’کنگز پارٹی‘ بننے کے فوائد و نقصانات
فروری 2024 میں انتخابات سے پہلے ملک میں ایک نئی ’کنگز پارٹی‘ کا بہت چرچا ہے۔ کنگز پارٹی کی اصطلاح عام طور سے اس سیاسی پارٹی کے لیے استعمال کی جاتی ہے جسے اسٹبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل ہو۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ ایسی پارٹی کو انتخابات میں کسی قسم کا مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ سہولت کاری کی وجہ سے قابل قدر اکثریت حاصل کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ 2018 میں تحریک انصاف کو یہ پوزیشن حاصل تھی۔ اب کہا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نئی کنگز پارٹی ہے۔
پاکستانی سیاست کے تناظر میں یہ ایک مشکل اور پیچیدہ سوال ہے کہ کوئی سیاسی پارٹی عوام کے ساتھ رابطہ کاری، براہ راست مواصلت اور اپنے سیاسی منشور کی بنیاد پر کیوں آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرتی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہی ہے کہ سیاسی معاملات میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کو ایک ایسی حقیقت کے طور پر قبول کر لیا گیا ہے جسے تبدیل کرنا کسی ایک سیاسی پارٹی کے بس کی بات نہیں ہے۔ ملکی ماحول میں اس قدر غلط فہمیاں اور تلخی گھول دی گئی ہے کہ اب ہر سیاسی پارٹی اقتدار تک پہنچنے کے لیے آسان راستہ اختیار کرنا ہی ضروری سمجھتی ہے۔ ایسے میں عوامی رائے کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔ اور اسٹبلشمنٹ کے ساتھ دوستانہ مراسم یا اس کے دست شفقت سے مستفیض ہونے کی خواہش شدید ہے۔ ملک کی ہر سیاسی پارٹی کسی نہ کی صورت اسٹبلشمنٹ سے ایسا قرب چاہتی ہے جس کے نتیجے میں اسے کسی مشکل کے بغیر اقتدار حاصل ہو جائے۔ جو پارٹی یہ مقصد حاصل کر لیتی ہے، اسے تو ہر جانب ہرا ہی ہرا دکھائی دیتا ہے لیکن جو پارٹیاں کسی نہ کسی وجہ سے یہ تعلق قائم کرنے سے محروم رہتی ہیں، وہ اس مقصد میں کامیاب ہونے والی پارٹی کو نشانے پر لینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔
گزشتہ سال تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کے موقع پر شاید عسکری قیادت وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ایک طرف عمران خان کو مکمل اعانت کا یقین دلوایا جا رہا تھا تو دوسری طرف پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کو مل کر عمران خان کے خلاف اتحاد قائم کرنے اور عدم اعتماد لانے پر آمادہ کیا جا رہا تھا۔ اگرچہ اب ان پارٹیوں کا یہی کہنا ہے کہ عمران خان مرضی کے فوجی لیڈر متعین کر کے ملکی اقتدار پر طویل عرصہ تک قابض رہنے کا منصوبہ بنا رہے تھے لیکن انہوں نے آج تک اس سوال کا شافی جواب نہیں دیا کہ پھر اپوزیشن پارٹیوں کے طور پر ایک ’غیر مقبول‘ حکومت کے خلاف عدم اعتماد لانے کے لیے اسٹبلشمنٹ یا فوجی قیادت کا ساتھ حاصل کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی تھی۔ یا انہیں کن وعدوں یا ارادوں تکمیل کے لیے یہ راستہ اختیار کرنا پڑا تھا۔
یادش بخیر پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی عمران خان کو ’نامزد وزیر اعظم‘ قرار دے کر یہ تاثر دیتے رہے تھے کہ انہیں 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے اقتدار دیا گیا تھا۔ اپریل 2022 میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے لیے عسکری لیڈروں کی ہمدردی حاصل کرتے ہوئے کیوں اس اصول کو یاد نہیں رکھا گیا کہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل کر سیاسی اتھل پتھل کے نتیجے میں جو بھی حکومت قائم ہوگی، اس کے اختیارات محدود اور عوامی قبولیت بے یقینی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ 16 ماہ تک وزارت عظمی کے مزے لینے والے شہباز شریف اور ان کی پارٹی مسلم لیگ (ن) کو اب سیاسی طور سے غیررسمی طریقے سے حاصل کیے گئے اقتدار کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو سب سے بڑا یہی چیلنج درپیش ہے کہ عوام کو کیسے یقین دلوایا جائے کہ وہی ملک کو درپیش معاشی، سیاسی و سفارتی مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس کشمکش میں مسلم لیگ (ن) نے تحریک انصاف کے دور حکومت میں اسٹیبلشمنٹ کو للکارنے کے جو نعرے ایجاد کیے تھے، اب ان سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اب ’ووٹ کو عزت دو‘ کی بجائے ’ملک بچاؤ‘ کا نعرہ ایجاد کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اور اقتدار تک پہنچنے کے لیے الیکٹ ایبلز کے ساتھ، اسٹبلشمنٹ کی نظر کرم اور کسی بھی قیمت پر تحریک انصاف کو منظر نامہ سے دور رکھنے کی کوششیں مسلم لیگ (ن) کی حکمت عملی کا باقاعدہ حصہ ہیں۔ پارٹی کا یہ طرز عمل اب اس حد تک عیاں ہو چکا ہے کہ ملکی میڈیا میں صاف طور سے مسلم لیگ (ن) کو آئندہ حکمران پارٹی کا درجہ دیا جا رہا ہے اور متعدد ’تجزیہ نگار‘ نواز شریف کو وزیر اعظم کے طور پر پیش کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ حالانکہ ملکی قانون کے مطابق نواز شریف تاحیات نا اہل ہیں اور کم از کم ایک مقدمہ میں سزا یافتہ بھی ہیں۔ سیاست کا پرانا کھلاڑی ہونے کے باوجود بادی النظر میں نواز شریف ایک بار پھر اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل کر حکومت کرنے کا جوا کھیلنے پر آمادہ ہیں۔ حالانکہ ایک زمانے میں اسٹبلشمنٹ کے پسندیدہ ’ونڈر بوائے‘ کے طور پر اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ عسکری قیادت سے اختیارات کی تقسیم کے سوال پر مسلسل کشمکش کا شکار رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری مسلم لیگ (ن) پر نئی کنگز پارٹی بننے کی پھبتی کستے ہوئے، اب اپنی سیاسی مہم جوئی کو نواز شریف کے خلاف مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ حالانکہ اسی پارٹی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت میں وہ وزیر خارجہ کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کی اس بدحواسی کی اصل وجہ یہ کہ آصف زرداری کی ’خدمات‘ کے باوجود اسٹبلشمنٹ شاید بلاول بھٹو زرداری کو وزیر اعظم کے طور پر قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو پنجاب میں پیپلز پارٹی کے مقابلے میں زیادہ عوامی مقبولیت حاصل ہے اور قیاس کیا جاتا ہے کہ تحریک انصاف کا زور توڑنے کے لیے شاید مسلم لیگ اور نواز شریف ہی سب سے مضبوط امید وار ہوسکتے ہیں۔ یا پھر اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اگرچہ نواز شریف کے بارے میں عسکری حلقوں میں ماضی کے تجربات کے حوالے سے تحفظات ہیں لیکن شہباز شریف بہر حال آصف زرداری کے مقابلے میں زیادہ ’قابل قبول‘ ہیں۔
پیپلز پارٹی اس سیاسی حقیقت کو تسلیم کرنے میں مشکل کا شکار ہے۔ اسی لیے کبھی مسلم لیگ (ن) کو کنگز پارٹی کا طعنہ دیا جاتا ہے اور کبھی نواز شریف کو ’مجرم‘ قرار دے کر بے وقعت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حالانکہ اگر پیپلز پارٹی خود بھی ’کنگز پارٹی‘ بننے کی خواہش پالتی رہی ہے اور اس میں ناکامی کے بعد اب مسلم لیگ (ن) کے خلاف منفی سیاسی مہم جوئی کرنے پر مجبور ہوئی ہے تو اسے خود اس سوال کا جواب دینا چاہیے کہ اگر پیپلز پارٹی بھی اسٹبلشمنٹ کو راضی کرنے کی اپنی سی کوشش کرتی رہی ہے اور اس میں کامیاب نہیں ہوئی تو وہی کام کسی دوسری پارٹی کے لیے کیوں کر ’معیوب‘ ہو سکتا ہے۔ یہ مضحکہ خیز صورت حال پیپلز پارٹی کے علاوہ تحریک انصاف کی طرف سے بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ یہ دونوں پارٹیاں خود کو ’اینٹی اسٹبلشمنٹ‘ سیاسی قوت کے طور پر لانچ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن وہ اپنی اس خواہش کو چھپاتی بھی نہیں ہیں کہ اگر فوجی قیادت انہیں ساتھ لے کر ملکی معاملات طے کرنا چاہے، تو وہ بخوشی اس ’خدمت‘ کے لیے راضی ہوں گی۔
ملکی سیاست کا یہی دوغلا پن درحقیقت ملک میں ’کنگز پارٹی‘ بنانے اور پھر اس کے ذریعے عوام کے حق حکمرانی کو کسی خاص طاقت کی مرضی و منشا کا محتاج کرنے کا سبب بنتا رہا ہے۔ یہ تماشا اس ملک کے عوام نے بار بار دیکھا ہے۔ اب ایک بار پھر اس کا اسٹیج تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ طریقہ غلط ہے۔ لیکن اسے تبدیل کرنے کے لیے تمام سیاسی پارٹیوں کو باہم مل کر یہ طے کرنا ہو گا کہ کوئی سیاسی پارٹی اسٹبلشمنٹ کو انتخابات میں دخل اندازی کا حق نہیں دے گی اور ایسی معاونت کی خواہش رکھنے والی کسی بھی پارٹی یا سیاسی گروہ کے ساتھ سیاسی رابطہ نہیں رکھا جائے گا۔ ایسا وسیع البنیاد اصولی اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے سب سیاسی پارٹیاں ایک ہی ’در کی سوالی‘ بنی دکھائی دیتی ہیں۔ البتہ کسی کو ’خیرات میں اقتدار‘ اور کسی کو دلاسا دیا جاتا ہے۔ جبکہ تحریک انصاف کی قسمت میں اس وقت ’دھتکار‘ لکھی گئی ہے۔
کنگز پارٹی بننے کا فوری فائدہ شاید اقتدار کا آسان حصول ہے اور اس کے بعد دو اڑھائی سال تک عسکری قیادت سے کوئی بڑا اصولی اختلاف پیدا ہونے تک حکومتی عہدوں کے مزے لینا ہے۔ البتہ اس وقت ملک معاشی لحاظ سے جس مشکل کا شکار ہے، اس میں ایسا کوئی انتظام شاید پاکستان کو آگے لے جانے کا باعث نہ ہو۔ یہی کنگز پارٹی بنانے اور پہلے سے چنے گئے گروہ کو اقتدار دینے کا بنیادی نقصان ہے۔ اس حوالے سے کنگز پارٹی کے منصب پر فائز ہونے والی کسی بھی پارٹی کو یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ایسی کوئی بھی سیاسی حکمت عملی نہ صرف جمہوری نظام کے لئے آئینی تقاضوں سے متصادم ہے بلکہ عوام میں بھی ایسی سیاسی قوتوں کے بارے میں ناراضی سامنے آنے لگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت اسٹبلشمنٹ مخالف نعرے سیاسی مقبولیت کا آسان راستہ سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ بیک وقت کئی سیاسی گروہوں کو امید دلانے کی عادی رہی ہے۔ اس وقت بھی مسلم لیگ (ن) شاید واحد ’پسندیدہ‘ پارٹی نہیں ہے بلکہ جہانگیر ترین کی قیادت میں قائم ہونے والی استحکام پارٹی اور پرویز خٹک کی پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز بھی امیدواروں میں شامل ہیں۔ انتخابات میں ان تینوں پارٹیوں میں نشستوں کے حوالے سے سیاسی اتحاد قائم کروانے کی کسی کوشش کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
اس دوران میں روزنامہ ڈان نے خبر دی ہے کہ نواز شریف ذاتی طور سے اس بات سے نالاں ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کو مستقبل کی کنگز پارٹی قرار دے کر بے اعتبار کرنے کی کوشش کی جائے۔ خبر کے مطابق انہوں نے پارٹی کی منشور کمیٹی سے کہا ہے کہ وہ پارٹی پروگرام پیش کرتے ہوئے یہ تاثر زائل کرنے کی کوشش کرے۔ البتہ ایسا تاثر محض خواہش کے اظہار یا منشور میں انقلابی جملے ڈالنے سے ختم نہیں ہو گا۔ نواز شریف جہاندیدہ سیاست دان ہیں۔ انہیں ایک گروہ کا لیڈر بننے کی بجائے قومی لیڈر بننے اور ملک میں مفاہمانہ سیاسی کلچر کو فروغ دینے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ تاہم نواز شریف یا مسلم لیگ (ن) ابھی تک پل تعمیر کرنے، تحریک انصاف کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیرمنصفانہ طرز عمل کا خاتمہ کرنے اور پیپلز پارٹی کے اندیشے دور کرنے کا کوئی موثر اقدام کرنے میں ناکام ہیں۔
اس طرز عمل سے لگتا ہے کہ نواز شریف اپنی سیاسی زندگی کی آخری اننگز کھیلتے ہوئے شاید وہ جست لگانے میں کامیاب نہ ہوں جس کے باعث انہیں کسی بڑے قومی لیڈر کا مرتبہ و مقام تفویض ہو سکے۔


