کم عمری میں شادی: ’مجھے 12 سال کی عمر میں نو ڈالر میں شادی کے لیے فروخت کر دیا گیا‘

میگھا موہن اور یوسف الدین - بی بی سی 100 ومن


اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں ہر پانچ میں سے ایک لڑکی کی شادی 18 سال کی عمر تک ہو جاتی ہے۔ جن ممالک میں کم عمری میں شادی کے خلاف قوانین ہیں وہاں بھی کئی بار ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا لیکن افریقہ کے ملک ملاوی میں اس رجحان میں تبدیلی کے آثار نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

جب ہم تمارا سے تیسری بار ملاقات کرنے کے لیے ان کے گھر پہنچے تو ہمیں بتایا گیا کہ وہ علی الصبح ہی کھیتوں میں کام کرنے کے لیے روانہ ہو گئیں تھیں۔

وہ اپنے حمل کے نویں مہینے میں ہیں لیکن 13 سال کی تمارا اس حالت اور اس عمر میں بھی اس قدر مشقت کر رہی ہیں۔

تمارا (فرضی نام) کئی مہینوں سے اپنی خالہ کی جھونپڑی کے فرش پر سو رہی ہیں۔ اس سے پہلے وہ اپنے خاوند کے ساتھ تھیں لیکن جب اسے معلوم ہوا کہ سرکاری اہلکار تمارا کو اس غیر قانونی شادی سے بچانے کے لیے آ رہے ہیں تو وہ اُن کے آنے سے پہلے فرار ہو گیا جبکہ تمارا پیدل سفر کر کے اپنی خالہ کے گاؤں پہنچیں۔ تمارا کے شوہر کی عمر 20 کے پیٹے میں ہے۔

گذشتہ چند سال میں تمارا کی زندگی میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں۔ ان کا تعلق جنوبی ملاوی کے ایک دیہی کسان گھرانے سے ہے۔

خطے میں رہنے والے باقی 65 فیصد لوگوں کی طرح تمارا اور ان کا خاندان بھی حکومت کی طرف سے بیان کردہ غربت کی لکیر سے نیچے رہتے ہیں۔

یوکرین، ملاوی کے ساتھ براہ راست تجارت کرتا ہے لیکن جنگ کی وجہ سے وہاں سے گندم اور کھاد آنا رک گئی ہے، اس وجہ سے ان کی قیمتیں زیادہ ہو گئی ہیں اور ان سے غریب گھرانوں پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

جب یکے بعد دیگرے تمارا کے والدین بیماری کی وجہ سے مر گئے تو ان کی دادی نے انھیں اپنے پاس رکھ لیا۔

جب ایک مہینے کے بعد تمارا اپنے سکول سے واپس آئیں تو ان کی دادی نے انھیں ایک خبر سنائی۔

تمارا بتاتی ہیں کہ ’انھوں نے مجھے بتایا میری شادی ہو گی اور انھوں نے ایک شخص سے اس کے لیے پیسے بھی وصول کر لیے ہیں۔‘

تمارا نے جس شخص کو کبھی دیکھا بھی نہیں تھا، اس نے نو ڈالر دے کر انھیں اپنی دلہن بنا لیا۔

تمارا کی دادی نے فوراً ان پیسوں سے اپنے گھر والوں کے لیے مکئی خرید لی تھی جبکہ جس شخص نے یہ پیسے دیے تھے وہ چاہتا تھا کہ تمارا سکول چھوڑ کر اس کے ساتھ رہنا شروع کرے۔

2017 سے ملاوی میں کم عمر بچوں کی شادی پر پابندی ہے لیکن اس ملک میں یہ ایک پرانا رواج ہے اور اب بھی دیہی علاقوں میں جاری ہے۔ ملاوی میں 85 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے جبکہ ایک سرکاری تنظیم ’گرلز ناٹ برائڈز‘ کے مطابق ملاوی میں 40 فیصد سے زیادہ لڑکیوں کی شادی 18 سال سے بھی کم عمر میں ہو جاتی ہے۔

تمارا بتاتی ہیں ’زندگی کافی مشکل تھی کیونکہ وہ مرد عمر میں بڑا تھا۔ وہ میرے اوپر تشدد کرتا تھا۔‘

وہ اس کے ساتھ تین ماہ تک رہیں لیکن پھر کسی نے سوشل سروسز کو ان کی شادی کے متعلق اطلاع دے دی۔

اس کے بعد جب تمارا کو واپس سکول بھیجنے کی تیاری کی جا رہی تھی تو انھوں نے مشاہدہ کیا کہ انھیں ماہواری نہیں ہو رہی۔

تمارا 12 سال کی تھیں اور اب وہ حاملہ تھیں۔

تمارا کے گھر سے تقریباً 100 کلومیٹر دور موزمبیق کی سرحد کے قریب کے علاقے میں ایک سبز عمارت سے اونچی اونچی ملاوی پاپ میوزک کی آواز آ رہی تھی۔ یہ ایک مقامی ریڈیو سٹیشن کا دفتر ہے۔

20 سال کے پیٹے کی خواتین کا ایک گروہ ریڈیو سٹوڈیو میں جمع ہے۔ براڈکاسٹ کے شروع ہونے سے پہلے وہ اپنے مائیکرو فون کا رخ اپنی طرف کر رہی ہیں اور ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہوئے ہنس رہی ہیں۔

میزبان چکونڈی کپاٹا اونچی آواز میں بولتی ہیں ’ہیلو، ہیلو۔۔۔ ایک ایسے پروگرام میں خوش آمدید جو ہم خوبصورت خواتین کے لیے ایک پلیٹ فارم ہے، جہاں ہم ان موضوعات پر بات کرتے ہیں جو ہمیں متاثر کرتے ہیں۔‘

چکونڈی کی شریک میزبان لوسی مورس ہیں۔

یہ ہفتہ وار شو ہے جسے ایک غیر سرکاری تنظیم سپانسر کرتی ہے اور اس کی آواز 40 لاکھ سامعین تک پہنچتی ہے۔ سننے والی اکثریت تمارا کی طرح کی دیہی علاقوں میں رہنے والی لڑکیاں ہیں۔

آج کا موضوع ہے کم عمری میں شادی۔

مورس کہتی ہیں ’ادھر بڑی وجہ غربت ہے کیونکہ زیادہ تر جن خاندانوں سے ہم ہیں وہ غریب ہیں، ہمارے والدین اپنے بچوں کا پیٹ نہیں پال سکتے۔ لہذا بہترین حل یہ ہے کہ بچی کی شادی کرا دیں۔‘

’لڑکیاں اپنے سے کئی زیادہ بڑی عمر کے مردوں کے ساتھ شادی کرتی ہیں جو ان کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔‘

یہ خواتین اپنے سامعین کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں کہ وہ واٹس ایپ کا استعمال کر کے اپنا تبصرہ ان تک پہنچائیں۔ اس کے بعد وہ ایک گانا لگاتی ہیں جس کا نام ہے ’کم بیک‘ یعنی واپس آؤ۔ اس گانے کے الفاظ ایک واضح پیغام دیتے ہیں۔

’اب آپ کو ہر چیز کے لیے سکول کی ضرورت ہے

بہتر ہو گا آپ سکول واپس چلی جائیں

کم عمری میں شادی اچھی نہیں۔‘

مورس کہتی ہیں ’جب لڑکیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں انھیں اپنے حقوق معلوم ہوتے ہیں۔ انھیں یہ معلوم ہے کہ کم عمری میں شادی کو روکنے کے لیے انھیں مدد مل سکتی ہے۔ یہ ہمارے مشن کا حصہ ہے کہ لڑکیاں بات کرنا شروع کریں، اپنی کہانیاں بتائیں اور انھیں معلوم ہو کہ ان کے پاس ایک اور راستہ ہے۔‘

مورس کے گاؤں گولومبا میں اس پروگرام کو سننے والا صرف خواتین ممبران پر مشتمل ایک کلب ہے۔

شو کے ایک اور مداح مقامی چیف بنسن کویلانی ہیں۔ وہ کہتے ہیں وہ لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ سکول میں تعلیم جاری رکھیں۔

کم عمری میں شادی

  • یونیسیف کے مطابق اس وقت دنیا میں 650 ملین خواتین ایسی ہیں جن کی شادی ان کی 18ویں سالگرہ سے پہلے ہو گئی۔
  • جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ کم عمر بچوں کی شادی ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر کم عمری میں ہونے والی شادیوں میں سے 40 فیصد شادیاں اس خطے میں ہوتی ہیں جبکہ سب صحارا افریقہ میں 18 فیصد ہوتی ہیں۔
  • غیر سرکاری تنظیم ’گرلز ناٹ برائڈز‘ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران ایشیا اور افریقہ میں کم عمری کی شادیوں کی شرح میں کمی آئی لیکن 25 سال سے لاطینی امریکہ اور کیریبین کے ملکوں میں پیشرفت نہیں آئی۔

دو ہفتے قبل مشعل اوبامہ، امل کلونی اور ملینڈا گیٹس نے ملاوی کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے بعد صدر لازیرس چکویرا نے کم عمری میں شادی کے رجحان کو روکنے کے لیے قومی منصوبہ بندی کی مزید فنڈنگ کا اعلان کیا تھا۔

تینوں اثر و رسوخ رکھنے والی انسانی حقوق کی یہ کارکن ملاوی میں کم عمر شادیوں کو روکنے کے لیے کام کرنے والی مقامی تنظیموں کی مدد کر رہی ہیں۔

مشعل اوبامہ کی تنظیم امریکہ میں دیہی اور کمزور لڑکیوں کی سکول میں تعلیم جاری رکھنے میں مدد کرتی ہے۔

امل کلونی کی ’ویجنگ جسٹس فار ومن‘ ملاوی کی ومن لائرز اسوسی ایشن کی مدد کر رہی ہے جو بچیوں کو ان کے حقوق کے بارے میں شعور دے رہی ہے۔

2020 میں اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کی مہم کی وجہ سے ملاوی کے 100 مقامی رہنماؤں نے وعدہ کیا کہ وہ اپنی برادریوں میں روایتی شادیوں کو روکیں گے۔ یہ تعداد ملک کے تمام رہنماؤں کا ایک چوتھائی ہے لیکن وہ شاید کچھ زیادہ نہ کر سکیں اگر خاندان اپنی لڑکیوں کو ان سے عمر میں کئی زیادہ بڑے مردوں کو دے دیں۔

تمارا کا جس ضلع سے تعلق ہے اس کے دو رہنما ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ اس بارے میں پورے یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ان کی برادری میں خفیہ شادیاں نہیں ہو رہیں۔

2000 لوگوں سے زیادہ کی برادری کے رہنما جان جووا کہتے ہیں ’کچھ والدین ہمارے پاس آتے ہیں لیکن ہم ان کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور ایسی شادی سے انکار کر دیتے ہیں۔‘

’کبھی کبھی والدین اسرار کرتے ہیں کہ ان کے بچے شادی کے لیے تیار ہیں لیکن ہم ان کی عمر کی تصدیق کرنے کے لیے ان کی ہیلتھ پاسپورٹ بک مانگتے ہیں۔‘

1000 افراد سے زیادہ برادری کے چیف جارج مفونڈا کہتے ہیں ’ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ بچوں کی شادیاں نہیں ہو رہیں، ہم کہہ رہے ہیں کہ اگر یہ ہو رہا ہے تو اسے ہم سے خفیہ رکھا جاتا ہے۔‘

لیکن خفیہ شادیوں کو روکنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟

جان جووا کافی دیر خاموش ہونے کے بعد کہتے ہیں ’یہ خاندان کی مدد کے ساتھ بطور رہنما ہماری ذمہ داری ہے۔‘

تمارا نے ایک صحت مند لڑکے کو جنم دیا۔ جب تمارا کا بچہ پیدا ہونے والا تھا تو ایک چھوٹی ملاوی این جی او (People Serving Girls At Risk) نے ایک شخص کو پیسے دیے تاکہ وہ تمارا کو سائیکل پر زچگی کے لیے مقامی ہسپتال لے کر جائے۔

اس کے علاوہ وہ تمارا اور ان کی خالہ کے ساتھ ان کی صحت کے متعلق رابطے میں رہے۔

خوش قسمتی سے بچے کی پیدائش میں پیچیدگی نہیں آئی۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق حمل اور بچے کی پیدائش کی پیچیدگیاں کم عمر خواتین میں موت کی سب سے بڑی وجہ ہیں، اس وجہ سے لوگ تمارا کی صحت کے لیے فکرمند تھے۔

غیر سرکاری تنظیم (People Serving Girls At Risk) کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر کیلب نومبو کہتے ہیں ’تمارا اپنے گھر واپس آ گئی ہے اور اپنے بیٹے کے ساتھ خیریت سے ہے، ان کا خاندان ان کی آمد پر بہت خوش ہے۔‘

’اسے برادری اور اپنی خالہ کی مدد حاصل ہے لیکن اصلی کام ابھی شروع ہوا ہے۔ ان کے لیے بہتر ہو گا اگر وہ سکول واپس چلی جاتی ہیں لیکن انھوں نے اپنے بچے کا بھی خیال رکھنا ہے۔‘

تمارا نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اپنے بیٹے پرنس سے بڑی امید ہے کہ وہ سکول مکمل کر لے گا۔

تمارا کی خالہ پھل اور سبزیوں کا ٹھیلا چلاتی ہیں جس سے وہ ایک مہینے میں 50 ڈالر سے کم رقم کما لیتی ہیں۔ یہ ٹھیلا ان کی جھونپڑی سے چند قدم کے فاصلے پر ہے۔

جب بھی ہو سکے تمارا اپنی خالہ کا ہاتھ بٹاتی ہیں اور اپنی سہیلیوں کے ساتھ ملاقات کرتی ہیں۔

جب ہم اس ٹھیلے پر گئے تھے تو کم از کم دو کم عمر حاملہ لڑکیاں بازوؤں میں سبزیاں اٹھائے تمارا کو سلام کر رہی تھیں اور اس کے بعد وہ اپنے گھروں کو چلی گئیں۔

بی بی سی

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 31950 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments