افغانوں کا برا وقت
ایک لمحے کے لئے ایسے لگا جیسے دنیا کی بہترین کرکٹ ٹیم نہیں گلی محلے کی منچلے کھیل رہے ہیں کیونکہ اسی ٹیم نے اب تک کرکٹ کے پانچ ورلڈ کپ جیتے ہوئے ہیں۔ اس کی بیٹنگ لائن گیارہویں نمبر تک ہے۔ اس کے بلے باز اور بولر ضرورت پڑنے پر سب ایسے پھینٹا لگاتے ہیں جیسے پوری ٹیم ہی بلے بازوں کی ہے۔ لیکن 7 نومبر کو افغانوں کے ساتھ جو ان کا میچ ہوا وہ ناقابل یقین تھا۔ 7 کھلاڑی ایسے آؤٹ ہو گئے جیسے مون سون کی بارش ہوتی ہے۔
ہر پانچ منٹ بعد بارش شروع، لیکن پھر میکسویل ایسا کھڑا ہوا کبھی کریز پر لیٹا کبھی لڑکھڑایا لیکن آخر تک کریز سے باہر نہ گیا۔ آسٹریلیا کے 7 کھلاڑی 292 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آؤٹ ہو گئے۔ لیکن میکسویل نے مشکل میں ٹیم کو سہارا دیا لیکن جیسے ہی میکسویل نے سنچری کی تو اس کی کمر میں درد شروع ہو گئی، پھر ٹانگ میں بھی درد بڑھ گیا، وہ کھیل کے دوران تین مرتبہ زمین پر لیٹا لیکن قسمت بھی میکسویل پر مہربان رہی، اس کے دو آسان کیچز ڈراپ ہوئے جبکہ ایک مرتبہ انہیں ایل بی ڈبلیو قرار دیا گیا لیکن ریویو کے بعد وہ محفوظ رہا۔
اس کے ساتھ آسٹریلین ٹیم کے کپتان پیٹ کمنز بھی کھیلتے رہے جنہوں نے 68 بالز پر 11 سکور کیے۔ دوران میچ ایک ایسا بھی لمحہ آیا کہ وہ چلنے سے بھی قاصر ہو گیا لیکن وہ ہمت نہ ہارا۔ میکسویل نے 201 رنز کی اننگ کھیل کر نیا ریکارڈ بھی قائم کر دیا اور اپنی ٹیم کو بڑی کامیابی سے ہمکنار کروایا کیونکہ آسٹریلیا تو بنیادی طور پر میچ ہار چکی تھی۔ میچ کے دوران جب بار بار میکسویل زمین پر لیٹتا رہا افغان کھلاڑی سوچ رہے تھے یہ کب باہر جائے اور ہم میچ جیتیں۔
ایک وقت پر ایڈم زمپا کٹ پہن کر نیچے آ بھی گیا لیکن میکسویل نے ہمت نہ ہاری کریز سے باہر نہ گیا پھر کھڑا ہو گیا۔ جیسے میکسویل کھڑا ہوا افغان لیٹ گئے۔ افغان آسٹریلیا میچ میں افغانوں کے لئے میکسویل بھی سرفراز بگٹی ثابت ہوا ہے۔ جیسے سرفراز بگٹی چار دہائیوں سے پاکستان میں غیر قانونی مقیم افغانوں کو اٹھا کر ملک سے باہر پھینک رہا ہے بالکل ایسے ہی میکسویل نے افغانوں کو کر ورلڈ سے اٹھا کر باہر مارا ہے۔ اگست کے مہینے میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے پشاور میں گرینڈ جرگے سے خطاب کے دوران کہا کسی جتھے سے مذاکرات نہیں کریں گے بلکہ عبوری افغان حکومت سے مذاکرات کریں گے۔ افغان مہاجرین کو پاکستان میں رہنا ہے تو پاکستان کے قوانین کے مطابق رہنا پڑے گا۔
اسی گرینڈ جرگے سے خطاب میں آرمی چیف نے عبوری افغان حکومت کو مخاطب کرتے کہا تھا احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ کچھ اور بھی ہو سکتا ہے؟ پاکستان کے آئین میں حاکمیت صرف اللہ کی ذات کی ہے یہ خوارج کون سی شریعت لانا چاہتے ہیں؟ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا یہ خطاب افغان طالبان کو واضح پیغام تھا لیکن اس کے بعد بھی پاکستان میں 14 دھماکوں میں افغان ملوث پائے گئے۔
پھر آرمی چیف کا صبر بھی جواب دیا۔ اس کے بعد تمام افغانوں کو پاکستان سے نکالنے کا فیصلہ ہوا۔ جب یہ فیصلہ کیا گیا تو مولانا فضل الرحمن نے دبے الفاظ میں اس کی مخالفت کی۔ پھر مولانا نے اسلام آباد میں کچھ افغان رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔ مولانا نے آرمی چیف سے ملنے کی بھی کوشش کی تاکہ افغانوں کی ایسے جلدی میں واپسی نہ کی جائے لیکن دوسری جانب سے پیغام آیا افغانوں کی واپسی کے معاملات نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی دیکھ رہے ہیں آپ نے جو بات کرنی ان سے کریں۔
مولانا مایوس ہو گئے اور سرفراز بگٹی سے نہ ملے کیونکہ مولانا فضل الرحمن کو بھی اندازہ ہو چکا تھا کہ اب معاملہ بہت سنجیدہ ہو گیا ہے لہذا اب یہاں دال نہیں گلنے والی۔ بہت سارے لوگوں کی غلط فہمی تھی کہ افغانوں کی واپسی سے متعلق صرف ڈائیلاگ بازی سے کام لیا جا رہا ہے۔ حقیقت میں ایسا ممکن ہی نہیں ہے لیکن آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے۔ چمن اور طورخم بارڈر پر افغانوں کی پرامن اور باعزت طریقے سے واپسی کا عمل تاحال جاری ہے۔
کچھ لوگوں میں ابھی بھی افغانوں کے لئے ہمدردیاں جاگ رہی ہیں۔ پاکستان نے چالیس سال ان کا بوجھ اٹھایا ہے اس پر افغان طالبان کو پاکستان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ لیکن یہ سب احسان فراموش نکلے ہیں پاکستان سے جاتے ہوئے افغان پاکستانیوں کو گالیاں دے رہے ہیں اور افغان طالبان الٹی بکواس کر رہے ہیں پاکستان کو دھمکیاں دے رہے ہیں جو کہ افسوسناک ہے۔ قیام پاکستان کے بعد افغانستان دنیا کا واحد ملک تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا لیکن اس کے باوجود پاکستان نے برطانیہ کی جنگ ہو، روس کی جنگ ہو، امریکی جنگ ہو یا افغان طالبان کا افغانستان پر قبضہ ہو ہر دفعہ پاکستان نے افغانوں کو کھلے بازوں سے ویلکم کہا۔
کئی بچوں کو پال پوس کر جواں کر دیا لیکن یہ احسان فراموش ابھی بھی پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کرنے میں لگے ہیں اس کو ہرگز احسان کا بدلہ احسان سے نہیں کہا جاسکتا۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ان کی ٹیم کا یہ پاکستانیوں کی آنے والی نسلوں پر بہت بڑا احسان ہے کہ وہ انہوں نے چالیس سالہ گند اٹھا کر باہر پھینکا ہے۔ پاکستان کا کوئی آرمی چیف یہ کام نہیں کر سکا جو جنرل عاصم منیر نے کر دکھایا ہے۔


