جنت سے ایک خوان۔ یوسف ادریس کا افسانہ


منیات النصر کی گلیوں میں کسی کو بھاگتے ہوئے دیکھنا ایک عجیب بات تھی۔ وہاں لوگ کم ہی بھاگتے تھے۔ اگر عجلت کی کوئی وجہ نہ ہو تو کوئی کیوں بھاگے؟ قصبے میں وقت کا حساب منٹوں اور سیکنڈوں میں نہیں ہوتا تھا۔ ٹرینیں بھی روشنی میں چلتیں۔ پہلی طلوع آفتاب کے بعد ، دوسری جب سورج نصف النہار پر ہوتا اور تیسری غروب آفتاب سے پہلے۔ وہاں کوئی شور شرابا نہیں ہوتا تھا جو اعصاب کو برانگیختہ اور جلدی بازی پر مجبور کرتا ہو۔ سب پرسکون رہتے۔ ان کو یقین تھا کہ جلد بازی شیطان کا کام ہے۔ وہاں کسی کو دوڑتے ہوئے دیکھنا ایسا ہی تھا۔ جیسے آپ پولیس کا سائرن سنیں تو گمان کرتے ہیں کہ کوئی اہم واقعہ ہوا ہے۔

مگر اس جمعہ کے دن منیات النصر میں صرف ایک شخص نہیں بلکہ کئی لوگ بھاگ رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا دوڑ کا مقابلہ ہو رہا ہے۔ حالاں کہ کچھ دیر پہلے گلیوں میں گہرے سکوت کا راج تھا۔ وہ پرسکون لمحے جو عام طور پر جمعہ کی نماز کے بعد ہوتے ہیں۔ جب گھروں کے باہر زمین پر جابجا جھاگ بھرا غسل کا نیلا پانی کھڑا نظر آتا ہے۔ جس سے سستے صابن کی مہک آتی ہے اور جب عورتیں گھروں میں کھانا بنا رہی ہوتی ہیں اور مرد انتظار میں باہر تھڑوں پر بیٹھے یا ٹہل رہے ہوتے ہیں۔

ایسے میں اچانک دوڑتے قدموں کی بھاری آوازوں سے یہ خاموشی ٹوٹ گئی اور دیواریں لرزنے لگیں۔ جب گھر کے باہر بیٹھے مردوں کو کسی دوڑنے والے نے سلام کیا اور انھوں نے استفسار کیا کہ وہ کہاں بھاگے جا رہے ہیں تو کوئی جواب نہیں ملا۔ آخر وہ اٹھے اور تجسس سے ان کا پیچھا کرنے لگے۔ کسی نے جلدی کرنے کا مشورہ دیا۔ انھوں نے اپنی رفتار تیز کردی اور آخر بھاگنا شروع ہو گئے۔ انھیں دیکھ کر دوسرے گھروں کے قریب بیٹھے لوگ بھی اٹھے اور اس دوڑ میں شامل ہو گئے۔

دوسرے قصبوں کی طرح منیات النصر کے لوگ جمعہ کے بارے میں توہم پرست تھے۔ وہ اس دن رونما ہونے والے کسی بھی واقعے کو یقینی تباہی کے طور پر دیکھتے اور اس دن کوئی کام اس خوف سے شروع نہ کرتے کہ انجام ناکامی ہو گا۔ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ وہ اس بارے میں اتنا وہم کیوں کرتے ہیں تو وہ کہے گے کہ جمعہ کا دن بدقسمتی کا دن ہے، لیکن اصل وجہ مختلف تھی اور بدقسمت دن محض ایک بہانہ تھا۔ ایک ایسا بہانہ جسے وہ اپنے کام ملتوی کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

اس طرح جمعے کا دن آرام کا دن ہو گیا تھا، لیکن کسانوں کے لیے آرام کا لفظ کچھ توہین آمیز ہے۔ یہ ان کی محنت اور طاقت کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔ صرف شہر کے آسودہ باسیوں کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ سائے میں کام کرتے ہوئے بھی ہانپ جاتے ہیں۔ لہذا قصبے کے لوگوں نے یہ مشہور کر دیا تھا کہ یہ بدقسمتی کا دن ہے۔

قصبہ زیادہ بڑا نہیں تھا۔ تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ سب لوگ ایک کھلیان کے پاس پہنچ گئے۔ ہر وہ شخص جو پھرتی دکھا سکتا تھا۔ وہاں آ گیا تھا۔ صرف کمزور پیچھے رہ گئے تھے یا وہ جو بھاگنا اپنے وقار کے خلاف سمجھتے تھے اور یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ وہ غیر سنجیدہ نوجوانوں کی طرح نہیں ہیں۔ تاہم وہ بھی تجسس کا شکار تھے اور اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے اور واقعہ خبر بن جائے۔ یہ جاننا چاہتے تھے کہ کیا ہوا ہے۔ انھیں فطری طور پر یہ اندیشہ تھا کہ کہیں کوئی حادثہ ہو گیا ہے، لیکن مجمعے میں پہنچ کر انہوں نے نہ مرتی ہوئی گائے دیکھی نہ آگ کے شعلے اور نہ ہی خونی قتل عام۔

ہجوم کے وسط میں شیخ علی پگڑی اور جلابیہ کے بغیر انتہائی غصے کے عالم میں کھڑے تھے۔ انھوں نے ہاتھ میں چھڑی پکڑی ہوئی تھی اور اسے طیش سے لہرا رہے تھے۔ لوگوں نے پوچھا کیا ہوا تو جواب ملا کہ شیخ کا مذہب چھوڑنے کا ارادہ ہے۔ یہ سن کر لوگ ہنس پڑے۔ یہ ایک نئی مضحکہ خیز بات تھی۔ ویسی ہی ان گنت اوٹ پٹانگ باتوں کی طرح جو شیخ علی کے بارے میں گردش کرتی رہتی تھیں۔ شیخ ایک بے ڈھب آدمی تھے۔ ان کا سر گدھے کی طرح بہت بڑا اور آنکھیں الو کی طرح ابھری ہوئی اور گول تھیں۔ جن میں سرخی رہتی۔ ان کی آواز کسی زنگ آلود بھاپ کے انجن کی طرح کرخت اور بلند تھی۔

شیخ کبھی نہیں مسکراتے تھے، لیکن اپنی خوشی کا اظہار بہرہ کردینے والے قہقہوں سے کرتے تھے۔ تاہم ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا تھا۔ شیخ کے لیے کہا گیا ایک نامناسب لفظ انھیں بارود کی طرح بھڑکانے کے لیے کافی تھا۔ یہاں تک کہ وہ اس شخص کو اپنے بھاری ہاتھوں یا کانٹے دار لوہے کی نوک والی چھڑی سے مار بھی سکتے تھے۔ جسے وہ بہت پسند کرتے تھے اور اسے حکم دار کہتے تھے۔

ایک دفعہ ان کے والد نے انہیں جامعہ الازہر میں پڑھنے کے لیے بھیجا اور وہاں مقامی استاد نے انھیں غلطی سے کہہ دیا۔ ”شیخ! تم ایک گدھے ہو۔“

جس کے جواب میں شیخ علی نے فوراً کہا۔ ”اور آپ بیک وقت ساٹھ گدھوں کے برابر ہیں۔“

انھیں فوراً جامعہ سے نکال دیا گیا اور وہ منیات النصر واپس آ گئے۔ جہاں وہ ایک مسجد میں واعظ اور امام بن گئے۔ ایک مرتبہ انھوں نے جمعہ کی نماز میں غلطی سے دو کے بجائے تین رکعتیں پڑھا دیں۔ جب نمازیوں نے ان کی غلطی پر ٹوکا تو وہ ان پر لعنت بھیجنے لگے۔ اس دن سے انھوں نے مسجد اور امامت کا عہدہ چھوڑ دیا اور نماز پڑھنی بھی چھوڑ دی۔ انھوں نے تاش کھیلنا سیکھے اور اس وقت تک سکون کا سانس نہیں لیا جب تک اپنی تمام جائیداد کھو نہ بیٹھے۔

