ایک پراسرار کائنات: زمان و مکاں کی ماورائے عقل نوعیت
ہماری عمومی سمجھ کے مطابق زمان و مکاں کی ہیئت بہت سادہ اور عام فہم ہے۔ ان تصورات کے مطابق دو نقطوں کے درمیان فاصلہ یکساں ہوتا ہے چاہے یہ نقطے زمین یا کسی اور اجسام فلکی کے نزدیک ہوں یا دور ہوں۔ اسی طرح وقت کی رفتار ایک جیسی رہتی ہے چاہے ہم کائنات میں کہیں چلے جائیں، ایک سیارے یا ستارے کے قرب میں یا ان سے بہت دور۔
آئن سٹائن نے 1907 میں عمومی اضافیت کے بنیادی نظریات پیش کیے جنہوں نے زمان و مکاں سے وابستہ ہمارے ان تصورات کو پاش پاش کر دیا۔
اس انقلابی نظریہ کا مرکز یہ تھا کہ زمین جیسے سیارے یا ستاروں کے گرد جگہ اور وقت کی نوعیت کسی مادی شے سے خالی فضا کی نسبت بہت مختلف ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر زمین کے نزدیک جگہ اور وقت خمیدہ (curved) ہوتے ہیں۔
ہم کیسے تصور کریں کہ ہمارے ارد گرد کی جگہ خمیدہ ہے؟
اس مقصد کے لئے ہم بچپن میں پڑھے گئے جیومیٹری کے پہلے سبق کو یاد کرتے ہیں جس کے مطابق ایک تکون کے تینوں زاویوں کا مجموعہ 180 ڈگری کے برابر ہوتا ہے۔ لیکن جو چیز اہم ہے وہ یہ کہ یہ نتیجہ صرف اس صورت میں صحیح ہے جب تکون ایک ہموار سطح مثلاً کاغذ پر بنائی جائے۔ اگر جگہ غیر ہموار یا خمیدہ ہو تو یہ نتیجہ درست نہیں رہتا۔ ایسی جگہ اگر ایک تکون بنائی جائے تو اس تکون کے زاویوں کا مجموعہ 180 ڈگری سے مختلف ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر فٹ بال جیسی خمیدہ سطح پر ایک تکون کے زاویوں کا مجموعہ 270 ڈگری کے برابر ہو سکتا ہے۔
اب یہ بات سمجھنے کے لئے کہ زمین کے نزدیک کی فضا خمیدہ ہے، ہم تصور کرتے ہیں کہ زمین کے نزدیک ایک بڑی تکون کھینچی جائے۔ اس تکون کے تینوں زاویوں کا مجموعہ 180 ڈگری سے مختلف ہو گا۔
اسی طرح زمین کے نزدیک سیدھی لکیر سیدھی نہیں ہوتی، جب کہ زمین سے دور خلا میں کھینچی گئی لکیر سیدھی ہو گی۔ ایسا اس لئے ہے کہ زمین کے نزدیک جگہ خمیدہ (curved) ہے۔ اور زمین سے دور خلا میں یہ خمیدگی دور ہو جاتی ہے۔
اسی طرح وقت کی رفتار یکساں نہیں۔ مادی اشیا، جیسے زمین، سیاروں اور ستاروں کے نزدیک وقت کی رفتار ان اجسام سے دور کی نسبت زیادہ آہستہ ہوتی ہے۔
زمان و مکاں کی اس انقلابی سوچ کا ایک اہم نتیجہ یہ نکلا کہ اس نے نیوٹن سے وابستہ کشش ثقل کے قانون کو تبدیل کر دیا۔
نیوٹن کے تجویز کردہ قانون کے تحت ایک سیب زمین پر اس لئے گرتا ہے کیونکہ زمین کی کشش ثقل سیب کو زمین کی طرف کھینچتی ہے۔ اس طرح سورج کے گرد زمین کی حرکت کو بھی کشش ثقل کی بنیاد پر سمجھا جا سکتا ہے۔ نیوٹن نے 1666 میں کشش ثقل کے قانون کو وضع کیا تھا اور اس قانون کی بنیاد پر ستاروں اور سیاروں کی حرکت کو انتہائی کامیابی سے سمجھنا ممکن ہو سکا تھا۔
لیکن آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کے مطابق کشش ثقل کا کوئی تصور نہیں۔ ہر چیز کی حرکت کو زمان و مکاں کی عجیب و غریب نوعیت کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ سیب زمین پر اس لئے گرتا ہے کہ زمین کے گرد زمان و مکاں خمیدہ ہیں۔ اسی طرح زمین سورج کے گرد اس لئے گھومتی ہے کیونکہ سورج کے گرد زمان و مکاں بھی خمیدہ ہیں۔
