یونیورسٹیوں کے چانسلروں کا سیکرٹریٹ ہونا کیوں ضروری ہے


یونیورسٹیوں کو ترقی کے مرکزے میں لانے کے لیے اور یونیورسٹیوں کو درپیش موجودہ مسائل کو حل کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے یونیورسٹیوں میں مالی اور تعلیمی بحران بڑھ رہے ہیں۔ یونیورسٹیوں کے قانون کی رو سے یہ خود مختار ہیں، مگر عملاً ایسا نہیں ہے۔ یونیورسٹیوں کو چلانے کے لیے اسمبلیاں ایکٹ پاس کرتی ہیں۔ اسی ایکٹ کے تناظر میں یونیورسٹیوں میں قانون ساز اور فیصلہ ساز باڈیز بنتی ہیں۔ جنہیں ہم سینٹ اور سنڈیکیٹ اور اکیڈیمک کونسل کہتے ہیں۔

یونیورسٹیوں کا سربراہ اعلی چانسلر ہوتا ہے۔ اور سربراہ وائس چانسلر کہلاتا ہے۔ کچھ یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر کی جگہ ریکٹر بھی ہوتے ہیں۔ لیکن عملاً کام دونوں کا ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ چانسلر عمومی طور پر صوبہ کا گورنر ہوتا ہے۔ چانسلر یونیورسٹیوں کے سینٹ کا چیئرمین بھی ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں یونیورسٹیوں کے چانسلر ان کے روحانی رہنما ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر برس وہ یونیورسٹیوں کو ایک فرمان جاری کرتے ہیں جس میں آنے والے تعلیمی سال کے لیے ہدایات ہوتی ہیں۔ جن پر عمل درآمد کرنا یونیورسٹیوں کے لیے لازمی ہوتا ہے۔

یہ ہدایات ایک طویل تر مشاورت اور تحقیق کے بعد مرتب ہوتی ہیں اور اس میں ملکی، علاقائی، مقامی ضرورتوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور ہر برس کے لیے ایک مقصد سامنے رکھا جاتا ہے۔ جس کو چانسلر ویژن پلان کی صورت میں یونیورسٹیوں کو بھیجا جاتا ہے۔ تاکہ اس پر عمل درآمد کر کے اعلی تعلیم کا حقیقی مقصد حاصل کیا جا سکے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہوتا۔ اس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔

لیکن سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ چانسلروں کے پاس کوئی ماہرین کی ٹیم یا اس مقصد کے لیے کوئی سیکرٹریٹ نہیں ہوتا۔ بطور گورنر چانسلر کی مصروفیات بہت زیادہ ہوتی ہیں اور جو عملہ ان کو بطور گورنر معاونت فراہم کرتا ہے وہ اپنے کام میں ماہر ہوتے ہیں۔ مگر یونیورسٹیاں اور اس کے معاملات کو سمجھنے کی نہ تو ان کی کوئی تربیت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی تجربہ۔ یوں وہ یونیورسٹیوں کو بھی ایک عام سرکاری محکمے کی طرح ڈیل کرتے ہیں۔ جس سے یونیورسٹیوں کی وہ حیثیت جو قانون کی رو سے خود مختار ہے وہ ختم ہوجاتی ہے۔

اٹھارہویں ترمیم کے بعد تو کسی کو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اعلی تعلیم وفاق کے ماتحت ہے یا صوبوں کے۔ مداخلت کے لیے صوبائی حکومت ہر وقت کمربستہ رہتی ہے۔ مگر ذمہ داریوں کے حوالے سے وہ جان چھڑا کر اس کو وفاق کے کھاتے میں ڈالتے ہیں۔ اسی ترمیم کو بنیاد بنا کر صوبوں میں گورنر کی حیثیت اب صرف آئینی سربراہ کے رہ گئی ہے۔ مگر یونیورسٹیوں کے ایکٹ کے مطابق ان کے وہ تمام آئینی اور قانونی اختیارات اور حقوق ویسے کے ویسے ہیں جیسے اٹھارہویں ترمیم سے پہلے تھے۔

