ایم کیو ایم کی صفوں میں کھلبلی، بوکھلاہٹ کیوں ہے
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے اگست 2016 میں اپنے بانی الطاف حسین کی جانب سے ملک کے سلامتی اداروں اور فوج کے خلاف تقریر اور نعرے لگوانے کے بعد اداروں کی جانب سے کریک ڈاؤن کے بعد ایم کیو ایم سے جنم لیا۔ وہ اس وقت مکمل انتشار کا شکار ہو گئی تھی۔ کئی رہنما جیلوں میں چلے گئے ، دفاتر سیل ہو گئے، ناظم زیرو پہ چھاپا مار کر سارا ریکارڈ تحویل میں لے لیا گیا اور اسے مستقل تالا لگا دیا گیا۔ 2018 کے انتخابات میں متحدہ قومی موومنٹ کو کراچی میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اس سے کراچی کا مینڈیٹ تحریک انصاف نے چھین لیا۔ اس سے پہلے 2013 میں بھی تحریک انصاف نے متحدہ سے کراچی کی نمائندگی کا حق تقریباً چھین ہی لیا تھا مگر آخری وقت پہ مقتدرہ کی مداخلت نے ایم کیو ایم کے حق میں بازی پلٹ دی تھی۔
گزشتہ انتخابات میں کراچی سے شکست کھانے کے باوجود جن طاقتوروں نے متحدہ کو تحریک انصاف کی حکومت کا اتحادی بنوایا انہیں طاقتوروں نے پھر پونے چار سال بعد ایم کیو ایم کو تحریک عدم اعتماد کے موقع پہ اپوزیشن کا ساتھ دینے کی بھی ترغیب دی تھی۔
معاہدہ کے تحت ایم کیو ایم نے تحریک عدم اعتماد کا ساتھ دیا بدلے میں سندھ کی گورنر شپ حاصل کی اور واقفان حال بتاتے ہیں کہ کچھ طاقتوروں نے آئندہ انتخابات میں کراچی میں انہیں 2013 والی اکثریت دلوانے کی بھی یقین دہانیاں کرائی تھیں۔
ایم کیو ایم پاکستان کے بننے سے پہلے ہی ان کے کچھ رہنما الطاف حسین کی موجودگی میں ہی ان سے اختلاف کر کے ایم کیو ایم چھوڑ چکے تھے اور شاید مارچ 2016 کی وسط میں ہی مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی نے پاک سر زمین نامی ایک جماعت بنا لی تھی جو اپنے سابقہ ساتھیوں اور بانی ایم کیو ایم الطاف حسین اور دیگر لوگوں پہ الفاظ کی گولا باری کر کے آخر کار 2022 میں ایم کیو ایم پاکستان میں واپس سما گئی۔ جبکہ فاروق ستار کی پی آئی بی کالونی والا دھڑا بھی واپس پرانی تنخواہ پہ کام کرنے کے لیے ساتھ ہو گیا۔
اس ساری مشق کا مقصد ایک دوسرے سے اپنے اپنے ذاتی مالی سیاسی مقاصد اور مفادات کے تحفظ کی یقین دہانیاں حاصل کرنا تھا اور پھر جب کراچی کے متعدد ضمنی انتخابات میں ذلت آمیز شکست ہر دھڑے کے حصے میں آئی تو تینوں دھڑوں نے ایک ہو کر انتخابات میں حصہ لینے میں ہی عافیت جانی اور ایک بار پھر ذاتی مفادات کی بنیاد پہ ایک ہو گئے۔
تینوں دھڑوں کے ایک ہونے سے تینوں دھڑوں کے وہ رہنما جو اپنے اپنے دھڑے کو اصول پرست اور مہاجر قوم پرست سمجھتے تھے وہ متحدہ دھڑے سے لاتعلق ہو گئے جس میں اہم رہنما عامر خان، سابق میئر کراچی وسیم اختر، محمد حسین، رضا ہارون اور ان جیسے کئی سابقہ سرگرم اور لوگ شامل ہیں۔
پچھلے دنوں ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے اہم رہنماؤں کی موجودگی میں کراچی کے معروف کاروباری شخصیات نے رؤف صدیقی اور کئی دیگر رہنماؤں پہ لاکھوں کروڑوں روپے بھتہ لینے کے الزامات ان کے سامنے ہی عائد کیے اور متحدہ کی مزید کسی بھی مالی اور سیاسی مدد سے انکار کر دیا۔ ایسی ہی صورتحال متحدہ قومی موومنٹ کی حیدرآباد میں بھی ہے جس کی وجہ سے ایم کیو ایم کے نظریاتی تنظیمی کارکنان قیادت سے خائف اور ان کے رویوں سے خاصے نالاں و دل برداشتہ بھی ہیں
ایم کیو ایم کے بیشتر عہدیداران اور کارکنان رابطہ کمیٹی کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ سے بھی سخت ناراض ہیں اور اس فیصلے کو ایم کیو ایم کی عظیم سیاسی غلطی قرار دیتے ہیں۔
متحدہ کے رہنماؤں نے آج کل اپنی تقاریر اور پریس کانفرنسز میں پیپلز پارٹی اور الیکشن کمیشن کو ہدف تنقید بنایا ہوا ہے۔ ان کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس میں الیکشن کمیشن کو پیپلز پارٹی کی بی ٹیم قرار دیا۔ کمیشن اراکین کے نام لے کر ان پہ پیپلز پارٹی کے لیے کام کرنے اور پیپلز پارٹی کی من پسند حلقہ بندیاں کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
متحدہ نے سندھ میں حالیہ بلدیاتی انتخابات کے موقع پہ بھی حلقہ بندیوں پہ شدید اعتراضات عائد کیے۔ متحدہ قیادت کا کہنا ہے کہ انہوں نے غلط حلقہ بندیوں اور ایم کیو ایم کو بلدیاتی انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ ایم کیو ایم اس وقت مرکز میں ایک اہم اتحادی تھی گورنر ان کی جماعت کا تھا جبکہ وفاقی کابینہ میں بھی نمائندگی رکھتی تھی۔
دراصل متحدہ اس وقت بھی اپنی متوقع شکست سے خوفزدہ تھی۔ وہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کی مضبوط اپوزیشن کے ہوتے ہوئے بلدیاتی انتخابات میں شکست کا نقصان برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی اسی لیے حلقہ بندیوں کا ڈرامہ رچایا گیا جبکہ انتخابات کے بائیکاٹ کی سرگوشیاں کراچی اور حیدرآباد میں زبان زد عام تھیں۔
ایم کیو ایم اس وقت بھی الیکشن کمیشن اور عدلیہ کے خلاف خوب گرجی برسی تھی۔ اس وقت بھی ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کو مورد الزام ٹھہرا رہی تھی۔ اس وقت بھی پیپلز پارٹی پہ انتظامی مشینری اپنے حق میں استعمال کرنے کا الزام لگا رہی تھی۔ آج بھی صورتحال ویسی ہی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت پیپلز پارٹی برسر اقتدار تھی جبکہ آج دونوں کی پوزیشن ایک جیسی ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان جو نہ متحد ہے، نہ وہ کوئی قومی تحریک ہے، متحدہ کے رہنما آج بھی اپنی سیاسی حیثیت کا ادراک رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ عوام انہیں مسترد کر دیں گے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ کراچی میں اب بھی ان کے سابقہ لیڈر اور بانی ایم کیو ایم کی اہمیت اور ووٹ ان سب سے بہت زیادہ ہے۔ انہیں الطاف حسین کی جانب سے انتخابات کے بائیکاٹ کے اعلان کا بھی خدشہ لاحق ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کو یہ بھی معلوم ہے کہ اسے مخالفین کی سخت اپوزیشن کا سامنا ہے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اب پولنگ اسٹیشنز پہ قبضے کر کے ٹھپے لگانا تقریباً ناممکنات میں سے ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کے کارکنان اور ووٹر ان پہ نہ تو بھروسا کرتے ہیں نہ ہی اب وہ کسی لسانی نعرے یا کسی جھانسے میں آئیں گے۔ ان کو اپنے اندرونی اختلافات کا بھی مکمل ادراک ہے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ الطاف حسین کے بعد اب ہر کوئی خود کو ایک دوسرے سے بڑا لیڈر سمجھتا ہے۔
انہیں یہ بھی لگتا ہے کہ کراچی میں ان کو پرانی سیاسی اسپیس دینے کا وعدہ بھی شاید وفا نہ ہو سکے اور اگر ایسا ہوا تو اس بار شاید متحدہ قومی موومنٹ مکمل منتشر قومی مصیبت میں نہ تبدیل ہو جائے شاید قومی انتخابات میں بدترین شکست کا یہی خوف، بے اعتمادی، انسکیورٹی متحدہ قومی موومنٹ کی صفوں میں بوکھلاہٹ اور کھلبلی کے اسباب ہیں۔


