بھارت 2023 کرکٹ ورلڈ کپ کا فائنل کیوں ہار گیا؟
بھارت 2023 کرکٹ ورلڈ کپ کا فائنل کیوں ہار گیا؟ یہ وہ سوال ہے جو اس وقت تقریباً ڈیڑھ ارب بھارتیوں کی زبان پر ہے۔ اگر کاغذوں پر دیکھا جائے تو ہوم گراؤنڈ کی وجہ سے بھارت آسٹریلیا سے بہتر ٹیم تھی۔ بھارتی بلے بازوں کے بلے رنز اگل رہے تھے، اور ان کے گیند بازوں کی گیندیں ایسے لہرا رہیں تھیں کہ یار لوگوں کو گمان ہوتا تھا کہ بھارتیوں کو کوئی خاص گیند دی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کی گیند بازی میں اتنا سوئنگ آتا ہے۔ تاہم فائنل میں نا تو بھارتی بلے بازوں نے کوئی کرشمہ دکھایا اور نا ہی باؤلرز کا جادو چمکا۔ لیکن اس کی وجہ کیا تھی؟ میری نظر میں بھارت کی شکست کی دو وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ ہوم کنڈیشنز کا غیر ضروری فائدہ لینے کی کوشش کی گئی اور یہ چالاکی بھارت ہی کے گلے پڑ گئی یا آپ ایسا کہ لیں کہ بھارت نے جو گڑھا آسٹریلیا کے لیے کھودا وہ خد اس میں جا گرا۔ سیمی فائنل میں بھی بھارت نے آخری وقت میں پچ کو تبدیل کیا لیکن بھارتی کرکٹ بورڈ کے اثر و رسوخ کی وجہ سے آئی سی سی نے اس معاملے کو نظر انداز کر دیا۔
بھارت نے احمد آباد میں کھیلے جانے والے فائنل میں ویسی ہی پچ بنانے کی کوشش کی جو پاکستان کے خلاف بنائی تھی جو اسی میدان پر کھیلا گیا تھا، اور بھارت کو پاکستان کے خلاف کامیابی ملی تھی، لیکن فائنل میں جو پچ بنائی گئی وہ آسٹریلین پیس بیٹری کو دیکھتے ہوئے اور بھی سلو بنائی گئی تاکہ آسٹریلیا کی ٹیم کوئی فائدہ نا لے سکے، لیکن یہ پلاننگ کرتے ہوئے بھارتی ٹیم کے کرتا دھرتا یہ بات نظر انداز کر گئے کہ اگر آسٹریلیا ٹاس جیت گیا تو کیا ہو گا؟
کوئی بھی سلو وکٹ دوسری اننگ میں مزید سلو ہو جاتی ہے، اس موسم میں برصغیر کے تقریباً ہر علاقے میں شام کے وقت اوس گرتی ہے، گیلی گیند کی وجہ سے باؤلرز گیند کو سوئنگ نہیں کر سکتے، اگر بال بھی گیلی ہو اور پچ بھی گیلی ہو تو آج تک تو کوئی باؤلر گیند کو سوئنگ نہیں کروا سکا ہے۔ ایسی پچ پر پیس باؤلرز باؤنس کر کے پھر بھی شاید کچھ فائدہ لے سکتے ہیں مگر بھارت کے پاس پیس باؤلرز کا خانہ خالی ہے ان کے گیند باز میڈیم سلو ہیں جو پورے ٹورنامنٹ میں نپی تلی گیند بازی سے بلے بازوں کو پریشان کرتے رہے، نا کہ اپنی رفتار سے۔
فائنل میں ٹاس آسٹریلیا جیت گیا، آسٹریلیا کا کپتان اور تھنک ٹینک بھارتیوں سے زیادہ چالاک ثابت ہوا، جب کہ روہیت شرما نے کہا تھا کہ اگر وہ ٹاس جیتتے تو پہلے بیٹنگ ہی کرتے۔ پیٹ کمنز نے ٹاس جیت کر بھارت کو بیٹنگ کرنے کی دعوت دے کر سب کو حیران کر دیا۔ پیٹ کمنز اور آسٹریلوی تھنک ٹینک نے احمد آباد کی اس پچ کو بھارتیوں سے بہتر طور سمجھ لیا تھا، ان کو پتا تھا کہ بھارتی گیند بازوں میں کوئی بھی انتہائی تیز رفتار گیند باز نہیں ہے، دوسری اننگز میں پچ سلو بھی ہوگی اور اوس کے باعث بیٹرز کے لیے رنز لینا میٹھا حلوہ کھانے جیسا ہو گا۔ اور وہی ہوا، آسٹریلوی بیٹرز نے بھارتی باؤلنگ کا بھرکس نکال دیا اور بھارت کے ورلڈ کپ جیتنے کا خواب چکنا چور کر دیا۔ بھارت کے بارے میں یہ کہا جائے تو غلط نا ہو گا کہ "لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا”۔
اب بات کرتے ہیں دوسری اور سب سے اہم وجہ پر۔ کوئی بھی مقابلہ جیتنے کے امکانات اس وقت تک زیادہ ہوتے ہیں جب تک ہوش مندی کا دامن نا چھوڑا جائے، کسی بھی مقابلے میں جب ہوش سے زیادہ جوش کو اہمیت دی جائے اور جذبات دماغ پر حاوی ہو جائیں تو ہارنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، بھارت 2011 سے تقریباً ہر بڑے ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل یا فائنل تک رسائی حاصل کرتا ہے، لیکن کوئی بھی ٹورنامنٹ نا جیت کر جوکر بن جاتا ہیں اور تضحیک کا نشانہ بنتا ہے۔
جب کہ آسٹریلیا اگر فائنل مرحلے پر پہنچتا ہے تو زیادہ تر ٹورنامنٹ جیت جاتا ہے۔ اس کی وجہ پلاننگ اور آسٹریلوی کھلاڑیوں کی بہتر ذہنی تربیت ہے۔ بھارتی کھلاڑی، آسٹریلین کھلاڑیوں سے صلاحیت میں کم نہیں تھے، مگر آسٹریلین کھلاڑیوں نے اپنے آپ ذہنی طور پر بھارتی کھلاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور بالغ ثابت کیا، بھارتی بیٹرز کا رویہ گلی محلے کے جارح لڑکوں کی طرح تھا جنہوں نے آتے ہی جارحانہ انداز اپنا کر مخالفین کو دباؤ میں لینے کی کوشش کی اور جب الٹا مخالف ٹیم نے دباؤ میں لیا تو جھاگ کی طرح بیٹھ گئے اور کئی اوورز تک کوئی باؤنڈری بھی نا لگا سکے اور ساری ٹیم 240 کے مجموعے پر ڈھیر ہو گئی، اپنے آپ کو حریف سے بہتر سمجھنے کے زعم میں روہیت شرما میکس ویل جیسے پارٹ ٹائم باؤلر کو بچگانہ انداز میں وکٹ دے بیٹھے۔
بھارتی کھلاڑیوں کے اس طرز عمل کی وجہ شاید ان کا قومی مزاج بھی ہے، بھارتی ایک جذباتی قوم ہیں، ان کی فلموں اور رہنماؤں کے رویے سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نرگسیت یا خاص قسم کے احساس برتری کا شکار ہیں، مخالفین کی تضحیک ان کو چھوٹا سمجھنا بحیثیت مجموعی ان کی سوچ کی عکاس ہے۔ خاص طور کرکٹ میں بھارتی اپنے کھلاڑیوں کو دیوتا سمجھتے ہیں وہ کھلاڑیوں کو صرف جیتتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہارنے کی گنجائش ان کے ہاں نہیں ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ڈیڑھ ارب لوگوں کا دباؤ بھارتی کرکٹ ٹیم کو فائنل میں لے ڈوبا۔