زمان و مکاں سے وابستہ ان حیران کن نتائج کو کیسے سمجھا جائے؟
یہ اس مضمون کا موضوع ہے۔
پچھلے مضمون میں، میں نے آئن سٹائن کے اس تصور کا ذکر کیا کہ اپنے گھر کی چھت سے گرنے والا شخص اپنے آپ کو اسی طرح بے وزن محسوس کرے گا، جس طرح ایسا شخص جو کشش ثقل سے آزاد زمین سے بہت دور خلا میں تیر رہا ہو۔
اس سادہ تصور کی بنیاد پر، آئن سٹائن نے مساوات کا ایک اصول (equivalence principle) وضع کیا جس کے مطابق ایک شخص جو ایک خلائی جہاز میں موجود ہے اور باہر دیکھنے سے قاصر ہے، کوئی ایسا تجربہ نہیں کر سکتا جس کے ذریعے وہ یہ معلوم کر سکے کہ آیا وہ زمین پر موجود ہے جہاں کشش ثقل موجود ہے یا خلا میں کشش ثقل کے برابر سرعت، یعنی دس کلومیٹر فی سیکنڈ فی سیکنڈ، سے حر کت کر رہا ہے۔
عمومی نظریہ اضافیت اور آئن سٹائن کے نظریہ ثقل کی بنیاد اسی سادہ اصول پر رکھی گئی تھی۔
دلچسپی کا سوال یہ ہے کہ کیا کوئی طریقہ ہے جس کے ذریعے خلائی جہاز کے اندر موجود ایک شخص یہ تعین کر سکے کہ آیا خلائی جہاز اور وہ زمین پر ساکن حالت میں موجود ہیں یا خلا میں ہر سیکنڈ دس میٹر فی سیکنڈ رفتار میں اضافے کے ساتھ حرکت کر رہے ہیں؟
اگر ہم ایسا کر سکتے ہیں، تو مساوات کا اصول درست نہیں رہے گا۔ یہاں ہم فرض کرتے ہیں کہ خلائی جہاز کا سائز چھوٹا ہے تاکہ زمین کی طرف کشش پورے ڈبے میں یکساں ہو۔
آئیے ایک تجربے پر غور کریں جس سے ممکنہ طور پر یہ تعین کرنا ممکن ہو سکتا ہے کہ خلائی جہاز زمین پر ہے یا خلا میں اسراع کے ساتھ حرکت کر رہا ہے۔
ہم خلائی جہاز کے اندر ایک ٹارچ کے ذریعے سامنے کی دیوار پر بھیجی گئی روشنی کی کرن پر غور کرتے ہیں۔ اگر خلائی جہاز اوپر کی طرف کشش ثقل کے مساوی اسراع کے ساتھ حرکت کر رہا ہے، تو روشنی کی کرن نیچے کی طرف مڑ جائے گی۔
لیکن کیوں؟
جب روشنی کی کرن ٹارچ کو چھوڑتی ہے، تو یہ روشنی کی رفتار سے فرش کے متوازی حرکت کرتی ہے۔ تاہم، جب تک یہ سامنے کی دیوار تک پہنچتی ہے، دیوار اوپر جا چکی ہوتی ہے، اور روشنی نیچے کی طرف جھکتی دکھائی دے گی۔
اب ہم یہی تجربہ زمین پر کھڑے خلائی جہاز کے اندر کرتے ہیں۔
اس صورت میں ہمارے عام فہم کے مطابق روشنی کی کرن سیدھے راستے پر چلتے ہوئے دیوار پر اسی اونچائی سے ٹکرائے گی جس اونچائی سے ٹارچ کے ذریعے روشنی کی کرن بھیجی گئی ہے۔
یہ نتائج سیدھے ہیں اور ان میں کوئی پراسراریت نہیں۔
اگر یہ استدلال درست ہے تو خلائی جہاز کے اندر موجود وہ شخص جو باہر دیکھنے سے قاصر ہے، یہ معلوم کر سکتا ہے کہ آیا اس کا خلائی جہاز زمین کی سطح پر ہے یا دور خلا میں اسراع کے ساتھ حرکت کر رہا ہے۔ اسے دونوں صورتوں کے درمیان فرق کرنے کے قابل ہونا چاہیے :
اگر روشنی کی کرن جھکتی ہے، تو اس کا خلائی جہاز کسی بھی اجسام فلکی سے بہت دور حرکت کر رہا ہے،
اور اگر روشنی کی کرن نہیں جھکتی ہے تو اس کا خلائی جہاز زمین پر ساکن حالت میں کھڑا ہے۔
لیکن اگر یہ درست ہے تو اس سے آئن سٹائن کے مساوات کے اصول کی خلاف ورزی ہوتی ہے جس کے مطابق دونوں صورتوں میں فرق کرنا ناممکن ہونا چاہیے۔
اس طرح دو امکانات ہیں :
یا تو مساوات کا اصول غلط ہے،
یا پھر زمین پر موجود خلائی جہاز میں روشنی کی کرن کو بھی اسی مقدار سے جھکنا چاہیے جتنا خلا میں حرکت کرتے ہوئے خلائی جہاز میں۔
عام فہم کے مطابق مساوات کا اصول غلط لگتا ہے۔ بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ زمین پر موجود خلائی جہاز میں روشنی کی کرن کو سیدھے راستے سے انحراف کرتے ہوتے نیچے کی طرف جھکنا چاہیے۔
لیکن آئن سٹائن نے دلیل پیش کی کہ مساوات کا اصول درست ہے اور روشنی درحقیقت زمین پر موجود خلائی جہاز میں اسی مقدار سے جھکتی ہے جتنی تیزی کے ساتھ اوپر کی طرف کشش ثقل کے مساوی اسراع کے ساتھ حرکت کرتے ہوئے خلائی جہاز میں۔
لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
روشنی تو ہمیشہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک جانے کے لیے مختصر ترین راستہ اختیار کرتی ہے۔ یہ کبھی بھی ایک مقام سے دوسرے مقام پر جانے کے لیے کوئی خمیدہ راستہ استعمال نہیں کر سکتی۔ روشنی کا تو کوئی وزن نہیں۔ پھر یہ کیسے سیدھے راستے سے انحراف کر سکتی ہے؟
آئن سٹائن نے مساوات کے اصول کی حمایت میں جو دلیل دی اس نے تو زمان و مکاں کے بارے میں ہمارے ہزاروں سال پرانے تصورات کو یک دم مسترد کر دیا۔ انسانی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسی مثال موجود ہو کہ ایک سوچ اس کائنات کے بارے میں انسانی تصورات میں اتنی بڑی انقلابی تبدیلی کا باعث بنی ہو۔
آئن سٹائن نے بتایا کہ زمین پر موجود خلائی جہاز میں روشنی در حقیقت سیدھی اور مختصر ترین راہ پر چلتے ہوئے سامنے کی دیوار سے ٹکراتی ہے۔ تاہم، یہ سیدھا راستہ اس زمان و مکاں میں نہیں ہے جس کا تصور انسان کے ذہن میں ہزاروں سال سے موجود ہے۔ درحقیقت زمین کی موجودگی میں جگہ خمیدہ ہو جاتی ہے اور روشنی کسی چپٹی جگہ میں نہیں بلکہ خمیدہ جگہ میں سب سے چھوٹا راستہ اختیار کرتی ہے۔ اس لیے یہ نیچے کی طرف مڑتی دکھائی دے گی۔
یہ ایک حیرت انگیز بصیرت تھی۔
خلا جو کہ زمین، سورج، سیاروں اور ستاروں جیسی بڑی اشیاء کے پڑوس میں واقع مطلق اور چپٹا تصور کیا جاتا تھا، اس میں جگہ اسی انداز میں خمیدہ ہے جیسے فٹ بال کی سطح پر۔
یہ ہماری سوچ کے ارتقا میں ایک بڑا قدم تھا، شاید سب سے بڑا قدم، جس نے زمان و مکاں کے ہمارے تصورات کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
اگر خلا ہموار ہے، جیسا کہ ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں، تو روشنی ایک سیدھے راستے پر چلتی ہے جو دو نقطوں کے درمیان سب سے چھوٹا راستہ ہے۔ لیکن اگر خلا کرہ کی سطح کی طرح مڑی ہوئی ہو تو کیا ہو گا؟ کرہ کی سطح ایک دو جہتی جگہ ہے جو خمیدہ ہے اور یقینی طور پر چپٹی نہیں ہے۔ اگر روشنی کرہ کی دو جہتی سطح پر حرکت کرنے کے لیے مجبور ہے، تو اسے انہی دونوں نقطوں کے درمیان مختصر ترین راستے پر چلنے کے لیے جھکنا پڑے گا۔ یہ ایک خمیدہ جگہ میں روشنی کے مڑنے کی وضاحت کرتا ہے۔
