پاکستان آگے کیوں نہیں بڑھتا؟
پاکستان آگے کیوں نہیں بڑھتا؟ یہ سوال ہر پاکستانی کی زبان پر ہے۔ جب ہمارے ملک کی انڈسٹری بند ہوگی، زراعت تباہ حال ہو گی، درآمدات نہ ہونے کے برابر ہوں گی ، برآمدات کی بارش ہو گی، پی آئی اے، ریلوے جیسے کماؤ ادارے خسارے میں ہوں گے ، سٹیل مل جیسا قومی اثاثہ آخری سانسیں لے رہا ہو گا، 10 لاکھ نوجوان سالانہ بیرون ملک نوکریوں کے لیے جائیں گے، تعلیمی ادارے ہر سال لاکھوں ڈگری ہولڈر نوجوانوں کی فوج مارکیٹ میں بھیجیں گے، سامنے ان کو مایوسی ہی مایوسی نظر آئے گی۔
حکومتی اخراجات سالانہ ہزاروں ارب روپے کے ہوں گے، وزراء کی فوج ظفر موج ہوگی، ایک شخص کے پروٹوکول کے لیے پچاس پچاس گاڑیاں ہوں گی، ایک سرکاری بنگلے کے لیے 20 ملازم ہوں گے، ہر وزیر کا اپنا گھر ہوتے ہوئے بھی سرکاری گھر الاٹ کیا جائے گا۔ افسران اور ان کے اہل و عیال کے لیے گھر، گاڑیاں اور تمام اخراجات کی سہولیات مفت ہوں گی، ایکڑوں پر مشتمل ریسٹ ہاؤس ہوں گے ، زراعت میں خود کفیل ملک چینی یوکرین سے اور گندم مصر سے منگوانے پر مجبور ہو گا، 130 ارب ڈالر کے قرضہ جات، اپنے ہر ہمسائے سے تجارت کی بجائے آئے روز لڑائیاں ہوں گی۔
پھر ملک آگے کیسے بڑھے گا۔ 25 کروڑ عوام کے فیصلے سیاسی لوگ کریں گے جبکہ الیکشن پر 50 ارب روپے کے اخراجات بھی ہوں گے۔ سارا دن لائنوں میں لگ کر کھڑے ووٹ ڈالنے کا انتظار کریں گے پھر ٓاخر میں رات کو ووٹ کسی اور کے ڈبے سے نکلیں گے۔ ملک آگے کیسے بڑھے گا۔ جب اللہ نے پاکستان کو تمام بہترین موسموں سے نوازا ہے قیمتی معدنیات سے نوازا ہے نایاب ترین پہاڑی سلسلوں سے نوازا ہے۔ گلیشیئر سے نوازا ہے، پانی جیسی قیمتی نعمت سے نوازا ہے، ہمیں دنیا کی زرخیز ترین زمین سے نوازا ہے پھر بھی ہم ایک ایک ارب ڈالر کی بھیک کے لیے دنیا کی منتیں کر رہے ہیں۔
ہم آگے کیوں نہیں بڑھ رہے ہیں؟ اس کی سب سے بڑی وجہ منتخب حکومتوں کا اپنی مدت نہ پوری کرنا ہے۔ 1956 میں بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے کہا تھا میں اتنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنے پاکستان میں وزیراعظم بدلے جاتے ہیں۔ آج بھی 70 سال بعد پاکستان میں یہی کھیل جاری ہے۔ کسی بھی وزیراعظم کو اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی جا رہی۔ ہر جانے والا وزیراعظم عوام میں اپنی بے بسی کا رونا روتا ہے اور آنے والا وزیراعظم خوشی کے شادیانے بجاتا ہے۔
ہمارے وزرائے اعظم کا سب سے بڑا مسئلہ اقتدار میں فوج کی مدد سے آتے ہیں ٹھیک دو سال بعد ان کے اندر اختیارات، احکامات اور خودداری کا کیڑا جاگ جاتا ہے۔ جن کی مدد سے یہ اقتدار میں آتے ہیں انہی کو انکھیں دکھانا شروع کر دیتے ہیں پھر عوام میں مظلوم بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ پہلے دن رات فوجی افسران کی شان میں قصیدے پڑھتے ہیں پھر فوراً ہی پینترے بدل کر ان کو آنکھیں دکھانا شروع کر دیتے ہیں پھر وہ بھی اپنے ڈنڈے کا استعمال خوب کرتے ہیں۔
بس اسی چکر میں وزیراعظم مدت پوری ہونے سے پہلے ہی گھر کو لوٹ جاتے ہیں پاکستان کے آگے نہ بڑھنے کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ کوئی وزیراعظم اپنی مدت نہیں پوری کر پاتا۔ عوام ان کی لڑائیوں میں پس کر رہ گئے ہیں جب اقتدار میں ہوتے ہیں عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں جب اقتدار سے نکلتے ہیں تو عوام کی طاقت کا خیال آ جاتا ہے جس کو اقتدار ملتا ہے وہ واہ واہ کرتا ہے جس کو نہیں ملتا وہ سہولت کاری کے الزامات لگاتا ہے ہر کوئی چاہتا ہے الیکشن شفاف ہو بس اس حد تک کہ امیدوار صرف اسی کا جیتے دو الیکشن شفاف ہوں گے۔
اگر وہ ہارے تو الیکشن دھاندلی زدہ ہوں گے۔ جیت ہر کسی کو پیاری ہے ہار سے سب نفرت کرتے ہیں۔ اقتدار حاصل کرنے کے لیے سب اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے لیے ہر وقت تیار بیٹھے ہوتے ہیں اور عوام کو بدلے میں صرف خیالی پلاؤ ملتے ہیں۔ آج بھی یہی ہو رہا ہے کرسی کی دوڑ میں مہنگائی سب بھول گئے ہیں عام آدمی کبھی بھی اشرافیہ کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا۔ جن بچوں کے والدین کو گھر کے کچن کی فکر ہوتی ہے وہ بچے ارب پتی اور کھرب پتیوں کے دفاع میں دن رات ایک کر رہے ہوتے ہیں۔
عام آدمی کو کی سوچ کچن تک محدود کر دی گئی ہے جبکہ اس کے بچوں کو اپنے دفاع تک محدود کر دیا گیا ہے یہ اشرافیہ کی ایک منظم پلاننگ کا شاخسانہ ہے۔ کوئی کہتا ہے میں عوام کے لیے سب کر رہا ہوں کوئی کہتا ہے میں ملک کے لیے لڑ رہا ہوں حقیقت میں سب کرسی کے لیے لڑ رہے ہیں۔ اب کم از کم عمران بھی یہ شکوہ نہیں کر سکتا کہ اس کو باری نہیں ملی جتنی اچھی باری اس نے انجوائے کی شاید ہی کسی وزیراعظم نے نہیں کی ہوگی پھر بھی عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہا اب نون لیگ ٹیک اور کرنے کی تیاریوں میں ہے اب دیکھیں عوام کی قسمت میں کیا ہے۔