آخر انھوں نے تاش ترک کرنے کا عزم کیا۔ پھر ایک پرائمری اسکول کے استاد محمد آفندی نے گاؤں میں کریانے کی دکان کھولی اور شیخ علی کو صبح کے وقت اپنی جگہ کام کرنے کی دعوت دی۔ شیخ راضی ہو گئے، لیکن صرف تین دن کام کرسکے۔ چوتھے دن انھوں نے دیکھا محمد آفندی تاہینی تولتے ہوئے سامان کے پلڑے پر لوہے کا ایک ٹکڑا ڈال رہے ہیں۔ شیخ علی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ دھوکے باز ہیں۔

جس کے جواب میں محمد آفندی نے کہا۔ ”شیخ علی! خاموش رہو! اگر تم یہاں ملازمت کرنا چاہتے ہو تو اپنے کام سے کام رکھو۔“

یہ سن کر شیخ نے ان پر مٹھی بھر تاہینی پھینک دی۔ اس کے بعد کسی نے شیخ علی کو نوکری کی پیشکش نہیں کی اور اگر کوئی ہمت کر بھی لیتا تو وہ خود بھی کوئی کام کرنے کے خواہشمند نہیں تھے۔

شیخ علی بدصورت آدمی تھے۔ ان کا کردار عجیب و غریب تھا۔ انھیں کام کرنا پسند نہیں تھا۔ گاؤں کے سب لوگ ان سے پیار کرتے تھے کوئی ایسا نہ تھا جو ان کے ساتھ ناروا سلوک کرتا ہو۔ وہ ایک دوسرے کو ان کے بارے میں طرح طرح کی کہانیاں سناتے تھے۔ ان کے نزدیک شیخ کو گھیر کر تنگ کرنے سے بڑھ کر کوئی خوشی نہیں تھی۔ جب وہ ناراض ہوتے تو بہت مضحکہ خیز لگتے تھے۔ ان کا چہرہ کالا پڑ جاتا اور آواز دب جاتی۔ سب ہنستے یہاں تک کہ وہ تھک کر ڈھے جاتے اور یک زبان ہو کر کہتے۔ ”اللہ آپ کو جزائے خیر دے شیخ علی!“

اور پھر وہ انھیں ”ابو احمد“ پر غصہ نکالنے کے لیے اکیلا چھوڑ دیتے۔ شیخ علی غربت کو ابو احمد کہتے تھے۔ وہ اسے اپنا واحد حریف سمجھتے تھے اور اس کے بارے میں اس طرح بات کرتے جیسے وہ گوشت پوست کی مخلوق ہو۔ کبھی کوئی ان سے پوچھتا: ”شیخ علی! آج کل آپ کے ابو احمد کے ساتھ حالات کیسے چل رہے ہیں؟“

شیخ علی فوراً غصے میں آ جاتے۔ انھیں اپنی غربت کی یاد دلانا پسند نہیں تھا۔ وہ خود اس کے بارے میں بات کر سکتے تھے، لیکن دوسروں سے ایک لفظ بھی سننا پسند نہیں کرتے تھے۔ دراصل وہ اپنی ظاہری اکھڑ مزاجی کے باوجود بہت شرمیلے تھے۔ وہ کسی سے سگریٹ مانگنے کی بجائے کئی دن تمباکو کے بغیر رہنے کو ترجیح دیتے اور ہمیشہ ایک سوئی دھاگہ اپنے ساتھ رکھتے تاکہ اگر جلابیہ پھٹ جائے تو اس میں پیوند لگا لیں۔ جب وہ میلا ہوجاتا تو وہ گاؤں سے دور چلے جاتے، اپنا لباس دھوتے اور اس کے سوکھنے کا انتظار کرتے۔ اتنی دیر وہ اسی لباس میں رہتے جس میں ان کی ماں نے جنم دیا تھا۔ ان کی اکلوتی پگڑی گاؤں میں سب سے صاف ستھری ہوتی تھی۔

