افغان ہارنے پہ روتے کیوں ہیں؟


افغان کھلاڑی اکثر پاکستان سے سنسنی خیز مقابلے کے بعد ہارتے تھے تو ٹیلیویژن کی سکرین پر روتے ہوئے نظر آتے۔ یہ بات مجھے بہت حیران کرتی تھے کہ وہ آخر روتے کیوں ہیں۔ بلکہ انہیں تو خوش ہونا چاہیے۔ ایک بڑی ٹیم کے خلاف میچ کو اینڈ تک لے کر گئے۔ پورے مقابلے کے دوران انہیں مشکل میں ڈالے رکھا۔ اس سٹیج پر یہ بھی ان کے لیے بہت بڑی کامیابی ہے۔

لیکن اس بات کا جواب شاید اس ٹیم نے ورلڈ کپ 2023 میں سابق ورلڈ چیمپئن اور ڈفینڈنگ چیمپئن سمیت اپنے سے بڑی ٹیموں کو ہرا کر دے دیا ہے کہ وہ روتے کیوں تھے۔

کیوں کہ انہوں خود پہ یقین ہے کہ وہ کر سکتے ہیں۔ جب آپ کو خود پہ مکمل یقین ہو کہ آپ جیت سکتے ہیں۔ آپ جانتے ہوں کہ آپ میں اس کی جیتنے کی قابلیت موجود ہے اور پھر بھی آپ جیت کے بہت قریب پہنچ کر ہار جائیں تو رونا تو آئے گا۔ ہارنے یا کسی غمگین صورتحال میں رونا انسانی فطرت بھی ہے اور بوجھ کو ہلکا کرنے کا ایک ذریعہ بھی۔ افغان شاید دوسری دنیا سے ایک نہایت ہی مختلف قوم ہیں۔

ایسا نہیں کہ صرف کرکٹ میں ہی ان کا طرز عمل اور ردعمل بہت مختلف ہے۔ دیکھا جائے تو دہائیوں تک اپنے سے کئی گنا بڑی طاقتوں سے جنگیں لڑتے یہ قوم اپنے اوپر ٹوٹتے ظلم کے پہاڑ تو سہتے رہے لیکن نا ہار مانے اور نا ہتھیار ڈالے۔ ہمسائیوں سمیت تقریباً ساری دنیا نا صرف ان کے خلاف ہوتی ہے بلکہ عملی طور پر بھی قابض ملکوں کو پوری سہولت کاری فراہم کرتی ہے۔ پھر بھی یہ لوگ کرتے وہ ہیں جو ان کا من چاہے اور تب تک لڑتے ہیں جب تک اپنی بات منوا نہ لیں، اپنی برتری نہ ثابت کر لیں۔ دنیا نے اپنی پوری قوت سے ان کے خلاف جنگیں لڑ کے دیکھ لی ہیں۔ لیکن شاید اب حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک دفعہ ان سے دوستی بھی کر کے دیکھ لیں۔ خاص طور پر بطور ہمسایہ پاکستان کے لیے بہت اہم ہے کہ ان سے تعلقات کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے۔ پاکستان پہلے اپنے پڑوس میں ایک ایسا دشمن ملک رکھتا ہے کہ یہ مزید ایسے کسی پڑوسی کا بالکل بھی متحمل نہیں ہو سکتا۔

ایک وقت تھا کہ افغان ہمارے بھائی تھے۔ ان کے برے حالات میں اگر ہم نے مجبوری اور سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر کسی حد تک جنگ کرنے والوں کا ساتھ دیا تو افغانوں کے لیے بھی نہ صرف بارڈر کھولے بلکہ اس ملک کے باسیوں نے ان کے لیے اپنے گھروں کے دروازے تک کھول دیے۔ انہیں یہاں ملکی شہریوں جیسی ہی سہولتیں مہیا تھیں۔ ان کے بچے سرکاری غیر سرکاری سکولوں میں بنا روک ٹوک تعلیم حاصل کرتے۔ ان کا علاج کسی بھی ہسپتال میں بنا کسی رکاوٹ کے ہوتا تھا۔ وہ کہیں بھی ٹھیلا لگا سکتے تھے۔ کوئی بھی کاروبار کر سکتے تھے۔ حتی کہ افغان شہری آسانی سے پاکستانی پاسپورٹ بنوا کر باقی دنیا کا سفر بھی کرتے رہے اور انہوں نے یہ سب مکمل آزادی کے ساتھ کیا۔ ایسی مثالیں شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک میں دیکھنے کو ملیں۔

اس سب کے باوجود اب جب ان پر مسلط کی گئی جنگ ختم ہو چکی ہے۔ گو کہ افغانستان پر افغانوں کی اپنی حکومت ہے لیکن روئے تو وہ اس کے ختم ہونے پر بھی ہوں گئے۔ تو پھر ہم معاملات کو غیر ضروری طور پر بگاڑنے پہ کیوں تلے ہیں۔ کیا دونوں ملک کوئی ایسا راستہ تلاش نہیں کر سکتے کہ اپنے اپنے ملک کے انٹرسٹ کو کمپرومائز کیے بنا آپسی مسئلوں کا بہتر حل نکالیں۔ جس سے دشمنی کی بجائے امن اور دوستی پروان چڑھے۔ ایک ایسا کھیل کھیلیں جس کے نتیجے پر کسی کو رونا نہ پڑے۔

Facebook Comments HS