ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے 99 فیصد صحافی تنخواہ کے بغیر کام کرنے پر مجبور
ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تمام تحصیلوں گوجرہ، کمالیہ اور پیر محل کی صحافتی تنظیموں سے لئے گئے ڈیٹا کے مطابق ماسوائے ایک نجی چینل کے تمام چینلز اور اخبارات کے 200 سے زائد نمائندگان ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تنخواہوں کے بغیر کام کر رہے ہیں اور انہوں نے کبھی تنخواہوں کا مطالبہ بھی نہیں کیا اور ان نمائندگان کو او ایس آر یعنی آؤٹ اسٹیشن رپورٹرز بھی کہا جاتا ہے۔
مگر آپ اسے او ایس آر نمکول نہ سمجھ لیجیے گا کیونکہ انہیں پیچش نہیں لگے ہوئے بلکہ اسکرین پر آنے کا نشہ ضرور لگ چکا ہے اب جب اسکرین پر آنے کا نشہ ٹوٹتا ہے تو کام کرنا پڑتا ہے اور اسکرین پر نظر آنے کے لئے ان میں سے چند اداروں کو یا ان کے چند انچارج نمائندگان کو ہزاروں روپے سکیورٹی کی مد میں اور چینل یا اخبار کی نمائندگی اور کارڈ لوگو کے لئے بھی ادا کرنے پڑتے ہیں پھر کہیں جا کر خبر آن ائر ہوتی ہے
علاقائی نمائندگان بڑے شہروں میں صحافیوں کی طرف سے کیے جانے والے تنخواہوں کے احتجاج کی خبروں پر یہ سوچتے ہیں کہ شاید یہ احتجاج ان کی تنخواہ کے لئے ہو رہے ہیں لیکن بڑے شہروں میں ہونے والے احتجاج میں شریک وہ صحافی جو اس ٹی وی اسٹیشن پر کام کرنے والے ملازمین ہوتے ہیں ان کا یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ انہیں تنخواہیں ادا کی جائیں
تنخواہ کے علاوہ علاقائی رپورٹرز کو اس کے نجی چینل یا اخبار کی طرف سے کسی بھی قسم کی کوئی انشورنس بھی فراہم نہیں کی جاتی
سوشل میڈیا اور مین اسٹریم چینلز کے ملے جلے کردار نے عوام کو ذہنی طور پر الجھا دیا ہے۔ عوام مین اسٹریم چینل پر علاقائی رپورٹر کی آن ائر ہونے والی رپورٹ کو دیکھتے ہیں اور اسی رپورٹر کے فیس بک پیج پر لگی ہوئی اخبار کی خبر دیکھتے ہیں تو اسے ایک جیسی اہمیت دیتے ہیں اور اس لوکل رپورٹر پر اعتماد بھی رکھتے ہیں کہ وہ عوام کے مفاد میں کام کر کے انہیں ایسی خبریں دے گا جس سے مفاد عامہ کے عمل میں بہتری آئے گی۔
جیسے مین اسٹریم چینلز ریٹنگ کی دوڑ میں اسکرین پر ایک دوسرے کے مقابلے میں ایک طرح کے پروگرام دکھا رہے ہوتے ہیں اور کئی خبروں میں اندر کی بات نہیں بتائی جاتی جس کی وجہ سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوتے اور اسی طرح مین اسٹریم چینلز کے نمائندے تنخواہ نہ ہونے کی وجہ سے کسی بھی کاروبار کے ایجنٹ بن جاتے ہیں مثال کے طور پر پراپرٹی ایجنٹ، انشورنس ایجنٹ اور پھر پراپرٹی کے کاروبار سے منسلک افراد فراڈ / کرپشن کی خبریں نہیں دے سکتے کیونکہ ان کے لئے یہ ممکن نہیں رہتا کہ دریا میں رہ کر مگر مچھ سے بیر رکھیں
لیکن انہیں اپنا شعبہ ہونے کی وجہ سے اس میں ہونے والی کرپشن کے بارے میں علم تو ہوتا ہے
وہ وہاں پر بطور صحافی معاشرہ میں لوگوں سے اپنی عزت اور وقار کا تقاضا بھی کرتے ہیں مگر ایسے ایشوز پر رپورٹنگ کے معاملہ پر وہ ان موضوعات کے حوالہ سے کی جانے والی رپورٹنگ میں انصاف کا تقاضا پورا نہیں کر پاتے بلکہ وہ اپنے ہی شعبہ میں موجود کرپٹ مافیا کو خوش کرنے کے لئے شادی مبارک، افتتاح، آپ کو مبارک ہو، سیاسی لوگوں کی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔
ان کی مختلف ایشوز کے اپ ڈیٹس اور فالو اپس پر رپورٹنگ آن سکرین نہیں ہوتی چونکہ علاقائی رپورٹرز کی باقاعدہ تنخواہ نہیں ہوتی اس لئے انہیں یہ ایک پیشہ نہیں لگتا اس لئے وہ اس پر زیادہ توجہ اور وقت نہیں لگاتے اور مقامی سطح پر صحافیوں کی تربیت کے لئے بھی علاقائی رپورٹرز کو ایسے مواقع نہیں ملتے
علاقائی رپورٹنگ کے حوالے سے گوجرہ پریس کلب کے سینیئر صحافی اور صدر ارشد محمود ناصر کہتے ہیں کہ چوں کہ علاقائی رپورٹنگ باقاعدہ ایک پروفیشن یا روزگار نہیں ہے بلکہ جن علاقائی رپورٹرز کا رپورٹنگ کے علاوہ کوئی کاروبار نہیں ہوتا ان کے ذرائع آمدن پر بلیک میلنگ یا کرپشن کا شک کیا جاتا ہے۔ علاقائی رپورٹرز خود جب کسی کاروبار سے منسلک ہوتے ہیں تو وہ اس کاروبار میں ہونے والی کرپشن پر رپورٹنگ نہیں کر سکتے۔
گوجرہ پریس کلب کے سرپرست اعلیٰ سینئر صحافی ریجنل یونین آف جرنلسٹ کے عہدیدار عابد محمود چودھری کہتے ہیں کہ ان کے مطابق علاقائی رپورٹرز عوام اور میڈیا کے اداروں کو چیٹ بھی کرتے ہیں اور مناسب تربیت نہ ہونے کی وجہ سے وہ خبر لکھتے وقت خاتون لیڈی ڈاکٹر کا ذکر کرتے ہیں یا وہ اردو کی خبر میں انگریزی الفاظ کا ذکر کرتے ہیں جس کی وجہ سے خبر عام فہم اور سادہ نہیں رہتی پڑھنے والے افراد اور اسکرین پر پڑھنے والی نیوز اینکر پڑھتے وقت مصیبت میں پھنس جاتی ہے
وہ کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ ان کی اردو کی املاء میں بھی بیشمار غلطیاں ہوتی ہیں اور کاپی پیسٹ کی صحافت کی وجہ سے تمام اخباروں اور چینلز پر نشر کی جانے والی خبروں کو جب ایک ہی زاویے اور نقطہ نظر سے دکھایا جائے گا تو عوام کے مسائل پھر کیسے حل ہوں گے؟
ان کی طرح گوجرہ پریس کلب کے چیئرمین سینیئر صحافی ذوالفقار علی صوبہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ علاقائی رپورٹرز تنخواہ نہ ہونے کی وجہ سے میڈیا کی چھتری کے نیچے چھپ کر جس کاروبار سے منسلک ہو جاتے ہیں پھر اس کاروبار کی اندر کی خبر دینے سے انہیں گریز کرنا پڑتا ہے اور کسی پرانی ویڈیو فوٹیجز کو استعمال کرتے ہوئے خبر دیتے ہیں، مثال کے طور پر ایک معروف نجی ٹی وی چینل جو کہ اپنے نمائندگان کو تنخواہ دیتا ہے اس نجی چینل کے نمائندہ نے تھانہ سٹی کے پرانے سائن بورڈز دکھا کر نئی خبر آن ائر کر دی جبکہ موقع پر سائن بورڈز تبدیل ہوئے 3 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا تھا اسی طرح نمائندگان اپنے علاقے کے مسائل پر خبر کا ایزلائیو پرانی ویڈیو فوٹیجز کے ساتھ آن ائر کرنے کے لئے اپنے ٹی وی چینل کو بھیج دیتے ہیں جو کہ سراسر اپنے ہی چینل اور عوام کے ساتھ دھوکہ دہی کے مترادف ہے
ریجنل یونین آف جرنلسٹس حقیقی کے ڈویژنل صدر سید نعمان حیدر شاہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ چونکہ علاقائی نمائندگان کو تنخواہ نہیں ملتی دوسری طرف سے علاقائی سطح پر پولیس اور انتظامیہ کے خلاف خبریں دینے کی وجہ سے علاقائی رپورٹر پر دباؤ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے اس لئے علاقائی نمائندگان جب با اثر لوگوں کے مقابلے میں پولیس اور انتظامی اداروں کو اپنے موقف سے پیچھا ہٹتے ہوئے محسوس کرتے ہیں تو وہ خود بھی ان موضوعات پر رپورٹنگ نہیں کرتے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ جن اداروں کے پاس اختیارات ہیں وہ ایکشن نہیں لے رہے تو ان کی رپورٹنگ پر انہیں دھمکیوں سے لے کر قاتلانہ حملے تک کا نتیجہ بھگتنا پڑ سکتا ہے لہذا خبر پھر چھپتی نہیں چھپانی پڑ جاتی ہے جان پھر بچتی نہیں بچانی پڑ جاتی ہے
گوجرہ پریس کلب کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری شاہد حسین کہتے ہیں کہ علاقائی رپورٹرز تنخواہ نہ ہونے کے سبب مالٹے کے فوائد، سڑکوں پر اڑتی دھول، ایڈز کے خطرات، شادی مبارک، جیسی خبروں کو ترجیح دیتے ہیں اور اگر کوئی خبر مس بھی ہو جائے تو انہیں زیادہ ٹینشن نہیں ہوتی کیونکہ وہ کون سا تنخواہ لے کر یہ کام کر رہے ہیں اور اگر انہیں کوئی جرائم یا کرپشن اسکینڈل کی خبر دینی بھی پڑے تو چینل کی اسکرین پر وہ اصل حقیقت پر مبنی رپورٹنگ نہیں کرتے بلکہ خبر گول کر دیتے ہیں۔
غلام مرتضیٰ رپورٹر روز نیوز اور روزنامہ جناح کا اس بارے میں کہنا تھا کہ اس طرح سے جب آدھے سچ کو جھوٹ میں لپیٹ دیں گے جب پولیس کانسٹیبل کو روڈ پر روک کر پوچھیں گے کہ آپ کا ہیلمٹ اور نمبر پلیٹ کہاں ہے پر جب اپنی موٹرسائیکل کی سبز نمبر پلیٹ جس پر لفظ پریس بھی لکھوایا ہوا ہے نظر دوڑائیں گے تو سب سمجھ آ جائے گا کہ شعبہ صحافت اپنی عزت کیوں گنوا بیٹھا ہے منشیات فروشوں کو اخبارات کی نمائندگی کے کارڈ ایشو کیے جائیں گے۔ دھوبی لوگوں کے گھروں سے موٹرسائیکل پر کپڑے اکٹھے کر کے لی جا رہا ہو گا جبکہ موٹرسائیکل کی نمبر پلیٹ پر لفظ پریس لکھا ہو گا تو سمجھ نہیں آئے گی کہ یہ صحافت والی پریس ہے یا دھوبی والی پریس ہے۔
گوجرہ پریس کلب کے وائس چیئرمین اور وائس نیوز کے رپورٹر اشتیاق درویشی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ویسے پریس کا مطلب ہوتا ہے دبانا مگر آج کل صحافت خود کسی کو دبانے کی بجائے خود طاقتور حلقوں محکموں کے نیچے دبتی چلی جا رہی ہے اور یہ سب اوپر بیان کی گئی چند وجوہات کی وجہ سے ہے اگر ان پر قابو پا لیا جائے۔ صحافتی ادارے صحافتی تعلیم رکھنے والے پروفیشنل رپورٹرز کو تنخواہیں دے کر سچ اور حقیقت پر مبنی رپورٹنگ کا کام لیں تو علاقائی رپورٹرز اپنے ٹی وی چینلز یا اخبارات کے ساتھ ساتھ اخبار کے اشتہارات کی مارکیٹنگ اور یوٹیوب سوشل میڈیا سے اچھی خاصی آمدن حاصل کر سکتے ہیں جس سے ہمارے دہرے معیار اور آدھے سچ میں لپٹے آدھے جھوٹ سے جان چھڑانی ممکن ہے۔



