تاثرات کی جنگ
بس الزام دھر دینا ہماری سیاست میں ایک ایسا چلن بن چکا ہے کہ جس کے غیر معمولی منفی اثرات سے بطور قوم ہم سب کو سامنا درپیش ہے۔ پینتیس پنکچر کے ”نعرے“ کی جھوٹی مہم جوئی کے مضمرات سب کے سامنے ہیں۔ اسی طرح اب اس تصور کو پروان چڑھانے کی ڈٹ کر کوشش کی جا رہی ہے کہ نواز شریف کی وطن واپسی کا مطلب یہ ہے کہ اب ان کے لئے حالات میں تغیر و تبدل کیا جائے گا اور اس حد تک تاثر قائم کیا جا رہا ہے کہ جیسے ان کی نوشتہ دیوار انتخابی کامیابی اس تغیر و تبدل کی ہی محتاج ہیں۔
بہت سوچ سمجھ کر نواز شریف کے متعلق اس تصور کی آبیاری کی جا رہی ہے تا کہ اگلے عام انتخابات کے نتائج کو انعقاد سے قبل ہی مشکوک بنا دیا جائے اور نو منتخب حکومت کو آزادانہ طور پر کام کرنے کی سہولت میسر ہی نہ ہو۔ ماضی کے تجربات کی روشنی میں اس تصور کا تجزیہ کرتے ہیں۔ نواز شریف کی وطن واپسی طے ہوئی اس سے قبل پارلیمنٹ نے اپنی صوابدید کے مطابق ایک قانون کو پاس کر دیا تھا جس سے یہ گمان کیا جا رہا تھا کہ ثاقب نثار اور پاناما بنچ کے نواز شریف کے خلاف عناد بھرے اقدامات کا تدارک کرنے کی غرض سے نواز شریف کو بھی عدالت کے سامنے دوبارہ اپنا کیس پیش کرنے کا قانونی حق مل جائے گا مگر سپریم کورٹ نے جو ان کو درست لگا وہ اس قانون کے حوالے سے فیصلہ صادر کر دیا۔
اب اس کے قانونی پہلوؤں کو تو قانون دانوں کے سپرد کرتے ہیں مگر اس کے سیاسی اثرات یہ قائم ہوئے کہ واضح طور پر پیغام گیا کہ فیصلہ اس نوعیت کا سامنے آیا ہے کہ جس سے نواز شریف کو ریلیف نہیں مل سکا۔ کیا ایسی صورت حال کسی ڈیل کے بعد بھی ممکن تھی؟ جب ریلیف دینا ہوتا ہے تو زلفی بخاری کی مانند دیا جاتا ہے کہ جہاز میں بیٹھے زلفی بخاری کا ای سی ایل سے نام نکال دیا گیا تھا۔ ابھی یہ کوئی صدیوں پرانا قصہ نہیں ہے کہ جب پی ٹی آئی کو کھلم کھلا دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات سے قبل فیضیاب کیا جا رہا تھا اور اس کا طریقہ کار یہ تھا کہ سیاسی جماعتوں کے عہدے داروں کو ڈرا دھمکا کر یا لالچ دے کر پی ٹی آئی میں شامل کروایا جا رہا تھا۔
دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات کے بعد تو اس میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا کہ سیاسی زعما کو پی ٹی آئی کے جھنڈے گلے میں ڈالے جا رہے تھے۔ کیا اب اس طرح سے مسلم لیگ نون میں بھی لوگوں کو شامل کروایا جا رہا ہے؟ جواب نفی میں آئے گا۔ یہ کوئی بھولنے والی بات تو نہیں ہے کہ مسلم لیگ نون کے دو ہزار اٹھارہ کے سینیٹ کے انتخابات کے وقت امیدواروں کو عدالت کے ذریعے مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لینے سے روکتے ہوئے سب کو آزاد امیدوار قرار دے دیا گیا تھا۔
یہاں تک دیکھنے میں آیا کہ مسلم لیگ نون نے دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں اپنے امیدوار نامزد کر دیے، ان کو پارٹی ٹکٹس جاری ہو گئے اور پھر ان امید واروں کو ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا کہ ایک ہی دن میں اکیس، بائیس امیدواروں نے پارٹی ٹکٹ واپس کر دیے۔ ایک بہت سینئر صحافی سے میری اس پر بات ہونے لگی تو میں نے کہا کہ آپ بتائے کہ کون سے لوگوں کو مسلم لیگ نون میں شامل کروایا گیا ہے۔ وہ بولے کہ اس شامل نہ کروانے کی وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ نون کے پاس ہر ضلع میں ضرورت سے زائد پہلے ہی مضبوط امیدوار موجود ہیں تو اس لئے شامل نہیں کروایا جا رہا ہے۔
میں نے کہا کہ آپ کی بات کے بعد تو بات ہی ختم ہو گئی ہے کہ مسلم لیگ نون ان بد ترین حالات میں بھی اتنی مضبوط تھی کہ اس کے پاس دوسرے لوگوں کے لئے گنجائش موجود نہیں ہے تو اب تو بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہے۔ ان حالات میں مسلم لیگ نون کو کسی کا ساتھ دینے یا کسی سے مدد لینے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی ہے۔ نواز شریف کا صرف ایک مقصد ہے کہ انتخابات شفاف ہو اور شفاف ہوتے ہوئے نظر بھی آئے، کامیاب وہ خود ہو جائیں گے۔
اصل امتحان نواز شریف کا بھی اب دوبارہ سے شروع ہو گیا ہے۔ اس میں رتی برابر بھی شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ ان کو ماضی قریب میں بہت سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا جس سے وہ استقامت سے گزر گئے اور اب ان کو انتخابات کا مرحلہ درپیش ہے۔ انتخابات کے مرحلہ میں اول معاملہ منشور کے مرتب کرنے کا آتا ہے۔ ابھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ استحکام پاکستان پارٹی نے اپنے جلسوں کا آغاز کر دیا ہے اور ان جلسوں میں وہ اپنے اقتصادی نعرے بھی زور و شور سے لگا رہے ہیں جو کہ مکمل طور پر حقیقت سے دور ہے۔
ان لوگوں نے ہی پی ٹی آئی کے بھی نعرے، منشور کو مرتب کیا تھا جو نرے نعرے ہی نعرے تھے حقیقت سے کوسوں دور اور اب بھی ایسے ہی کر رہے ہیں۔ یہ مثال اس لئے دی کہ مسلم لیگ نون بس اب حکومتی ذمہ داریوں سے انتخابات کے انعقاد تک ہی دور ہے۔ اس نے اپنا انتخابی منشور بھی پیش کرنا ہے اور اس منشور میں اس بات کا خاص اہتمام ہونا درکار ہے کہ یہ بالکل عام فہم ہو، عوامی مسائل کا اس میں مکمل طور پر ذکر موجود ہو اور ان مسائل کو حل کرنے کے لئے جو تجاویز پیش کی گئی ہو وہ مکمل طور پر حقیقت پسندانہ ہو۔
دوئم امیدواروں کا چناؤ کرتے ہوئے اس بات کا خاص طور پر خیال رکھا جائے کہ وہ پارلیمنٹ میں اپنا کردار کتنا موثر طور پر ادا کر سکتے ہیں۔ ہر ضلع سے ایسی صورتحال بن جاتی ہے کہ ایک ہی خاندان کے لوگ ٹکٹس کے امید وار بن جاتے ہیں۔ ٹکٹس لے جاتے ہیں، سینیٹ تک میں پہنچ جاتے ہیں اور پھر وقت پڑنے پر لمحوں میں بدل بھی جاتے ہیں، صادق سنجرانی ایسے ہی نہیں چیئر مین سینیٹ بن گئے تھے ووٹ کہیں کے کہیں پڑ گئے تھے۔ اس سے جمہوریت کے حوالے سے عوام میں ایک غیر مناسب تاثر قائم ہوتا ہے کہ ہمارے لئے اس میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ان انتخابات میں ان تمام تاثرات کو بھی شکست دینے کی ضرورت ہے تا کہ جمہوریت مضبوط ہو۔