اب تک ہم نے مادی اجسام کے نزدیک خلا کی خمیدگی پر غور کیا ہے، اور دیکھا ہے کہ آئن سٹائن کی وضع کردہ مساوات (equivalence principle) کے نتیجے میں جس جگہ کشش ثقل زیادہ ہو گی، وہاں خلا زیادہ خمیدہ ہو گا۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ کشش ثقل وقت کو کیسے متاثر کرتی ہے؟
نظریہ اضافیت کے مطابق، زمین، سیاروں اور ستاروں جیسے افلاکی اجسام کے قریب وقت آہستہ گزرتا ہے اور گھڑیاں آہستہ چلتی ہیں۔ جیسے جیسے ان اجسام سے دور ہوتے جائیں، گھڑیاں تیز رفتار سے چلنے لگتی ہیں۔
اس ماورائے عقل صورت حال کو کیسے سمجھا جائے؟
ہم ایک جیسی دو گھڑیوں پر غور کرتے ہیں، ایک گھڑی زمین پر ہے اور دوسری زمین سے بہت دور خلا میں۔ ان گھڑیوں کی ساخت اس طرح ہے کہ بائیں جانب ایک فلیش لائٹ بلب ہے۔ ایک خاص وقت پر، بلب جلتا ہے اور دائیں طرف ایک خاص فاصلے پر روشنی کا سگنل بھیجتا ہے۔ جتنے وقت میں روشنی کا سگنل یہ فاصلہ طے کرتا ہے اسے ہم ایک سیکنڈ تصور کرتے ہیں۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ زمین پر موجود گھڑی کا سیکنڈ خلا میں موجود گھڑی کے سیکنڈ کی نسبت زیادہ بڑا ہو گا۔
لیکن کیوں؟
اس نتیجے کی توجیہ یوں کی جا سکتی ہے کہ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے، روشنی دو نقطوں کے درمیان سفر کرنے کے لیے مختصر ترین راستہ لیتی ہے۔ مزید یہ کہ آئن سٹائن کے مطابق، روشنی کی رفتار ایک مستقل ہے اور اس پر منحصر نہیں ہے کہ ہم کہاں ہیں۔
ہم اوپر دیکھ چکے ہیں کہ زمین کے نزدیک جگہ خمیدہ ہے اس لئے سیدھی لکیر سیدھی نہیں ہوتی، جب کہ زمین سے دور خلا میں کھینچی گئی لکیر سیدھی ہو گی۔ اس طور زمین پر روشنی کے سگنل کو خلا کی نسبت زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑے گا۔ نتیجہ یہ کہ زمین پر موجود گھڑی کا سیکنڈ خلا میں موجود گھڑی کے سیکنڈ سے بڑا ہو گا۔
یہاں ہم نے گھڑی کی ایک خاص قسم پر غور کیا ہے۔ ایک واضح سوال یہ ہے کہ کیا ہماری معمول کی گھڑیاں اسی طرح کا برتاؤ دکھاتیں ہیں؟ جواب ہاں میں ہے! ہم اپنی گھڑیوں کو اوپر بتائی گئی گھڑی سے ہم آہنگ کر سکتے ہیں۔ اس طور ان سب کو ایک ہی وقت دکھانا چاہیے۔
زمان و مکاں کے بارے میں ہمارے نئے وژن کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم مشتری جیسے بڑے سیارے پر زمین کی نسبت زیادہ دیر تک رہنے کی توقع کر سکتے ہیں۔ یہاں فرق بہت چھوٹا ہو سکتا ہے۔ ہم زمین کی نسبت مشتری پر صرف چند منٹ زیادہ رہ سکتے ہیں۔ تاہم، اگر ہم نیوٹران ستارے جیسی بہت زیادہ بڑی چیز تک سفر کر سکتے ہیں، تو ہماری زندگی کا دورانیہ بہت زیادہ ہو سکتا ہے۔ بلیک ہول کے قریب، ہم اصولی طور پر ہمیشہ زندہ رہ سکتے ہیں۔
کائنات واقعی پراسرار اور عجیب ہے اگر یہ سب کچھ سچ ہے۔
لیکن یہ کیسے دیکھا جائے کہ زمان و مکاں کی یہ عجیب و غریب تصویر کتنی درست ہے؟ پچھلے سو سالوں میں بہت سے تجربات اور ٹیسٹ کیے گئے ہیں اور اب بھی کیے جا رہے ہیں۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ آج تک کوئی مشاہدہ ایسا نہیں جو کائنات کی اس ناقابل فہم نوعیت کی نفی کر تا ہو۔ اگلے مضمون میں، میں ان میں سے چند تجربات اور مشاہدات کا تذکرہ کروں گا۔
ایک سوال ذہن میں آتا ہے۔ کیا ہماری عام زندگی میں کوئی ایسی مثال ہے جہاں زمان و مکاں کی یہ حیران کن تصویر اثر انداز ہو۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کے مطابق کشش ثقل سے وابستہ مختلف مقامات پر وقت کی رفتار کے گلوبل پوزیشننگ سسٹم (GPS) پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ GPS سیٹلائٹس زمین کی سطح سے تقریباً ساڑھے بارہ ہزار میل اوپر، زمین کی کشش ثقل سے بہت دور واقع ہیں۔ ان سیٹلائٹس کی گھڑیاں زمین کی سطح پر موجود گھڑیوں سے زیادہ تیز چلتی ہیں۔ اس لیے، ان کی اندرونی گھڑیوں کو ایڈجسٹ کیا جاتا ہے تاکہ ان کے تیز وقت کو مدنظر رکھا جا سکے، اور زمین کی سطح پر واپس بھیجے جانے والے GPS ڈیٹا کے مماثل اوقات ہوں۔ اس اصلاح کے بغیر، GPS سیٹلائٹ اس طور کارآمد نہیں ہوں گے جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں۔
زمان و مکاں کے بارے میں یہ تصورات سائنس فکشن منظر ناموں کا باعث بن سکتے ہیں۔
فرض کریں کہ آج کوئی 20 سال کی عمر کا فرد یہ دیکھنا چاہے کہ دو سو سال بعد یعنی 2223 میں زمین کیسی نظر آئے گی۔ موجودہ منظر نامے میں، اس کا امکان بہت کم معلوم ہوتا ہے کیونکہ سب سے طویل عمر پانے والے انسان سو سال سے زیادہ نہیں جیتے۔ تاہم، زمان و مکان سے وابستہ یہ نظریات ایک اور امکان پیش کرتے ہیں۔
وہ شخص زمین سے قریبی بلیک ہول تک سفر کر سکتا ہے جہاں کشش ثقل اتنی مضبوط ہے کہ گھڑیاں اور وقت بہت آہستہ چلتے ہیں۔ اتنا آہستہ کہ اس کی سطح کے قریب چالیس سال زمین پر ایک سو اسی سالوں کے برابر ہیں۔ فرض کریں کہ کسی انتہائی تیز رفتار راکٹ پر زمین سے بلیک ہول تک سفر کرنے میں دس سال لگتے ہیں، اور وہ شخص بلیک ہول کے پڑوس میں چالیس سال گزار کر پھر اسی تیز رفتار راکٹ سے زمین پر واپس آ جاتا ہے۔ جب وہ واپس آئے گا تو اس کی عمر 80 سال ہوگی اور وہ 2083 میں زمین پر واپس آنے کی توقع کرے گا۔ تاہم زمین پر سال 223 2 ہو گا۔
بلاشبہ، اس منظر نامے کے حقیقت پسندانہ ہونے کے لیے بہت سے تکنیکی مسائل ہیں۔ ہم کسی ایسے بلیک ہول کے بارے میں نہیں جانتے جو زمین کے اتنے قریب موجود ہو۔ اور بلیک ہول کے آس پاس زندہ رہنا حقیقت پسندانہ نظر نہیں آتا۔ اس کے علاوہ، ہم نے بلیک ہول تک تیز رفتار سفر میں وقت کے پھیلاؤ کے اثرات کو نظر انداز کیا ہے۔ بہر حال، آئن سٹائن کا عمومی نظریہ اضافیت اس طرح کے متضاد منظرناموں کے امکانات کو کھولتا نظر آتا ہے۔
(یہ مضمون میری کتاب A Mysterious Universe (Oxford University Press 2023 ) سے ماخوذ ہے۔ )


