپنے گلے میں ڈال چکی تھی۔ ٹی وی پر کوئی پروگرام دیکھنا ہو کھانا کھانا ہو یا کسی کے ساتھ نجی بات چیت کرنی ہو کوئی لمحہ میرا ذاتی نہ رہا تھا۔ گویا میرے اپنے گھر میں ہی میری زندگی ایک تنگی کا شکار ہو چکی تھی اور میں ’کسی کا دل نہ دکھے‘ کے جذبے سے سرشار اپنے ذاتی گھر میں ہی ایک بے سکون زندگی جی رہی تھی۔ بہت دفعہ میرا جی چاہا کہ اپنے لیے کوئی اور جگہ تلاش کر لوں۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ کس طرح اس خاتون سے بات کروں۔ اس کو اشاروں کنایوں میں بتانے کی کوشش کی جب میں گھر آؤں تو مجھے اکیلا چھوڑ دے اور میرا سر کھانا بند کردے مگر اس کی شخصیت ایسی تھی کہ وہ نہیں سمجھتی تھی۔
آپ کی روم میٹ ایک پاکستانی ساس کی طرح کی شخصیت سنائی دیتی ہیں! میں نے مذاق میں ہما سے کہا۔
ہاں ہاں بالکل! انہوں نے ہنس کر کہا، میں نے ٹریسی کو تفصیل سے اپنے خیالات بتانے کے لیے ایک خط لکھنے کا فیصلہ کیا جس میں اس کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ میری زندگی اور سکون میں مخل نہ ہو۔ دوسرے لفظوں میں، میں نے ٹریسی کو یہ پیغام دیا تھا کہ شام کے وقت جب میں گھر پہ ہوں تو وہ اپنے کمرے تک محدود رہے۔ وہ خود سے نہیں سمجھ رہی تھی کہ وہ کرایہ دیے بغیر میرے گھر میں رہے جا رہی ہے جبکہ میں اس مکان کے سارے اخراجات برداشت کر رہی ہوں اور وہ ہر وقت میرے سر پر مسلط ہوتی ہے۔ میں ایک انڈا تک اپنے کچن میں اکیلے نہیں ابال سکتی ہوں۔ اپنے گھر میں ہی اتنی آہستگی سے چلتی پھرتی ہوں کہ اس کو آواز نہ آئے ورنہ فوراً اپنے کمرے سے نکل کر مجھ سے باتیں کرنے لگے گی۔ اس کو کیوں معلوم نہیں ہوتا کہ برائے مہربانی مجھے اکیلا چھوڑ دے؟
پھر کیا ہوا؟ میں نے پوچھا۔
ہما بولیں کہ میں نے اس بات کا ذکر اپنے باس سے کیا کیونکہ وہ دیکھ رہی تھیں کہ میں کسی بات سے پریشان ہوں۔ انہوں نے ٹریسی کو خط لکھنے کی بجائے بلاواسطہ بات کرنے کا مشورہ دیا۔ میری باس نے مجھ سے دو تین سوال پوچھے۔ ایک یہ کہ ایسا کب تک چلے گا؟ کیا میرے سامنے کوئی ٹائم لائن ہے؟ میں نے کہا کہ کوئی چھ ماہ یا ایک سال۔ تو انہوں نے ایک اچھا سوال کیا۔ کہنے لگیں کہ کیا آپ نے ٹریسی سے یہ بات کی ہے؟ تو میں نے شرمندگی سے کہا کہ نہیں۔ آپ ٹریسی سے دو ٹوک بات نہ کرنے کا جواز تلاش کر رہی ہیں۔ آپ کو کڑوا گھونٹ کر کے صاف صاف بات کر لینی چاہیے۔ لیکن اس کے ہونے سے مجھے کچھ فائدے بھی ہیں، اگر میں کہیں دوسرے شہر جاؤں تو گھر خالی نہیں ہوتا۔ کیا آپ خود کو جواز دے رہی ہیں تاکہ یہ مشکل بات نہ کرنی پڑے؟ میری باس نے پوچھا تو میں حیران ہوئی کہ وہ مجھے کتنی اچھی طرح سمجھتی ہیں۔
میری باس ایک سائیکالوجسٹ ہیں، انہوں نے میرے گھر آ کر ہمارے درمیان بیٹھ کر یہ مشکل گفتگو کرنے میں مدد دینے کی پیشکش کی جو میں نے قبول کرلی۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس مسئلے کو میں کیسے سلجھا سکتی ہوں؟ ان کے مشورے کے مطابق میں نے ٹریسی سے کہا کہ ایک ہفتے میں میری اس کے ساتھ ایک اہم میٹنگ ہے جس کے لیے میری باس سائیکالوجسٹ ہمارے گھر آئیں گی اور ہمارے درمیان بیٹھیں گی۔ وہ یہ بات سن کر کافی پریشان سی ہوئی لیکن اس کو سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ میٹنگ کس بات کے بارے میں ہے؟
میری باس نے مجھ سے پوچھا کہ ٹریسی کو کتنے دنوں کا نوٹس دینا ہے؟ تیس دن کا؟ جیسا کہ آپ دونوں کے کانٹریکٹ میں لکھا ہے؟ میں نے کہا کہ اس کو تین مہینے کا وقت دے سکتی ہوں۔ طے شدہ وقت پر میری باس سائیکالوجسٹ میرے گھر پر آئیں اور میں، ٹریسی اور وہ صوفے پر بیٹھے جہاں انہوں نے مجھے سے ٹریسی سے بات کرنے کے لیے کہا۔ اپنے باس کی موجودگی میں جب میں نے ٹریسی سے کہا کہ میری زندگی بہت مصروف ہے اور میں اپنے گھر میں سکون سے اکیلے رہنا چاہتی ہوں۔ میں اب اپنے گھر کے اضافی کمرے کرائے پر نہیں دینا چاہتی ہوں اور اس کو کمرہ خالی کرنے کے لیے تین ماہ کا نوٹس دیا تو وہ حیران ہو کر بولی: ”مجھے ایسی توقع نہ تھی۔ بہر حال، مجھے چار ماہ چاہئیں۔ “ میں نے اس شرط پر حامی بھر لی کہ ان چار ماہ کے دوران وہ مجھے اکیلا چھوڑ دے گی اور جب میں کام سے تھک کر گھر آؤں تو مجھ سے بات کرنے کی کوشش نہیں کرے گی۔ یہ چار مہینے بہت سکون سے گزرے اور بالآخر چار ماہ بعد وہ کمرہ خالی کر کے چلی گئی۔ اور اب جہاں اس نے چھوٹا سا اپارٹمنٹ لیا ہے اس کے لیے کرایہ بھی باقاعدگی سے دے رہی ہے اور اس کے لیے واپس نوکری بھی کرنے لگی ہے۔ حالانکہ وہ ایسا میرے ساتھ رہتے ہوئے بھی کر سکتی تھی۔ شاید مجھے پانچ سو ڈالر مہینہ ملتے رہتے اور وہ خود کو اپنے کمرے تک محدود رکھتی تو ہم اب بھی ساتھ رہ رہے ہوتے۔
کیا آپ اپنے آپ کو گناہگار محسوس کر رہی ہیں؟ میں نے ہما سے پوچھا۔ میں اس قصے میں خود کو آدھا الزام دیتی ہوں، ہما نے کہا۔ چونکہ ہم نے بچپن سے اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا نہیں سیکھا اور صاف بات کرنا بھی نہیں سیکھا اس لیے شاید ہم اچھے طریقے سے کمیونیکیشن کرنے میں کمزور ہیں۔ اس سے میرا بھی نقصان ہوا اور ٹریسی کا بھی۔ حقیقی زندگی میں ہمیں اپنی ذاتی سرحدوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔ اور ہر دم یہ خیال رکھنا چاہیے کہ دوسروں کی خاطر اپنائے گئے ہمارے رویے سے وہ ہماری سرحدوں کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہے؟ جیسے دوسرے لوگ اپنا مفاد افضل رکھتے ہیں، اسی طرح ہمیں بھی اپنا ذہنی سکون دوسروں کی ضروریات سے بلند رکھنا چاہیے۔ ورنہ ہو گا کیا؟ دوسرے آپ کی مہرباں طبیعت کا فائدہ اٹھاتے رہیں گے اور آپ کو ایک مستقل کرب میں مبتلا رکھیں گے۔ ایک اور بات یہ بھی ہے کہ ضرورت سے زیادہ مہربانی سے ہم دوسروں کا نقصان بھی کرتے ہیں کیونکہ حقیقی دنیا اتنی مہربان نہیں ہوتی۔
کیا آپ اور ٹریسی اب بھی دوست ہیں؟
اب جب میں اور ٹریسی الگ رہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے درمیان کوئی دشمنی ہو گئی ہے۔ جن لوگوں سے ہماری دوستی ہو اور ہم ایک دوسرے کو جانتے ہوں تو کچھ عرصہ بعد تعلقات بہتر کیے جا سکتے ہیں۔ اب اس کو اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو وہ مجھ سے کہہ سکتی ہے اور جب مجھے اس سے کوئی کام پڑے تو میں بھی کہہ سکتی ہوں۔ زندگی چلتی رہتی ہے۔
اس کہانی کو ہمارے ساتھ شیئر کرنے کے لیے ہما کا نہایت شکریہ۔ اس کہانی کا یہ سبق ہے کہ جو رشتے اور تعلقات صرف یک طرفہ ہوں یعنی کہ ہم دیے جا رہے ہوں اور واپسی میں وہ اپنے حصے کا کام نہ کریں اور ہمیں پریشان کر رہے ہوں ان کو ایک بھاری بوری کی طرح کمر پر لاد کر چلتے رہنے سے کسی کا فائدہ نہیں ہوتا۔ اپنی سرحدوں کی حفاظت ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔ چاہے دوسرے لوگ آپ سے انکار سننا یا خود کو ان پر ترجیح دینا پسند نہ کریں لیکن طویل مدت کے لیے یہ ان کے اپنے لیے بھی بہتر ہوتا ہے۔


