سیاست کے بابے اور نوجوانوں کی سیاست


اس وقت ملک میں بلاول بھٹو زرداری اور آصف زرداری کے حوالے سے دلچسپ بحث ہو رہی ہے۔ کچھ عناصر اسے نورا کشتی سمجھ کر نظر انداز کرنا چاہتے ہیں تو بعض کے خیال میں یہ دو نسلوں کی سوچ کا تفاوت ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا موقف ہے کہ ملکی سیاست پر حاوی عمر رسیدہ سیاست دان اپنا وقت گزار چکے ہیں، اس لئے انہیں سیاست سے علیحدہ ہو کر نئی نسل کو آگے بڑھنے اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کا موقع دینا چاہیے۔

آصف زرداری نے بلاول کے موقف کو ناتجربہ کاری اور نوجوانی کا جوش قرار دیا ہے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ وقت اور تجربے کے ساتھ وہ خود ہی سیکھ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں زیادہ روک ٹوک کروں گا اور نئی نسل کا نمائندہ ہونے کے ناتے وہ صاف یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ’بابا آپ کو کیا پتہ‘ ۔ بلاول اور آصف زرداری کا باہمی اختلاف اگر موجود ہے بھی تو بھی یہ دونوں ایک ہی پارٹی کے پلیٹ فارم سے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر ہی آگے بڑھیں گے۔ ان میں سے کسی کا سیاسی ’ویژن‘ اس قدر ’اندھا‘ دکھائی نہیں دیتا کہ وہ سیاسی اصولوں کے لیے دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کر سکتا ہے۔ (واضح رہے یہاں کنارہ کشی کا لفظ سیاسی حکمت عملی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اس لفظ سے باپ بیٹے میں ذاتی اختلاف یا دوری کا اشارہ دینا مقصود نہیں ہے ) ۔

حال ہی میں بلاول کی سیاسی تقریروں کا جائزہ لیا جائے تو وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سیاسی پارٹیوں کو ایک واضح حکمت عملی اور منشور کے لیے کام کرنا چاہیے اور اسی کی بنیاد پر سیاسی پلیٹ فارم تشکیل دیے جا سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے ’سیاسی بابوں‘ کو ریٹائر ہونے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کی اس بات کو اصولی طور سے تسلیم کیا جانا چاہیے۔ یادش بخیر ان سطور میں متعدد بار یہ اصرار کیا جا چکا ہے کہ پاکستانی سیاست پر حاوی 70 برس سے زائد عمر کے بزرگوں کو اب سیاسی میدان نوجوان نسل کے لیے کھلا چھوڑ دینا چاہیے تاکہ وہ نئے عہد میں خود مختاری سے فیصلے کر کے ملک کو نئی قیادت فراہم کرسکیں۔ اس حوالے سے یورپی پارلیمانی جمہوریت کی مثالیں بھی دی جاتی رہی ہیں کہ کیسے ہر پارٹی ہمہ وقت سیاست میں نوجوانوں کو موقع دینے کے لیے متحرک رہتی ہے۔ عملی سیاست میں ایک حد تک کردار ادا کرنے کے بعد سینئر سیاست دان سیاست سے ریٹائرمنٹ لے کر کتابیں لکھتے ہیں اور اپنے تجربات بیان کرتے ہیں۔ تاکہ ان سے سبق سیکھا جا سکے اور تاریخ کا ریکارڈ بھی درست رہے۔

بار بار اصرار کے باوجود دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں اب تک ایسی کوئی روایت قائم کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔ کوئی بھی لیڈر عملی سیاست سے علیحدہ ہونے کو ’گالی‘ کے مترادف سمجھتا ہے۔ آصف زرداری نے بھی بلاول بھٹو کو ہی ناتجربہ کار اور سیاسی فہم سے ’عاری‘ قرار دیتے ہوئے اصرار کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی پارلیمانی برانچ تو پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین (پی پی پی پی) ہے۔ اس کے صدر وہ خود ہیں اور سب امیدواروں کو وہی ٹکٹ دیں گے، حتی کہ بلاول کو بھی ان کی اجازت سے ہی پارٹی کا ٹکٹ ملے گا۔ گویا آصف زرداری بھی جو بلاول کو ملک کا وزیر اعظم بنوانے کی خواہش کا برملا اظہار کرچکے ہیں، اپنے سیاسی اختیار و مقام سے دست کش ہونے پر آمادہ نہیں ہیں۔ یہاں یہ مشاہدہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ ایک طرف آصف زرداری بلاول کو بچہ اور ناتجربہ کار کہہ کر پارٹی امور، سیاسی معاملات اور پارلیمانی فیصلوں میں مکمل خود مختاری دینے پر آمادہ نہیں ہیں لیکن اسی ’ناتجربہ کار بچے‘ کو 25 کروڑ آبادی کے ملک کا وزیر اعظم بنوانے پر مصر ہیں۔ حالانکہ پاکستان کو ہر شعبہ میں گوناگوں مسائل کا سامنا ہے جنہیں حل کرنے کے لیے سیاسی مہارت درکار ہوگی۔

یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ بلاول اور آصف زرداری کا اختلاف سیاسی حکمت عملی کے طور پر مختلف ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ساز باز سے اقتدار حاصل کرنے کی پرانی روش ترک کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے بعض اوقات وہ اپنی جوشیلی تقریروں میں اسٹبلشمنٹ کو للکارتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ جبکہ آصف زرداری کم از کم سندھ میں پیپلز پارٹی کا اقتدار محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہیں اندیشہ ہے کہ خود مختاری کے لیے زیادہ جوش و خروش کا مظاہرہ کہیں سندھ کے ہوم گراؤنڈ میں بھی پارٹی کے اقتدار کے لیے مشکلات کا باعث نہ بن جائے۔ زرداری مفاہمت کی سیاست کرنے کی شہرت رکھتے ہیں اور 2008 سے 2013 کے درمیان پیپلز پارٹی کی حکومت کے دورانیہ سے لے کر بعد کے سالوں میں انہوں نے اس سیاسی رویہ کو اسٹبلشمنٹ سے قربت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا ہے تاکہ وہ پیپلز پارٹی کو ملک پر حکمرانی کے لیے بہتر متبادل کے طور پر قبول کیا جا سکے۔ بظاہر بلاول بھٹو زرداری اس حکمت عملی کے خلاف ہیں۔

البتہ اس ’سیاسی اختلاف‘ کا یہ پہلو بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ اس معاملہ پر پارٹی کے کسی پلیٹ فارم پر گفتگو کر کے کوئی باقاعدہ سیاسی منصوبہ سامنے نہیں لایا گیا بلکہ صرف جلسوں میں تقریروں یا ٹی وی انٹرویوز کے ذریعے انہیں نمایاں کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ کسی بھی سیاسی تحریک کے لیے یہ طریقہ نامکمل اور ادھورا ہوتا ہے۔ اس لیے ملک کے ایک اہم سیاسی خانوادے کے باپ بیٹے کے درمیان ہونے والے اس سیاسی مکالمہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاسکتا۔ یہ اگر سیاسی حکمت عملی کا اختلاف ہے بھی تو باہمی ’اتفاق رائے‘ سے ہی اس کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اس کا دوسرا نمونہ نواز شریف اور شہباز شریف کے سیاسی موقف کے ’اختلاف‘ میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ان دونوں بھائیوں کا ’سیاسی اختلاف‘ بھی کبھی انہیں ایک دوسرے سے سیاسی طور پر دور نہیں کر سکا۔ کیوں کہ اس حتمی اصول پر دونوں متفق رہے ہیں کی سیاست کا مقصد اصلاح سے زیادہ اقتدار کا حصول ہے۔ بلاول اور آصف زرداری کے اختلافی بیانات میں بھی یہی اصول کارفرما دکھائی دیتا ہے۔ دونوں اقتدار کو ہی مسئلہ کا حل سمجھتے ہیں اور اسی کے لیے جد و جہد کرتے ہیں۔

سیاست میں پرانی نسل کی بجائے نئی نسل کو موقع دینے کا معاملہ بیانات سے حل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے ہر پارٹی کو اپنے تنظیمی ڈھانچے اور سیاسی حکمت عملی میں تبدیلی کرنا ہوگی۔ بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی کے ’نوجوان‘ چیئرمین ہونے کے باوجود نوجوانوں کو پارٹی کی صفوں میں آگے لانے کی بجائے، انہی ’بابوں‘ کے ساتھ مل کر سیاست کرنا چاہتے ہیں، جنہیں وہ سیاست چھوڑ کر گھر بیٹھنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ پارٹی کی تنظیم کے علاوہ عملی سیاسی حکمت عملی میں بھی بلاول نے کسی بھی اہم سیاسی مسئلہ پر اپنے علیحدہ اور خود مختار موقف پر اصرار نہیں کیا۔ بلکہ ان کے والد نے جو سیاسی حکمت عملی تیار کی، بلاول نے پوری ’تابعداری‘ سے اس پر عمل کیا۔

اس کی تازہ ترین مثال گزشتہ سال کے شروع میں تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف سیاسی پارٹیوں کے درمیان اتفاق رائے، اور عدم اعتماد کے بعد اتحادی حکومت کا قیام تھا۔ عمر رسیدہ شہباز شریف کی قیادت میں وزارت خارجہ کا عہدہ سنبھالتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے یہ اعتراض نہیں کیا تھا کہ وہ اسی وقت کابینہ میں شامل ہوں گے اگر کسی نوجوان نسل کے لیڈر کو وزیر اعظم بنایا جائے۔ اس وقت چونکہ اقتدار میں حصہ داری کا سوال تھا، اس لیے پرانی اور نئی نسل اسی طرح ملی ہوئی تھیں جیسے کھاتے ہوئے انگلیاں مل جاتی ہیں۔ البتہ اتحادی حکومت ختم ہونے کے بعد انتخابی مہم جوئی کرتے ہوئے بلاول نے وزیر خارجہ کے طور پر اپنے کارناموں کو نمایاں طور سے بیان کر نا شروع کیا ہے۔

ملکی سیاسی پارٹیوں میں جنریشن شفٹ کی بحث کو صحت مند طریقے سے شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ تب ہی ملک میں ایسا سیاسی کلچر فروغ پا سکے گا کہ کسی بھی سینئر سیاست دانوں کو خود ہی احساس ہو جائے کہ اب ان کا وقت بیت چکا ہے اور اب نئی نسل کو معاملات کی باگ ڈور سنبھال لینی چاہیے۔ یہ مقصد البتہ انتخابی سیاسی جلسوں میں مخالفین کو حرف تنقید بنا کر حاصل کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ پاکستانی سیاست میں صرف نوجوان نسل کو موقع دینے کا مسئلہ ہی اہم ترین نہیں ہے بلکہ خواتین یا مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو پارٹی پلیٹ فارمز پر مناسب نمائندگی دینے کا اصول بھی مسلسل نظرانداز ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ ملک کی بڑی سیاسی پارٹیوں پر ایک ایک خاندان کی جاری ہے حالانکہ یہ دونوں پارٹیاں ایک پارلیمانی جمہوری نظام میں سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی جد و جہد کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں شریف خاندان کے باہر سے آنے والے سیاسی لیڈروں کو بھی وہی مقام، مرتبہ و موقع مل سکتا ہے جو شریف خاندان کو حاصل ہے۔ یہی سوال پیپلز پارٹی میں بھٹو خاندان کے حوالے سے کیا جاسکتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اپنی والدہ کی شہادت کے بعد اپنے نسب کی وجہ سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بنائے گئے تھے۔ ورنہ اٹھارہ سال کی عمر میں انہیں کسی پارٹی کو سنبھالنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔

نوجوان آبادی کے حامل ملک میں ترقی کرنے کے لیے نوجوانوں کا آگے بڑھنا بے حد ضروری ہے لیکن اس کے لیے طعنہ و تشنیع سے زیادہ مزاج سازی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں تو ابھی اس سوال کو کسی سنجیدہ مکالمہ کا موضوع بھی نہیں بنایا جاتا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2720 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments