دھند: کسان کھیت کو آگ لگانے پر کیوں مجبور ہوتا ہے؟

کئی برس ہوئے، ہر سال ان دنوں انتظامیہ سے لے کر عوام و خواص ایک بات تسلسل سے کرتے ہیں۔ اور وہ بھی شاید اس لیے کرتے ہیں کہ چند برسوں سے ستمبر، اکتوبر اور کچھ حصہ نومبر کے مہینوں میں فضائی آلودگی میں اچانک بے تحاشا اضافہ ہو جاتا ہے۔ آسمان پر جیسے گہرے بادل چھائے رہتے ہیں۔ سادہ لوح یہ سمجھتے ہیں بوچھاڑ اب آئی کہ تب آئی، لیکن یہ ابر باراں نہیں، گھٹائے دھواں ہوتی ہے۔ چونکہ اس آسیب کی کوئی سیما نہیں ہوتی اس لیے بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر اس کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ جی ہاں، آپ سمجھ گئے، اسے سموگ کہتے ہیں۔
اب شروع ہوتی ہیں تقریریں اور بیان بازیاں۔ یہ کر دیں گے، وہ کر دیں گے، فلاں نے کیا، ہمسائے سے آیا، تمیز نہیں ہے، جاہل ہیں، جیسے جملوں کا کھانسی کے وقفوں کے درمیان ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ ہم اور کسی میدان میں نمبر ون ہوں یا نہ ہوں، فضائی آلودگی میں ہمارا مد مقابل دور دور تک کوئی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان جذباتی تقریروں، جملہ بازیوں اور کوسنے دینے سے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا؟ اس صورت حال کا سب سے بڑا مجرم کسان کو ٹھہرایا جاتا ہے جو دھان کی باقیات کو آگ لگا دیتا ہے۔
اسے زبان سے لے کر ہاتھ تک سے روکنے کے حیلے کیے جاتے ہیں۔ ڈیوٹیاں لگ جاتی ہیں، سڑک کنارے گاؤں دیہات میں جس جگہ سے دھواں اٹھتا نظر آئے وہاں چھاپے شاپے بھی پڑتے ہیں۔ لیکن کیا واقعی اس مسئلہ کو سلجھانا اور اس طریقے سے سلجھانے کی کوشش کرنا کارآمد ہے؟ آپ دن کو دھیان کر لیں گے، لیکن اگر کوئی کسان حقہ گڑگڑاتے ہوئے اور ہیر گنگناتے ہوئے آدھی رات کے انتظار میں بیٹھا ہے کہ وہ ”پرول“ کو تب آگ دکھائے گا جب سارا عالم سوتا ہے، پھر آپ کیا کریں گے؟ کیا ہم اس زحمت کو رحمت میں تبدیل کرنے پر کچھ غور و خوض اور بعد اس کے عملی اقدام کر سکتے ہیں یا نہیں؟
کسان دھان کے ”پرول“ کا صرف ایک استعمال جانتا ہے۔ اور وہ استعمال بھی دھان کی بعض مخصوص اقسام کے پرول کا زیادہ بہتر ہے جن میں لال چھیاسی سر فہرست ہے۔ کسان یا توں پرول کو اپنے مویشیوں کے لیے خشک چارے کے طور پر استعمال کرتے ہیں یا مویشی پال حضرات کو اونے پونے بیچ دیتے ہیں۔ دھان کٹائی سیزن کے ابتدائی دنوں میں اچھی قیمت بھی مل جاتی ہے لیکن جیسے جیسے سیزن اپنے عروج کی طرف بڑھتا ہے، پرول عام ہو جاتا ہے، کوئی مفت بھی نہیں اٹھاتا۔
دھان کی کٹائی کے فوراً بعد گندم کی کاشت کا موسم آ جاتا ہے۔ اس میں ضائع کرنے کے لیے وقت بالکل نہیں ہوتا۔ کسان کو کھیت خالی چاہیے اور اول تو اس کے پاس معلومات ہی نہیں ہیں کہ وہ اس مصیبت کا کیا کرے جو اس کے کھیتوں میں پڑی ہے، دوسرے اس کے پاس وہ وسائل اور مشینری ہی دستیاب نہیں جن کی مدد سے وہ اس پرول کو کارآمد بنا سکے۔ جو لوگ زراعت کے ساتھ وابستہ ہیں وہ جانتے ہیں کہ دھان کا پرول اتنا سخت جان ہوتا ہے کہ اگر کھیت میں ایک خاص مقدار سے زیادہ ہو تو ڈسک ہیرو کی مدد سے بھی اسے باریک نہیں پیسا جا سکتا۔ نتیجہ، کسان اسے آگ لگا دیتا ہے کہ اس سے سستا اور آسان علاج اس کے پاس ہوتا ہی نہیں۔
کسانوں پر الزام تراشی کرنے سے بہتر ہے کچھ کیا جائے۔ اگرچہ اس کی امید نہیں، پھر بھی سوچا ضرور جا سکتا ہے کہ اچھا سوچنے پر نہ تو کوئی پابندی ہے اور نہ ہی لاگت آتی ہے۔ کیا واقعی یہ سب صرف اور صرف کسان کا کیا دھرا ہے اور اس میں کوئی اور محرکات نہیں ہیں یا پھر کسان کو مورد الزام ٹھہرانا آسان ہے اس لیے اس کو کبھی بھی کچھ بھی کہہ دیا جاتا ہے؟ کیا دھان کا پرول ایک وبال ہے یا ہم اس کا درست استعمال نہیں جانتے؟
کیا ”محکمہ زراعت“ دھان پیدا کرنے والے دوسرے ممالک سے اس مسئلے کے حل پر کچھ رہنمائی حاصل کر سکتا ہے؟ کیا ہم کوئی ایسی مشینری بنا سکتے ہیں یا امپورٹ کر سکتے ہیں جس کی مدد سے ان باقیات کو بہتر طریقے سے اور سلیقے سے کارآمد بنایا جا سکے اور سب سے بڑا سوال یہ کہ کسان کو وہ مشینری کسی نظام کے تحت مہیا بھی ہو؟ کیا اس پرول کو پاور پلانٹس میں استعمال کر کے بجلی بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟ اور کچھ نہیں تو جن لوگوں کو پکڑ دھکڑ پر لگایا ہوتا ہے ان کی ڈیوٹی ہی تبدیل کر کے دیکھ لیں۔ وہ اس پرول کو کھیتوں سے اکٹھا کر کے پیپر ملوں تک ہی پہنچا دیا کریں۔ اور کچھ نہیں تو ان کی تنخواہیں تو نکل ہی آئیں گی ورنہ یہ دھواں یونہی اٹھتا رہے گا چاہے دل سے اٹھے یا جاں سے۔