وائس چانسلروں اور ڈینز کی تعیناتی اصولاً چانسلر کو کرنے چاہییں مگر عملاً یہ تعیناتیاں وزیر اعلی کرتا ہے۔ اور اس کے لیے بنیاد اس بات کو بنایا جاتا ہے کہ یہ اختیار حکومت کا ہے اور حکومت کی سپریم کورٹ نے جو تعریف کی ہے کہ ”وفاق میں وزیر اعظم اور اس کی کابینہ اور صوبوں میں کابینہ اور وزیر اعلی کو حکومت سمجھا جائے گا“ ۔ دنیا بھر میں یونیورسٹیاں خود مختار ہوتی ہیں۔ حکومتیں ان کی مالی۔ داخلی اور انتظامی معاملات میں مداخلت نہیں کرتیں اور ان کو وسائل فراہم کرتی ہیں۔ جس کی وجہ سے وہاں تعلیمی اور تحقیقی ترقی ممکن ہوتی ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد یونیورسٹیوں کے لیے جو ایکٹ 1974 میں بنائے گئے تھے۔ ان کو ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لیے بدلنے کا عمل شروع ہوا۔ یہ ایک اچھا عمل ہوتا۔ اگر اس کام کا مقصد جدید تقاضوں کے ساتھ ان قوانین میں اضافے یا ترامیم کرنا ہوتا۔ مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ اختیارات اور مفادات کے حصول کے لیے یونیورسٹیوں کے ایکٹ بار بار بدلے گئے۔ جس سے یونیورسٹیوں میں تعلیمی اور انتظامی تسلسل کا خاتمہ ہو گیا۔ اور موقع پرست لوگوں کو یونیورسٹیوں کے باڈیز اور دیگر معاملات تک رسائی مل گئی۔

یوں یونیورسٹیوں میں تدریس، تحقیق اور انتظام کی جگہ مراعات، طاقت اور مفادات کی جنگ شروع ہو گئی۔ جو تاحال جاری و ساری ہے۔ اگر یونیورسٹیوں کو خودمختار رکھنا ہے تو ان کی وہ حیثیت بحال کرنا ہوگی جو اٹھارہویں ترمیم سے پہلے تھی۔ یا پھر ان یونیورسٹیوں کو مکمل حکومت کی تحویل میں دے کر کالجوں کی طرح ان کو بھی حکومت کے انتظامی شعبہ جات کا حصہ بنایا جائے۔

ورنہ یہ ادھا تیتر ادھا بٹیر والا نظام اس کو تباہی کی طرف لے کر جا رہا ہے۔ اگر ارباب اختیار دنیا کی طرح پاکستان میں یونیورسٹیوں کو خود مختار ادارے کے طور پر رکھنا چاہتے ہیں اور اس سے وہ مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جو دنیا حاصل کر رہی ہے تو پھر اس معاملے میں کچھ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پہلا اقدام اس بات کا تعین ہونا چاہیے کہ یہ صوبائی دائرہ اختیار میں ہوں گی یا وفاقی دائرہ اختیار میں۔ دوسرا قدام اگر یہ وفاقی دائرہ اختیار میں ہوں تو اس کے لیے مالی معاونت یا بجٹ دینے کا کوئی منظم انتظام ہو۔

تیسرا اور اہم اقدام کہ یونیورسٹیوں کے چانسلروں کا ایک اپنا سیکرٹیریٹ ہونا چاہیے۔ جو یونیورسٹیوں کے تمام معاملات دیکھے۔ اس میں صوبائی حکومتوں کے بیوروکریسی کا جو کردار یونیورسٹیز ایکٹ نے متعین کیا ہے کہ تین انتظامی سکریٹرز اس کے سینڈیکیٹ اور سینٹ کے ممبر ہوں گے۔ اس تک محدود رہیں اور عملاً پھر وہ یونیورسٹیوں میں مداخلت نہ کریں۔ اور باقی سارے معاملات چانسلر سیکرٹیریٹ چلائے۔ اس طرح عملاً یونیورسٹیوں میں سیاسی اور انتظامی مداخلت کا خاتمہ ہو جائے گا اور یونیورسٹیوں کی توجہ تعلیم تدریس اور تحقیق پر چلی جائے گی۔

