اور شراب پینے والی ٹیم جیت گئی!


نہ گراؤنڈ میں کوئی سجدہ، نہ انٹرویو کے شروع میں بسم اللہ کی گردان، نہ ہی کسی کھلاڑی کی مذہبی داڑھی اور نہ ہی جیت کے بعد رب کریم کا شکر ادا کرنا۔ یہ کیس آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم ہے جو جیتنے کے بعد جوتے میں شراب ڈال کر پیتے ہیں اور اپنی فتح کا جشن مناتے ہیں۔

یہ کیسی آسٹریلیا کی ٹیم ہے جو صرف اپنی محنت، صلاحیت اور منصوبہ بندی پر یقین رکھتی ہے۔ انڈیا کے ساتھ فائنل میچ سے قبل آسٹریلیا کے کپتان نے پچ کی تصویریں لی اور آسٹریلیا میں موجود پچ کیوریٹرز کو بھیجیں تاکہ وہ اپنی ماہرانہ رائے دے سکیں کہ پچ کا رویہ کیسا ہو گا۔ یہی تصویریں آسٹریلوی اسپنر نیتھن لائن کو بھیجی گئیں تاکہ وہ بھی اپنی ماہرانہ رائے دے سکیں اور انڈیا کی مضبوط بیٹنگ لائن کو کم سے کم رنز پر آؤٹ کیا جا سکے اور ٹاس جیتنے پر پہلے بیٹنگ یا بولنگ کا فیصلہ کیا جا سکے۔ ٹاس جیت کر آسٹریلیا نے پہلے بولنگ کا جو فیصلہ کیا وہ مکمل منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا۔

نہ ان کی ٹیم میں کوئی سیاست اور نہ ہی کوئی کپتانی کی جنگ۔ وہ کافر سوچ بھی نہیں سکتے کہ اگر اس کی جگہ کسی اور کو کپتان بنا دیا گیا ہے تو وہ ناراض ہو کر اس کھلاڑی کی کپتانی میں انڈر پرفارم کرے گا اور اہم موقع پر اگر بیٹسمین ہے تو آؤٹ ہو جائے گا اور بولر ہے تو خراب بولنگ کرے گا۔ لیکن ہم مسلمانوں کی ٹیم میں جلن اور حسد رگ رگ میں بسی ہوئی ہے۔

ابھی حال ہی میں ایک بہت پرانا میچ دیکھا جس کی کپتانی جاوید میانداد کر رہے تھے۔ بینسن اینڈ ہیجز کا یہ اہم میچ پاکستان جیت سکتا تھا لیکن ایک عظیم آل راؤنڈر نے انڈر پرفارم کیا۔ کمنٹیٹرز بھی کہہ رہے تھے کہ پتا نہیں کیوں اس کے رن اپ میں اور باولنگ میں وہ جان نہیں ہے۔ ایسا ہی کچھ حال کے مشہور بیٹسمین نے سرفراز احمد کی کپتانی میں کیا۔ اور پھر اس مشہور بیٹسمین کی کپتانی میں ایک مشہور بالر نے جن کو اب کپتان بنا دیا گیا ہے۔ ہمارے یہاں یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا۔ دیکھئے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض!

ہمیں ہارنے سے کوئی مایوسی نہیں ہے۔ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے۔ لیکن کسی کھلاڑی کے ساتھ زیادتی اور نا انصافی نہیں ہونی چاہیے۔ ایک غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بچے کو کرکٹ کا شوق ہے۔ وہ بچپن سے ہی کرکٹ میں بہت اچھا ہے۔ وہ انڈر 16 کھیلتا ہے۔ اچھا پرفارم کرتا ہے۔ وہ ترقی کرتے ہوئے قاعد اعظم ٹرافی بھی کھیلتا ہے۔ وہ رنز کا انبار لگا دیتا ہے اور ٹاپ کے تین بلے بازوں میں آتا ہے۔ لیکن جب پاکستان کی ٹیم کا اعلان ہوتا ہے تو چیف سلیکٹر انضمام الحق کے بھتیجے امام الحق کو منتخب کیا جاتا ہے جن کے رنز قائداعظم ٹرافی کے میچز میں 13 نمبر پر تھے۔

کتنا دل ٹوٹا ہو گا ان بلے بازوں کا جو امام الحق سے ہر لحاظ سے بہتر تھے لیکن جان پہچان کی وجہ سے منتخب نہ ہو پائے۔ یہ تو ایک مثال تھی۔ میں اس جیسی سینکڑوں مثالیں دے سکتا ہوں۔ کوئی کھلاڑی کسی وزیر کی سفارش پر کھیل رہا ہے تو کوئی کسی مشہور بینکر، تاجر اور شوگر مل اونر سے تعلقات کی بنا پر۔ یہ چیزیں آپ کافر ملک آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں تو کر کے بتائیں۔ پھر اس پر زعم یہ کہ ہم تو مسلمان ہیں اور ہمارے لئے خدا کی نصرت آئے گی۔ اس بے ایمانی اور بد نیتی کے ساتھ خدا کی نصرت نہیں، خدا کے عذاب آتے ہے۔

یہ صرف کرکٹ کا حال نہیں بلکہ ہر محکمے اور ادارے میں نفرت اور سیاست ہے۔ نفرت اور عدم برداشت ہمیں کھا رہے ہیں اور کھوکھلا کر رہے ہیں۔ انڈیا فائنل میں ہار گیا تو ہم خوشیاں منا رہے۔ دوسرے کی ہار پر خوشی منانا، دوسروں کو رسوا کرنا، مذاق اڑانا، جگتیں مارنا، ہم نے یہی سیکھا ہے۔ عبدالرزاق ہوں یا رمیز راجہ، تعلیم کا کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کم تعلیم یافتہ عبدالرزاق نے ایشوریا رائے کے بارے غیر اخلاقی گفتگو کی تو پڑھے لکھے رمیز راجہ نے بھی ویوین رچرڈز کے رنگ کے متعلق گری ہوئی گفتگو پر بے تکی ہنسی دکھائی۔

ہمارا حس مزاح بہت ہی خراب ہے۔ ہم لوگوں کی توہین کر کے سمجھے ہیں کہ ہم مذاق کر رہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں ایک ڈرامہ ”کابلی پلاؤ“ دیکھا جو میرے ایک دوست نے کافی زور دے کر دیکھنے کا کہا۔ ڈرامہ ایک پچاس سالہ حاجی صاحب کے گرد گھومتا ہے جن کی شادی غیر معمولی حالات کے تحت ایک انتہائی خوبصورت 20 سالہ افغانی لڑکی سے ہو جاتی ہے۔ جب یہ بات محلے والوں اور خاندان والوں کو پتا چلتی ہے تو وہ حاجی صاحب کا بہت مذاق اڑاتے ہیں اور حاجی صاحب خاموشی سے کھڑے سب کچھ سن رہے ہوتے ہیں۔ جس پر حاجی صاحب کا افغانی سالا ان سے پوچھتا ہے کہ حاجی صاحب آپ اتنی باتیں سن کر بھی کچھ نہ بولا۔ جس پر حاجی صاحب اس افغانی کو جواب دیتے ہیں ”تم لوگ دشمنی میں قتل کرتے ہو، ہم ایک دوسرے کو ذلیل کرتے ہیں“ ۔

اور شاید یہی ہمارے معاشرے کی سچائی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments