قانون ویکسی نیشن اور ہومیو پیتھی


یہ بات ثابت شدہ ہے کہ دوائی کی قلیل مقدار بھی موثر ہوتی ہے، ویکسین اس کی عمدہ مثال ہے۔ ویکسی نیشن کا اصول ہے کہ اگر کسی بیماری کے کمزور جراثیم یا بیماری کا مواد قلیل مقدار میں صحت مند جسم میں داخل کر دیا جائے، تو وہ جسم اس بیماری سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اب تک کئی امراض کی ویکسین بنا کر انسانوں کو متعلقہ امراض سے محفوظ کیا جا چکا ہے۔ گویا یہ ایک تجرباتی حقیقت ہے۔

ویکسی نیشن کے اصول کی دریافت برطانوی لیڈی میری وارٹلے ماٹنگو اور ڈاکٹر ایڈورڈ جینر کی مشترکہ کاوش ہے۔ تحقیق کا آغاز لیڈی وارٹلے نے چیچک کی مرض سے کیا اور اسے انجام پر ڈاکٹر ایڈورڈ جینر نے پہنچایا۔ 1716 ء میں جب برطانوی سفیر لیڈی وارٹلے ماٹنگو قسطنطنیہ (ترکی) گئیں، تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں کی قبائلی بوڑھی عورتیں چیچک کے چھلکوں کو سوئی کی نوک سے معمولی مقدار میں تندرست انسانوں کے جسم میں داخل کیا کرتی تھیں اور وہ لوگ چیچک سے محفوظ ہو جاتے تھے۔ انہوں نے خطوط کے ذریعے برطانیہ میں اپنے احباب اور دستوں کو اس تجربہ سے آگاہ کیا اور یہ بات عام ہو گئی۔

ان دنوں برطانیہ میں چیچک کے دانے گائیوں کے پستانوں پر نکلا کرتے تھے اور وہی دانے گائے کا دودھ دو ہنے والی خواتین کے ہاتھوں پر بھی نکل آتے تھے۔ 1796 ء میں برطانوی ڈاکٹر ایڈورڈ جینر نے ایک گوالن کے ہاتھ پر نکلے ہوئے چیچک کے دانے سے مواد لیا اور ایک 8 سالہ بچے کے جسم میں داخل کر دیا۔ پھر اس بچے کے خون میں چیچک کے زندہ اور طاقتور جراثیم ٹیکہ کے ذریعے داخل کیے ، لیکن اس بچے پر بیماری کا کوئی اثر نہ ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ چیچک کے خلاف اس کا مدافعتی نظام بیدار ہو چکا ہے۔ اس خطرناک تجربہ سے چیچک کی ویکسین ایجاد کی گئی۔ اس نام کو لفظ ”ویکسینیہ“ سے اخذ کیا گیا، جس سے مراد چیچک کی وہ قسم ہوتی ہے، جو گائے سے انسان کو لگتی ہے۔ پھر یہ نام حفظ ما تقدم کے ہر مواد کے لئے استعمال کیا جانے لگا۔ (وکی پیڈیا )

قلیل مقدار دوائی کے نتائج

بعض دیگر تجربات سے بھی قلیل مقدار دوائی کے موثر ہونے کے ثبوت ملتے ہیں۔ طبی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایشیائی طبیب چیچک کی کمزور قسم ستیلا کے دانوں سے لئے گئے خشک چھلکوں کا سفوف بنا کر چیچک سے بچنے کے لئے تندرست انسانوں کو کھلایا کرتے تھے، جس سے معمولی اور عارضی سا مرض پیدا ہوتا، لیکن پھر وہ شخص چیچک سے ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوجاتا تھا۔

1883 ء میں جرمنی میں ڈاکٹر شلر نے قلیل مقدار دوائی کے استعمال کا ایک اور نظریہ پیش کیا۔ اس نے دوائی کی پہلی طاقت 1 x) (میں ڈرگ کو ملک شوگر میں 1 / 10 کی نسبت سے ملایا اور پھر اس سے اسی نسبت سے دیگر طاقتیں بنائیں۔ یوں دوائی مسلسل قلیل سے قلیل تر ہوتی گئی۔ یہ بھی قلیل مقدار دوائی کے استعمال کی عمدہ مثال ہے۔ اسے بائیو کیمک سسٹم آف میڈیسن کہا جاتا ہے۔

چند سال پہلے قلیل دوائی کا ایک اور نظریہ سامنے آیا ہے، اسے نینو میڈیسن کہا جاتا ہے۔ اس میں ایک آلے سے ڈرگ کا پیمائش کے حوالے سے دس لاکھواں حصہ لے کر بطور دوائی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ دوائی کینسر کی تشخیص اور علاج کے لئے استعمال ہو رہی ہے۔ اس دوائی سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں اور اسے علاج کی دنیا میں ڈرامائی تبدیلی کہا جاتا ہے۔ (وکی پیڈیا )

ایک عوامی تجرباتی ثبوت ملا کہ ایک مریض نے بتایا کہ اسے بچپن سے خارش کی تکلیف تھی، جسم پر چھوٹے چھوٹے ابھار بنتے تھے۔ جنہیں عرف عام میں دھپڑ کہا جاتا ہے۔ اس کی دادی نے ایک بھڑ پکڑی اور اس کا ڈنک والا حصہ توڑ کر مکھن میں رکھ کر اسے کھلا دیا۔ بقول اس مریض کے چالیس سال ہو چکے ہیں، وہ مرض دوبارہ نہیں ہوئی۔

قارئین کرام! نوٹ فرمائیں کہ مذکورہ بالا مثالوں سے دو حقائق سامنے آئے ہیں۔ اول یہ کہ قلیل مقدار دوائی عرصہ سے علاج کے لئے استعمال ہو رہی ہے اور معجزانہ اثر رکھتی ہے۔ دوم یہ کہ زمانہ قدیم کی ان پڑھ اور گنوار عورتیں بھی اس علاج سے بخوبی واقف تھیں۔ واضح ہو کہ یہاں دوائی کے مادی خواص سرگرم نہیں ہوتے، کیونکہ قلیل ہونے کے باعث وہ یہ صلاحیت ہی نہیں رکھتی۔ دراصل یہاں پر یہ دوائی ویکسی نیشن کے اصول پر کام کرتی ہو۔ یہ مریض کے جسم کے مدافعتی نظام کو بیدار کرتی ہے اور وہ مریض ٹھیک ہوتا ہے۔ قوت مدافعت کے بیدار ہونے پر مریض کے جسم میں ایک پروٹین بنتی ہے جسے انٹی باڈیز کہا جاتا ہے۔ یہ انسانی جسم پر حملہ آور مواد کا مقابلہ کرتی ہے اور انہیں ختم کر دیتی ہے۔

کم پوٹنسی ہومیو دوائی میں بھی ڈرگ معمولی مقدار میں ہوتی ہے۔ میرے نزدیک یہ بھی ویکسی نیشن کی طرح کام کرتی ہے۔ یہ اپنی علامت کے مطابق مدافعتی نظام کو بیدار کرتی ہے، تو مریض صحت مند ہوتا ہے۔ واضح ہو کہ کثیر مقدار اور قلیل مقدار دوائی کے اثرات مختلف ہوتے ہیں، یہ روزمرہ کا تجربہ ہے۔ ہومیو پیتھی کے بانی ڈاکٹر ہانیمن کے سنکونا پر کیے گئے تجربہ سے یہ بخوبی ثابت ہوتا ہے۔ جب وہ حضرت کثیر مقدار میں سنکونا پودے کا جوشاندہ بنا کر پیتے ہیں تو سردی والا بخار ہو جاتا ہے۔ لیکن جب وہی مواد ہومیو پیتھک طریق پر قلیل کیا گیا لیتے ہیں تو بخار ٹھیک ہو جاتا ہے۔ یہ بھی قلیل مقدار دوائی کے موثر ہونے کی عمدہ مثال ہے۔

پس معلوم ہوا کہ ہو میو پیتھی اور ویکسین کا بنیادی اصول ایک ہی ہے کیونکہ ان دونوں میں قلیل مقدار میں دوائی استعمال ہو رہی ہے۔ البتہ دونوں کے بنائے جانے کا طریقہ کار مختلف ہیں، اس لئے ان کی خصوصیات میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے ۔ ویکسین صرف تندرست انسان کو حفظ ما تقدم کے لئے لگائی جاتی ہے۔ لیکن مریض کو ویکسین نہیں لگائی جا سکتی۔ اگر کسی کو ہیپاٹائٹس بی ہو چکا ہو تو اسے ویکسین نہیں لگاتے، اگر غلطی سے لگ جائے تو مرض بڑھ جاتا ہے۔ سانپ کاٹے کی ویکسین اگر ایسے شخص کو لگا دی جائے جسے سانپ نے نہ کاٹا ہو، تو وہ انسان ویکسین کے زہر سے مر سکتا ہے۔

جبکہ ہومیو دوائی کچھ زیادہ ہی قلیل اور مفید ہوتی ہے کیونکہ یہ بیمار انسان کو صحت مند کرتی ہے اور تندرست انسان کو بیماری سے محفوظ کرتی ہے۔ مثلاً وبائی امراض میں اگر تندرست انسان کو متعلقہ علامات کے مماثل ہومیو دوائی کھلا دی جائے تو وہ شخص وبائی مرض سے محفوظ رہتا ہے۔ یہ خاکسار کے ذاتی تجربہ سے بھی ثابت ہے۔

ہومیو دوائی اور ویکسین میں ایک اور مماثلت پائی جاتی ہے۔ چیچک کی ویکسین بنانے اور ہومیوپیتھی کی دوائی نوسوڈ بنانے کا طریقہ ایک ہی ہے۔ ڈاکٹر ایڈورڈ جینز نے گوالن کے ہاتھ پر نکلے ہوئے دانوں کے مواد سے ویکسین بنائی تھی، اسی طرح ہومیو پیتھی میں کینسر، ٹی بی اور تھائرائیڈ وغیرہ کے مواد سے نوسوڈز ادویات بنائی جا رہی ہیں۔ علاج کے حوالے سے یہ بھی ویکسین کی طرح بہت مفید اثرات رکھتی ہیں۔

قصہ مختصر، ثابت ہوا کہ ویکسین اور ہومیو دوائی کا بنیادی اصول اور طریقہ کار مشترک ہیں۔ ان دونوں میں قلیل مقدار دوائی مستعمل ہے اور دونوں انسان کے مدافعتی نظام کو بیدار کرتی ہیں۔ البتہ ایلو پیتھی کی دیگر ادویات نسبتاً کثیر مقدار میں ہوتی ہیں، اس لئے ان کے مادی خواص اثر پذیر ہوتے ہیں۔

Facebook Comments HS