مٹی پاؤ، ڈیل اور تین رتن
نواز شریف 2007 میں جدہ سے پاکستان واپس پہنچے تو ان کو ائر پورٹ ہی دوبارہ گرفتار کر لیا گیا پھر جیسے ہی یہ خبر سعودیوں تک پہنچی انہوں نے فوری مشرف کو فون کھڑکائے، نواز شریف کو جیل میں بھیجنے کی بجائے مشرف نے دوبارہ جدہ واپس بھیج دیا۔ 2023 کو ایک بار پھر نواز شریف چار سالہ جبری جلاوطنی ختم کر کے لندن سے پہلے سعودی عرب پہنچے وہاں دو اہم ملاقاتیں کیں پھر دبئی پہنچے اور دبئی سے اسلام آباد پہنچے۔ یہاں جبری جلاوطنی کا لفظ اس لیے استعمال کر رہا ہوں کیونکہ نواز شریف 2019 میں اپنی مرضی سے لندن نہیں گئے تھے۔
ان کو لندن بھیجنے والے شہباز شریف، خواجہ آصف، قمر جاوید باجوہ اور تین ملکوں کے سفیر ہیں جنہوں نے ان سے کورٹ لکھپت جیل اور سروسز ہسپتال میں ملاقاتیں کیں تھی۔ کورٹ لکھپت جیل میں ایمبولینس میں ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ خیر اس بار نواز شریف اسلام آباد ائر پورٹ مزے سے اترے دور تک خالی ائر پورٹ ہی تھا کوئی مسلح گارڈ نہیں تھے جو ان کو دوبارہ گرفتار کرنے کے لئے کھڑے ہوں۔ نواز شریف کو ائر پورٹ پر ہی ریاستی پروٹوکول دیا گیا۔
ان کی بائیو میٹرک ہوئی، پاسپورٹ کی تجدید سمیت تمام دیگر قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔ نواز شریف کے ساتھ والی سیٹ پر دبئی سے سابق جنرل ناصر جنجوعہ بیٹھے تھے جو ان کے تیسرے دور حکومت میں ان کے سیکیورٹی مشیر بھی رہ چکے ہیں۔ اسلام آباد ائرپورٹ پر پہنچتے ہی ناصر جنجوعہ جہاز سے اتر گئے اور ان کی سیٹ پر اسحاق ڈار بیٹھے گئے۔ پھر جب وہ لاہور ائر پورٹ پر پہنچے تو تو وہاں استقبال کے لئے شہباز شریف موجود تھے۔ یہاں اہم بات یہ ہے 2018 میں نواز شریف کو اسی لاہور ائرپورٹ پر گرفتار کرنے کے لئے رینجرز کی بھاری نفری موجود تھی وہی رینجرز کے اعلیٰ افسران نواز شریف کے استقبال کے لئے لاہور ائرپورٹ پر پہنچے ہوئے تھے۔
نواز شریف کو خصوصی ہیلی کاپٹر کے ذریعے شاہی قلعے لایا گیا۔ نواز شریف نے مینار پاکستان جلسے میں جو تقریر کی وہ چند دن قبل لندن میں بیٹھے کیے خطاب سے بالکل مختلف تھی۔ کیونکہ نواز شریف نے لندن میں بیٹھ کر اپنی پارٹی کے پنجاب کے سابق ارکان اسمبلی سے خطاب میں اپنے خلاف سازش کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا عندیہ دیا ساتھ یہ بھی کہا اب مٹی پاؤ کام نہیں چلے گا۔ پھر اچانک وہی نواز شریف مینار پاکستان تقریر کرتے ہوئے موم ہو گیا۔
مریم نواز جو مسلم لیگ (ن) میں ایک مزاحمت کی آواز سمجھی جا رہی تھی وہ بھی ازخود خاموش چلے میں چلی گئی جو تاحال خاموش ہے۔ شہباز شریف ایک جادو گھر انسان ہے اس نے وہ کام کر دیا جو کوئی جنرل نہیں کر سکا۔ دو دنوں میں شہباز شریف نے نواز شریف اور مریم نواز کا اینٹی اسٹبلشمنٹ مائنڈ سیٹ تبدیل کر کے رکھ دیا۔ مسلم لیگ (ن) کے مخالفین اس خاموشی کو ڈیل کا نام بھی دے رہے ہیں کیونکہ نواز شریف کی تقریر پھر اس کے بعد نواز شریف اور مریم نواز کا خاموش ہوجانا کئی سوالات کھڑے کر رہا ہے اسی بنیاد پر ان کے مخالفین کو ڈیل جیسے الزامات لگانے کا موقع مل رہا ہے کیونکہ یہ سب چاہتے تھے نواز شریف اپنا اینٹی اسٹبلشمنٹ بیانیہ جاری رکھیں اور ہم اندرون خانہ اسٹبلشمنٹ سے ڈیل کر لیں لیکن شہباز شریف نے دو قدم آگے بڑھ کر نواز شریف کے نئے بیانیے کو اپنے کمزور ہاتھوں کی ڈھال سے روک دیا۔
نواز شریف کے تیسرے دور حکومت میں ان کو نہال، طلال اور دانیال جیسے تین رتن ملے تھے پھر عمران خان کو شہبازگل، شیخ رشید اور شہزاد اکبر کی صورت میں تین رتن ملے۔ ان چھ لوگوں نے دو وزراء اعظم کی حکومتیں گرانے میں مرکزی رول ادا کیے۔ اب نواز شریف کو ایڈوانس اقتدار سنبھالنے سے قبل دو رتن مل چکے ہیں جن میں سرفہرست جاوید لطیف اور دوسرے عطاء تارڑ ہیں۔ جاوید لطیف کا کام ہر دوسرے دن اسٹبلشمنٹ کو تیلی لگانا اور عطاء تارڑ کا کام جوڈیشری کو چھیڑنا ہے۔
تیسرا رتن بھی عنقریب منظر عام پر آنے والا ہے۔ 2018 میں جو دس سالہ پلان عمران خان کے لئے بنایا گیا تھا اب وہ پلان نواز شریف پر اپلائی کیا جا رہا ہے۔ اس بار نواز شریف دس سالہ پلان کے تحت اقتدار سنبھالنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ نواز شریف اگر پانچ سال پورے کرتے ہیں تو قوی امکان ہے وہ وہ مسلسل دوسری ٹرم بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں کیونکہ نواز شریف میں یہ خصوصی ہے کہ وہ ڈلیور کرنے کا فن رکھتے ہیں۔ اگر نواز شریف پرامن طریقے سے حکومت کرنا چاہتے ہیں تو اپنے نئے نویلے رتن کو ابھی سے قابو کر لیں ورنہ یہ شہباز شریف کی محنت پر پانی پھیرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ دوسری جانب مریم نواز پر جو چھاپ لگی تھی کہ پارٹی ان کو صرف مشکل وقت میں استعمال کرتی جب مشکل وقت گزر جاتا ہے تو مریم نواز کا رول مائنس ہو جاتا ہے۔ آج بھی یہی ہو رہا ہے۔ اب یہ مریم نواز پر منحصر کرتا ہے کہ وہ اس چھاپ کو کیسے ختم کرتی ہے۔


