اسٹیبلشمنٹ سے نہیں عوام سے ڈیل کرنی ہوگی
پاکستان میں ہمیشہ سیاسی جماعتیں عوام کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھتی ہیں۔ کیونکہ پاکستانی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار بہت مضبوط اور مستحکم ہے۔ عموماً سیاسی جماعتوں کے اندر سیاسی کلچر اور جمہوریت نہیں ہے۔ اس لیے زیادہ تر لوگ پیسے لگا کر عہدے حاصل کرتے ہیں۔ اور ورکروں کو صرف نعروں، زندہ باد اور مردہ باد پر ٹرخایا جاتا ہے۔ اس لیے سیاسی جماعتوں کی عوامی پذیرائی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ اور نتیجتاً وہ اسٹیبلشمنٹ کی محتاج ہوتی ہیں۔
سیاسی جماعتوں کی کمزوریوں کا فائدہ اسٹیبلشمنٹ بھی اٹھا رہی ہے۔ یوں پاکستانی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار بڑھ رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں یہ سمجھتی ہے کہ اقتدار کا حصول صرف عوامی پذیرائی سے نہیں ملتا بلکہ اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی عوامی مقبولیت بہت حد تک بڑھ چکی ہے۔ 9 مئی کے بعد پارٹی کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن کے باوجود پارٹی کی کوشش رہی کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے صلح کرے اور صرف عوامی پذیرائی پر ان کو یقین نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عمران خان کو مائنس کر دیا گیا۔ حالانکہ پہلے کئی موقعوں پر پارٹی نے مائنس ون فارمولا کی شدید مخالفت بھی کی تھی۔ لیکن اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کے لیے بالآخر اس کڑوی گولی کو بھی کھانا پڑا۔ اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کر کے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچا تو آسان ہو جاتا ہے۔ لیکن نقصان عوام اور خصوصاً سیاسی ورکروں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ کیونکہ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت نہیں رہتی۔ ورکروں کو صلاحیتوں کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے مواقع نہیں ملتے۔
سیاسی جماعتیں انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرواتے۔ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری روایات کو فروغ نہیں ملتا۔ بلکہ سیاسی ورکروں کو عضو فاضل سمجھ کر ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر کے پھینک دیتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں کچھ اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کرنے کی عادی بن چکی ہے لہذا ملک میں عملاً جمہوریت اور جمہوری کلچر دم توڑ رہا ہے۔ اور نتیجتاً عوامی مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھتے جا رہے ہیں۔ مہنگائی سے لے کر بنیادی سہولیات تک عوام کو مہیا نہیں۔
لاکھوں بچے آج بھی سکولوں سے محروم ہیں۔ آج بھی 80 فیصد پاکستانیوں کو صحت کی سہولیات میسر نہیں۔ 76 فیصد پاکستانی آج بھی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ پولیس عوام کی خدمت کے بجائے سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں میں آلہ کار بن چکی ہے۔ عوام کو تحفظ فراہم نہیں کر رہی ہیں۔ شہروں میں چوریاں معمول بن چکی ہے۔ آج بھی انگریز دور کے قوانین ملک میں رائج ہیں۔ انصاف کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ عوام میں محرومیوں کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔
ہمارے آبا و اجداد نے پاکستان کی خاطر قربانیاں اس لے دی تاکہ پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنا کر زندگی گزار سکیں لیکن 76 سالوں میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ اور نہ مستقبل قریب میں بہتری کی کوئی امید کی جا سکتی ہے کیونکہ یہاں امور سلطنت چلانے کے لیے انتخابات نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی ڈیل سے نالائق اور کرپٹ لوگ آگے آتے ہیں۔ اس ملک کے تمام مسائل کا واحد حل یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں عوام سے ڈیل کریں۔ عوام کے ساتھ مل کر ان کے مسائل پر پالیسیاں بنائے۔
عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ کر منشور ترتیب دے۔ اسٹیبلشمنٹ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر کے عوام کو ووٹ کا حق دے۔ تاکہ صاف اور شفاف انتخابات کے نتیجے میں عوام کی مرضی سے حکومت آئے۔ جب تک عوام کی مرضی سے حکومت نہیں آئے گی۔ پاکستان اور پاکستانیوں کے مسائل بڑھتے جائیں گے۔ اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل نہیں بلکہ عوام سے ڈیل وقت کی ضرورت ہے۔


