چائلڈ لیبر کا خاتمہ اور سیاسی جماعتوں کے منشور


چائلڈ لیبر، جبری مشقت، جبری شادی، گھریلو بچہ مزدور یہ سب ہمارے آس پاس اپنی عمر اور صحت سے زیادہ ہمیں مشقت کرتے بچے نظر آئیں گے لیکن ہم بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو بس دیکھتے رہیں گے یا حکم چلاتے رہیں لیکن اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے نہ اس بچے کو مشقت کرنے سے روکیں گے۔ قوانین بنانے والے ارکان اسمبلی، ان پر عملدرآمد کروانے والے سرکاری افسران اور ججز کے گھروں میں کمسن بچے بطور گھریلو ورکرز کام کرتے نظر آئیں گے۔

جبکہ سب سے زیادہ معاشرے میں ان تین شعبوں سے وابستہ افراد کی ذمہ داری ہے کہ بچوں سے مشقت کو روکنا ہے لیکن ہمارے یہاں گنگا الٹی بہتی ہے۔ لاہور میں طیبہ تشدد کیس اور سندھ میں زہرا تشدد کیس اس کی تازہ مثالیں ہیں۔ کوئی عدالت کوئی پولیس جج کی بیوی یا سندھ کے پیر کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔ الٹا ان دونوں بچیوں کی فیملیوں پر صلح کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے آج نہیں تو کل ان بچیوں کے والدین صلح کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

فیوڈل ازم اور طاقتور پھر جیت جائیں گے۔ یہ سلسلہ پھر چلتا رہے گا۔ بہت سارے لوگوں کے لئے اب یہ کیسز معمول کی بات بن چکے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ ہمارے اندر انسانیت تقریباً ختم ہو جا رہی ہے۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے کہ پاکستان میں سب تماشائی ہے جو بچوں پر تشدد اور جبری مشقت کو خاموشی سے دیکھ رہے ہیں ان حالات میں بھی کچھ فرشتے موجود ہیں جو اس ظلم کے خلاف صرف آواز ہی نہیں اٹھا رہے بلکہ عملی طور پر بھی کام کر رہے ہیں۔

پاکستان میں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے زیر اہتمام چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے کچھ لوگ اپنے طور پر اس جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ان میں منورہ سلطانہ اور Valerie khan جیسی فرشتہ صفت خواتین اپنے طور پر جدوجہد میں مصروف ہیں جو مکمل ایک نیٹ ورک کے تحت چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں۔ منورہ سلطانہ آئی ایل او اور Valerie khan گروپ ڈویلپمنٹ پاکستان کے تحت یہ فریضہ سرانجام دے رہی ہیں۔ میں گزشتہ 14 سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہوں۔

ہمیشہ کسی سماجی تنظیم کے پروگرام میں دیکھا ایک این جی او کی خاتون ڈائریکٹر چائلڈ لیبر پر لیکچر دیتی ہیں پھر کچھ دیر بعد ایک رکن اسمبلی خاتون ڈائس پر آتی ہیں تو اگر ان کا تعلق حکومت سے ہوتو اپنی حکومت کے کارنامے بتاتی ہے اگر اپوزیشن سے ہوتو حکومت وقت کی برائیاں کرتی نظر آتی ہیں۔ لیکن میں نے اپنے صحافتی کیریر میں پہلی بار گزشتہ روز آئی ایل او کے تحت ایک ورکشاپ اٹینڈ کی جس میں باقاعدہ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے کام کرنے جن چند ہیرو ملے جن کو میڈیا یا سوشل میڈیا پر کبھی کوئی پذیرائی نہیں ملی اور نہ حکومتی سطح پر ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔

کم عمر بچے زیادہ موٹرسائیکل کی ورکشاپس، چائے یا کھانے والے ہوٹلوں، گھروں میں کام کرتے نظر آئیں گے یا گلیوں سے کچرا اٹھاتے ملیں گے۔ ان سب جگہوں پر کم عمر بچوں کو کام سے روکنا اور تعلیم کی طرف متوجہ کرنا ایک بہت بڑا فریضہ ہے۔ اس ورکشاپ میں گرلز گائیڈز، سکاؤٹ بوائز، ہونڈا و ٹیوٹا کمپنی، ٹریڈ یونین، سول سوسائٹی، سٹوڈنٹس، سرکاری افسران او ر پولیس افسران موجود تھے۔ یہ سب لوگ اپنے طور پر کم عمر بچوں کو ورکشاپس، ہوٹلوں اور گھروں میں کام کرنے سے روکنے کے ساتھ سکولوں تک پہنچانے کی فرائض سرانجام دیتے ہیں۔

یہ میرے لیے بہت حیران کن بات تھی کہ اس دور میں بھی کچھ ایسے لوگ ہمارے معاشرے میں موجود ہیں جو اپنے بچوں کے علاوہ بھی غریب کے بچوں کو سکولوں میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ سب لوگ بغیر حکومتی وسائل کے اپنی مدد آپ کے تحت غریب کے بچوں کو تعلیم دلوا رہے ہیں۔ صرف بچوں کو تعلیم ہی نہیں دلواتے بلکہ ان بچوں کو ماہانہ جیب خرچ بھی دیتے اور ان کے اہلخانہ کے لئے اتنی اجرت جو ایک بچہ ماہانہ کام کر کے کماتا ہے اس کا راشن بھی خرید کر دیتے ہیں۔

حقیقت میں یہ ایک بہت بڑی نیکی ہے۔ پاکستان میں جبری مشقت، گھریلو بچہ مزدور سے متعلق قوانین موجود ہیں ان پر عملدرآمد کروانے والے بھی موجود ہیں لیکن عوام میں آگاہی مہم چلانے والے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سیاسی جماعت کہتی نوجوان ہمارے ساتھ ہیں آج کا نوجوان کل کا معمار ہے۔ لیکن غریب کے بچوں کسی سیاسی جماعت کے منشور کا حصہ نہیں ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے اپنے پارٹی منشور میں چائلڈ لیبر کے مکمل خاتمے کو بھی شامل ہیں۔

پاکستان میں ڈیڑھ کروڑ کے قریب بچے سکول نہیں جاتے ہیں یہ بچے صرف غریب لوگوں کے ہیں۔ جبکہ انہی غریبوں کے ووٹ سے سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی ہیں۔ اگلی حکومت جس جماعت کی بھی آئے ان کو چاہیے ہر طرح کی چائلڈ لیبر کو غیر قانونی قرار دیں اور جو ہمارے ہیرو اس کے خاتمے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں ان کا حکومتی سطح پر اعتراف کیا جائے اور ان کو اعزاز سے نوازا جائے۔

Facebook Comments HS