پاکستان کرکٹ ٹیم کی شکست اور سابق آئی جی کلیم امام کی تحقیقات

بلند بانگ دعووں ’پختہ ارادوں اور قوم کی امیدوں کے ساتھ ورلڈ کپ جیتنے کے لئے میدان میں اترنے والی ہماری قومی ٹیم بدترین کارکردگی‘ پوری ڈھٹائی اور جذبہ ایمانی کے ساتھ میدان سے باہر آ چکی ہے ’آئی سی سی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کے پہلے میچ سے ہی قوم کو یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ سیمی فائنل تک پہنچنے کے لئے دعاؤں کی سخت ضرورت ہے کیونکہ اس میچ میں جس طرح کی کارکردگی دکھائی گئی تھی اس سے نظر یہ آ رہا تھا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم صرف اور صرف دعاؤں کے سہارے ہی سیمی فائنل تک پہنچ سکتی ہیں تاہم افغانستان سے شکست کھانے کے بعد پاکستانیوں کو یہ بھی یقین آ گیا تھا کہ اب جذبہ ایمانی کی بجائے ”اگر ایسے ہو گا تو ویسے ہو گا“ والا فارمولا ہی کام آئے گا جس کی وجہ سے ہم نے مکمل ایمانداری اور ملی جذبہ کے ساتھ پاکستان کی جیت کے لئے دعائیں مانگنے کے بجائے ان ممالک کے ہارنے کی دعائیں مانگنا شروع کر دیں تھیں جن کے ہارنے کے باعث ہماری قومی ٹیم سیمی فائنل تک پہنچ سکتی تھی‘ مگر ”رضا خدا کی یہی تھی یہ ہی خدا کی مرضی تھی“ کے مصداق یہ دعائیں بھی رنگ نہ لا سکی اور ہماری ٹیم مکمل سج دھج سے ورلڈ کپ ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔
قومی ٹیم سیمی فائنل تک کیوں نہیں پہنچ سکی اور ٹیم کی اس قدر بری کارکردگی کی وجہ کیا ہے اس بارے میں ہر محب وطن شہری قومی فریضہ کے طور پر اپنی ماہرانہ رائے دے رہا اور ”حصہ بقدر جثہ“ فارمولا کے تحت ملی جذبہ کے تحت کرکٹ ٹیم کے کپتان اور کھلاڑیوں کی کھچائی میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے ’کوئی اس ہار کا ذمہ چیئرمین سلیکشن کمیٹی پی سی بی کو ٹھہرا رہا ہے تو کسی کی جانب سے اس کی ذمہ داری کرکٹ ٹیم کے کپتان پر عائد کی جا رہی ہے‘ کسی کی نظر میں ٹیم کی ہار کی وجہ پی سی بی اور کھلاڑیوں کے مابین تنازعات ہیں ’جبکہ کوئی پاکستان کرکٹ بورڈ میں ہونے والی سیاست کو اس کی وجہ سمجھتا ہے‘ جس کی جو رائے ہے وہ اس حوالے سے دلیل بھی رکھتا ہے اس لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ قومی ٹیم کے ہارنے کی اصل وجہ کیا ہے ’تاہم اگر سابق انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس ڈاکٹر کلیم امام کا مضمون ”باب وولمر کی یاد میں“ پڑھ لیا جائے تو کسی حد تک ان ممکنہ وجوہات تک پہنچا جاسکتا ہے جن کے پاکستان کرکٹ ٹیم زوال کا شکار ہوئی ہے۔
ڈاکٹر کلیم امام بطور آئی جی پولیس پنجاب اور سندھ ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ کئی اہم عہدوں پر تعینات رہ چکے ہیں‘ اس دوران انہوں نے جو دیکھا اسے کتاب کی صورت میں قلمبند کیا ہے ’ان کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب ”کوتوال نامہ“ چند روز قبل میری نظر سے گزری ہے‘ کتاب کا نام تو ”کوتوال نامہ“ ہے مگر کتاب کے ٹائٹل کے نیچے ہی ”زوال کو عروج“ بھی لکھا ہوا ہے جس دن یہ کتاب میرے ہاتھ لگی تھی ’اسی دن پاکستان کی قومی ٹیم اپنا آخری میچ ہار کر آئی سی سی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکی تھی اس لئے مجھے اس کتاب کے ذیلی عنوان ”زوال کو عروج“ اور پاکستانی کرکٹ ٹیم میں تھوڑی مماثلت بھی محسوس ہوئی‘ کتاب ملتے ہی میں نے سرسری طور پر کتاب کا جائزہ لینا شروع کر دیا ’مضامین کی فہرست دیکھی تو ایک مضمون ”باب وولمر کی یاد“ میں نظر آیا‘ چونکہ یہ کتاب مجھے اس روز ملی جس دن قومی ٹیم ایک اہم میچ ہار چکی تھی ’اس لئے یہ مضمون مجھے موقع کی مناسبت سے اچھا لگا اور میں نے اسے پڑھنا شروع کر دیا‘ جیسے جیسے میں یہ مضمون پڑھتا گیا میرے اوپر یہ بھید کھلتا گیا کہ قومی کرکٹ ٹیم کس وجہ سے زوال کا شکار ہے۔
