تلمبہ: رنجیت سنگھ سے طارق جمیل تک

دنیا میں شہر بستے اور اجڑتے رہتے ہیں مگر تاریخ کے اوراق پر ان شہروں کا ماضی نقش ہوجاتا ہے۔ پاکستان اس سلسلے میں زیادہ خوش قسمت علاقہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ یہاں چند ہی شہر ایسے ہیں جنہوں نے تاریخ کو متوجہ کیا۔ موہنجوداڑو، ہڑپہ، ٹیکسلا چند ایسے قدیمی شہر ہیں جن کو عالمی شہرت ملی۔ ان کی مشہوری آثار قدیمہ کے حوالے سے ہے یا پھر قدیم تہذیبوں کے حوالے سے ہے۔ لیکن تاریخ کے پوشیدہ اوراق میں ایک اور شہر بھی ہے جس کا اندراج تاریخ میں مختلف حوالوں سے ہوا ہے۔ لیکن عام قاری اس کی تاریخی اہمیت سے ابھی تک آگاہ نہیں ہے۔ وہ شہر ہے ”تلمبہ“
یہ شہر پنجاب میں ہے۔ راوی کنارے میاں چنوں اور عبدالحکیم کے بیچ میں واقع اس چھوٹے سے شہر نے پنجاب کو اجڑتے اور بستے دیکھا اور اس کے سینے میں ہزاروں راز دفن ہیں۔ یونانی، عرب، ایرانی، تاتاری، منگول، مغل، سکھ، افغان، اس کو فتح کرتے رہے تاراج کرتے رہے۔ آخری اطلاعات تک اس کو ایک واعظ طارق جمیل نے فتح کیا تھا۔ یہ شہر راوی کنارے آباد تھا اور ملتان کا حصہ تھا۔ اس کی لوکیشن ایسی تھی کہ حملہ آور کسی بھی سمت سے آتے تو راستے میں واقع اس شہر کا رخ ضرور کرتے۔ تازہ دم ہونے کے لیے یہاں تھوڑا وقت گزارتے اور یہاں اپنی یادگاریں بنا کر آگے چل پڑتے تھے۔ یہاں زیادہ دیر رہائش یا قیام کی کئی وجوہات تھیں، یہ شہر وسائل سے مالامال تھا۔ اور یہاں تفریح کا سامان بھی میسر تھا۔ اس خصوصیت کی بنا پر رنجیت سنگھ نے یہاں اس خطے کا پہلا بازار حسن یا دوسرے معنوں میں یہاں پہلا ریڈ لائٹ ڈسٹرکٹ بنایا۔ عرب بھی ان علاقوں میں عورتوں کے خرید و فروخت کے لیے آتے تھے۔ اور دیگر اقوام بھی اس شہر کا رخ اس مقصد کے لیے کرتے تھے۔
سلاطین دہلی نے اس شہر کو کئی مرتبہ جنگوں کا میدان بنا کر روند ڈالا۔ ابن بطوطہ نے بھی اس شہر کا تذکرہ کیا ہے۔ افغانوں نے اس شہر کی دولت اور باقیوں نے اس شہر کی عورتوں کو مسلسل لوٹا، اول الذکر نے بھی بھی دولت کے ساتھ ساتھ یہاں کے حسیناؤں سے دل بہلایا۔ یہ عجیب شہر ہے یہاں دن میں جنگ ہوتی تھی اور راتوں کو محفل سجتی تھی۔ اس دور میں جو بھی جنگ میں شکست کھاتا وہ ”تلمبہ“ کا رخ کرتا اور یہاں اپنا غم غلط کرتا اور پھر تازہ دم ہو کر دوبارہ حملہ آور ہوتا تھا۔ انگریز سیاح چارلس میسن نے اپنے سفر نامہ میں اس شہر کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ دارا شکوہ نے تو اپنی عزت کے ساتھ ساتھ تاج شاہی یعنی پارس پتھر بھی اس شہر کے راوی میں پھینک دیا تھا۔ اکبر نے یہاں پانچ ہزاری فوج رکھی اور شاہجہان نے یہاں بارہ دری بنائی اور سرائے بنائی۔ شیر شاہ سوری نے بھی اس پر نظر عنایت کی اور یہاں سڑک کنارے سرائے بنائے۔ احمد شاہ ابدالی نے پہلی لوٹ مار یہاں کی اور بہت سارا زر و جواہر، جانور اور یہاں کی مشہور سوغات ”عورتوں“ کو لے کر ہندوستان گیا تھا۔ افغانستان کا معزول بادشاہ شاہ شجاع بھی یہاں آ کر بس گیا تھا اسے یہاں جاگیر ملی تھی۔
یہ وہی شاہ شجاع ہیں جنہوں نے سہ فریقی معاہدہ 1838 پر دستخط کیے تھے یہ معاہدہ انگریزوں، سکھوں اور افغانوں کے درمیان ہوا تھا۔ یہ وہ معاہدہ ہے جس کے بعد اس خطے میں ”گریٹ گیم“ کا آغاز ہوا تھا۔ یہ معاہدہ انگریزوں نے کروایا تھا۔ لیکن اس پر رنجیت سنگھ اور شاہ شجاع کو راضی کرنے کے لیے شہر ”تلمبہ“ کے طوائفوں کا استعمال کیا گیا۔ یعنی اس معاہدے نے ہندوستان، کشمیر اور موجودہ خیبر پختونخوا کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خونخوار اور جنگجو افغانوں سے نجات دلا دی۔ اور اس کارنامے کو حقیقی بنانے کے لیے انگریزوں نے تلمبہ شہر میں رنجیت سنگھ اور شاہ شجاع کو راضی کیا اور یہ کام اس وقت کے انگریز سر ولیم میکناٹن جن کو یہ کام سونپا گیا تھا نے کیا وہ جب لاہور پہنچے اور رنجیت سنگھ کو کو رام کرنے لگے تو وہ کسی صورت نہیں مان رہے تھے۔ اس لیے کہ 1833 میں سکھوں اور افغانوں کے مابین بھی ایک معاہدہ ہوا تھا۔ جسے افغانوں نے معاہدے کے چند دنوں بعد ہی توڑ دیا تھا۔
اس معاہدے میں بھی چونکہ انگریزوں نے ثالثی کی تھی۔ اس لیے رنجیت سنگھ کو افغانوں پر بالکل بھی اعتبار نہیں تھا۔ پھر وہ ایک ایسے شخص سے بھی معاہدے کے لیے تیار نہیں تھے۔ جو خود بھگوڑا ہو کر ان کی سرزمین پر پڑا ہوا تھا۔ جبکہ انگریز اس ناکارہ سکھ افغان معاہدے کو بحال کرنا چاہتے تھے اس دور میں فارس اور روسی دراندازی کی افواہیں روز آتی تھیں اور انگریزوں کو پتہ تھا اگر ایک بار فارس اور روس کا حملہ ہوا تو نہ تو اس کو سکھ روک سکیں گے۔ اور نہ اس دور میں انگریزوں کے پاس اتنی طاقت تھی کہ وہ اس کا مقابلہ کرسکیں۔ یوں انہوں نے اپنے بچاؤ کے لیے افغانوں اور سکھوں کو ایک ایسے معاہدہ پر متفق کرنا تھا۔ جو عملاً قابل عمل نہیں تھا۔ اس لیے کہ افغان دعوی دار تھے ان علاقوں کے اور سکھ ان علاقوں پر قابض تھے۔ ان علاقوں کے سردار اور زمین دار دنوں کو خراج دیتے دیتے تھک گئے تھے۔ اور افغانوں کو کشمیر اور ملتان سے دستبردار کرانا عملاً ممکن نہیں تھا۔
اس دور کے انگریز گورنر جنرل لارڈ آکلینڈ نے کیپٹن الیگزینڈر برنس کو امیر دوست محمد کے ساتھ اتحاد کرنے کے لیے کابل روانہ کیا تھا۔ وہاں جو بات چیت ہوئی اس کو مد نظر رکھ انگریزوں نے امیر دوست محمد خان کی جگہ رنجیت سنگھ کو سپورٹ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں امیر دوست محمد خان کو معزول کیا گیا او ر بھگوڑے شاہ شجاع کو دوبارہ افغانستان کی حکومت سونپنے کا فیصلہ کیا گیا۔ شاہ شجاع جو دہائیوں سے ”تلمبہ“ میں پڑے تھے اور ”کوہ نور“ سے ہاتھ دھو چکے تھے۔ ”کوہ نور“ کا غم غلط کرنے میں ”تلمبہ“ کے بازار حسن ”نے ان کو بہت سہارا دیا۔ انگریزوں نے ان سے پشاور کو اپنے تعاون کی قیمت دے دی تھی جو ان دنوں سکھوں کے قبضے میں تھا، انگریز اس دور میں روس کے خوف سے اس علاقے میں کوئی شورش نہیں چاہتے تھے۔ سکھوں اور انگریزوں کی لڑائی کے نتیجے میں لازمی تھا کہ روس کی افواج کو موقع ملتا کہ وہ ان علاقوں پر قبضہ جمائیں۔ ایسا انگریز کب چاہتے تھے اس وقت انگریزوں کی اپنی باقاعدہ فوج اتنی کم تھی کہ وہ ایک قلعہ کی بھی حفاظت نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن بھلا ہو“ تلمبہ ”کا اور اس کے بازار حسن کا کہ سکھ اور افغان دونوں راضی ہوئے۔
رنجیت سنگھ اور شاہ شجاع نے 26 جون 1838 کو اس معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ سہ فریقی معاہدہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس معاہدے نے سکھوں کی بادشاہت کے مستقل طور پر، کشمیر، اٹک، ہزارہ، پشاور، خیبر، بنوں، ٹانک، کالاباغ اور دیگر منحصر وزیری اضلاع، درجات اور امیروں تک کے سابقہ افغان املاک پر کنٹرول کی تصدیق کی۔ شاہ شجاع نے سندھ کے حوالے سے اپنے تمام دعوے ترک کر دیے اور سندھ میں انگریزوں اور سکھ حکمرانوں کی طرف سے کیے گئے تصفیے کی پابندی کرنے پر رضامند ہو گئے۔ شاہ شجاع نے افغانستان کے خارجہ تعلقات پر مشترکہ اینگلو سکھ اتھارٹی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ لاہور حکومت نے خود کو شاہ کی طرف سے 200,000 روپے کی سالانہ ادائیگی کے لیے پابند کیا کہ وہ شاہ کی امداد کے لیے 5,000 سے کم افراد پر مشتمل ایک محمڈن معاون فوج کو برقرار رکھے گی۔ آخر کار، ہرات کو آزاد ہونا تھا، اور، کابل میں، شاہ شجاع کو ایک برطانوی ایلچی کی ضرورت تھی۔ کہا جاتا ہے کہ انگریزوں کا سہ فریقی معاہدہ کرنے کا اصل مقصد سندھ پر سکھوں کے عزائم کو ناکام بنانا تھا۔ یوں“ لر افغان ”کی بلی چڑھائی گئی۔ اور یہ سب“ تلمبہ ”کے بدولت ہوا۔
اس شہر میں رنجیت سنگھ نے جو بازار حسن بنایا تھا اس کی شہرت ہندوستان بھر میں تھی۔ لوگ یہاں آتے تھے اور اپنی عزت اور جاگیریں لوٹا کر خالی ہاتھ لوٹتے تھے۔ رفتہ رفتہ یہ شہر حملہ آوروں اور تخت نشینوں سے خالی ہوتا چلا گیا اور اس میں لے دے کر ایک بازار حسن ہی قائم رہا۔ پھر اس شہر پر طارق جمیل صاحب نئے طریقہ واردات سے حملہ آور ہوئے ان کے پاس کوئی فوج نہیں تھی، انہوں نے اپنے خطابت اور بیانوں سے اس کو فتح کیا اور یہاں کی طوائفوں کو اپنی صحبتوں میں رکھ کر ان کو ان کی جائیدادوں سے بے دخل کیا اور یوں تلمبہ شہر اب اپنے بازار حسن کی جگہ طارق جمیل کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔
اس خونی شہر نے ہزاروں لوگوں کی جانیں لیں، لاکھوں کی عزتیں یہاں نیلام ہوئیں، افغانوں نے کئی مرتبہ اس کو لوٹا، مگر اس شہر نے افغانوں سے اپنے لٹنے کا سہ فریقی معاہدے کو ممکن بنا کر وہ انتقام لیا کہ شاید ہی دنیا میں کوئی ایسا انتقام لے سکے۔ اس شہر نے ہر اس شخص سے بدلہ لیا جس نے اس کو تاراج کیا یا لوٹا۔ اس لیے کہ تاریخ اٹھا کر دیکھیں ان تمام لوگوں کو شکست ہوئی یا نقصان ہوا جو یہاں آئے اور یہاں سے شکست اور بدنامی سمیٹ کر گئے۔ ہندو متھالوجی کی قدیم کتابوں میں درجنوں بار لکھا گیا ہے کہ طوائف کی آہ لگتی ہے۔ اس لیے ہندوستان کے راجہ مہاراجہ طوائفوں کی بددعا سے بچنے کی تدبیریں کیا کرتے تھے۔
اس شہر کے متعلق یہ بھی مشہور ہے کہ اس کے قدیم کھنڈرات سے اب بھی بے چین روحوں کی چیخیں سنائی دیتی ہیں۔ یہ سچ ہو یا نہ ہو مگر اس شہر کی طوائفوں کو پہلے جنسی طور لوٹا جاتا تھا۔ آخری بار ان کو مالی طور پر لوٹا گیا اور یقیناً دربدری میں وہ چیختی ہوں گی۔ بھلے سے ان کی آواز کسی کو سنائی دے یا نہ دے۔ اس لیے کہ لوگوں کے کان خطبے سننے میں مصروف ہیں جس میں حوروں کی باتیں ہو رہی ہیں اور لوگوں کے چشم تخیل میں حوروں کی وہ سراپا نگاری ہے جو طارق جمیل صاحب اپنی خطابت سے ان کو مزے لے لے کر سنا رہے ہیں۔ جبکہ خود حوروں کا انتظار کیے بغیر کسی کے پاس دوبئی دوڑ دوڑ کر جاتے تھے۔

