خداؤں کی جنگیں اور انسانی استحصال


One Dimensional Globalization عالمی آقاؤں کے بڑے کاریگروں کی ہنر مندانہ اختراع ہے۔ پوری دنیا کو اجارہ دارانہ سرمایہ داری کے لیبر کیمپ میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ خود ساختہ مسائل کو حل کرنے کی خاطر، کہیں خود ایجاد کردہ دہشت گردی کا راستہ روکنے کے بہانے، اور کبھی کسی کو اپنے ’احساس خرتری‘ کو باور کرانے کارن؛ دنیا بھر میں جنگوں کو اس لیے ایڑ لگائی جاتی ہے کہ کس طرح تمام انسانوں اور عالمی وسائل کو ماورائے ریاست عالمی کارپوریشنوں کے قبضہ میں لایا جا سکے۔

تحقیق و تفتیش کیے بنا یا جان بوجھ کر مصنوعی صورت حال تیار کرنے اور المناک کہانیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے والا زر خرید میڈیا انسانی مقدر کے ساتھ انتہائی بھیانک کھیل کھیل رہا ہے (جس کے کردار بارے فرانسس بیکن نے پانچ صدیاں پہلے خبردار کیا تھا) ، جب کہ اصل مسئلے پر چپ رہتا ہے کہ کس مسئلے /جنگ کے اصل محرکات و اسباب کیا ہیں اور ان جنگوں اور ان کے خوف سے فائدہ اٹھانے والا کون ہے؟

آگ کو آگ سے کبھی نہیں بجھایا جا سکتا اور نہ ہی نفرت کو نفرت سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ انسانی معاشروں کا ہر مسئلہ ایک نظریاتی اور سیاسی مسئلہ ہی رہا ہے جسے طاقت سے حل کرنے سے صرف المیوں نے جنم لیا ہے۔ فلسطینی عوام کا قتل عام اور انسانی تذلیل امن عالم کا سوال نہیں بل کہ عالمی دہشت گردی کی علامت بن گیا ہے۔ بین الاقوامی اشرافیہ نے انسانی معاشروں میں اپنے نظری مخالفین اور کم زور اقوام کے خلاف اتحاد کر لیا ہے، جس میں ان کے بہ یک وقت بہت سے مقاصد ہیں، جو اپنی تکمیل کی طرف گام زن ہیں، جب کہ کم زور اقوام اس عالمی استعمار کے ہاتھوں جکڑے جانے میں اپنی باریوں کا انتظار کر رہی ہیں۔

انسان کا جذبات سے معمور روحانی وجود سرمائے کے بوجھ تلے اپنی روح کھو رہا ہے۔ دولت کے ارتکاز نے سرمائے کی اجارہ داری کا ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے کہ انسان مالیاتی مشین کا ایک خود کار جزو بن کر صرف اپنی مالی ضرورتوں کے تابع ہو کر زندگی گزار رہے ہیں نہ کہ اپنے داخلی جذبات کے مطابق (بل کہ بہ قول ابن خلدون:محکوم صرف روٹی کے لقمے اور جنسی جبلت کے لیے زندہ رہتا ہے ) ۔ اب روحانی قدروں کی جگہ ذہانت و فراست سے عاری مادیت نے لے لی ہے۔

انسانی تعلقات مفادات کی شہوت انگیز ہوس سے آلودہ ہو چکے ہیں۔ کسی مظلوم کو دیکھ کر ہم اپنے آپ کو بچانے کی خود فریبی اور غلط فہمی کا شکار ہو چکے ہیں (کہ جیسے ہم بچ جائیں گے ) ۔ لیوس کیرول کا Alice ’s Adventures in Wonderland، گارشیا مارکیز کا One Hundred Years of Solitude، اور کافکا کی تحریریں عالم نزع سے گزرتی ہوئی انسانی تہذیب کا المیہ بیان کرتی ہیں۔ ٹی ایس ایلیٹ ان حالات کی منظر کشی یوں کرتے ہیں :

Every one ’s alone or it seems to me
They make noises, and think they are talking to each other,
They make faces, and think they understand each other.
And I am sure they do not. Is that a delusion?

[وہ سب تنہائی کا شکار ہیں یا پھر مجھے ہی ایسا محسوس ہو رہا ہے۔ وہ شور مچاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے باتیں کر رہے ہیں۔ وہ چہرے بگاڑتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں۔ اور مجھے یقین ہے کہ وہ ایسا نہیں کر پا رہے۔ یہ محض مغالطہ نہیں ہے؟ ]

اسی قسم کا ایک مغالطہ میرے عہد کے مخصوص ذہنوں کو ہے کہ وہ مظلوم اور ظالم کے افتراق سے قاصر ہیں یا اپنی سرشت کے ہاتھوں مجبور (کہ دنیا میں ہر ریاست کے اندر اور باہر دونوں محیطوں میں صرف یہی دو قومی نظریہ ہے ؛ ظالم کا اور مظلوم کا، تیسری کوئی قوم نہیں ) ۔ اور ایک مغالطہ مجھے افتخار عارف کے ایک شعر کی معنوی تکثیریت سے ملتا ہے کہ ان کا تناظر کچھ اور رہا ہو گا مگر مجھے میرے عہد کے مالیاتی خدا کی طرف لے جاتا ہے، جو ہمیں اس حد تک بے بس کر چکا ہے :

ہر ایک ذرہ، ہر اک پارۂ زمین و زمان
کسی کے حکم پہ، دن ہو کہ رات، رقص میں ہے


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments