مسئلہ دل کا نہیں دماغ کا ہے


میں نے ایک روایتی اور مذہبی گھرانے میں آنکھ کھو لی۔ نانا اور نانی گاؤں کے ان اولین خوش نصیبوں میں سے تھے جنہوں نے حج کرنے کی سعادت حاصل کی۔ نانا ترجمہ کے ساتھ قرآن پڑھتے تھے، قصص الانبیاء اور تصوف پر بھی کتب کا مطالعہ کرتے اور پھر ہماری استعداد کے مطابق کبھی کبھی ہمیں بھی تعلیم کر دیا کرتے۔ اگر کہیں مذہبی محفل کا انعقاد ہوتا تو بڑے اہتمام کے ساتھ وہاں حاضری دینے جاتے۔ نانی نے گاؤں کی بچیوں کو قرآن پڑھانے کا بیڑا اٹھا رکھا تھا طلوع سحر کے فوری بعد پچیس سے تیس بچیاں ان کے پاس قرآن پڑھنے آ جاتیں۔

قرآن کے علاوہ ان کو کلمے، پکی روٹی اور بنیادی شرعی مسائل بھی سکھائے جاتے۔ عصر اور مغرب کے درمیان ان کا سارا وقت جائے نماز پر گزرتا۔ نانی کے پاس تینتیس، سو اور ہزار دانوں والی تسبیحات تھیں۔ وہ ان پر اپنے ذکر اذکار کرتی رہتیں اور میں ان پر اپنی گنتی یاد کرتا رہتا۔ نانی کے گزرنے کے بعد یہ وراثت امی کے حصے میں آئی۔

اس ماحول اور مذہبی پس منظر کی وجہ سے میں ایک راسخ العقیدہ اور زبردستی کا بنایا ہوا مسلمان بن کر سامنے آیا۔

زندگی میں ایک اہم موڑ تب آیا جب گریجویشن کے بعد پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ لاء کالج میں کلاسز شاذ شاذ ہی ہوتی تھیں تو ہم نے اپنا پڑاؤ وسیع و عریض لائبریری میں ڈال دیا۔ فلسفہ پڑھنے کا شوق ہوا تو کسی مہربان نے نطشے، رسل اور ڈیورنڈ سے متعارف کروا دیا۔ اب یہاں جدید فلسفے اور مذہبی عقائد کا ٹکراؤ شروع ہو گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ذہنی ہیجان بھی بڑھنا شروع ہو گیا اور کیفیت یہاں تک پہنچی کہ

ایمان مجھے رو کے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر

اس پر ستم یہ ہوا کہ اگلے سال میں نے ہاسٹل کے ڈارمیٹری چھوڑ کر اپنا ایک الگ کمرہ لے لیا۔ اب یہاں پر میری تنہائی، کتابیں اور سوچیں موج در موج، تہ در تہ اور یم بہ یم اکٹھے ہونے شروع ہو گئے۔ اتنے زیادہ کہ کبھی کبھی مجھے اپنا دم گھٹتا محسوس ہوتا۔ پھر جیسے جیسے ڈگری مکمل ہونے کے قریب آئی تو یہ دباؤ بڑھنے لگا کہ جلد از جلد برسر روز گار ہوا جائے۔ ہم سفید پوش گھرانوں سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کے ساتھ ایک المیہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ہماری عملی زندگی کا تعین ہمارے خواب اور خواہشات نہیں کرتیں بلکہ خاندانی ذمہ داریاں اور مجبوریاں کرتی ہیں۔ ان سب محرکات کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں مینٹل ہیلتھ کرائسز کا شکار ہو گیا۔ بے ربط نیند، طبیعت میں جارحانہ پن اور بے سروپا سوچوں کی وجہ سے تعلیم، صحت اور تعلقات سب متاثر ہونا شروع ہو گئے۔

جب یہ کیفیت شدت اختیار کر گئی تو مجھے مشورہ دیا گیا کہ مجھے اپنا نفسیاتی تجزیہ کروانا چاہیے۔ ایک دن میں ہمت جوڑ کر جناح ہسپتال کے شعبہ نفسیات میں چلا گیا وہاں پر پہلے تو ایک جونئیر ڈاکٹر جو غالباً ٹریننگ پر تھے نے میرا انٹرویو کیا۔ چند سوالات کے بعد مجھے لگا کہ جیسے وہ میرے مسئلے کی تہہ تک نہیں پہنچ پا رہے اور سمجھ رہے ہیں کہ جیسے یہ دیوانہ کالج کوئی ناکام محبت دل پر لے بیٹھا ہے۔ میں نے شرارتاً کہا ڈاکٹر صاحب مجھے مسئلہ دل کا نہیں دماغ کا ہے لہٰذا آپ اس طرف فوکس کریں اس پر وہ تھوڑا سا مسکرائے۔ اپنا کام مکمل کرنے کے بعد وہ مجھے پروفیسر صاحبہ کے کمرے میں لے گئے۔ وہاں جا کر پتہ چلا کہ وہ کسی میٹنگ میں چلی گئی ہیں اور اب مجھے اگلے ہفتے آنا پڑے گا۔ میں نے جیسے تیسے ان کے نجی کلینک کا پتہ پوچھا اور شام کو وہاں پہنچ گیا۔

میں جب ان کے کمرے میں داخل ہوا تو وہاں پر ایک ادھیڑ عمر لیکن انتہائی با وقار خاتون پوری متانت کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ میں سلام کر کے ان کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہ گویا ہوئیں ”بیٹا آپ کے ساتھ کیا مسئلہ ہو گیا ہے“ ۔ ان کے اس مختصر جملے میں اتنی اپنائیت اور خلوص تھا کہ میں نے اگلے چند منٹوں میں پوری داستان امیر حمزہ سنا دی۔ ڈاکٹر صاحبہ نے تھوڑے توقف کے بعد کہا کہ آپ ابھی ذہنی امراض کی ادویات نہ کھائیں۔ ان کے لیے اپ ابھی بہت کم عمر ہو۔ آپ کوشش کریں کہ اپنی قوت ارادی سے ہی خود کو صحت مند کریں۔ مذہب میں دلچسپی ہے تو اس کو پریکٹس کریں صوفی ازم میں دلچسپی لیں۔ سیر و تفریح کو نکل جائیں اپنے معمولات تبدیل کریں اور دوستوں میں زیادہ وقت گزاریں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ آپ اپنے بل بوتے پر ٹھیک ہو جائیں گے۔ ہاں اگر آپ پھر بھی بہتری محسوس نہیں کرتے تو ادویات تو کبھی بھی کھائی جا سکتی ہیں۔

میں ان کا شکریہ ادا کر کے اٹھا ہی تھا کہ انہوں نے اپنی دراز سے چند سیمپل نکالے اور کہا کہ زیادہ الجھن اور دباؤ ہو تو ان میں سے ایک کھا لینا۔ اس کے بعد میں تین چار مرتبہ ان کے پاس گیا لیکن نہ دوائی کھانی پڑی اور نہ ہی وہ سیمپل۔

یہ ساری داستان سنانے کا مدعا یہ تھا کہ بطور انسان جس طرح ہم کو جسمانی امراض لاحق ہو جاتے ہیں اسی طرح ذہنی مسائل بھی ہو سکتے ہیں۔ قریباً ہر شخص عمر کے کسی نہ کسی حصے میں معمولی یا شدید نوعیت کے ذہنی مسائل کا شکار ہوتا ہے یا ہو سکتا ہے۔ معاشرے کے ایک عام شاہد کے طور پر یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ نفسیاتی مسائل کا شکار کسی بھی شعبے، علاقے یا طبقے کا بندہ ہو سکتا ہے۔ دنیاوی پیمانوں پر مکمل کامیاب نظر آنے والے بھی اس عفریت کا شکار ہوتے ہیں اور ایسے شدید کہ اپنی جان سے محروم ہو جاتے ہیں۔

لیکن ہمارے معاشرے کا ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہم کبھی بھی ذہنی صحت کو اور اس کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ بے تکے بہانے کر کے ان چیزوں سے پہلو تہی کی جاتی ہے۔ لا یعنی حیلے کر کے اس سے فرار اختیار کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی ذہنی یا نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جائے تو کبھی اس کو روحانی عارضہ قرار دیا جاتا ہے تو کبھی اس کو مذہب سے دوری سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ جاہلیت کی پاتال میں مزید گرے لوگ اس کو جادو، ٹونے، عملیات اور جنات کے ساتھ منسوب کر دیتے ہیں اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک ذہنی خلفشار اور کشمکش کا شکار انسان جو معمولی توجہ، ہمدردی یا دوستانہ رویے سے زندگی کی رعنائیوں میں واپس آ سکتا ہے وہ معاشرے کے جہل کی نظر ہو جاتا ہے۔ اس کی زندگی مزید جہنم ہو جاتی ہے یا وہ موت کے گھاٹ اتر جاتا ہے۔ ایسے لوگ اگر اپنی جان لیتے ہیں تو یہ خود کشی کسی طور پر قرار نہیں دی جا سکتی بلکہ ان کے قاتل جاہلیت اور نا عاقبت اندیش متعلقین ہوتے ہیں۔

چند برس پہلے ہم نے یہ خبر پڑھی کہ راولپنڈی میں ایک پولیس افسر نے اپنے دفتر میں بیٹھ کر خود پر گولی چلائی اور اپنی جان لے لی۔ معلوم ہوا کہ وہ انتہائی انسان دوست اور معاشرے کا درد رکھنے والے انسان تھے ان کے یوٹیوب پر ڈاکومنٹری دیکھ کر احساس ہوا کہ معاشرہ کتنے قیمتی انسان سے محروم ہو گیا ہے۔ اسی طرح حالیہ دنوں میں مولانا طارق جمیل کے بیٹے کی موت نے بھی معاشرے کے اندر اس بحث کو شروع کروا دیا کہ مینٹل ہیلتھ کی کتنی اہمیت ہے اور اس کا تعلق مذہب سے دوری یا روحانی عارضے سے نہیں ہے۔

اسی طرح اگر ہم سیاست، کھیل، فلم، ادب اور دوسرے فنون لطیفہ کی طرف نظر دوڑائیں تو بیسیوں مثالیں ملتی ہیں کہ مختلف افراد نے کبھی اپنے کیریئر کے عروج پر تو کبھی اس کے زوال پر نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو گئے ان میں سے کچھ نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور خود کو بچا لیا مگر کچھ اس بحران میں ایسے گرے کہ اپنی جان خود ہی لے بیٹھے۔

اس تناظر میں ہم اگر اپنے ملکی حالات دیکھیں تو سیاسی، معاشی اور سماجی بحرانوں کی وجہ سے مینٹل ہیلتھ کرائسز سے شکار لوگوں کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ نوجوان اور طالب علم جن کو مستقبل غیر یقینی نظر آ رہا ہے ذہنی دباؤ اور ڈپریشن میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ نتیجتاً عدم برداشت اور جرائم کی شرح میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ مایوسی میں مبتلا لوگ نفسیاتی اور جذباتی آسرا نہ ملنے کی وجہ اپنی جان کے درپے ہو رہے ہیں۔

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ذہنی یا نفسیاتی مسائل کے حل اور اس سے جڑے حادثات کے تدارک کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟ جہاں حکومت پر سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ذہنی صحت کے حوالے سے ایک بھرپور مہم چلائے اور ہسپتالوں میں سہولیات مہیا کرے وہاں باقی جملہ سماجی اداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ تعلیمی اداروں میں ورکشاپس کا انعقاد ہونا چاہیے جہاں طلبہ کو ذہنی صحت کے حوالے سے آگاہی پہنچائی جائے۔

میڈیا پر زیادہ سے زیادہ اس پر گفتگو ہونی چاہیے اور لکھا جایا جانا چاہیے تا کہ عوام الناس تک ذہنی صحت کی اہمیت کا شعور پہنچے۔ اسی طرح علماء کرام پر ذمہ داری ہے کہ عوام الناس کو دقیانوسی سوچ اور توہمات سے باہر لائیں۔ میرا یہ ذاتی تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ بروقت تشخیص اور مناسب معالج تک رسائی سے ذہنی مسائل سے بآسانی چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اگر آپ بھی محسوس کریں کہ کوئی دوست یا عزیز دماغی الجھن، مزاج کی تلخی یا ذہنی دباؤ کا شکار ہے تو اس کو کسی مینٹل ہیلتھ ایکسپرٹ تک پہنچائیں، شاید اس کو بھی ”دل کا نہیں دماغ کا مسئلہ ہو“

Facebook Comments HS