جو اس وقت نہیں ہے۔ اس وقت یونیورسٹیوں کا قبلہ سیاسی اور انتظامی لوگوں کی طرف ہے۔ جس کا عملی نتیجہ یہ ہے کہ یونیورسٹیوں میں بے تحاشا غیر ضروری بھرتیاں ہوئی ہیں۔ بغیر کسی سکول میپنگ، سروے اور ضرورتوں اور وسائل کے تعین کے یونیورسٹیاں بنائی گئیں ہیں۔ ایک ہی شہر میں ایک ہی جیسی کئی یونیورسٹیاں بنائی گئیں۔ سیاسی فائدوں اور کلاس فور بھرتی کرنے کے لیے ان علاقوں میں یونیورسٹیاں بنائی گئیں جہاں ابھی کالج بھی موجود نہیں ہیں۔

یونیورسٹیوں کی سربراہی کے لیے موقع پرست اور مطلب پرست لوگوں نے لابنگ کر کے یونیورسٹیوں کی سربراہی تک رسائی تو حاصل کرلی مگر ان میں نہ تو وہ صلاحیت ہے اور نہ ان کی کوئی عملی تربیت ہوئی ہے۔ کہ وہ یہ ادارے چلا سکیں۔ جس کا انجام یہ ہوا کہ یونیورسٹیاں کی تعلیم کا معیار بہت گر گیا ہے۔ جس سے یقیناً ملک کا مستقبل متاثر ہو گا۔ یونیورسٹیوں کے لیے جو باڈیز کی ترتیب ہے اس کو مفاد پرستوں نے صوبائی حکومت کی انتظامیہ اور ناعاقبت اندیش سیاسی لوگوں کی مدد سے اتنا بگاڑ لیا ہے کہ اس میں بجائے اعلی ترین ماہر ین کے انتظامیہ کے سات افسران اور سیاسی من پسند ممبران بیٹھے ہوتے ہیں۔

جو تعلیم، تدریس اور تحقیق کی بہتری کی جگہ اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اور یونیورسٹیوں کی ترقی اور خوشحالی ان کی وجہ سے کمپرومائز ہوجاتی ہے۔ چانسلر سیکرٹریٹ بنانے کے لیے کچھ زیادہ تگ و دو کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ ہر صوبہ میں یونیورسٹیوں سے ایک اپنے فیلڈ میں ماہر شخص کی تعیناتی ایک برس کے لیے اس سیکرٹریٹ میں کردی جائے۔ جو تنخواہ اپنی یونیورسٹی سے لے گا اور کام سیکرٹریٹ میں کرے گا۔ اس مقصد کے لیے چانسلر سیکرٹیریٹ میں شعبے بنائیں جائیں، یعنی مالیات، انتظامیہ، ترقی و منصوبہ بندی، مانیٹرنگ و ایولیویشن، کوالٹی کنٹرول، قانون اور رابطے کے شعبوں میں ماہرین کو ‏مختلف یونیورسٹیوں سے چانسلر کے دفتر کے پاس ایک ذیلی دفتر میں جمع کر کے ان کو کچھ وسائل فراہم کر کے وہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں جن کا ہم اس وقت تصور بھی نہیں کر سکتے۔

اس وقت یونیورسٹی کے ملازمین کی بہت بڑی تعداد عدالتوں میں ہے۔ جبکہ اصولاً ان کو عدالت جانے سے پہلے چانسلر کے پاس اپنا مسئلہ لے کر جانا چاہیے۔ جہاں ایک سیل ہو جو ان کے مسئلہ کی نوعیت دیکھ کر اور قانون کی حساب سے اس کا حل نکال سکے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو سارے مقدمات جو اس وقت عدالتوں میں ہیں وہ ختم ہوجائیں گے۔ اور ملازمین اور یونیورسٹیوں کے مالی وسائل بے جا خرچ ہونے سے بچ جائیں گے۔ یہ سیکرٹریٹ جس بھی صوبہ میں ہو وہاں کی ایک مکمل سکول میپنگ کرے اور اس حساب سے مستقبل میں اعلی تعلیم کا دائرہ وسیع کرے۔

یونیورسٹیاں جو کسی کیمپس سے ترقی پاکر بنی ہیں ان کے اور ان یونیورسٹیوں میں جو مسائل ہیں ان کو بھی یہ سیکرٹریٹ حل کرے۔ یونیورسٹیوں کے لیے مالی سال کے حقیقی تخمینے بھی یہ حاصل کردہ معلومات کی روشنی میں بنائے۔ یوں بہت سارے مالی مشکلات خود بخود ختم ہوجائیں گی۔ یونیورسٹیوں میں جاری ترقیاتی کاموں کی مونیٹرنگ کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ اس لیے اس مد میں بہت زیادہ خرابی پیدا ہوئی ہے۔ چانسلر سکریٹریٹ کا مونیٹرنگ کا شعبہ اس خرابی کو دور کر سکتا ہے اور حکومت کا پیسہ ضائع اور خردبرد ہونے سے بچ سکتا ہے۔

اس سیکرٹیریٹ میں جدید آئی ٹی بیسڈ ڈیٹا سینٹر قائم کیا جائے تو نہ صرف یہاں معلومات اکٹھی ہوں گی۔ بلکہ مستقبل کے منصوبہ بندی کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ ہماری یونیورسٹیاں اس وقت باقی دنیا سے کٹ گئی ہیں اس سیکرٹریٹ میں ایک سیل ایسا بنایا جائے جو دنیا کے اداروں اور ملک میں موجود اداروں اور یونیورسٹیوں کے درمیان پل کا کام کرے۔ یوں کچھ عرصہ میں یونیورسٹیاں خود کفالت کی طرف جانا شروع ہوں گی۔ یہ سیکرٹریٹ رابطہ اور رابطہ کاری، فنڈنگ اور فنانس، معیاری کاری اور کوالٹی اشورنس، یونیورسٹیوں کی خودمختاری کا تحفظ، اسکالرشپ اور طلباء کے امور، انسانی وسائل کے انتظام، تنظیمی کارکردگی کی تشخیص اور درجہ بندی، تنازعات کے حل کا فورم فراہم کرے گا۔

اس کی مدد سے ہر صوبہ میں تعلیم کے معیار اور درجہ بندی کا تعین بھی ممکن ہو سکے گا اس سیکرٹریٹ کے ذریعہ چانسلر انڈومنٹ فنڈ بنایا جائے جس کے کم از کم بیس فیصد کو چانسلر اسکالرشپ کی مد میں ضرورت مند طلبا میں تقسیم کیا جائے اور اس مقصد کے لیے ہر برس دو یا تین مرتبہ ڈونر کانفرنس اور عوامی رابطہ مہم کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ ہمارا عجیب ملک ہے جہاں جو ادارہ جس کام کے لیے بنا ہوتا ہے اس کام کو چھوڑ کر وہ دوسروں کے کام کرتا ہے یا دوسروں کے کام میں مداخلت کرتا ہے۔

یونیورسٹیوں کو مسائل کے اس دلدل سے نکالنا کا یہ ایک ہی واحد طریقہ ہے۔ لیکن اس کی راہ میں بے شمار رکاوٹیں بھی ہیں۔ اس کے قیام سے یونیورسٹیوں میں سیاسی اور انتظامی مداخلت کا راستہ رک جائے گا۔ یونیورسٹیوں میں شخصی مفاد کے بجائے تعلیمی اور تدریسی مفاد کا سلسلہ فروغ پائے گا۔ اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کو صوبوں میں تعلیمی پالیسیوں کو رائج کرنے میں سہولت ہو جائے گی۔ اگر اس ماڈل کی سمجھ کسی کو نہیں آ رہی تو اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ منٹ نکال کر ہمارے پاس آ جائے اس کا مکمل منصوبہ بمع جزئیات اور ورکنگ پیپر کے ان کے خدمت میں پیش کر دیا جائے گا۔

لیکن دھیان رہے کہ اگر چانسلر سیکرٹریٹ بن جاتا ہے اور وہاں ماہرین کی جگہ پوزیشن سیکرز کو بٹھایا جاتا ہے تو پھر جو حالات ابھی ہیں ان میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ اس لیے کہ یہاں سارے کام نا اہل لوگوں کی وجہ سے خراب ہوئے ہیں اور کسی اہل شخص کی رسائی کو ان نا اہلوں نے اتنا مشکل بنا دیا ہے کہ اب اہل لوگوں نے اس طرف جانے کا خیال ہی دل سے نکال دیا ہے۔ چانسلر سیکرٹریٹ سے یونیورسٹیوں کو درپیش تقریباً تمام مسائل حل ہوجائیں گے یا پھر ان کے حل کے لیے سنجیدہ کوششوں کا آغاز ہو گا اور یہ کام سٹیک ہولڈر ہی کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS