قاضی فائز عیسیٰ تاریخ کے صفحات میں کہاں کھڑے ہوں گے


ماضی خیال، مستقبل خیال اور حال حقیقت حال ہی سے مستقبل کی سمت کا تعین کیا جاتا ہے حال بدحال ہو تو اس کے اسباب جان کر انھیں دور کر کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ اگر بات قوم و ملک کے مستقبل کی ہو تو پھر عہدوں پر بیٹھے اشخاص کی ذمہ داریاں اور بڑھ جاتی ہیں کہ وہ بدحالی کا کارن بننے والوں کی نشاندہی کر کے انھیں ملکی قانون کے مطابق سزا دیں۔

گزرے روز قاضی القضاۃ قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فیض آباد دھرنا عملدرآمد نظرثانی کیس کی سماعت کی۔ بنچ نے شیخ رشید کی بھی طلبی کر رکھی تھی۔ کیس کی سماعت شروع ہوئی تو شیخ رشید اور ان کے وکیل روسٹرم پر آ کھڑے ہوئے۔

قاضی القضاۃ قاضی فائز عیسیٰ نے شیخ رشید کے وکیل سے استفسار کیا کہ کس نے کہا تھا کہ نظرثانی دائر کریں جس پر روسٹرم پر کھڑے شیخ رشید نے عدالت کو بتایا کہ کچھ غلط فہمیوں نے جنم لیا تھا جس کے کارن نظرثانی درخواست دائر کی گئی یہاں قاضی القضاۃ نے ریمارکس دیے کہ جانتا ہر ایک ہے مگر سچ بولنا کوئی پسند نہیں کرتا۔

شیخ رشید کے وکیل سردار عبدالرزاق نے عدالت کو بتایا کہ آج کل تو سچ بولنا بہت مشکل ہے بلکہ ہمت والوں کا کام ہے جس پر امام القاضیان نے انھیں کہا کہ ”آج کل کی بات نہ کریں“ 2014 ء کے دھرنے کی بات کریں۔

جس وقت امام القاضیان یہ کہہ رہے تھے تو سوالات ہتھوڑے بن کر میرے ذہن پر برس رہے تھے میں ٹھہرا جو پتر کار ہم عدالت میں سوال نہیں اٹھا سکتے ہم کسی قاضی یا قاضی القضاۃ کے منہ سے نکلے الفاظ صرف رپورٹ کر سکتے ہیں۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ قاضی القضاۃ نے شیخ رشید کے وکیل کو حال کی بات کرنے سے روک دیا تو بصد احترام جان کی امان پاؤں تو پوچھنا مقصود تھا کہ فیض آباد دھرنا تو خادم رضوی نے دیا تھا اس میں طاہر القادری کا دور دور تک نام نہیں تھا پھر سماعتوں کے دوران قاضی القضاۃ قاضی فائز عیسیٰ کینیڈا کا نام لے کر بار بار کیوں طاہر القادری کو بیچ میں لاتے تھے۔ ان کے حوالے سے جو ریمارکس دیے جاتے تھے ایسا لگتا تھا کہ فیض آباد دھرنا کے روح رواں خادم رضوی نہیں بلکہ طاہر القادری ہیں اور وہ کٹہرے میں کھڑے ہیں۔

قاضی القضاۃ اگر حقیقی معنوں میں مملکت خداداد پاکستان کی کل سیدھی کرنا چاہتے ہیں تو انھیں فیض آباد دھرنے کے ساتھ ساتھ اس کی بھی کھوج لگانی چاہیے کہ وہ کون ہے جو سچ بولنے والوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے ان پر اس دھرتی کی زمین تنگ کر دی جاتی ہے۔ سب کو کٹہرے میں لا کر انھیں آئین اور قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ اگر کٹہرے میں مخصوص لوگوں کو لانا ہے تو پھر تاریخ کے صفحات میں آپ کہاں کھڑے ہوں گے اس کا یقیناً آپ کو ادراک ہے۔

Facebook Comments HS

بشارت راجہ

بشارت راجہ شہر اقتدار سے پچھلی ایک دہائی سے مختلف اداروں کے ساتھ بطور رپورٹر عدلیہ اور پارلیمنٹ کور کر رہے ہیں۔ یوں تو بشارت راجہ ایم فل سکالر ہیں مگر ان کا ماننا ہے کہ علم وسعت مطالعہ سے آتا ہے۔ صاحب مطالعہ کی تحریر تیغ آبدار کے جوہر دکھاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وسعت مطالعہ کے بغیر نہ لکھنے میں نکھار آتا ہے اور نہ بولنے میں سنوار اس لیے کتابیں پڑھنے کا جنون ہے۔

bisharat-siddiqui has 157 posts and counting.See all posts by bisharat-siddiqui