پی ٹی آئی کا سیاسی اور انتخابی مستقبل
ایک بنیادی بات ہمیں یہ سمجھنی ہوگی کہ سیاسی جماعتوں کا خاتمہ کسی انتظامی یا قانونی نقطہ یا کسی طاقت کی بنیاد پر فیصلہ سے ممکن نہیں۔ سیاسی سطح پر سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کی مقبولیت یا عدم مقبولیت یا ان کی اہمیت یا غیر اہمیت کی بنیاد سیاسی اور جمہوری عمل سے جڑا ہوتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کی کنجی عوام میں ان کی سیاسی ساکھ سے جڑی ہوتی ہے اور ان جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی عوامی ساکھ کو ہر سطح پر قائم رکھ سکیں۔
سیاسی جماعتوں کی قبولیت عوامی ووٹ یا انتخابات کے معاملات سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے اور یہ فیصلہ ووٹرز نے ہی کرنا ہوتا ہے کہ وہ کس کے حق میں کس کی مخالفت میں ووٹ دیتے ہیں۔ ووٹوں کی بنیاد پر سیاسی اور جمہوری عمل سمیت اقتدار کا کھیل ہی عملی طور پر سیاسی اور جمہوری عمل کی کامیابی کی ضمانت بنتا ہے۔ ماضی کے سیاسی تجربات اور کیے جانے والے فیصلوں سے یہ ہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ہمیں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے۔
پاکستان 2024 میں نئے عام انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے بقول یہ عام انتخابات جنوری کے آخری ہفتے میں ہوں گے ۔ ان انتخابات سے پہلے عام انتخابات کی ساکھ، شفافیت، لیول پلینگ فیلڈ، سیاسی انجنیئرنگ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انتخابات سے پہلے ہی انتخابات پر متنازعہ عمل کا اٹھنا سیاسی طور پر اچھا شگون نہیں اور یہ انتخابی نتائج اور ساکھ کو یقیناً متنازعہ بنائے گا۔ سب سے بڑا سوال سیاسی سطح پر یہ ہی زیر بحث ہے کہ نئے عام انتخابات میں پی ٹی آئی اور عمران خان کا کیا سیاسی مستقبل ہو گا۔
اول کیا پی ٹی آئی پر جو اس وقت عملاً سیاسی پابندی ہے یا ان کو کسی بھی سطح پر سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ختم ہو سکے گی؟ دوئم کیا پی ٹی آئی کو آزادانہ بنیادوں پر عام انتخابات میں حصہ لینے اور ان کا بیلٹ پر بلا کا انتخابی نشان ہو گا؟ سوئم کیا عمران خان کی رہائی ممکن ہو سکے گی اور کیا وہ خود انتخابات میں حصہ یا انتخابی مہم چلا سکیں گے؟ چہارم کیا پی ٹی آئی کے بارے میں یہ طے کر لیا گیا ہے کہ اگلے انتخابات میں ان کے لیے کوئی سیاسی جگہ نہیں اور انتخابی نتائج ان کے حق میں نہیں ہوں گے ۔ پنجم پی ٹی آئی سے وابستہ انتخابی امیدواروں کی سیاسی وابستگی کو ہر صورت ختم کیا جائے گا اور کسی بھی طاقت ور امیدوار کو پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔
پی ٹی آئی پر ایک بڑا سیاسی عتاب نو مئی کے واقعات کی بنیاد پر سامنے آیا ہے۔ پی ٹی آئی کی سیاسی مہم جوئی اور 9 مئی کی حکمت عملی نے ان کی جماعت کو نہ صرف کمزور کیا بلکہ ان کے لیے سیاسی راستے یا دروازے بند کیے ہیں۔ اس لیے پی ٹی آئی کی غلط سیاسی حکمت عملی یا سیاسی سطح پر مہم جوئی نے ان کو کمزور اور کافی نقصان پہنچایا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا 9 مئی کے واقعات کو بنیاد بنا کر ہم پی ٹی آئی کا سیاسی خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور کیا پی ٹی آئی یا اس کا ووٹرز بالخصوص نوجوان طبقہ اس پابندی کو قبول کر لے گا۔
پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی یا سیاسی فیصلوں سے اختلاف اپنی جگہ اور ان کی مخالفت کا حق بھی سب کو ہے مگر اس طرح سے سیاسی جماعتوں کی سیاسی بے دخلی ممکن نہیں ہوتی اور نہ یہ ممکن ہو سکے گی۔ اس لیے فی الحال انتخابی ساکھ اور اس کی شفافیت کو قائم کرنے کے لیے یقینی طور پر پی ٹی آئی کا سیاسی و انتخابی میدان میں رہنا لازمی ہو گا۔ ان کے امیدواروں کو پارٹی، پارٹی نشان اور آزادانہ مہم کی بھی مکمل اجازت ہونی چاہیے۔ کسی بھی سیاسی جماعت نے اگر قانون شکنی کی ہے یا ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا ہے تو ضرور قانون اپنا راستہ بنائے لیکن اس کو بنیاد بنا کر سیاسی جماعت کو ختم کرنا یا ان کے مقابلے میں متبادل جماعتوں کی تشکیل مزید نئے مسائل کو جنم دینے کا سبب بنے گا۔
پی ٹی آئی آج کی سیاست میں ایک سیاسی حقیقت ہے۔ اسی طرح اس کی سیاسی مقبولیت پر بھی کسی کو کوئی شک نہیں اور نوجوانوں کی اکثریت اس جماعت کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس لیے اس جماعت کے خلاف محض طاقت کا استعمال اور نو مئی کو بنیاد بنا کر پوری جماعت یا اس قیادت کو ختم کرنا دانش مندی نہیں ہوگی۔ ہمیں 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد اور وہ لوگ جو پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں اور کوئی ان کا تعلق کسی بھی طریقے سے 9 مئی کے واقعات سے براہ راست نہیں ان میں فرق کیا جانا چاہیے۔
جس شدت سے پی ٹی آئی کے لوگوں پر دہشت گردی کی بنیاد پر درجنوں اور سینکڑوں کی تعداد میں دہشت گردی کے مقدمات اور دباؤ ڈال کر پارٹی کے لوگوں کو پارٹی چھوڑنے پر مجبور کرنے کی حکمت عملی میں تبدیلی ہونی چاہیے۔ کیونکہ یہ حکمت عملی ایک ردعمل کو جنم دے رہی ہے اور اس سے پی ٹی آئی کے ووٹ بینک میں کمی نہیں بلکہ واقعی اضافہ ہو رہا ہے۔ لوگوں میں اس خیال یا سوچ کی نفی ہونی چاہیے کہ پی ٹی آئی کو طاقت اور دباؤ کی بنیاد پر انتخابی میدان سے باہر نکالا جا رہا ہے اور اس کے پیچھے قانونی نہیں بلکہ سیاسی مقدمہ ہے۔
پی ٹی آئی کی قیادت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی ان سیاسی غلطیوں کو تسلیم کرے جس کی وجہ سے آج ان کو ان مشکلات کا سامنا ہے اور اگر ان کی قیادت محفوظ سیاسی راستہ چاہتی ہے تو اس کو خود اپنی سوچ اور فکر سمیت ٹکراؤ کی سیاسی پالیسی سے گریز کرنا چاہیے۔ سخت گیر پالیسی یا ٹکراؤ کی حکمت عملی کے مقابلے میں پی ٹی آئی میں مفاہمتی پالیسی سامنے آنی چاہیے۔ لیکن یہ مفاہمتی پالیسی یک طرفہ نہیں ہو سکتی بلکہ اس کا عمل دوطرفہ ہونا چاہیے۔
پی ٹی آئی اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان ٹکراؤ کسی کے حق میں نہیں اور نہ ہی کسی کو باہر نکال کر مفاہمت کا عمل آگے چل سکتا ہے۔ ایک دوسرے کو سمجھ کر اور حالات و واقعات میں آگے بڑھنے کی حکمت عملی ہی سب کے لیے سودمند ہوگی۔ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی یا اس کی قیادت کو باہر نکال کر سیاسی اور معاشی استحکام اور مضبوط سیاسی اور جمہوری نظام کی طرف بڑھ سکتے ہیں وہ غلطی پر ہیں اور اس کے سنگین نتائج مزید بحران اور ٹکراؤ کی صورت میں دیکھنے کو ملیں گے۔
عمران خان اور پی ٹی آئی کو بنیاد بنا کر پورے سیاسی، انتخابی، جمہوری نظام کو داؤ پر لگانا خود ریاست کے مفاد میں نہیں اور اس عمل سے بلاوجہ کا سیاسی ٹکراؤ ہو گا اور نئے سیاسی مسائل پیدا ہوں گے ۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے لوگوں اور بالخصوص نوجوانوں کو ردعمل کی سیاست کے مقابلے میں افہام و تفہیم کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اصل امتحان عام انتخابات کے شیڈول جاری ہونے کے بعد سامنے آئے گا اور دیکھنا ہو گا کہ الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کا انتخابی مہم میں پی ٹی آئی کے ساتھ سلوک کیا ہوتا ہے اور کس حد تک پی ٹی آئی کو انتخابی عمل میں شفاف عمل دیا جائے گا۔
یہ سب اسی صورت میں ممکن ہو گا جب ریاستی محاذ پر طے ہو گا کہ ہمیں سب کے لیے سیاسی میدان کی راہ ہموار کرنی ہے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر پی ٹی آئی کی پہلے سے موجود ردعمل کی سیاست کم نہیں بلکہ اور زیادہ بڑھے گی۔ ہم اپنی طاقت کی بنیاد پر عمران خان اور ان کی جماعت کو اگلے انتخابات سے باہر نکال سکتے ہیں لیکن یہ کھیل زیادہ پائیدار نہیں اور نہ ہی یہ مستقل حل ہو گا۔ ماضی میں یہ کھیل بھٹو، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے ساتھ کھیلا جا چکا ہے اور اب اس کھیل کا شکار عمران خان ہیں۔ اگر جو کچھ ماضی میں ہوا وہ غلط تھا اور آج وہی کھیل کیسے درست ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس کھیل کو بند ہونا چاہیے اور سب ہی قوتوں کو کوئی ایسا راستہ تلاش کرنا چاہیے جو سب کے لیے قابل قبول بھی ہو اور آئینی، سیاسی اور جمہوری فریم ورک میں بھی ہو۔
یہ بھی یاد رکھا جائے کہ ہم گلوبل دنیا میں ہیں اور گلوبل دنیا میں ہم بہت سے معاملات کو محض سیاسی تنہائی میں نہیں چلا سکتے۔ اس لیے نگرانوں کی حکومت ہو یا الیکشن کمیشن ان پر ہی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خود ہی انتخابات کی ساکھ کو قائم کریں وگرنہ نہ صرف انتخابی عمل ہی متاثر یا متنازعہ ہو گا بلکہ ان اداروں کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان اٹھیں گے۔ اس لیے گیند اسٹیبلیشمنٹ، الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کی کورٹ میں ہے کہ وہ کیسے انتخابی نظام کی ساکھ کو قائم کرسکیں گے۔


