میانمار میں بڑھتی کشیدگی


تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس ہفتے پھر سے حکومتی اداروں اور باغی قبائل کے لشکروں کے مابین جھڑپوں میں 26,000 افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ یورش کا شکار ملک کی مغربی ریاست راکھینی ایک مرتبہ پھر جنگ و جدل کا محور بن گئی ہے۔ سرکاری فوج اور اراکانی افواج کے مابین یہ تنازعہ نیا تو نہیں ہے مگر اس کی حدت و شدت وقت کی منجدھار کے ساتھ ساتھ اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے۔ سرکاری فوج کو ایک یورش کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو مشرقی اور شمالی علاقوں میں روز افزوں ہے۔

تازہ واقعات میں اب تک 11 باغی جاں بحق ہو گے ہیں۔ UNOCHA کے مطابق باغی قبائلی جتھوں نے کچھ پولیس اسٹیشنوں پہ قبضہ کر لیا تھا تو فوج نے ان پہ بھاری ہتھیاروں اور ہیلی کاپٹروں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں بہت سے لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے۔ یہ واقعات دارالحکومت ستوا کے قریب ہوئے۔ زندگی عملاً مفلوج ہوکے رہ گئی ہے اور ہزارہا افراد محفوظ مقامات پہ نقل مکانی کرنے پہ مجبور ہو گئے ہیں۔ 100 سے زائد لوگ گرفتار بھی کرلئے گئے ہیں۔

یہ قبائل برس ہا برس سے اپنے علاقہ راکھینی جو بنگلہ دیش کی سرحد سے ملحقہ صوبہ ہے کی آزادی و خودمختاری کی خاطر برسر پیکار ہیں۔ اب چین سے ملحقہ صوبۂ شان کے اندر موجود دوسرے ہم خیال باغیوں کے ساتھ ان کا الحاق ہو چکا ہے اور وہ باہم مل کر آزادی کی خاطر جدوجہد کرنے پہ آمادہ نظر آتے ہیں۔ اس میں میانمار قومی جمہوری متحدہ محاذ آرمی MNDAA اور تانگ نشنیل لیبریشن آرمی TNLA نے شمالی علاقوں کو ملانے والی شاہراہ کو بند کر دیا ہے۔

2021 میں وہاں کی جمہوری حکومت جس کی سربراہ ایک انتہائی مقبول عام قائد تھیں انہیں حکومت سے نکالا گیا اور گرفتار کر کے پابند سلاسل کر دیا گیا تب سے سارے ملک کے طول و عرض میں بدامنی پھیل رہی ہے جس کی وجہ سے کل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے بھی انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دراصل یہ ایک قدیم روایات رکھنے والے قبائل پہ مشتمل ملک ہے، خاصا وسیع و عریض ہے اور اس کی کچھ ریاستوں کی سرحدیں بھارتی صوبے میزورام سے بھی ملتی ہیں، شمالی علاقے چین سے ملحقہ ہیں، بنگلہ دیش سے بھی سرحد ملتی جلتی ہے اور وہاں کی تہذیب و ثقافت کی گہری چھاپ یہاں بھی دکھائی دیتی ہے اب یہ سارے پڑوسی نسبتاً خوشحال اور متمول سمجھے جاتے ہیں اور جمہوری معاشرے کے فیوض و برکات سے فیضیاب ہو رہے ہیں تو اس کا لامحالہ اثر ان قریبی ریاستوں میں بھی ہو رہا ہے جس کی اصل وجہ ان کی جمہوری آزادیوں پہ ناروا پابندیاں ہیں ملک کی ایک مقبول عام قومی رہنما آنگ سان سو چی کو 2021 کے انتخابات میں ازحد مقبولیت ملی لیکن افواج کو یہ بات پسند نہ تھی لہذا من گھڑت انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کے تحت انہیں گرفتار کر کے پابند سلاسل کر دیا گیا ہے اور اب بڑی ردو قد کے بعد اگلے عام انتخابات کا وعدہ تو کر لیا گیا ہے مگر ایفائے عہد کب ہو گا یہ غیر یقینی بات ہے کیونکہ فوجی جنتا کے سربراہ کو بدامنی کا خوف درپیش ہے جس سے وہ جذبذ ہو کر ٹال مٹول اور حیلہ بانیوں سے اس عمل کو ملتوی کر کے معاملات تادیر اپنے مضبوط آہنی ہاتھوں میں ہی مرتکز کرنا چاہتے ہیں۔

جبکہ ملک کے طول و عرض میں مرکز گریز قوتیں متحد ہو کر آزادی کے لئے برسر پیکار ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ وابستہ ناروا سلوک اور ظلم و ستم سے تو سبھی واقف ہیں اور ہم انہیں کالموں میں ان کا تفصیلی جائزہ لے چکے ہیں لہذا اب دیگر اقوام کی بے چینی کا ذکر کر دیا کہ صورتحال ذرا واضح ہو سکے۔ میانمار میں امن و سکون کی واپسی جمہوری حکومت کی واپسی سے ہی منسلک ہے۔ ورنہ یہ تشنہ خامی کچھ سنگین نتائج پہ ہی منتج ہو سکتی ہے۔

Facebook Comments HS