کیا مسلم لیگ (ن) صرف پنجاب میں حکومت پر اکتفا کر سکتی ہے؟


تمام آثار بتا رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) فروری کے مجوزہ انتخابات کے بعد ملک میں اقتدار سنبھالنے کی تیاری کر رہی ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اسی امید پر لیگی لیڈروں کی تمکنت اور گھمنڈ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تاہم یہ سوال ہنوز جواب طلب ہے کہ سیاسی تناؤ کی موجودہ صورت حال میں کیا یہی راستہ ملکی فلاح اور معاشی بحالی کی طرف جاتا ہے؟

مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف کو وزارت عظمی کے لیے اپنا امیدوار قرار دیا ہے۔ گو انہیں یہ عہدہ سنبھالنے کے لیے متعدد عدالتی مراحل سے گزرنا ہو گا۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے آج نواز شریف کے تمام ضبط شدہ اثاثے و جائیداد واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے پہلے بھی ضمانتوں کی صورت میں انہیں عدالتی ریلیف مل چکا ہے اور وہ امید کر سکتے ہیں کہ انتخابات سے پہلے شاید بیشتر مقدمات میں ان کا نام کلیئر ہو جائے گا۔ اس کے باوجود پاناما کیس میں سپریم کورٹ نے انہیں کسی بھی پبلک عہدے کے لیے تاحیات نا اہل قرار دیا تھا۔

گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے فل بنچ نے سو موٹو اختیار کے تحت قائم ہونے والے مقدمات میں اپیل کا حق دینے کی قانونی ترمیم منظور کرلی تھی البتہ اس فیصلہ کو موثر بہ ماضی کرنے سے گریز کیا گیا تھا۔ یعنی نواز شریف تاحیات نا اہلی کے خلاف اپیل دائر کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ البتہ مسلم لیگ (ن) کا خیال ہے کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے نا اہلی کی مدت پانچ سال مقرر کی گئی ہے۔ اس ترمیم کے بعد نواز شریف کی تاحیات نا اہلی از خود ختم ہو گئی ہے۔

لیکن یہ معاملہ شاید اتنا آسان نہ ہو۔ سپریم کورٹ ہی نے 90 دن کے اندر انتخابات کے حوالے سے درخواستوں پر سماعت کے دوران میں نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کی اس رائے کو تسلیم نہیں کیا کہ انتخابات کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے اور اس بارے میں اسے صدر مملکت سے مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کو یہ اختیار بھی الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے ہی دیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر کو صدر سے مشاورت کے بعد انتخابات کے لیے متفقہ تاریخ کا اعلان کرنے کا حکم دیا تھا جو 8 فروری مقرر کی گئی ہے۔ اس مقدمہ کی سماعت کے دوران میں فاضل جج حضرات کا خیال تھا کہ صدر کو انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کا آئینی اختیار حاصل ہے۔ یہ عدالتی رائے حکومتی حکمت عملی اور الیکشن ترمیم سے متصادم ہے۔

اس پس منظر میں اگر نواز شریف قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کرواتے ہیں اور ان پر ریٹرننگ افسر اعتراض لگا دیتا ہے یا کوئی مخالف پارٹی اس معاملہ کو عدالت میں لے جاتی ہے تو نواز شریف کی نا اہلی کے حوالے سے حتمی فیصلہ ایک بار پھر عدالت عظمی کو ہی کرنا ہو گا۔ حالیہ عدالتی کارروائیوں کے تناظر میں یہ قیاس نہیں کیا جاسکتا کہ نواز شریف کو ایسا کوئی ریلیف مل سکتا ہے کیوں کہ پاناما کیس کے تحت ملنے والی سزا سو موٹو اختیار کے تحت قائم ایک مقدمے میں دی گئی تھی اور اسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔

مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کو بھی شاید اس صورت حال کا ادراک ہو گا لیکن پارٹی یا تو اپنے درپردہ مراسم کے بارے میں ضرورت سنیے زیادہ پراعتماد ہے کہ اسے ایسی کسی رکاوٹ کا اندیشہ نہیں ہے۔ یا انتخابی ہتھکنڈے کے طور پر شہباز شریف کی بجائے نواز شریف کو لیڈر اور فرنٹ رنر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ کسی منفی عدالتی فیصلہ کی صورت میں نواز شریف کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کو مظلوم فریق قرار دے کر عوامی حمایت جیتنے کی کوشش کی جا سکے۔ اس صورت میں اس کے امید وار ایک بار پھر شہباز شریف ہوں گے۔

شہباز شریف کو نواز شریف پر یہ سبقت تو حاصل ہے کہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ان کے تعلقات ہمیشہ خوشگوار ہے ہیں۔ عسکری حلقوں میں نواز شریف کے ساتھ تعاون کے حوالے سے اب بھی تحفظات موجود ہیں۔ ماضی میں آرمی چیفس کے ساتھ اختلافات ہی کی وجہ سے نواز شریف کو بار بار سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن عمران خان کو عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے علیحدہ کرنے کے بعد شہباز شریف وزیر اعظم بن کر کوئی بڑا کارنامہ سرانجام نہیں دے سکے۔

ایک تو وہ کوئی حکومتی فیصلہ خود مختاری سے کرنے کے قابل نہیں تھے اور ہر مرحلے پر نواز شریف کی طرف دیکھنا ان کی مجبوری تھی۔ دوسرے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کا جو سیاسی نعرہ لگایا جاتا ہے، وہ درحقیقت ایک سراب کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ایک قرض چکانے کے لیے زیادہ سخت شرائط پر مزید قرض حاصل کر کے ملک کو مزید زیر بار کیا گیا اور ملکی عوام بھی شدید مالی دباؤ کا شکار ہوئے۔ البتہ قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس معاشی پالیسی استوار نہیں کی جا سکی۔

شہباز حکومت نے اس حوالے سے جو بھی اقدام کیے، ان کے ذریعے معاشی فیصلوں میں فوج کے کردار میں اضافہ ہوا اور اس وقت پاک فوج ملکی معیشت کی اہم ترین اسٹیک ہولڈر اور فیصلہ کن طاقت کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ کسی بھی ملک کی معیشت چونکہ سیاسی فیصلوں پر اثرانداز ہوتی ہے، اس لیے عام قیاس یہی ہے کہ معاشی معاملات میں فوج کے اختیارات اور اثر و رسوخ میں اضافہ سے اس کی سیاسی طاقت میں اضافہ ہوا ہے اور خود مختار جمہوری نظام کے لیے سپیس کم ہوئی ہے۔

پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے دور میں شہباز شریف بیوروکریسی کو موثر طریقے سے استعمال کرنے کی شہرت رکھتے تھے، جس کی وجہ سے انہیں ’شہباز سپیڈ‘ کا لقب بھی دیا گیا تھا۔ البتہ وفاق میں حکومت کرتے ہوئے انتظامی دسترس کے علاوہ سیاسی زیرکی، سفارتی مہارت اور پالیسی سازی کے ہنر کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم کے طور پر شہباز شریف اپنی وہ شہرت برقرار نہیں رکھ سکے۔ مجوزہ انتخابات کے بعد اگر ایک بار پھر قرعہ فال شہباز شریف کے نام کا ہی نکلتا ہے تو فیصلہ سازی کی نوعیت بھی وہی ہوگی جو ان کی 16 ماہ کی سابقہ حکومت کے دور میں دیکھنے میں آئی تھی۔

ایک بار پھر اسحاق ڈار کو ملکی مالی معاملات کی ذمہ داری سونپی جائے گی حالانکہ وہ وزیر خزانہ کے طور پر مکمل طور سے ناکام ہوچکے ہیں۔ انہیں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی شرح مبادلہ ایک خاص حد تک محدود رکھنے کی شہرت حاصل ہے۔ اس طریقے کو نواز شریف بھی اپنی حکومت کے بڑے کارنامے کے طور پر پیش کرتے رہتے ہیں۔ البتہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس وقت ملکی معیشت کو جن گوناگوں مالی مشکلات کا سامنا ہے، انہیں پیدا کرنے میں کنٹرولڈ شرح مبادلہ نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ اب ملکی معیشت اور انتظامی ڈھانچہ صریحاً تبدیل ہو چکا ہے۔ حکومت اصولی طور سے اسٹیٹ بنک کے معاملات میں مداخلت کی مجاز نہیں ہے اور جب تک پاکستان آئی ایم ایف کا مقروض ہے، اس وقت تک اسٹیٹ بنک کے فیصلوں پر حکومتی اختیار بحال کرنے کی کوشش کامیاب بھی نہیں ہوگی۔

مسلم لیگ (ن) مرکز کے علاوہ پنجاب میں بھی اقتدار حاصل کرنا چاہے گی کیوں کہ یہ اس کی سیاسی طاقت کا گڑھ ہے۔ یہ مقصد کسی بھی طرح حاصل کیا جائے، ملک میں ایک مستحکم سیاسی رائے اس کے خلاف سامنے آئے گی۔ پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری نے آج ہی ایک بیان میں مسلم لیگ (ن) کو نئی کنگز پارٹی کا لقب دیتے ہوئے 2008 کے انتخابات کی طرح پیپلز پارٹی کی کامیابی کا پیغام دیا ہے۔ ان کی یہ خواہش تو شاید پوری نہ ہو سکے لیکن 2024 کے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دینے کی بنیاد تو بہر حال رکھ دی گئی ہے۔

تحریک انصاف کی سیاسی قوت کو خواہ کتنا ہی دبایا جائے، پھر بھی اسے قابل ذکر پارلیمانی کامیابی حاصل کرنے سے روکنا محال ہو گا۔ مسلم لیگ (ن) کے وزیر اعظم کو ملک کی دو طاقت ور سیاسی جماعتوں کی طرف سے مسلسل چیلنج کا سامنا ہو گا۔ عملی طور سے اس کا مطلب یہ ہے کہ 2008 کے بعد سے منتخب سیاسی حکومتوں کے خلاف احتجاج، ریلیوں اور دھرنوں کا جو سلسلہ چلا آ رہا ہے، وہ بہر صورت جاری رہے گا۔ ان حالات میں نہ تو اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری لانے کا خواب پورا ہو سکے گا اور نہ ہی ملکی معیشت کا پہیہ موثر انداز میں گھومنا شروع کرے گا۔ سوال ہے کہ کیا نواز شریف اور ان کے مشیروں نے ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر کوئی حکمت عملی تیار کی ہے؟

اس مشکل کا ایک آسان راستہ اس سیاسی اتحاد کا احیا ہو سکتا ہے جو 2022 کے شروع میں تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف قائم کیا گیا تھا۔ یعنی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دیگر چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ مل کر انتخابات کے بعد مخلوط حکومت بنانے کا اعلان کریں۔ وفاق کی حکومت پیپلز پارٹی کو دے دی جائے البتہ قومی اسمبلی میں موثر نمائندگی کے ذریعے مسلم لیگ (ن) اس حکومت کی رہنمائی کا کام کرتی رہے۔ اس کے بدلے پیپلز پارٹی کے ساتھ اتفاق سے مسلم لیگ (ن) پنجاب کی حکومت پر اکتفا کرنے پر راضی ہو جائے۔ سب سے بہتر یہ ہو گا کہ شریف خاندان اس بار اپنے ہی خاندان کے کسی ہونہار کو وزیر اعلیٰ بنانے کی بجائے پارٹی کے کسی قابل اعتماد شخص کو اس عہدے پر کام کرنے کا موقع دے۔

ایسا سیاسی اتفاق رائے ملک میں تصادم کی کیفیت کم کرنے اور مسلم لیگ (ن) کا سیاسی بوجھ محدود کرنے میں اہم ہو سکتا ہے۔ ایسے میں تحریک انصاف کی مزاحمت میں وہ شدت باقی نہیں رہے گی جو پیپلز پارٹی کا ساتھ ملنے سے اسے حاصل ہو سکتی ہے۔ تاہم دیکھنا ہو گا کہ مسلم لیگ (ن) وسیع تر سیاسی منظر نامہ میں ایسی مفاہمانہ حکمت عملی اختیار کرنے پر راضی ہو جائے گی یا ماضی کی طرح مسلسل بیل کو دونوں سینگوں سے پکڑنے کی کوشش کی جائے اور زمین سے پاؤں اکھڑنے پر بیرون ملک فرار ہونے میں عافیت سمجھی جائے گی؟

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali