مستحکم حکومت کی ضرورت


ہمارے آئین کے مطابق طاقت کا اصل سر چشمہ عوام ہیں، اور انہیں یہ حق حاصل ہے کہ جسے چاہیں اپنے لیے حکمران منتخب کریں۔ پچھلی ستر سالہ تاریخ میں لیکن نصف وقت ایسا گزرا جس میں عوام کو نہ صرف آئین کے مطابق عطا ہوئے اس بنیادی حق سے محروم رہنا پڑا بلکہ اپنے حق کی خاطر آواز بلند کرنے کی اجازت بھی نہ ملی۔ بقیہ نصف دور میں بھی غیر معمولی تعداد میں انتخابات ہوئے۔ ان کے نتیجے میں بننے والی حکومتیں بھی اپنی مکمل مدت گزارنے کے بجائے قبل از وقت ٹوٹتی رہیں۔

ان نام نہاد جمہوری ادوار میں بھی اقتدار کے ایوانوں کے مکین غیبی اشاروں پر بدلتے رہے مگر بہرحال جمہور کو کسی حد تک تسلی رہی کہ ان کی منشا بھی کسی حد تک اپنے مستقبل کے فیصلے میں شامل ہے۔ نظام کے اسی دائمی عدم تسلسل کی وجہ سے ہمارے ہاں پسماندگی، جہالت اور سیاسی شعور کی کمی جیسے بیماریاں پنپتی رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کو کبھی اقتدار کے کھیل میں زیادہ دلچسپی نہیں رہی۔ کیونکہ وہ اس کھیل کے اہم فریق ہونے کے باوجود ہمیشہ کسی مفاد سے محروم رہے۔

حکمران کوئی بھی گزرا خواہ، جمہوری یا غیر جمہوری عوام سے اس کا فاصلہ یکساں برقرار رہا۔ اقتدار میں آنے والوں کے دن تو بدلتے رہے مگر عوام کی زندگیوں میں بے اطمینانی اور عدم تحفظ کا احساس ٹھہرا رہا۔ محض وسائل کی کمیابی کا بہانا بنا کر کسی کے لیے اس جرم سے دامن چھڑانا ممکن نہیں کیونکہ ہمارے ساتھ آزاد ہونے والی خطے کی دیگر ریاستوں کے وسائل ہم سے بہتر نہیں۔ وہاں مگر شرح خواندگی اور عوام کی معاشی حیثیت ہم سے بہرحال بہتر ہے، حالانکہ ہمارے اور ان ممالک کے وسائل میں زمین اور آسمان کا فرق بھی نہیں۔ بڑی حد تک اب عوام سمجھ چکے ہیں کہ جب تک نظام کو تسلسل حاصل نہیں ہو گا ان کی تکالیف کا مداوا نہیں ہو سکتا۔ اسی باعث کٹھ پتلیاں بنانے اور اقتدار میں آنے کے لیے چور دروازے ڈھونڈنے والے بھی آج کھلم کھلا جمہوریت کے خلاف کچھ کہنے کی ہمت نہیں کر پا رہے۔

لیکن کیا پچھلے دو ادوار کی مانند محض چہرہ در چہرہ اقتدار کی منتقلی مسائل کا حل ہو سکتی ہے؟ اس کا جواب جاننے کے لیے پچھلی تمام ملکی سیاسی تاریخ کو پھر سے سوچنا پڑے گا۔ صاف نظر آتا ہے کہ گزری تمام سیاسی حکومتوں کی ناکامی کی وجہ ان کا غیر واضح مینڈیٹ رہا، جس کے باعث نہ تو کبھی وہ بیرونی دنیا کے بارے میں پالیسی بنانے میں آزاد رہیں اور نہ ہی انہیں مقامی سطح پر لسانی و صوبائی بلیک میلنگ سے آزاد ہو کر کام کرنے کا موقع ملا۔

آئندہ انتخاب جیت کر کون حکومت بنائے گا اس کے بارے میں فی الوقت تین واضح امکانات نظر آ رہے ہیں۔ ایک امکان یہ ہے کہ ایک مرتبہ پھر تحریک انصاف کسی طور اتنی نشستیں حاصل کر لے کہ چھوٹی جماعتوں اور آزاد ارکان کو ساتھ ملا کر حکومت بنا لے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ مسلم لیگ نون پنجاب سے بھاری اکثریت حاصل کر کے حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ جائے۔ تیسرا امکان جس کے متعلق زیادہ اندیشہ ہے وہ یہ ہے کہ موجودہ سیاسی کشیدگی اور ”وسیع تر قومی مفاد“ میں کسی بھی جماعت کو حکومت بنانے کی صلاحیت حاصل نہ ہو سکے لہذا مختلف جماعتوں اور آزاد ارکان کے ملغوبے سے حکومت تشکیل دی جائے، اور یہی امکان غالب ہے۔ اس کالم کے مستقل قارئین جانتے ہیں کہ ہم نے رواں سال اگست میں لکھا تھا کہ آئندہ انتخابات کے بعد مخلوط حکومت قائم کی جائے گی۔ چند روز قبل سابق صدر آصف زرداری نے بھی ایک انٹرویو میں انہی خیالات کا اظہار کیا ہے۔

لیکن مقتدر قوتوں اور شریک اقتدار جماعتوں کی حد تک تو یہ فارمولہ بہت آئیڈیل ہے مگر آنے والے وقت میں یہ حکومت محض ”ڈنگ ٹپاؤ“ پالیسی کا کام دے گی۔ پچھلے سولہ ماہ میں پی ڈی ایم حکومت میں شامل جماعتوں کی مفاد پرستانہ کاوشیں سب کے سامنے ہیں۔ ایسی حکومت میں شریک جماعتیں تمام وقت آپسی کھینچا تانی پر صرف کریں گی اور ہو سکتا ہے اس مرتبہ وزیراعظم کی کرسی بھی میوزیکل چیئر بنی رہے۔ اس وقت ملک کے لیے معیشت، توانائی، امن و امان، داخلہ و خارجہ پالیسی، آبادی پر کنٹرول، بلدیاتی اداروں کی تشکیل اور تعلیم و صحت جیسے امور پر منظم منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔

لیکن یہ تمام شعبہ جات مکمل یکسوئی اور منظم تدبیر کے متقاضی ہیں۔ کوئی بھی کمزور یا ربڑ اسٹمپ حکومت ان چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کی حامل نہیں ہو سکتی۔ آج ذرائع ابلاغ کی تیزی اور شعور میں اضافے کی وجہ سے پہلی بار عوام کے ہاتھ میں اپنی تقدیر کا فیصلہ آیا ہے۔ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ نہایت سوچ سمجھ کر کریں، اور کسی بھی پراپیگنڈے یا جذباتی نعروں سے بالاتر ہو کر کسی پختہ سوچ کی حامل جماعت کو واضح اکثریت دلائیں اور پھر پانچ سال تک اس کے پشتیبان بھی رہیں تا کہ وہ پالیسی سازی اور کارکردگی دکھانے میں آزاد رہے۔ اسی میں ملک اور عوام کی بھلائی ہے ورنہ کوئی معلق پارلیمنٹ وجود میں آ گئی تو حالات اسی طرح ابتری کا شکار رہیں گے اور پھر اگلے پانچ سال بعد دوبارہ لوگ جمہوریت کو کوستے نظر آئیں گے۔

Facebook Comments HS