جمہوریت اور ہمارا جمہوری نظام


جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں اس میں اکثر ممالک جمہوری نظام سے منسلک ہیں۔ اس کے علاوہ بادشاہت، آمریت اور کہیں اشتراکی نظام بھی چل رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو اکثر ملکوں میں جمہوری نظام ہی رائج ہے۔ جمہوریت کی اصل روح کو سمجھنے کے لئے نہ صرف اس کی تعریف، اس کے اجزاء ترکیبی بلکہ اس کے ثمرات کا جائزہ لینا بھی اہم ہے۔ تب اسے احسن طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ کہیں تو یہ آب و تاب کے ساتھ اپنا ہی رکھ رکھاؤ رکھتی ہے اور کہیں اسے پنپنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اور کہیں اس کے نام پر ظلم و بربریت کا بازار گرم ہے۔ لیکن پھر بھی یہ ایک ایسا چورن جس کا مزہ ہر ایک اپنے اپنے ملک میں چکھ رہا ہے۔ کہیں پارلیمانی اور کہیں صدارتی نظام حکومت اپنے اپنے انداز سے چل رہے ہیں۔

جمہوریت ملکی نظام حکومت چلانے کا ایک ایسا نظام جس میں بالغ شہری یا اہل لوگ حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے پارلیمان میں اپنی نمائندگی کے لئے اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں جو ان کی ترجمانی کرنے کے علاوہ ان کے حقوق کے ذمہ دار بھی ہوتے ہیں۔ جن کے ذمہ ان کی نمائندگی کا حق اس کی روح کے مطابق ادا کرنا فرض بنتا ہے۔

پارلیمانی طرز حکومت میں برطانوی پارلیمان کو یہ ملکہ حاصل ہے کہ وہ بادشاہت برقرار رکھتے ہوئے بھی جمہوریت کی راہ چل رہی ہے۔ اس میں دونوں کا امتزاج شامل ہے۔ جس میں ہر ادارہ اپنی حد میں رہتے ہوئے کاربند ہے۔ جس سے مسائل نہیں بڑھتے۔ برطانوی پارلیمانی نظام، دارالعوام یعنی قومی اسمبلی اور ہاؤس آف لارڈز یعنی سینیٹ پر مشتمل ہے اور ملک انتظامی طور پر لوکل باڈیز کے حلقوں پر منقسم ہے۔ لوکل باڈیز کے پاس اپنا بجٹ ہوتا ہے۔ یہاں کی لوکل باڈیز خود مختار ہیں۔ اور اپنے علاقے کی ترجیحات خود طے کرتی ہیں۔ ان میں عوام کی نمائندگی بذریعہ حق رائے دہی کے اصول پر ہوتی ہے۔

الیکشن ہر سال ہوتا ہے۔ تمام کونسلرز ممبران کا انتخاب ایک نظام کے تحت ہوتا ہے مثلاً مانچسٹر سٹی کے کل ننانوے کونسلرز ہیں جو تین سال کے لئے منتخب ہوتے ہیں۔ جن میں ایک تہائی یعنی تینتیس کونسلرز کا الیکشن پہلے سال دوسری تہائی دوسرے سال اور تیسری تہائی تیسرے سال الیکشن میں حصہ لیتی ہے۔ اس سے نظام تواتر کے ساتھ چلتا اور مضبوط ہوتا رہتا ہے۔ اکثریتی جماعت اپنے منشور کے تحت کام کرتی ہے۔ اگر درمیان میں لوکل الیکشن اپوزیشن جیت جاتی ہے تو وہ اگلے سال کے لئے لوکل باڈی کے اختیارات حاصل کر لیتی ہے۔

دستور کے تحت ایک فارمولے ”بمطابق آبادی“ پر ہر لوکل باڈی کو بجٹ کی رقم مہیا کی جاتی ہے۔ جس کی روشنی میں تعلیم، پولیس اور دوسری ترجیحات کے تحت اپنا بجٹ بنانا اور فل کونسل سے اس کی منظوری حاصل کرنا ان کی اولین ذمہ داری ہے۔ سیاسی موروثیت کا تصور بالکل بھی نہیں اور نہ ہی کوئی سیاسی پارٹی یا ان کا امیدوار الیکشن کمیشن کے مقرر کردہ اخراجات کی حد سے تجاوز کا سوچ سکتا ہے اور نہ ہی پارلیمان کے ممبران کو علاقائی یا حلقے کی تعمیر و ترقی کی مد میں رقم مہیا کی جاتی ہے۔

یہ لوکل کونسل کا دائرہ اختیار ہے اور ایسے کاموں کو مکمل کرنا انہی کا فرض بنتا ہے۔ کوئی سیاسی پارٹی یا امیدوار ایک مطلوبہ مقرر کردہ مالیاتی حد سے زیادہ اخراجات نہیں کر سکتا ورنہ الیکشن کمیشن کی سخت گوشمالی کا خطرہ لاحق ہوتا ہے جس کے مضمرات انتہائی سنگین ہوتے ہیں۔ انگلینڈ، ویلز اور سکاٹ لینڈ کیونکہ انتظامی طور اپنے اپنے عملداری میں ایک اکائی کی صورت میں لوکل باڈیز میں بٹے ہوئے ہیں لہذا یہاں گورنروں کا کوئی تصور نہیں۔

ہماری جمہوریت پارلیمانی و صدارتی نظام کے امتزاج کے ساتھ لاگو ہے لہذا یہاں گورنر کے پاس کلی اختیار نہیں ہوتے بلکہ وزیر اعلیٰ صوبائی حکومت کا انتظامی سربراہ ہوتا ہے۔ ہماری جمہوری روایات برطانیہ سے مستعار لی ہوئی ہیں۔ لیکن ہم نے اس کے ساتھ صوبائی حکومتوں کے قیام کا تڑکا بھی لگایا ہوا ہے۔ لہذا گورنر مقرر کرنا اب ہماری قانونی مجبوری ہے۔ برطانیہ میں پروٹوکول کا کوئی تصور نہیں اور نہ شاہراہوں کو بلاک کیا جاتا ہے۔

ملکی قوانین کی عملداری و پاسداری ہر ایک پر لازم بلحاظ عہدہ کے ہے اور اسی اعتبار سے قانون شکنی کی صورت میں جرمانہ و سزا کا حقدار ہوتا ہے۔ دارالعوام کا الیکشن ہر چار سال کے بعد ہوتا ہے اور جیتنے والی سیاسی پارٹی برسرکار آتی ہے۔ ملک حلقوں میں بٹا ہوا ہے۔ الیکشن کے دوران کہیں بدنظمی نظر نہیں آتی۔ تقریباً چار تا چھ ہفتوں میں الیکشن کا عمل مکمل ہو جاتا ہے۔ اگر برسرکار اقتدار سیاسی پارٹی الیکشن جیت جائے تو وہ اگلی مدت کے لئے اپنا کام جاری رکھتی ہے اور اگر اپوزیشن جیتے تو دوسرے دن ان کا سربراہ عنان اقتدار سنبھال لیتا ہے۔

حلف برداری کی کوئی تقریب نہیں ہوتی۔ ہر حلقے کا رزلٹ اس حلقہ کے ٹاؤن ہال میں الیکشن والے دن تمام امیدواروں اور ان کے پولنگ ایجنٹوں کے سامنے گنتی کے بعد جاری کیا جاتا ہے اور جیتنے والا امیدوار ایک چھوٹی سی تقریر کرتا ہے جس میں کسی کی دل آزاری کا تصور نہیں ہوتا بلکہ سب کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے۔ یہی طریقہ کار لوکل باڈیز کے الیکشن میں اختیار کیا جاتا ہے۔ البتہ اپر ہاؤس یا ہاؤس آف لارڈ کے الیکشن کا طریقہ کار ذرا مختلف ہے۔

اس میں ممبران کو دو طریقوں سے منتخب کیا جاتا ہے۔ پہلے طریقہ کار کے تحت وراثتی ممبران کو لیا جاتا تھا لیکن 1999 ء کے بعد اب ایک آزاد کمیشن ہاؤس آف لارڈز کے امیدواروں کو مختلف شعبہ زندگی سے منتخب کرتا ہے۔ دوسرے ممبران کو سیاسی پارٹیوں کے کوٹہ سے منتخب کیا جاتا ہے۔ جو سیاسی جماعتوں کے دارالعوام کے اپنے ممبران کی تعداد پر منحصر ہوتا ہے۔ قوانین کی منظوری کا عمل انگلستان اور پاکستان کی پارلیمانوں کا ایک ہی جیسا ہے۔

اب آئیں! ہم اپنی جمہوریت کی طرف دیکھیں۔ ہم نہ تو جمہوری طرز حکومت پر گامزن ہیں اور نہ ہی ہمارے رویے اس بات کی غمازی کرتے ہیں۔ ہم نے ملک پاکستان کو ایک ایسے دو رائے پر لا کھڑا کر دیا ہے جس سے اس کی احساس کو سخت خطرات لاحق ہیں۔ ہم میں عدم رواداری، عدم اعتماد اور انا پسندی در آئی ہے اور اس سے بھی گمبھیر بات ہماری ذاتی ترجیحات ملکی ترجیحات سے افضل تر ہیں۔ برداشت کا مادہ مفقود ہوتا جا رہا ہے۔ جمہوریت میں حکومتی سیاسی پارٹی اور اپوزیشن دونوں لازم و ملزوم ہوتے ہیں اور ان میں باہمی احترام کا جذبہ ہونا ضروری ہے۔ ہماری بدقسمتی ہم جمہوریت کی اعلی اقدار کو نہ تو سمجھ سکے اور نہ ہی اس پر کاربند ہو رہے ہیں۔ کہیں ہم غیروں کی چالوں میں نادانستگی سے پھنستے تو نہیں چلے جا رہے۔ اب بھی وقت ہے ہم اپنی راہوں کو جمہوری اقدار پر اس کی اصل روح کے مطابق ڈھال لیں ورنہ کہیں دیر نہ ہو جائے۔

 

Facebook Comments HS