سرکاری ادارے کیوں خسارے میں ہیں؟
پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن یعنی پی۔ آئی۔ اے آج کل خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے۔ وجہ یہ کہ پی۔ آئی۔ اے سنگین مالی بحران کا شکار ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس نے سعودی عرب کو 4 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کرنی ہے۔ 30 لاکھ ڈالر استنبول گراؤنڈ ائر پورٹ کے واجب الادا ہیں۔ جبکہ اڑھائی کروڑ ڈالر سے زائد رقم لیز پر حاصل کردہ طیاروں کی ادا کرنی ہے۔ اس کا ماہانہ خسارہ 12 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ جبکہ مجموعی خسارہ 112 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔
خدشہ ہے کہ اسے بند کرنا پڑے گا۔ علاج تجویز ہوا ہے کہ اس کی نجکاری کر دی جائے۔ سو آج کل اس کی نجکاری کا منصوبہ زیر غور ہے۔ یہ مالی بحران چند ہفتوں یا مہینوں کا قصہ نہیں ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے پی۔ آئی۔ اے قومی خزانے پر بوجھ بنی ہوئی ہے۔ اس کا وجود برقرار رکھنے کے لئے حکومت کو اربوں روپے مہیا کرنا پڑتے ہیں۔
پی۔ آئی۔ اے کسی زمانے میں ہمارا فخر ہوا کرتی تھی۔ آج یہ عبرت اور زوال کا نشان بن چکی ہے۔ امارات (Emirates) ائر لائن کا شمار دنیا کی بہترین ائر لائنوں میں ہوتا ہے۔ برسوں پہلے ایمریٹس ائر لائن نے پی۔ آئی۔ اے سے دو طیارے لیز پر لے کر کام کا آغاز کیا تھا۔ پی۔ آئی۔ اے کے پائلٹوں اور انجینئروں نے نے ایمریٹس کے پائلٹوں اور دیگر ملازمین کو تربیت فراہم کی تھی۔ آج ایمریٹس ائر لائن کا دنیا بھر میں ڈنکا بجتا ہیں۔ یہ کئی سو طیاروں کی مالک ہے۔ اس نے گزشتہ برس 3 ارب امریکی ڈالر کا منافع کمایا ہے۔ جبکہ پی۔ آئی۔ اے ایک سفید ہاتھی بن چکی ہے۔ کما نا تو خاک، حکومت کو اپنی جیب سے اس کو اربوں روپے دینا پڑتے ہیں۔
یہ صرف پی۔ آئی۔ اے کا المیہ نہیں ہے۔ سرکاری اداروں کی ایک لمبی فہرست ہے جو برس ہا برس سے خسارے کا شکار ہیں۔ چند دن پہلے نگران حکومت نے نفع بخش اور خسارے میں چلنے والے دس دس سرکاری اداروں کی فہرست جاری کی ہے۔ جاری کردہ فہرست سال 2020 کے اعداد و شمار پر مشتمل ہے۔ پتہ یہ چلا کہ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کا خسارہ 108 ارب 50 کروڑ ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی 94 ارب 30 کروڑ، پاکستان ریلویز 50 ارب 20 کروڑ، سکھر الیکٹرک پاور کمپنی 40 ارب 80 کروڑ، پی۔
آئی۔ اے 36 ارب 7 کروڑ روپے، سوئی سدرن گیس پائپ لائن 21 ارب 40 کروڑ روپے، پاکستان سٹیل ملز 20 ارب 60 کروڑ روپے، حیدر آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی 17 ارب 70 کروڑ روپے، پاکستان سٹیٹ آئل کمپنی 14 ارب 80 کروڑ، جبکہ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی 14 ارب 60 کروڑ روپے خسارے کا شکار ہے۔ خسارے کا شکار اداروں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ دوسری طرف وہ ادارے جنہیں ہم نفع بخش کہتے ہیں، ان کی کارکردگی بھی گزارہ لائق ہے۔ عالمی بنک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ریاستی یا سرکاری انتظام میں چلنے والے کاروباری ادارے جنوبی ایشیا میں بدترین ہیں۔ ان کا مجموعی خسارہ ان کے اثاثوں کی مالیت سے بھی بڑھ کر ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ ہمارے سرکاری ادارے جنوبی ایشیا میں کم ترین نفع کمانے والے اداروں میں شامل ہیں۔
دنیا بھر میں ادارے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ترقی کرتے اور آگے بڑھتے ہیں۔ پاکستان میں ہم نے ریورس گیئر لگا رکھا ہے۔ ایک ایک کر کے ہم اپنے ادارے تباہ کرتے جا رہے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں روس کے تعاون سے لگنے والی پاکستان اسٹیل ملز بھی ایک قابل فخر ادارہ تھا۔ برسوں تک یہ ادارہ منافع بخش رہا۔ پھر وہ وقت آیا کہ یہ دیوالیہ ہو گیا۔ چند برس پہلے جب مفتاح اسماعیل وزیر خزانہ تھے، انہوں نے اعلان کیا تھا کہ اسٹیل ملز کو کوئی ایک روپے کے عوض خرید لے۔
مطلب یہ کہ یہ اتنی بے کار شے ہے کہ اس کی قیمت ایک روپیہ ہے۔ پی۔ ٹی۔ وی کی حالت زار بھی ہمارے سامنے ہے۔ یہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ عوام کے بجلی بلوں سے اربوں روپے وصول کرنے کے باوجود اپنے پیروں پر کھڑا ہونے سے قاصر ہے۔ ریڈیو پاکستان کی طرف دیکھ لیں۔ کاروباری حضرات چار کمروں پر مشتمل دفتر میں ایف۔ ایم ریڈیو چلا کر لاکھوں کروڑوں روپے کا نفع کماتے ہیں۔ لیکن ریڈیو پاکستان نہایت کشادہ عمارتیں، بے شمار ملازمین اور شاندار تاریخ کا حامل ہونے کے باوجود مالی بحران کا شکار ہے۔
بسا اوقات اس کے پاس ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لئے رقم نہیں ہوتی۔ بڑی بڑی سرکاری جامعات اور کالجوں کا بھی یہی حال ہے۔ کسی کوٹھری نما کوٹھی میں کھلنے والا نجی سکول کالج یا یونیورسٹی تو خوب منافع کماتی ہے۔ لیکن سرکاری تعلیمی ادارے مالی بحران میں گھرے رہتے ہیں۔ کوئی نجی ٹیکسی سروس شروع ہوتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں روپے کمانے لگتی ہے۔ جبکہ لامحدود وسائل کی حامل پاکستان ریلویز خسارے میں رہتی ہے۔
سرکاری اداروں کی زبوں حالی کا سراغ لگانا اتنا مشکل کام نہیں ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات سے ہم واقف ہیں۔ عمومی طور پر سرکاری اداروں میں پکی نوکری کا رواج تو ہے، جبکہ جوابدہی اور احتساب کا کوئی نظام نہیں ہے۔ خود میرے ارد گرد کچھ لوگ ایسے ہیں جو بھاری بھرکم تنخواہیں لیتے ہیں لیکن دفتری کام کے لئے کبھی موجود نہیں ہوتے۔ نجی اداروں میں ایسا نہیں ہوتا۔ وہاں سیٹھ کی جیب سے تنخواہیں جاتی ہیں۔ سو کڑی نگرانی اور جواب دہی کا نظام موجود ہوتا ہے۔
ملازمین کو اپنی اچھی بری کارکردگی کے لئے جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ملازمین اچھی کارکردگی دکھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ سو نجی ادارے ترقی کرتے ہیں۔ سیاسی بھرتیاں بھی سرکاری اداروں کی تباہی کی ایک وجہ ہیں۔ ہر سیاسی، غیر سیاسی، نگران حکومت میں سرکاری اداروں میں دھڑا دھڑ بھرتیاں ہوتی ہیں۔ جو اس ادارے پر بوجھ کا باعث بنتی ہیں۔ پی۔ آئی۔ اے کی مثال لیجیے۔ دنیا بھر کی ائر لائنوں میں عملہ ضرورت کے مطابق بھرتی کیا جاتا ہے۔
لیکن پی۔ آئی۔ اے میں عملہ ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کا مجھے معلوم نہیں۔ لیکن 2020 تک پی۔ آئی۔ اے میں فی طیارہ ملازمین کی تعداد 500 تھی۔ اس کے مقابلے میں قطر ائر لائن میں فی طیارہ ملازمین کی تعداد 133، ایمیریٹس میں 231، ترکش میں 94، جبکہ اتحاد ائر لائن میں 211 تھی۔ یہ صورتحال ہمیں کم و بیش ہر سرکاری ادارے میں دکھائی دیتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ ملازمین کا بوجھ یقیناً خسارے کا باعث بنتا ہے۔
ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ سرکاری اداروں میں بہت سے با اثر ملازمین گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن بھی سرکاری اداروں کے مالی بحران کی ایک وجہ ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان ریلوے میں 65 ہزار ملازمین کام کرتے ہیں۔ ان کو تنخواہیں دینے کے ساتھ ساتھ ریلوے کو ایک لاکھ 32 ہزار ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن ادا کرنا پڑتی ہے۔ جو لا محالہ ادارے کو مالی دباؤ کا شکار کرتی ہے۔ یہ اور دیگر عوامل سرکاری اداروں کے بحران کی وجہ ہیں۔
کل ایک دانشور شخصیت سے بات ہوئی تو وہ فرما نے لگے کہ خسارے میں چلنے والے اداروں کی مثال ایک ایسی گائے جیسی ہے جو چارہ تو کھاتی ہے لیکن دودھ کا ایک قطرہ تک نہیں دیتی۔ ایسی گائے کو کسی قصاب کو دینے میں ہی عافیت ہے۔ ان کی بات بجا ہے۔ لیکن پھر خیال آتا ہے کہ قومی ادارے کوئی گائے تو نہیں ہیں جسے قصاب کو دے کر جان چھڑا لی جائے۔ مان لیتے ہیں کہ نجکاری ہی ان اداروں کے مسائل کا حل ہے۔ لیکن کیا ایک ایک کر کے تمام اداروں کی نجکاری کر دی جائے؟
کسی سرکاری ادارے کا سربراہ لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ اور پر کشش مراعات لیتا ہے۔ اگر وہ ادارے کو خسارے سے نہیں نکال سکتا تو اس سے جوابدہی ہونی چاہیے۔ یہ کیا کہ برسوں تک کروڑوں روپے کی تنخواہیں اور دیگر فوائد سمیٹنے کے بعد ادارے کا خسارہ مزید بڑھا کر آرام سے گھر کی راہ لی جائے۔ کوئی نہ کوئی نظام ضرور وضع ہونا چاہیے۔ جب تک سرکاری ملازمین کی جوابدہی اور احتساب کا سلسلہ شروع نہیں ہوتا۔ جب تک سیاسی بھرتیوں کا سلسلہ بند نہیں ہوتا۔ جب تک مال مفت، دل بے رحم کا چلن نہیں چھوڑا جاتا، تب تک سرکاری اداروں کی اصلاح احوال ممکن نہیں ہے۔


