وہ اک تارا (17)
رات کا تیسرا پہر ختم ہو رہا تھا جب اس کی واپسی ہوئی۔ جیپ سے اتر کر اس نے اک ذرا رک کر پہلے آسمان کو دیکھا۔ ماسکو اور پیٹرزبرگ کی سفید راتوں میں اسے ہمیشہ ایک عجیب سا فرق محسوس ہوتا۔ وہ ماسکو کی راتوں کو کبھی سفید راتیں نہیں کہتی تھی۔
اس وقت سیاحوں اور لوگوں کا زور ٹوٹ چکا تھا۔ سناٹا اور تنہائی تھی۔ ملگجا اجالا تھا۔ وہ فلیٹ میں داخل ہوئی۔ کچن میں گئی۔ کافی بنائی۔ چورنی خلیب کے بچھے کچھے ٹکڑوں پر مکھن کی تہہ اور کیوئیر لگا کر لاؤنج میں آ گئی۔
بالعموم اپنے اوپر لگنے والے اعتراضات پر وہ تلملایا نہیں کرتی تھی۔ ایسی پیشیاں بھگتنے کی وہ عادی تھی۔
بہت کم اپنے دفاع میں بولتی، پر اس اتنی گھٹیا بات نے اسے رنجیدہ کیا تھا۔
بات کہنے کہنے میں کتنا فرق تھا۔ سالوں پہلے ہیثم آگالیف نے بھی ڈپارٹمنٹ لائبریری کی سیڑھیوں کے پاس یہ بات کہی تھی۔ پر ایک تفاخر بھرے انداز میں۔
”اینا تمہارے اندر دلیری، جرات، سچ پر کھڑے ہونا اور غلط بات اور غلط فیصلوں کے خلاف ڈٹ جانے کی خوبیاں تمہارے اجداد کی نشانیاں ہیں۔ تم کو ساکوں کی اولاد ہونا“
اس کے لہجے اور انداز میں اس کے لئے جو فخر، مان اور اعزاز تھا اس نے اسے مسرور کیا تھا۔
اسے اپنے آباء کوساکوں پر بہت اعتراضات تھے۔ بیچارے ماسکو کے جاگیرداروں اور نوابوں کے غلام جنہوں نے تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق ماسکو کو چھوڑ کر سرحدوں کی طرف ہجرت کر لی تھی۔ دشت ان کے ٹھکانے بن گئے تھے۔ تاتاریوں اور خانہ بدوشوں سے لڑتے، انہیں لوٹتے، شکار کھیلتے، دریاؤں کو پار کرنے کے لئے کشتیاں بناتے، اور علاقے فتح کرتے کرتے انہوں نے ایک زمانہ اپنے اوپر گزار دیا۔
پھر جانے کون سے احمق تھے جنہوں نے انہیں مشورہ دیا یا ان کی اپنی کم عقل کھوپڑیوں میں یہ بات گھس گئی۔
انہوں نے فتح کیے علاقے زاروں کو پیش کر کے خود کو ان کا دست راست بنا لیا تھا۔
کوئی ان عقل کے اوندھوں سے پوچھتا تمہیں وختہ کیا پڑا تھا۔ بازو بیلنے میں آ گئے تھے تمہارے۔ پریشانی تھی؟ کوئی تکلیف تھی؟ آخر کیا تھا۔ خود آگے بڑھ سر پر تاج سجانے میں کیا چیز حائل تھی؟
الو کے پٹھے زاروں کے لئے ہی مرتے رہے۔ ایک نئے حکمران خاندان کا اضافہ ہو جاتا تاریخ میں۔
اس کے پر دادا نے خانہ بدوشی چھوڑی۔ کچھ عرصہ شمالی کاکیشیا کے سلسلہ ہائے کوہ کی وادی کارچائی Kerch میں جو آزر Azor کا ساحلی شہر تھا میں رہائش کر لی۔
یہاں ہری بھری خوبصورت پہاڑیوں میں نیلے شفاف پانیوں سے لبالب بھری جھیلیں تھیں۔ مرغابیوں اور چیلوں کی اڑتی قطاریں تھیں۔ میپل کی جھاڑیوں میں تیز رفتار ندیاں بہتی تھیں۔ گھنے جنگل اور نارنجی آسمان کے نظارے دل موہ لینے والے تھے۔
اس نے بڑی لمبی سانس بھری تھی۔ کافی کا آخری گھونٹ لے کر مگ تپائی پر رکھ دیا تھا۔ کا رچائی سے نقل مکانی کیوں ہوئی اور دریائے کاما کے بائیں کنارے سولیکمسک (Solikamsk) شہر کے جنوب میں ایک چھوٹی سی بستی اوسولئے میں ڈیرے کیوں ڈالے گئے؟ اس کی وجہ کیا تھی؟ یہ وہ کبھی نہ جان سکی۔ یوں اس کا قیاس تھا کہ یہاں بہت بڑے بڑے جنگل تھے۔ جن پر اس نے قبضہ کر لیا۔ نمک کا نفع بخش کاروبار تھا۔ بہت جلد وہ اس علاقے کا ایک جاگیردار سا حکمران بن گیا تھا۔ پر اس کے دادا کی یادداشتوں سے کارچائی کبھی نہ نکل سکا۔ جب بات ہوئی اوسولئے اور کارچائی کا مقابلہ ہوا۔ یہ بھی خوبصورت جگہ تھی جو اسے تو بہت پسند تھی۔
وہ کھڑی ہوئی۔ اس نے سوچا سو جائے۔ تھکن سی محسوس ہو رہی تھی۔ پر بغیر کسی ارادے اور سوچ کے بالکونی میں آ گئی۔ دفعتاً اسے عجیب سا احساس ہوا یوں جیسے ریڑھ کی ہڈی پر کنکھجورا سا رینگ جائے جو سارے سریر میں سرد اور جھنجنی لینے والی برقی رو دوڑا دے۔ سر جھٹکا۔
”افوہ“ جھلا کر وہ خود سے بولی۔
”دیکھو! باہر فضا بہت نکھری ہوئی اور روشن ہے۔ صبح گویا پیغام امید ہے۔ ایسے میں ان بے تکی اور فضول سوچوں کا بھلا کیا کام۔ دراصل نیند بھی تو نہیں لے سکی۔ تھیٹر والے حادثے کا اثر ابھی زائل نہیں ہوا۔ اوپر سے ہیثم کا لکچر۔ اس نے سر جھٹکا اور کمرے میں آ گئی۔
”مالی تھیٹر میں جو کچھ ہوا۔“ اس نے جھرجھری لی۔
”وہ دہشت گردی ہے جیسا کہ کہا گیا ہے۔ یقیناً ہے۔ مجھے انکار نہیں۔ مگر ایسا ہوا کیوں؟“
اس کا یہ سوال اپنے آپ سے تھا۔ اس کے اندر سے جواب بھی آیا تھا۔
”جب بڑی طاقتیں چھوٹے لوگوں کی آزادی سلب کر لینے کے درپے ہوجائیں تو ان کے پاس ایسے ہی الٹے سیدھے ہتھکنڈے رہ جاتے ہیں۔“
مالی تھیٹر کے مناظر ایک کے بعد ایک آنکھوں کے سامنے رقص کرنے لگے تھے۔
رات کا پہلا پہر تھا۔ وہ اس وقت اولڈ ارباط سٹریٹ میں تھی۔ کچھ کھانے پینے کے لئے آئی تھی۔ آفس سے سیدھی اسی طرف نکل آئی خود سے یہ کہتے ہوئے۔
”چلو اکتوبر کی ان خوشگوارسی رتوں میں ڈنر ارباط میں کرتی ہوں۔ ہمسائے میں رہتی ہوں اور سالہا سال گزر گئے ہیں اس تاریخی بازار میں جھانکے ہوئے۔“
پر جونہی داخل ہوئی یوں محسوس ہوا جیسے اس بے حد خوبصورت روشنیوں، رنگوں، خوشبوؤں اور حسن و رعنائیوں سے پر بازار میں کسی نے ہر سو خوف و دہشت کا سپرے کر دیا ہو۔ جن جن دکانوں میں ٹی وی تھے وہاں لوگوں کے ہجوم کھڑے تھے۔ کھانے کا ارادہ چھوڑ کر وہ واپس گھر بھاگی۔ ٹی وی کھولا اور ساکت ہو گئی تھی۔
ماسکو کے شہری ایک بدترین سانحے کا سامنا کر رہے تھے۔ مالی تھیٹر میں ملٹری میوزیکل شو ہو رہا تھا۔ کوئی ساڑھے سات سو تماشائی تھے جب مشین گنوں سے لیس چیچنیا کے جیالوں کے ایک گروپ نے تھیٹر کو اپنے حصار میں لے لیا تھا۔ مطالبہ تو بڑا جائز تھا۔ ماسکو چیچنیا میں جنگ کو بند کرے وگرنہ وہ لوگوں اور تھیٹر کو اڑا دیں گے۔
صورت حال کتنی ہولناک تھی۔ سپیشل فورسز نے تھیٹر کو اعصاب شل کر دینے والی گیس سے بھر دیا۔ ایک کے بعد ایک لاشیں تھیٹر کے دروازے سے نکالی جا رہی تھیں اور عام روسی اپنے ٹیلی ویژن کے سامنے ساکت بیٹھے چیچنیا کے لوگوں کو لعن طعن کر تے تھے۔ ایک سو انتیس لوگ اور اکتالیس چیچن جنگجو مر گئے تھے۔
اب سچی بات لکھنا جرم بن گیا ہے۔ وہ لیٹ گئی تھی۔ پر نیند تو آنکھوں میں کہیں نہیں تھی۔


