سموگ: سانس لینا بھی سزا لگتا ہے
پاکستان میں جیسے ہی سردیوں کا موسم شروع ہوتا ہے اس کے پرہجوم اور مصروف ترین شہر خاص کر پنجاب میں لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان اور دیگر کہرے اور آلودہ ہوا کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ کروڑوں لوگوں کے لیے ہر سال ایک مصیبت سموگ کی صورت میں آن کھڑی ہوتی ہے۔ پاکستان میں سموگ کا مسئلہ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کا سانس لینا دشوار ہو رہا ہے، وقفے وقفے سے سکول بند ہونے کی وجہ سے بچوں کی تعلیم میں خلل پڑ رہا ہے اور ہسپتالوں میں فضائی آلودگی سے جنم لینے والی بیماریوں خاص کر آنکھوں اور سانس کی تکلیف میں مبتلا لوگوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔
سموگ، فضائی آلودگی کا مسئلہ ہے جو زہریلے دھوئیں اور دھند کا ایک ایسا بھیانک امتزاج ہے جو محض سانس لینے میں ہی دشواری پیدا نہیں کرتا بلکہ اس کے ماحولیاتی، سماجی اور معاشی منفی اثرات کہیں زیادہ ہیں۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ، سموگ کی روک تھام سے متعلق کارروائی کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان ماحولیاتی آلودگی کے ایک ایسے بحران سے دوچار ہے جو توجہ، افہام و تفہیم اور دیرپا حل کا متقاضی ہے۔
فضائی آلودگی عالمی سطح پر صحت عامہ کے لیے سب سے بڑا ماحولیاتی خطرہ ہے اور ایک اندازے کے مطابق اس کی وجہ سے دنیا میں ہر سال 70 لاکھ قبل از وقت اموات ہوتی ہیں۔ فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کا آپس میں گہرا تعلق ہے کیونکہ زہریلی گیسوں کا اخراج تمام ماحولیاتی آلودگیوں کا ماخذ ہے۔
پاکستان کا شمار ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے نقصان اٹھانے والے دس سر فہرست ممالک میں ہوتا ہے۔ گزرے ہفتے ائر کوالٹی انڈیکس کی 296 شرح کے ساتھ لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سر فہرست رہا ہے اور یہ شرح برقرار رہنے کا امکان ہے۔ انڈیکس کے مطابق لاہور کے کچھ علاقوں میں فضائی آلودگی کی شرح 500 سے بھی تجاوز کر جاتی ہے جو کہ انسانی صحت کے لئے انتہائی خطرناک سطح ہے۔ کسی شہر کا ائر کوالٹی انڈیکس 0۔ 50 ہو تو فضا صحت کے لئے بہتر ہوتی ہے لیکن یہ شرح اگر 300 سے تجاوز کر جائے تو انتہائی مضر صحت ہو جاتی ہے، آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ لاہور کی فضا کس قدر آلودہ اور صحت کے لیے خطرناک ہے۔
یہ سموگ کا مسئلہ صرف لاہور یا چند شہروں تک محدود نہیں بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پورا پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کی وجہ سے اس فضائی آلودگی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں کروڑوں لوگوں کی صحت اور معاشیات پر سموگ کے شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
سموگ کی وجہ سے سانس کے مسائل اور آنکھوں کے امراض میں اضافہ عام ہے مگر سموگ کی وجہ سے زہریلی گیسوں کے باریک ذرات ہوا میں جامد ہو کر سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہیں جو کہ کئی مہلک بیماریوں فالج، دل کے امراض، پھیپھڑوں کی بیماریاں اور کینسر کا سبب بنتے ہیں۔ سموگ کا مسئلہ دیگر بیماریوں کے بڑھنے میں بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے جیسا کہ ذیابطیس، بچوں کی ذہنی نشو و نما میں رکاوٹ، اور نفسیاتی مسائل۔
صحت کے ساتھ ساتھ سموگ کا مسئلہ سماجی اور معاشی نظام کو بھی بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ حد نگاہ صفر ہو جانے کے باعث لوگوں کی آمد و رفت میں خلل پڑتا ہے۔ حادثات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ دیہاڑی دار مزدور کا روزگار تقریباً ختم ہو جاتا ہے۔ سموگ میں کمی لانے کے لئے صنعتوں کی بندش بھی پہلے سے موجود معاشی مسائل میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ سکولوں کی بندش اور بچوں میں بیماریوں کی شرح بڑھنے کی وجہ سے تعلیم کا بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے۔
پاکستان میں سموگ کا مسئلہ بڑھنے کے پیچھے مندرجہ ذیل بنیادی عوامل کارفرما ہیں :
بھارتی ریاستوں پنجاب اور ہریانہ میں فصلوں کی کٹائی کے بعد فصلوں کی باقیات کو جلانے کا رواج ہوا میں آلودگی پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جو سرحد کے پار سفر کر کے پاکستان میں سموگ میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔
کارخانوں اور مینوفیکچرنگ پلانٹس کی زیادہ تعداد والے صنعتی علاقے فضا میں آلودگی پھیلاتے ہیں۔ یہ اخراج، بشمول زہریلے ذرات اور زہریلی گیسیں، سموگ کی تشکیل میں حصہ ڈالتے ہیں۔ اینٹیں بنانے والے بھٹوں میں ٹائر، پلاسٹک اور غیر معیاری ایندھن کا استعمال بھی سموگ میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔
سڑکوں پر گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، خراب اور پرانے انجن والی گاڑیاں بھی شہری علاقوں میں فضائی آلودگی کی بلند سطح کا باعث بنتی ہیں۔
خاص موسمی حالات، جیسے بارش نہ ہونا، ٹھہری ہوئی ہوا، درجہ حرارت کا تغیر، اور ہوا کی کم رفتار آلودگی کو سطح زمین کے قریب رکھتے ہیں جس کی وجہ سے زہریلے گیسی مادے فضا میں منتشر نہیں ہوتے اور سموگ کی صورت میں زمیں کی قریبی سطح پر ٹھہرے رہتے ہیں۔
پاکستان میں سموگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جاتے ہیں، جیسا کہ سموگ والے دنوں میں اسکولوں کی بندش، صاف توانائی کے ذرائع کا فروغ، اور فصلوں کو جلانے پر پابندیاں وغیرہ۔ مقامی حکومتیں، ماحولیاتی ایجنسیاں، اور بین الاقوامی تنظیمیں اس مسئلے کو حل کرنے اور متاثرہ علاقوں میں ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مل کر کام بھی کر رہی ہیں۔ لیکن فضائی آلودگی کا مسئلہ اس قدر گمبھیر ہو چکا ہے کہ یہ تمام اقدامات ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔
جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا کہ سموگ، جو کہ دھوئیں اور دھند کا مجموعہ ہے، آپ کی صحت اور ماحول کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے، اس لئے اپنے آپ کو بچانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔
یہاں کچھ احتیاطی تدابیر بیان کی گئی ہیں جو آپ سموگ میں اپنا سکتے ہیں :
اپنے گھر سے باہر کے معمولات کو کم سے کم کرنے کی کوشش کریں، اگر آپ کو گھر سے باہر جانے کی ضرورت ہو تو ایسے وقت کا انتخاب کریں جب سموگ کی سطح کم ہو۔
اپنے علاقے میں مقامی ائر کوالٹی انڈیکس کی رپورٹس پر نظر رکھیں۔ اگر ائر کوالٹی انڈیکس 200 سے زیادہ ہے تو زیادہ سے زیادہ گھر کے اندر ہی رہیں۔
آلودگی کو فلٹر کرنے اور اندرونی ہوا کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد کے لیے اپنے گھر میں ائر پیوریفائر استعمال کرنے پر غور کریں۔ سموگ کو اپنے گھر میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے کھڑکیاں اور دروازے بند رکھیں۔
اگر آپ کے پاس ائر کنڈیشنر ہے تو باہر کی ہوا اندر آنے سے بچانے کے لیے ائرکنڈیشنر کو ری سرکولیشن موڈ میں استعمال کریں۔
شدید سموگ کی صورت میں، خاص طور پر اگر آپ کو سانس کے مسائل ہیں تو جب آپ کو باہر جانے کی ضرورت ہو تو N 95 یا N 99 ماسک استعمال کریں۔
جسم میں پانی کی مقدار پورا رکھنے سے آپ کے جسم کو سموگ کے اثرات سے نمٹنے میں مدد ملتی ہے۔ اپنے نظام تنفس کو بہتر طریقے سے کام کرنے کے قابل بنانے کے لیے وافر مقدار میں پانی پائیں۔
سموگ کی بلند سطح والے دنوں میں پارکس وغیرہ میں واک یا کھلی فضا میں ورزش کرنے سے گریز کریں۔ پارکس میں اگر واک کرنا مقصود ہو تو ماسک کا استعمال لازمی کریں۔
اگر آپ پہلے سے دمہ یا دل کی بیماری کا شکار ہیں، تو سموگ کے دنوں کے دوران باقاعدگی سے طبعی معائنہ کروائیں اور ڈاکٹر سے رابطے میں رہیں۔
فضائی آلودگی اور سموگ کو کم کرنے کے لئے ہمیں مجموعی طور پر بھی کچھ مندرجہ ذیل اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے :
سڑک پر گاڑیوں کی تعداد کو کم کرنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال زیادہ سے زیادہ کیا جائے۔
سموگ اکثر غیر معیاری ایندھن کے جلانے سے خارج ہونے والی آلودگی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ہم بحیثیت کمیونٹی زیادہ تو نہیں کر سکتے مگر کم از کم گھر کے باہر کوڑا جلانے سے پرہیز کر سکتے ہیں۔
اپنی کمیونٹی میں گرین ایریاز کو بڑھانے اور مزید درخت اور پودے لگانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ پودوں اور درختوں سے آلودگی کو جذب کرنے اور ہوا کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔
فضائی آلودگی کو کم کرنے اور صاف توانائی کے حل کو فروغ دینے کے لیے کمیونٹی اور سیاسی کوششوں میں شامل ہوں۔
یاد رکھیں کہ سموگ کے صحت پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں، خاص طور پر کمزور طبقات جیسے حاملہ خواتین، بچے، بوڑھے اور پہلے سے بیمار افراد۔ مندرجہ بالا احتیاطی تدابیر کو اپنانے سے آپ صحت مند رہ سکتے ہیں اور سموگ کے شدید اثرات سے اپنے آپ کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔
پاکستان میں سموگ کا مسئلہ ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی چیلنج بن چکا ہے جو لاکھوں زندگیوں کو متاثر کر رہا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھا جائے، اس کی بنیادی وجوہات کو سمجھا جائے، اور تمام شہریوں کے لیے صاف ستھری ہوا اور ایک صحت مند مستقبل کی راہ تلاش کی جائے۔
سابق وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان کے مطابق عارضی اور مختصر مدت کے اقدامات سے سموگ کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ نیشنل کلین ائر پالیسی 2023 پر مکمل عمل درآمد ہی سموگ کا واحد حل ہے۔ پنجاب صوبائی حکومت کو اس پالیسی کے مطابق ہنگامی بنیادوں پر طویل مدتی اور سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ اہم فیصلے نہیں لئے گئے تو سموگ سے بہت ساری زندگیوں کو خطرات لاحق ہوں گے۔


