فرشتہ


کل وہ شہر کے ہنگاموں سے اُکتا کر پُر سکون سبزہ زاروں میں ٹہلنے لگا۔ چلتے چلتے وہ ایک بلند پہاڑ پر پہنچ گیا۔ شہر اپنی بلند عمارتوں اور عالی شان محلوں کے ساتھ مصور کی بنی تصویر جیسا لگ رہا تھا۔ وہ ایک جگہ بیٹھ گیا اور دور سے انسان کی عملی زندگی کا جائزہ لینے لگا۔ اس کویاد آیا کہ چند دن پہلے اُس نے خانقاہ میں کھڑے راہب سے جو بات کہی تھی، وہ سُن کر راہب اُس سے کس قدر خفا ہوا تھا۔ راہب کے نزدیک یہ سارے نظام کے کرتا دھرتا ہم ہیں تمہیں ہمارا شکر یہ ادا کرنا چاہیے کہ ہماری وجہ سے یہ نظام جاری ہے۔ ہمارے ملک کی تو عالمی سطح پر بھی پذیرائی ہے جب اُن کو ہم سے کوئی شکوہ شکایت نہیں ہے تو تم کون ہوتے ہو ہمیں درس دینے والے۔ یہ سن کر اُس کو ہنسی آ گئی تھی حالانکہ اُس نے تو کہا تھا کہ اِس، خانقاہ کی ملکیت میں جو کھیت ہیں، باغات ہیں، سونا اور چاندی ہے، روپیہ اور پیسہ ہے، یہ بڑے بڑے مرتبان جو زیورات سے بھرے پڑے ہیں یہ سب کے سب غریب لوگوں میں تقسیم کر دیے جائیں اور اُن لوگوں کی مدد کی جائے جو علم کی پیاس رکھتے ہیں تاکہ جہالت کے اندھیرے دور ہوں اور علم کی روشنی پھیل سکے۔ یہ وہ عمل ہوگا جس سے تم خدا کو خوش کر سکتے ہو،،وہ خط و کتابت اور مطالعہ پر پختہ یقین رکھتا تھا۔ یہ مطالعہ بھی کیا عجیب عادت ہے۔ جب آپ مطالعہ کرتے ہیں تو آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ تحریر انسان کی سب سے بڑی ایجاد ہے۔ یہ اُن انسانوں کو بھی ایک دوسرے سے ملوا دیتی ہے جو دُور دُور تک ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں ہیں۔ کتابیں اِس بات کا واضح ثبوت ہے کہ زمین پر انسان کمال کر سکتا ہے۔ یہ آپ کو مختلف دور کے باشندوں، زمانوںاور مکانوں سے روشناس کروا دیتی ہیں۔ یہ کتابیں ہمیں وقت میں سفر کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ یہ لائبریریاں پورے پورے سیارے اور پوری پوری تاریخ کے عظیم ذہنوں اور عظیم استادوں سے ہمارا رشتہ جوڑ دیتی ہیں۔ یہ کتابیں علم کا خزانہ ہیں۔ اُس کو خط موصول ہوا وہ خط پڑھ کر اُس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ اُس کے دو دوست اُس سے ملنے اُس کے وطن آ رہے تھے۔ جو اُس سے دور دو مختلف ممالک میں آباد تھے۔ اُن کی دوستی ایک درس گاہ میں ہوئی تھی جب وہ علم حاصل کرنے دیار غیر گیا تھا۔ اِس درس گاہ میں دُنیا کے کئی ملکوں کے نوجوان علم کے حصول کیلئے جمع تھے۔ وہ گاوں میں ہے اُس کے گاوں کے اِرد گرد جو پہاڑ ہیں اُن سے بہت ساری پگڈنڈیاں میرے گاو¿ں کی طرف اُترتی ہیں اور یہ ساری پگڈنڈیاں اِس طرح میرے گاوں میں آکر ایک دوسرے سے مل جاتی ہیں جیسے برساتی پانی کے نالے آپس میں مل جاتے ہیں۔ وہ کابل کا رہنے والا تھا جبکہ اُس کے دوست دُنیا کے مختلف ملکوں میں آباد تھے جو اُس سے ملنے کے لئے آ رہے تھے۔ شاید وہ حلقہ یاد کرنے آ رہے ہوں جو درس گاہ اور درس گاہ کے ہاسٹل میں بے تکلف دوستوں کی یادوں اور باتوں سے بھرا پڑا تھا۔ اُس کا ایک دوست فلسطین جبکہ دوسرا کشمیر کا تھا۔ وہ کل ایک ہی گھر ایک ہی کمرے میں مِل بیٹھنے کیلئے گھروں سے نکل چکے تھے۔ اُس نے اور اُس کے عزیز و اقارب نے بڑی گرم جوشی سے اُن کا استقبال کیا اور طرح طرح کے پکوان تیار کئے گئے تھے ایک دن وہ تینوں چہل قدمی کیلئے نکل پڑے جب وہ پہاڑ کی چوٹی سے ذرا پہلے پانی کے پھوٹتے چشمے سے پانی پینے کیلئے رکے تو اُنہیں ایک غیبی آواز سنائی دی جس کا کہنا تھا کہ میں ایک فرشتہ ہوں۔ آواز کے جواب میں پہلے تو انہوں نے مذاق سمجھا کہ یہ کوئی فرشتہ نہیں ہے مگر جب وہ سامنے آ کر کھڑا ہوا تو انہیں یقین ہوا کہ آواز کے بعد جو آیا ہے یقینا فرشتہ ہی ہوگا تو وہ پہاڑ کی چوٹی پہ ایک طرف چاروں آمنے سامنے بیٹھ گئے۔ اس دوران فرشتہ بولا کہ اگر آپ کوئی سوال پوچھنا چاہتے ہیں تو میں اُس کا ٹھیک ٹھیک جواب دوں گا وہ حیران ہوئے اور خوش بھی کہ چلو سوالات کے جواب مل جائیں گے جو اُن کے ذہنوں میں تھے۔

