ابوالحسن ندوی کی کتاب ”امام الغزالی“


سرد و خنک موسم، دسمبر کی یخ بستہ ہوائیں، گہری رات، ایک ہاتھ میں گرم چائے، دوسرے میں ایک نفیس کتاب۔ زندگی سے اور کیا چاہیے؟! اس وقت تہران کے وقت کے مطابق رات گیارہ بج رہے ہیں۔ جمعرات کی رات ہے۔ کتاب خانے پر ضرورت سے زیادہ سکوت طاری ہے۔ دل کی دھڑکن اور گاہے بگاہے صفحہ پلٹنے کی آواز کے سوا کوئی صدا سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ بخاری کے دھیمے شعلے کتاب خانے کی خارجہ حرارت کو خوشگوار حد تک بڑھا رہے ہیں۔ البتہ کتاب خانے کی کھڑکیوں سے کائنات کے شور شرابے، سرد ہواؤں کی سرسراہٹ اور نظام کائنات کی روانی کو بخوبی درک کی جا سکتی ہے۔

آج ہم نامور محقق، مفکر ابو الحسن ندوی کے حضور زانوئے تلمذ تہہ کیے بیٹھے ہیں۔ ہم ان کی کتاب ”الغزالی“ کی ورق گردانی میں مشغول ہیں۔ غزالی کی عالی مرتبت شخصیت پر ندوی صاحب کے شستہ رفتہ قلم سونے پر سہاگا کا کامل مصداق ہے۔ کتاب ”الغزالی“ کا پہلا مقدمہ مصر کے مفکر ”امین مصری“ نے لکھا۔ دوسری اشاعت میں مقدمہ عالم اسلام کے عظیم سپوت سید قطب شہید نے لکھا۔

حجة الاسلام امام ابو حامد محمد ابن محمد الغزالی 450ھ خراسان کے شہر طوس میں پیدا ہوئے۔ آپ سلسلہ نوربخشیہ کے عظیم صوفی بزرگ، پیر طریقت، رہبر شریعت شیخ احمد غزالی کے بڑے بھائی ہیں۔ جن کی معروف کتاب سورہ یوسف کی عرفانی تفسیر ”بحر المحبة فی اسرار المودة“ دنیائے تصوف میں مقبول عام ہے۔

ہماری زیر نظر کتاب ”امام غزالی“ اک سو دو ”102“ صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد پاکستان کے ذیلی ادارہ ”دعوة اکیڈمی“ نے شائع کی ہے۔

ابو الحسن ندوی رح نے اس کتاب میں امام غزالی رح کی حیات و خدمات پر مختصر مگر جامع انداز میں خامہ فرسائی فرمائی ہے۔ امام غزالی کی حیات و دینی خدمات، علمی و اب تکاری نظریات سے واقف ہونے کے لیے یہ کتاب بہت بہترین ہے۔ حجم میں چھوٹی مگر علم و دانش سے بھرپور ہے۔

ابوالحسن ندوی لکھتے ہیں ؛کہ امام غزالی نے اپنے وطن میں شیخ احمد الراذکانی سے فقہ شافعی حاصل کی۔ پھر جرجان جا کر امام ابو نصر اسماعیلی سے پڑھا۔ اس کے بعد نیشاپور جا کر امام الحرمین کے حلقہ درس میں شامل ہو گئے اور اپنے معاصرین میں ممتاز اور اپنے اساتذہ کے معید و نائب بن گئے۔ درس و تدریس سے فارغ ہونے کے بعد نظام الملک نے مدرسہ نظامیہ بغداد کی صدارت کے لیے انتخاب کیا۔ امام غزالی گیارہ سال مسند درس و تدریس پر فائز رہنے، علمی و فکری مباحثوں، مناظروں میں غالب رہنے، شاہی دربار میں جاہ و حاصل ہونے کے بعد ۔ آپ کی بے چین طبیعت اور ہمت عالی، بلند حوصلہ اس بلندی پر راضی نہ تھی۔ یہ ظاہری جاہ و حشم امام غزالی کے کمال جوئی کے راستے میں رکاوٹ نہ بن سکے۔ امام غزالی ہر قسم کی آسائش اور سہولت کو پس پشت ڈال کر حقیقی کامیابی اور یقینی علم کی تحصیل کرنے کی غرض سے عرفان و تصوف کی پر خار وادیوں میں نکل پڑے۔ ابوالحسن ندوی اس کتاب میں امام غزالی کی خود نوشت ”المنقذ من الضلال“ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ امام غزالی نے مختلف فرق و مذاہب، مختلف افکار و نظریات، فلسفہ و کلام کے ماہرین کے نظریات کا دقیق مطالعہ کیا لیکن طبیعت اس پر مطمئن نہیں ہوئی۔

آخرکار عرفان و تصوف کے وادی میں داخل ہونے کے بعد آپ نے فرمایا کہ ”صوفیا ہی اللہ کے راستے کے سالک ہیں۔ ان کی سیرت بہترین سیرت، ان کا طریق سب سے زیادہ مستقیم اور ان کے اخلاق سب سے زیادہ تربیت یافتہ اور صحیح ہیں۔ دس برس گوشہ نشین و خلوت نشین رہنے کے بعد آپ نے دوبارہ عملی، علمی و قلمی میں قدم رکھا اور لازوال علمی کتابیں لکھیں۔

ابوالحسن ندوی اس کتاب میں ”امام غزالی کا تجدیدی کام“ کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ امام غزالی کے عہد تک فلسفہ الحاد اسلام پر حملہ آور تھا اور متکلمین اسلام صفائی کے وکیل تھے۔ یعنی صرف دفاعی پوزیشن میں تھے۔ لیکن فلسفہ جن مفروضات و مقدمات پر قائم تھا۔ ان پر جرح کرنے، علمی تنقید کرنے کی صدیوں تک کسی کو ہمت نہیں ہوئی۔ آگے لکھتے ہیں ؛امام ابوالحسن اشعری کے علاوہ سب کا لہجہ معذرت آمیز اور مدافعانہ تھا۔ لیکن امام غزالی پہلے شخص ہیں جنہوں نے فلسفہ کا تفصیلی و تنقیدی مطالعہ کرنے کے بعد ”مقاصد الفلاسفہ“ کے نام سے اک مفصل کتاب لکھی۔

اس کتاب سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے اپنی معرکة الاراء اور مشہور زمانہ کتاب ”تہافت الفلاسفہ“ لکھی اس میں انہوں نے فلسفہ کے الہیات و طبیعیات پر اسلامی نقطہ نظر سے تنقید کی۔ اس کو لکھے تقریباً اک صدی بعد ابن رشد نے ”تہافت التہافت“ کے نام سے جواب لکھا مگر اتنا عرصہ کسی کو جواب لکھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ اگر ابن رشد نہ لکھتے تو شاید فلسفہ دوبارہ اس قدر نہ پھیلتا۔ اس کے علاوہ ان کی کتابیں، حجة الحق، مفصل الخلاف، قاصم الباطنیہ، فضائح لاباحیہ، مواہم الباطنیہ مشہور ہیں۔

لیکن عالم اسلام جس کتاب کے ذریعے امام غزالی کو پہچانتے ہیں وہ ان کی شاہکار و معرکة الاراء کتاب ”احیاء علوم الدین“ ہے۔ ابوالحسن ندوی لکھتے ہیں ؛کہ ”تاریخ اسلام میں جن چند کتابوں نے مسلمانوں کے دل و دماغ اور ان کی زندگی پر سب سے زیادہ اثر ڈالا ہے۔ اور جن سے اسلامی حلقے طویل عرصہ تک متاثر رہے ہیں، ان میں“ احیاء علوم الدین ”کو ممتاز مقام حاصل ہے“ لیکن ابن تیمیہ نے احیاء العلوم کی اجمالی تعریف کے ساتھ بعض مقامات پر تنقید کی ہے۔

ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ امام غزالی فلاسفہ کے اثرات سے ضرور کچھ نہ کچھ متاثر ہوئے ہیں۔ سر دست یہ بھی لکھتا چلوں ایران کے معاصر فلسفی ڈاکٹر غلام حسین ابراہیمی دینانی اپنی کتاب ”منطق و معرفت در نظر غزالی“ میں لکھتے ہیں کہ امام غزالی فلسفہ کی مخالفت اور فلسفیوں سے دشمنی کے باوجود ان کی نظریات و آثار فلسفے کے اثر سے خالی نہیں۔ جس کی تائید کے لیے انہوں نے امام غزالی کی کتاب ”فیصل التفرقة“ سے وجود کی تقسیم بندی کو اس طرح نقل کی ہے۔ ”

غزالی با فلسفہ بہ مخالفت برخاست و با فیلسوفان دشمنی نشان داد، ولی در خلال آثار او، اندیشہ ہای ژرف و عمیقی وجود دارد کہ برای فلاسفہ حائز اہمیت است۔ ”

1۔ وجود ذاتی
2۔ وجود حسی
3۔ وجود خیالی
4۔ وجود عقلی
5۔ وجود شبھی

الغرض لب کلام یہ ہے کہ کامل مطلق صرف خدا کی ذات ہے۔ اور یہی اس کی شان ہے۔ کمی و کاستی ہونا کسی جلیل القدر شخصیت کی جلالت الشان اور علمی عظمت میں کمی کا باعث نہیں ہوتا۔ صاحبان علم و دانش اس کتاب کی مطالعے سے اپنی علم و دانش میں اضافہ کریں اور عالم اسلام کے ایک عبقری، تاریخ ساز شخصیت کی حیات و خدمات سے واقف ہوجائیں۔ فی الحال اجازت چاہتا ہوں سردیوں کی باقی ماندہ راتوں میں انشاءاللہ پھر ملاقات ہوگی۔

Facebook Comments HS