پہلے تو منیات النصر کے لوگ یہ نئی کہانی سن کر ہنس پڑے، لیکن ان کی ہنسی جلد ہی دم توڑ گئی اور خوف کے مارے زبانیں گلے میں اٹک گئیں۔ لفظ ”ارتداد“ بہت خطرناک لفظ تھا۔ گاؤں کے لوگ خوف خدا رکھتے تھے۔ وہ اپنے گھر اور کام پر توجہ دیتے۔ وہاں ہر طرح کے لوگ رہتے تھے، چھوٹے چور جو مکئی کی فصل سے بھٹے چراتے تھے اور بڑے دھوکے باز بھی جو مویشیوں کے باڑوں پر چڑھ جاتے اور وہاں سے گائے چرا کر لے جاتے تھے۔ ایسے تاجر جو بڑے بڑے سودے کرتے اور ایسے بھی جن کے مال کی قیمت مٹھی بھر پیاستر بھی نہیں ہوتی تھی۔

عورتوں میں سے کچھ چھپ کر گناہ کرتیں اور کچھ ظاہر میں۔ گاؤں میں سچے اور جھوٹے، تندرست اور بیمار، نیک و بد، بوڑھی نوکرانیاں غرض ہر طرح کے لوگ تھے، لیکن موذن کی اذان سنتے ہی سب نماز کے لیے مسجد کی طرف بھاگتے تھے۔ کوئی بھی رمضان کے روزے چھوڑنے کی جرات نہیں کرتا تھا۔ غیر تحریری قوانین تھے جو ہر ایک کی زندگی کا تعین کرتے تھے۔ یہ رسمیں تھیں۔ چور دوسرے چور کے ہاں چوری نہیں کرتا تھا۔ کوئی بھی اپنے ہنر سے دوسرے کو شرمندہ نہیں کرتا تھا۔ کوئی بھی عام رائے کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا تھا، لیکن آج اچانک شیخ علی تمام اصولوں کو پامال کرتے ہوئے بغیر کسی ثالث کے براہ راست اللہ کو اپنی طرف متوجہ کر رہے تھے۔

پہلے تو لوگ ہنس رہے تھے لیکن شیخ کی بات سنتے ہی ان کی ہنسی دم توڑ گئی۔ ان کا سر ننگا تھا اور ان کے چھوٹے چھوٹے بال پسینے سے بھیگے ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنے دائیں ہاتھ میں حکم دار کی چھڑی پکڑی ہوئی تھی، آنکھیں انگاروں کی طرح جل رہی تھیں اور چہرے سے وحشت اور غضب ناکی کا اظہار ہو رہا تھا۔ وہ آسمان کی طرف سر اٹھا کے کہہ رہے تھے۔

”آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں؟ میں نے الازہر کو شیخوں کے ایک گروپ کی وجہ سے چھوڑ دیا۔ جو سمجھتے تھے کہ وہ ایمان کے واحد محافظ ہیں۔ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ میں نے گھر بیچ دیا، ابو احمد مجھ پر دوسروں سے زیادہ مہربان ہے۔ صرف مجھ پر کیوں؟ آپ اپنا غصہ کس اور پر کیوں نہیں اتارتے، چرچل پر یا آئزن ہاور پر؟ یا اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے صرف مجھے چن لیا ہے؟ آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟

پہلے ایسا ہوتا تھا کہ میں نے کبھی ایک آدھا دن نہیں کھایا، ٹھیک ہے، میں گمان کرتا کہ روزے سے ہوں، لیکن اب میں نے پرسوں سے کچھ نہیں کھایا۔ میں نے ایک ہفتے سے سگریٹ نہیں پیے اور دوائی (حشیش) کا کیا ہو گا؟ میں نے پورے دس دن سے اس کی شکل نہیں دیکھی۔ آپ کہتے ہیں کہ جنت میں پھل، شہد اور دودھ کی نہریں ہیں تو آپ مجھے کیوں نہیں دیتے؟ کیا آپ اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب میں بھوک سے مرجاؤں اور جنت میں آؤں تاکہ وہاں پیٹ بھر کر کھا سکوں؟

نہیں میرے خالق! یہ ٹھیک نہیں، پہلے مجھے کھلائیں۔ پھر جہاں چاہیں بھیج دیں۔ ابو احمد کو مجھ سے دور کریں۔ اسے امریکہ بھیج دیں۔ کیا وہ صرف مجھے تفویض کیا گیا ہے؟ آپ مجھے کیوں اذیت دے رہے ہیں؟ میرے پاس جلابیہ اور حکم دار کے علاوہ کچھ نہیں ہے یا تو مجھے اسی وقت دوپہر کا کھانا کھلائیں یا مجھے فوراً لے جائیں۔ آپ مجھے کھلائیں گے یا نہیں؟“

شیخ علی انتہائی جوش سے چیخ رہے تھے۔ ان کے منہ سے جھاگ نکل رہے تھے اور وہ پسینے میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ان کے لہجے میں غصہ اور شکایت تھی۔ منیات النصر کے لوگوں کے دل خوف سے کانپ اٹھے۔ انہیں ڈر تھا کہ شیخ یقیناً اپنی دھمکی پر عمل کرتے ہوئے اپنے ایمان کو ترک کر دیں گے اور یہ واحد چیز نہیں تھی جو خوفناک تھی۔ شیخ علی جو الفاظ کہہ رہے تھے۔ وہ خطرناک تھے۔ اللہ ناراض ہو کر پورے گاؤں پر قہر نازل کر سکتا تھا اور طرح طرح کی آفات بھیج سکتا تھا۔ شیخ علی کی باتوں سے ہر ایک کو خطرہ تھا۔ شیخ کو ہر حال میں خاموش کرانا ضروری تھا۔

چنانچہ کچھ سمجھدار لوگوں نے شیخ کو آہستگی سے سمجھانا شروع کیا اور انھیں ہوش میں آنے اور چپ رہنے کو کہا۔ شیخ علی ایک لمحے کے لیے آسمانوں کو چھوڑ کر مجمع کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے۔ ”ارے لوگو! میں کیوں خاموش رہوں؟ کیا میں بھوک سے مرجاؤں؟ میں خاموش نہیں رہوں گا۔ تم اپنے گھروں، بیویوں اور کھیتوں کے لیے ڈرتے ہو۔ ہر کوئی اپنی جائیداد کے لیے پریشان ہے، لیکن میرے پاس کچھ نہیں ہے اور میں کسی چیز سے نہیں ڈرتا۔

اگر وہ مجھ سے ناراض ہے تو مجھے یہاں سے لے جائے۔ وہ مجھے لے جانے کے لیے کسی کو بھیجے۔ عزرائیل آئے تو میں ان کا استقبال اپنے حکم دار کے ساتھ کروں گا۔ میں ایمان اور تمام اولیاء کی قسم کھاتا ہوں، میں خاموش نہیں رہوں گا۔ اگر اس نے اسی وقت آسمان سے کھانے کا خوان نہ بھیجا۔ کیا میں مریم سے کم ہوں؟ آخر وہ عورت تھی اور میں مرد۔ اور وہ غریب نہیں تھی۔ ابو احمد نے مجھے بہت اذیت دی ہے۔ میں اپنے ایمان کی قسم کھاتا ہوں کہ جب تک وہ مجھے کھانے کا خوان نہیں بھیجتے میں چپ نہیں ہوں گا۔“

پھر شیخ علی آسمان کی طرف دیکھا اور بلند آواز سے پکارا: ”ارے! جلدی بھیج دیں، ورنہ میں نہیں رکوں گا۔ میں جو کہہ رہا ہوں، وہی کروں گا۔ مجھے یہاں ایک بڑا خوان چاہیے جس پر دو بھنی مرغیاں ہوں، شہد کی ایک ڈش اور چار تازہ روٹیاں۔ روٹیاں گرم ضرور ہونی چاہئیں اور ہاں سلاد کے بارے میں مت بھولیے گا۔ میں دس تک گنوں گا۔ اگر کھانے کا خوان نہیں اتارا گیا تو پھر مجھے کوئی نہیں روک سکتا۔“

شیخ علی گننے لگے۔ منیات النصر کے لوگوں کے دل ان کی گنتی کی تال کے ساتھ دھڑک رہے تھے۔ سب کے اعصاب میں بے حد تناؤ تھا۔ شیخ علی کو روکنے کے لیے کچھ کرنا تھا۔ کسی نے مشورہ دیا کہ کچھ طاقتور جوان شیخ پر حملہ کریں۔ انھیں زمین پر گرا دیں، ان کا گلا دبائیں اور انھیں اتنا ماریں کہ وہ ہمیشہ یاد رکھے، لیکن جیسے ہی شیخ نے ایک غصیلی نظر ان پر ڈالی۔ انھوں نے فوراً یہ ارادہ ترک کر دیا۔ اس سے پہلے کہ وہ شیخ کو پکڑتے، وہ یقیناً اپنے حکم دار سے ایک دو ضربیں لگا دیتے۔ کوئی بھی لوہے کی نوک سے مار کھانا نہیں چاہتا تھا۔ اگر شیخ نے عزرائیل کا استقبال کرنے کی دھمکی دی تھی تو وہ بلا جھجک ان میں سے کسی کا بھی لحاظ نہیں کرتے۔ اس لیے یہ تجویز بے سود رہی۔

مجمع میں سے کسی نے شیخ سے پوچھا: ”چچا جی! آپ ساری زندگی بھوکے رہے ہیں۔ آج ایسا کیوں؟“

شیخ علی نے تقریر روکی اور ایک افسردہ نظر اس پر ڈالتے ہوئے بولے۔ ”عبدالجواد! اس بار معاملہ بہت لمبا ہو گیا ہے۔ سمجھ گئے بیوقوف؟“

ایک اور چیخا۔ ”ٹھیک ہے بھائی، اگر آپ کو بھوک لگی ہے تو ہمیں کیوں نہیں بتاتے؟ ہم آپ کو کھلائیں گے۔ آخر ان فضول باتوں کا کیا مقصد؟“

شیخ علی نے اسے کینہ توز نظروں سے دیکھا۔ ”کیا میں نے تم سے کبھی کچھ مانگا ہے؟ کیا میں گاؤں میں بھیک مانگوں؟ تم خود مجھ سے بھی بڑے بھوکے ہو۔ مجھے تمہاری خیرات کی کیا ضرورت ہے؟ میں اس سے مانگتا ہوں اور اگر وہ نہیں دیتا تو میں جانتا ہوں کہ کیا کرنا ہے۔“

یہاں عبدالجواد نے پھر مداخلت کی۔ ”اگر آپ کی آنکھوں میں ذرا بھی شرم ہوتی تو آپ کام کرتے۔ پھر آپ کو بھوکا نہیں رہنا پڑتا۔“

یہ سن کر شیخ علی کا غصہ اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ انھوں نے اپنی لاٹھی ہلانا شروع کی اور باری باری مجمع کی طرف اور پھر آسمان کی طرف دیکھ کر چلانے لگا: ”تمھارا کیا مقصد ہے، عبدالجواد! ابوحا کے بیٹے؟ کیا میں کام نہیں کر سکتا؟ کیا میں کام کرنے کا طریقہ نہیں جانتا؟ کیا تمھارے کام کو کام کہا جاسکتا ہے؟ تم جو کام کرتے ہو وہ گدھوں کا کام ہے اور میں گدھا نہیں ہوں۔ میں بیل کی طرح کھیت میں سارا دن محنت نہیں کر سکتا۔ تم پر، تمہارے باپ پر اور بے عقل مویشیوں پر لعنت ہو! قسم رسول پاک کی اگر میں بھوک سے مر رہا ہوں پھر بھی تم لوگوں کی طرح کام نہیں کروں گا۔“

ان کا غصہ اتنا وحشیانہ تھا کہ کہانی میں خطرناک موڑ آنے کے باوجود لوگ ہنسے بغیر نہیں رہ سکے۔ شیخ علی تن کر کھڑے ہوئے اور سنجیدگی سے چلائے۔ ”لہٰذا میں دس تک گنتا ہوں۔ اگر کوئی خوان نہیں آیا تو میں اپنے عہد کو ترک اور توڑ دوں گا۔“

یہ واضح تھا کہ شیخ اپنی دھمکی پر عمل کرنے سے نہیں چوکے گے اور پھر جو کچھ ہو گا وہ ناقابل تلافی ہو گا۔ شیخ پھر گننے لگے۔ لوگوں کی پیشانیوں پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے۔ دوپہر کی گرمی ناقابل برداشت ہو گئی تھی۔ یہاں تک کہ ہجوم میں سرگوشیاں ہونے لگیں کہ شاید رب کا عذاب شروع ہو گیا ہے اور یہ ہولناک گرمی جہنم کے پیغام کے سوا کچھ نہیں ہے جو تمام گندم اور دوسری فصلوں کو جلا کر راکھ کردے گی۔

پھر کسی نے مشورہ دیا۔ ”انھیں کھانے کے لیے کچھ لادو۔ شاید وہ پرسکون ہوجائیں۔“

حالانکہ شیخ علی بلند آواز میں گنتی گن رہے تھے لیکن جوں ہی یہ الفاظ ان کے کانوں تک پہنچنے۔ وہ مجمع کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا۔ ”کیا کھانے کے لیے۔ آپ کی بدذائقہ پھپھوندی لگی روٹی اور پرانی کیڑا لگی پنیر؟ کیا اس کو آپ کھانا کہتے ہیں؟ قسم ایمان کی میں اس وقت تک خاموش نہیں رہوں گا۔ جب تک میں یہاں اسی جگہ پر ایک بڑا خوان اور اس پر دو مرغیاں نہ دیکھ لوں۔“

ہجوم میں شور مچ گیا۔ پھر ایک بوڑھی عورت نے کہا۔ ”میں نے آج تھوڑی سی بھنڈی پکائی ہے۔ کیا میں وہ آپ کے لیے لاؤں؟“

شیخ علی نے کہا۔ ”خاموش رہو بی بی! بھنڈی واہیات چیز ہے۔ تمہارا دماغ بھی بھنڈی جیسا ہے اور سارے گاؤں سے بھنڈی کی کھٹی بو آتی ہے۔“

ابو سرحان نے کہا۔ ”شیخ علی! میرے پاس تازہ مچھلی ہے۔ آج صبح میں نے ماہی گیر احمد سے خریدی تھی۔“

”وہ چھوٹی انگلی کی لمبائی جتنی مچھلی کوئی مچھلی ہوتی ہے۔ میں قسم کھاتا ہوں، اگر آپ مجھے مرغیوں کا ایک جوڑا اور وہ سب کچھ نہیں بھیجتے جو میں نے حکم دیا تھا تو میں آپ پر لعنت بھیجوں گا۔ چاہے کچھ بھی ہو۔“

صورتحال بہت نازک ہو گئی تھی۔ خاموش رہنے کا مطلب پورے گاؤں کو اس کے باشندوں سمیت تباہ کرنا تھا۔ سب سوچ رہے تھے کہ شیخ کو کیسے خاموش کرایا جائے؟ پھر شیخ علی کو رات کے کھانے پر مدعو کرنے کے لیے ایک ساتھ سو لوگوں نے شور مچایا، لیکن اس نے تمام دعوتوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا۔ ”ہر کوئی جانتا تھا کہ میں بھوکا ہوں، تین دن تک کسی نے مجھے ایک ٹکڑا پیش نہیں کیا، لیکن اب آپ مجھے دعوت دے رہے ہیں۔ نہیں، میں اپنے رب کی طرف سے دعوت حاصل کرنا چاہتا ہوں۔“

ہجوم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور آپس میں پوچھنے لگے کہ آج کسی نے کیا پکایا ہے، معلوم ہوا کہ لوگ ہر روز کھانا نہیں پکاتے اور اگر کوئی کسی دن گوشت یا مرغ پکاتا ہے تو اسے ایک بڑی عیاشی سمجھا جاتا ہے۔ آخرکار معلوم ہوا کہ عبدالرحمٰن کے پاس ایک پلیٹ بچھڑے کا گوشت ہے۔ انہوں نے اسے خوان پر رکھا، مولیوں کا ایک گچھا، چار تازہ روٹیاں، ہری پیاز شامل کی اور شیخ علی کے سامنے رکھ دیں۔

”کیا یہ آپ کے لیے کافی ہے؟“ کسی نے پوچھا۔

شیخ علی نے پہلے آسمان کی طرف دیکھا۔ پھر خوان کی طرف۔ جب وہ آسمان کی طرف دیکھتے ان کی آنکھیں چمک اٹھتی اور جب کھانے کی طرف دیکھتے تو ان کا چہرہ غصے سے سرخ ہوجاتا۔ سب نے سانس روک لیے تھے۔ آخر شیخ علی نے کہا۔ ”میں نے ایک بڑا خوان مانگا تھا، لیکن تم مجھے کیا دے رہے ہو غریب لوگو! سگریٹ کہاں ہیں؟“

کسی نے خوان پر سگریٹ کا پیکٹ رکھا۔
شیخ نے آگے بڑھ کر گوشت کا ایک بڑا ٹکڑا اٹھایا۔ لیکن منہ میں ڈالنے سے پہلے بولے۔ ”دوائی کہاں ہے؟“
کسی نے کہا: ”ارے تم (کھلے عام) کیا مانگ رہے ہو!“

شیخ علی پھر غصے میں آ گئے، جلابیہ اور پگڑی اتار دی، چھڑی لہرانے اور ترک کرنے کی دھمکی دینے لگے۔ وہ اس وقت تک پرسکون نہ ہوئے جب تک کہ مندور جو دوائی بیچتا تھا۔ ان کے پاس آیا اور ان الفاظ کے ساتھ ایک ٹکڑا توڑ کر دیا۔ ”یہ لو شیخ علی! مجھے افسوس ہے کہ ہم نے آپ پر کبھی توجہ نہیں دی۔ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ آپ کتنے شرمیلے ہیں۔ ہم لوگ بس آپ کی باتیں سنتے، خوش ہوتے، دل لگی کرتے اور پھر اپنے اپنے گھر چلے جاتے اور آپ کو بھول جاتے۔ حالاں کہ ہمیں آپ کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔ شیخ آپ اور ابو احمد کے بغیر ہمارا گاؤں بے کار ہے۔ اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ آپ ہمیں ہنساتے اور خوش رکھتے ہیں۔ لہذا ہمارا فرض ہے کہ ہم آپ کے کھانے پینے کا خیال رکھیں۔ آپ اس پر کیا کہتے ہیں؟“

شیخ علی ایک بار پھر غصے میں آ گئے اور لاٹھی لے کر مندور کا سر توڑنے کے لیے پیچھے بھاگے۔ وہ چلا رہے تھے : ”کیا میں تم کو ہنسا رہا ہوں؟ میں تمھارے لیے ہنسی کا سامان ہوں، ٹھیک ہے، مندور! جہنم میں جاؤ، لعنت تم پر اور تمہارے باپ!“

مندور ہنستا ہوا وہاں سے بھاگ گیا۔ شیخ علی بکتے جھکتے واپس آئے اور خوان پر جھک گئے۔
گاؤں کے لوگ بھی ہنستے قہقہے لگاتے وہاں سے رخصت ہونے لگے تھے۔

شیخ علی اب بھی منیات النصر میں رہتے ہیں۔ ان کے بارے میں آج بھی طرح طرح کی کہانیاں سنائی جاتی ہیں۔ ان کی حرکتیں آج بھی مضحکہ خیز ہیں، وہ آج بھی ناراض ہوتے ہیں اور لوگوں کو ہنساتے ہیں، لیکن اب لوگ پہلے کے برعکس سلوک کرتے ہیں۔ وہ جوں ہی شیخ کو بغیر جلابیہ اور پگڑی کے اپنی لاٹھی سے آسمان کو دھمکاتا دیکھتے ہیں تو فوراً اندازہ لگا لیتے ہیں کہ آج کل ابو احمد ان کو حد سے زیادہ اذیت دے رہے ہیں۔ بس اس سے پہلے کہ شیخ علی کے لبوں سے ایک آدھا گستاخی کا لفظ نکلے۔ وہ ان کے سامنے مطلوبہ پکوانوں کے ساتھ ایک خوان پیش کر دیتے ہیں اور شیخ علی اصولی طور پر اس پیش کش سے مطمئن اور پرسکون ہو جاتے ہیں۔

ختم شد۔

Facebook Comments HS