وہ تینوں باتیں کر رہے تھے کہ ایک دوست جو کشمیر سے تھا وہ ادب سے بولا کہ خدا کی جانب سے بھیجے گئے خدا کے فرشتے مجھے آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ ہمارا کشمیر کا مسئلہ کب تک حل ہو جائے گا۔ ہم کب تک اپنے پیاروں کی لاشیں اُٹھاتے رہیں گے،مرتے رہیں گے،مارتے رہیں گے۔ یہ سن کر فرشتہ ایک لمحہ تو خاموش رہا پھر بولا کہ آپ کا مسئلہ حل ہونے میں بیس سال لگیں گے۔ یہ سن کر وہ زارو قطار رونے لگا کہ خدا را بیس سال ہمارے ہاں آگ اور خون کا کھیل جاری رہے گا۔

اِس کے بعد فلسطین کا دوست نہایت ادب کے ساتھ فرشتے سے مخاطب ہوا اور بولا کہ مجھے یہ جاننا ہے کہ ہمارا فلسطین کا مسئلہ کب تک حل ہو جائے گا۔ ہم کب تک بچے، بوڑھے، جوان مرواتے ر ہیں گے، مرتے اور مارتے رہیں گے۔ یہ جو ان دنوں ہمارے ساتھ ہو رہا ہے جو کیا جا رہا ہے آیا اِس کا کوئی ایسا حل بھی ہے جو پُر امن طریقے سے حل ہو سکے جو لوہے اور لہو کے چانسلرز کو قبول ہویا اِس کا بارود ہی حل ہے۔ آگ اور خون ہی ہے تباہی اور بربادی ہی ہے۔ آپ بتائیں کہ ہمارا یہ مسئلہ کب تک حل ہو جائے گا یہ سن کر فرشتہ ایک لمحہ خاموش رہا پھرنہایت تحمل سے جواب دیا کہ آپ کا یہ مسئلہ چالیس سال بعد حل ہو جائے گا یہ سن کر وہ رونے لگا۔ روتے روتے اُس کی ہچکیاں بندھ  گئیں کہ مزید چالیس سال ہمیں دنیا بھر کے دُکھ اُٹھانا ہوں گے۔

اِس کے بعد کابل کا دوست جو سب کی باتیں نہایت توجہ سے سن رہا تھا اور اُن کے سوالات کے جواب سن کر دکھی ہو گیا تھا مگر اب فرشتہ اُس کی جانب متوجہ تھا کہ آخری سوال اِس کا رہ گیا ہے تو اُس نے فرشتے کو ہاتھ کے اشارے سے کابل شہر کی جانب متوجہ کیا کہ ہمارے افغانستان کا مسئلہ کب تک حل ہو جائے گا۔ اُس کا سوال سن کر فرشتہ ایک لمحہ تو خاموش رہا پھر رونے لگا، زارو قطار رونے لگا اور روتے روتے غائب ہو گیا۔ سورج پہاڑوں کے اُس پار اُتر رہا تھا جبکہ تینوں دوست پہاڑ کے دوسری جانب۔

Facebook Comments HS