فلسطین اسرائیل تنازع اور مسلم ممالک


پہلی جنگ عظیم 1914۔ 1918 تک فلسطین پر سلطنت عثمانیہ کا کنٹرول رہا۔ جس میں عرب مسلمان اکثریت میں جبکہ یہودی اور عیسائی اقلیت میں تھے بیت المقدس تینوں مذاہب کے لیے اہم ہے۔ مسلمانوں کے لیے قبلہ اول، یہودیوں کے لیے ہیکل سلیمانی اور عیسائیوں کے لیے حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت۔ فلسطین کو انبیاء کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔

1924 میں سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو ترکی ایک سیکولر اور جمہوری ریاست کے طور پر ابھر کر دنیا کے نقشے پر آیا۔ تو اس سرزمین کو فرانس اور برطانیہ نے آپس میں تقسیم کیا۔ فلسطین برطانیہ کے کنٹرول میں چلا گیا تو بڑی تعداد میں یہودی دنیا کے دوسرے ممالک سے آنا شروع ہوئے جس سے لوکل مسلمان اور یہودیوں کے درمیان تنازعہ پیدا ہوا اور دونوں کے درمیان جھڑپیں ہونا شروع ہوئیں۔

اسی اثنا میں آسٹریا کے ایک یہودی صحافی نے 1897 میں صیہونی تحریک کی بنیاد رکھی تحریک کے مطابق ”یہودیوں کی ایک ریاست ہونی چاہیے یہودیت صرف مذہب ہی نہیں بلکہ ایک قوم ہے جس کی ایک ریاست ہو“ اس کا مقصد عرب کے فلسطینی لوگوں کی سرزمین پر ناجائز قابض ہونا تھا۔

2 نومبر 1917 کو بلفور معاہدہ ہوا جس کے تحت برطانیہ نے یہودیوں سے الگ ریاست کا وعدہ کیا۔ 1920 سے لے کر 1940 تک یہودیوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس علاقے میں آئے خاص طور پر دوسری عالمی جنگ عظیم 1939۔ 1945 کے دوران جب جر منی کے چانسلر ہٹلر نے یہودیوں کو چن چن کر ہلاک کیا تو یہودیوں نے فلسطین کا رخ کیا۔

1947 میں لوکل عربوں اور صیہونی تحریک کے درمیان کئی جھڑپیں ہوئیں تو اقوام متحدہ نے ووٹنگ کے ذریعے اس سرزمین کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ایک حصہ مسلم عرب کے لیے جس کو فلسطین جبکہ دوسرے یہودی ریاست اسرائیل کو قرار دے دیا جو کہ فلسطینیوں کے ساتھ کے ساتھ سراسر ناجائز ہے۔ مسلم دنیا نے اقوام متحدہ کے اس فیصلے کی بھرپور مخالفت کی۔ پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح نے بھی اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست قرار دیا کہ پاکستان کبھی بھی اس ناجائز ریاست کو تسلیم نہیں کرے گا۔

اب تک اسرائیل عرب تین جنگیں ہو چکی ہیں پہلی جنگ 1948 میں ہوئی جس میں اردن، مصر، شام اور عراق شامل تھے اس میں بدقسمتی سے عرب کو شکست ہوئی۔ اسرائیل ویسٹ بینک اور غزہ کے علاوہ تمام فلسطین پر کنٹرول حاصل ہو گیا۔ عرب اسرائیل دوسری جنگ 1967 میں ہوئی اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیل نے سینائی، غزہ اور یروشلم کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس جنگ کو 6۔ Days جنگ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ عرب اسرائیل تیسری جنگ 1973 میں ہوئی، جس میں عرب ممالک نے اپنے علاقے واپس لینے کے لیے اسرائیل پر حملہ کیا اور آئل کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔

اسرائیل کا اب بھی ویسٹ بینک پر کنٹرول ہے 2005 میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی سے اپنی فوجیں واپس بلا لیں۔ گزشتہ 50 سالوں میں دنیا کے مختلف یہودی اسرائیل میں آ کے آباد ہونے لگے تقریباً چھ لاکھ یہودی اسرائیل میں آ کے آباد ہوئے اسرائیل کے قانون کے مطابق کسی بھی دنیا کے ملک میں رہنے والے یہودی اسرائیل کی نیشنلٹی حاصل کر سکتے ہیں مگر انٹرنیشنل لاء کے مطابق یہ سیٹلرز غیر قانونی ہے مگر یہودی اس قانون کو نہیں مانتے۔

2007 میں حماس نے فلسطین کا اقتدار سنبھالا جو کہ ایک اسلامی مذمتی گروہ ہے حماس اور اسرائیل کے درمیان اب تک کئی جھڑپیں ہو چکی ہیں جس میں ہزاروں بے گناہ فلسطینی لوگ شہید ہو چکے ہیں۔

07 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کا اچانک حملے نے اسرائیل کے دفاعی نظام پر سوالیہ نشان اٹھانا شروع کر دیا ہے اس حملے کے بعد اسرائیل نے 23 لاکھ آبادی اور 140 مربع کلومیٹر پر محیط علاقہ غزہ کو مکمل طور پر بند کر دیا جس سے خوراک، پانی کا مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ فلسطینی منسٹری آف ہیلتھ کے مطابق اب تک 11451 ہزار فلسطینی مسلمان شہید، 29000 ہزار زخمی ہو چکے ہیں امریکی صدر وہ پہلے پریزیڈنٹ ہیں جو اسرائیل میں جا کر اسرائیل کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

مگر اس کے برعکس تیل کی دولت سے مالا مال عرب ممالک اور مسلم دنیا مذمت کے سوا کچھ نہیں کر سکے۔ اقوم متحدہ کے ایک ہنگامی اجلاس میں فلسطین اسرائیل جنگ کو فوری طور پر بند کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کے حق میں 120 جبکہ مخالفت میں 14 اور 45 ممالک نے ویٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ دوسری طرف ہفتے کو ہونے والی عرب لیگ اور مسلم ممالک کی سب سے بڑی اسلامی تنظیم او آئی سی کے مشترکہ اجلاس میں بھی کوئی خاص قسم کی پیش رافت نظر نہیں آئی اور مسلم دنیا اسرائیل اور فلسطین کے ایشو پر تقسیم ہوتی ہوئی نظر آئے۔

اس کی وجہ مشرقی وسطی میں ممالک کی تقسیم اور مسلم ممالک کا اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنا ہے۔ 15 ستمبر 2020 کو امریکہ ثالثی کے نتیجے میں یو اے ای، بحرین، مراکش اور سوڈان نے ابراہیم معاہدہ کے تحت اسرائیل کو تسلیم کیا۔ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی وجہ سے فلسطین اسرائیل تنازعہ حل کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ اگر مسلم دنیا اسی طرح اسرائیل کے ساتھ اپنا قومی مفاد کی بنیاد پر تعلقات رکھیں تو مستقبل میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔

Facebook Comments HS