ڈاکٹر کلیم امام اس مضمون میں لکھتے ہیں کہ ”باب وولمر 18 مارچ 2007 کو جمیکا کے ایک ہوٹل کے کمرے میں پراسرار طور پر مردہ پائے گے ’وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ تھے اور ٹیم کے ہمراہ جیمکا دورہ کرر ہے تھے جس روز صبح ان کی وفات ہوئی اس سے ایک روز قبل پاکستانی ٹیم نے جمیکن ٹیم سے شکست کھائی اور وہ اس شکست پر انتہائی رنجیدہ تھے جب ان کے انتقال کی خبر بریکنگ نیوز کے طور پر چلی تو میں ایف آئی اے میں بحیثیت ایڈیشنل ڈائریکٹر تعینات تھا اور اس وقت ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کے سامنے بیٹھا تھا۔
خبر سنانے والی خاتون نے یہ بھی کہا کہ حکومت پاکستان اس معاملے کی تحقیقات کے لئے پاکستان سے ٹیم روانہ کر رہی ہے۔ ڈی آئی جی صاحب نے مجھے دیکھا اور فرمایا کہ جمیکا جانے کی تیاری پکڑو اور یوں میں اور میر زیبر صاحب پر مشتمل دو افراد کی ٹیم چند روز بعد جمیکا روانہ ہو گئی‘ میں اس پورے معاملے کی تحقیقات اور کے نتیجہ میں ہونے والے فیصلہ پر اللہ کا شکرگزار ہوں جس نے مجھے اس قابل سمجھا کہ پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کو ناکام بنا دوں“ جمیکا جا کر ڈاکٹر کلیم امام اور ان کی ٹیم نے کیا تحقیقات کیں یہ ایک طویل داستان ہیں جو انہوں نے اپنے اس مضمون میں قلمبند کی ہے تاہم اس مضمون کا آخری پیرا انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ورلڈ کپ 2023 سے قومی کرکٹ ٹیم کے باہر ہونے کی وجوہات کی مکمل عکاسی کرتا ہے ’ڈاکٹر کلیم امام مضمون ”باب وولمر کی یاد میں“ کے آخر میں لکھتے ہیں کہ ”جمیکا کے اس دورے کے دوران پاکستانی کرکٹ ٹیم کے متعلق بھی چند دلچسپ معلومات ہمارے علم میں آئیں۔
اس وقت کی کرکٹ ٹیم غیر معمولی طور پر مذہبی رجحان رکھتی تھی‘ جس جہاز میں ہم نے سفر کیا تھا فضائی میزبان نے ہم سے پوچھا کہ آپ لوگ اپنے پاؤں بار بار کیوں دھوتے ہیں اس نے شکایت کی کہ اس طرح سے جہاز کا قالین مکمل گیلا ہو گیا تھا اور جہاز میں اذان دینے کی وجہ سے دوسرے مسافر ڈسٹرب ہوئے ’ہماری ٹیم کی سپورٹس مین سپرٹ‘ محنت اور جذبہ پس پشت چلا گیا اور وظائف اور غیبی امداد پر اندھا اعتقاد ہو گیا۔ دوران کھیل کھلاڑیوں کی توجہ وظائف کی گنتی پر مرکوز رہتی تھی ایسے میں بال کو شاٹ لگانے یا کیچ پکڑنے پر توجہ کون دیتا اور یوں ٹیم شکست سے دوچار ہو گئی ’باب صاحب بھی یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے اور کڑھ رہے تھے لیکن کچھ بول نہ پائے اور اسی دکھ کے ساتھ دنیا سے کوچ کر گئے‘ ڈاکٹر کلیم امام نے یہ مضمون 16 سال قبل لکھا تھا تاہم اگر اس مضمون کو آج کل کے تناظر میں پڑھا جائے تو ایسے لگتا ہے کہ جیسے ان کی یہ تحقیقات ہماری موجودہ قومی کرکٹ ٹیم کے حوالے سے ہیں ’قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر کا سراپا‘ کھیل کے میدان میں کھلاڑیوں کے سجدے اور دیگر حرکات سکنات دیکھ لیں ڈاکٹر کلیم امام کی کہی گئی ہر بات سچ معلوم ہوگی۔

