ہیپاٹائٹس یا ورم جگر

انسانی جگر کی سوجن کو سائنسی اصطلاح میں ہیپاٹائٹس کہا جاتا ہے۔ وائرس انفیکشن کا جگر پر حملہ ہونے یا کثرت شراب نوشی سے اسے نقصان پہنچتا ہے۔ اس کی کئی اقسام ہیں اور ان میں کچھ میں وائرس بناء کسی دائمی نقصان کے جگر سے مراجعت اختیار کر جاتے ہیں۔ لیکن بعض کے دور رس اثرات جگر پر مرتب ہوتے ہیں۔ جن میں جگر کا کام چھوڑ جانا اور بعض کیسوں میں جگر کا سرطان سے متاثر ہونا۔
ہیپاٹائٹس کی علامات میں ایک قسم قلیل وقتی بھی ہے۔ جس کا انسانی جسم و ذہن پر کوئی شدید اثر نہیں پڑتا بلکہ اس بارے انسانوں کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ اس وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اگر اس وائرس کی علامات محسوس ہوں تو اس میں جسمانی رعشوں و جوڑوں میں درد کا محسوس ہونا، بہت تیز بخار ہونا، خود کو بیمار محسوس کرنا، اکثر اوقات تھکاوٹ محسوس کرنا، خالی پیٹ کا درد، گہرے سرمئی رنگ کا پیشاب آنا، پاخانہ کے رنگت کی تبدیلی، جلد کی خارش اور جسم و آنکھوں کی رنگت کا زردی مائل ہونا ہوتا ہے۔ اگر یہ تمام علامات یا ان میں کچھ علامات کا ظہور آپ اپنے آپ میں دیکھتے یا محسوس کرتے ہیں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
ہیپاٹائٹس کی دوسری قسم لمبے عرصے کی ہیپاٹائٹس کہلاتی ہے۔ جس میں مریض پہلے تو کچھ محسوس ہی نہیں کرتا بلکہ جگر اپنا کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ خون کے نمونے کے ٹیسٹ سے پتہ چلتا ہے کہ انسان اس بیماری کا مریض بن چکا ہے۔ کچھ عرصے بعد مریض پر یرقان کی بیماری کا حملہ ہونا، ٹانگوں، ٹخنوں اور پاؤں کا سوجھنا اور قے و پاخانہ میں خون آنا اس مرض کی نشانیاں ہیں۔
ہیپاٹائٹس کی پہلی قسم ہیپاٹائٹس اے وائرس سے پھیلتی ہے۔ یہ ان خوراک اور مشروبات سے پھیلتی ہے جن میں غلاظت کا عنصر شامل ہو۔ یہ وائرس ان ممالک میں اکثر پایا جاتا ہے جہاں انسانی غلاظت کا انبار ہو۔ اس مرض کا دورانیہ کچھ ماہ کا ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ کسی بھی وقت شدت اختیار کر سکتا ہے اور جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ اس کا کوئی جانی علاج نہیں ماسوائے درد، خارش اور قے کے لئے ادویات کا استعمال کیا جائے۔ اگر آپ ایسی جگہوں پر جائیں جہاں اس بیماری کے مریض پہلے ہی موجود ہیں یا جہاں غلاظت و فضلہ کے ڈھیر ہیں تو احتیاط کے طور مدافعتی ویکسین پہلے سے لگا لینا چاہیے۔
ہیپاٹائٹس بی کی قسم: ہیپاٹائٹس بی وائرس سے پھیلتی ہے۔ اس مرض کے مریض اپنے خون سے یہ مرض دوسروں کو منتقل کرتے ہیں مثلاً حاملہ خواتین اپنے نوزائیدہ بچوں کو یہ بیماری منتقل کرتی ہیں۔ یہ مرض ایک دوسرے کے استعمال شدہ انجیکشن سے بھی پھیلتا ہے۔ اس کے مریض جنوبی ایشیاء اور سب صحارہ کے افریقی ممالک میں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ اس کے مریض ایک دو ماہ کے علاج سے مکمل صحتیاب ہو سکتے ہیں۔ لیکن بچوں میں اس مرض کے اثرات دیرپا رہتے ہیں اور یہ مرض پھر جگر کے کینسر میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس مرض میں جو بھی شدید طور پر متاثرہ گروپس میں شامل لوگ ہوں ان کو ویکسین لگا لینا چاہیے۔ مثلاً ہیلتھ ورکرز، منشیات کا استعمال کرنے والے عادی لوگ، لواطت کے شکار، نوزائیدہ بچوں کے والدین جن سے ہیپاٹائٹس بی کا مرض پھیلنے کا خطرہ ہو اور وہ مسافر جو متاثرہ جگہوں پر سیاحت کی غرض سے سفر کر رہے ہوں۔
ہیپاٹائٹس سی کا مرض وائرس سی سے پھیلتا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے یہ متاثرہ مریض کے خون سے پھیلتا ہے اور اپنے بچوں میں اسے منتقل کرتے ہیں۔ اس مرض میں اینٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے تا کہ ایک تو زیادہ پھیلاؤ سے اسے روکا جائے اور دوسرا مریض کا علاج بھی ہو۔
ہیپاٹائٹس ڈی۔ یہ مرض اپنے نام کی طرح وائرس ڈی سے پھیلتا ہے۔ یہ صرف ہیپاٹائٹس بی کے متاثرہ مریضوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس وائرس کو زندہ رہنے کے لئے اپنی خوراک کے طور پر وائرس بی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے بچنے کے لئے مریض کو ہیپاٹائٹس بی کی مدافعتی ویکسین لگا لینا چاہیے۔
اسی طرح ہیپاٹائٹس ای کا مرض وائرس ای سے پھیلتا ہے۔ اور یہ شراب نوشی، اور کئی سالوں سے کی گئی شراب کی کثرت نوشی کا نتیجہ اور جگر پر اس کا اثر انداز ہونا اور پھر جگر کا کینسر بن جانا ہوتا ہے۔ اس مرض کی بیماری سے مغربی معاشرہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ جہاں مہ کشی کثرت سی کی جاتی ہے اور کوئی روک تھام نہیں۔ لیکن مہ نوشی کے سنگین اثرات اب تحقیق کے بعد سامنے آئے ہیں۔ جس سے مغربی حکومتیں نبٹنے کی کوشش میں جڑ گئی ہیں۔
اگر الکحل کے دیرپا اثرات کا ملاحظہ کریں تو تحقیق کے مطابق یہ بیماریوں کا منبع ہے جس سے بلڈ پریشر، امراض قلب، فالج کا خطرہ، جگر کی بیماری اور اس سے نظام ہضم کی کئی بیماریاں پھیلتی ہیں۔ اس کے علاوہ ذہنی صلاحیتوں کو زنگ آلود کر دیتی ہے۔ اگر ہم نے ہیپاٹائٹس کے ہر قسم کے وائرس سے نبرد آزما ہونا ہے تو اس کے لئے معاشرے میں اس کی آگاہی اور صفائی کا خاص خیال رکھنا ہو گا۔ ویسے بھی ہمارے دین میں صفائی کو نصف ایمان کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس عہد و عظم کے ساتھ کہ اپنے پیارے نیبر ہڈ و ملک کو صاف و شفاف ماحول مہیا کرنے میں ہر ایک اپنا اپنا کردار ادا کرے گا۔

