پرائیوٹ ٹیچنگ کرنا، خود کو ضائع کرنا ہے
ہمارے طالب علم جب بھی تعلیم سے فارغ ہوتے ہیں تو ان کی سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ وہ پرائیویٹ ٹیچنگ شروع کرتے ہیں وہ بھی چند پیسوں کی خاطر۔ پرائیویٹ ٹیچر کی زیادہ سے زیادہ تنخواہ دس بیس ہزار ہوتی ہے اور کام کتنا لیتے ہیں؟ ستر ہزار کا۔ ایک سرمایہ دارانہ نظام بنایا ہوا ہے نجی اداروں کے مالکوں نے۔ سکول کالج کے مالک خود ایف اے بی اے پاس ہوتے ہیں اور ماسٹر پاس ٹیچر پر حکومت چلاتے ہیں۔ اساتذہ کے ساتھ ایک غلام کی طرح سلوک کرتے ہیں۔
یونیورسٹی کے طالب علم جب ڈگری لیتے ہیں تو اُن کے بڑے بڑے خواب ہوتے ہیں۔ وہ آنے والے ٹیسٹ کی تیاری کے لئے گھر بیٹھیں تو اُس کے گھر والے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اپنا وقت ضائع کرتا ہے۔ اُس کو ٹارچر کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ آپ یونیورسٹی سے فارغ ہو اب نوکری ڈھونڈو خود پیسے کماؤ جس کی وجہ سے وہ مجبور ہو کر پرائیویٹ ٹیچنگ شروع کرتا ہے۔ گھر والوں کا منہ بند کرنے اور صرف اپنی جیب خرچ کمانے کے لئے اُس کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہوتا تو وہ پرائیویٹ سکول کالج کی طرف بھاگ جاتے ہیں۔
پرائیویٹ سکول کالج کے ایک عجیب پالیسی ہے جیسے چھوٹے چھوٹے ایوارڈ دینا ہار پہنانا چھوٹا موٹا ٹرپ دینا۔ چھوٹے بچے کی طرح خوش کیا جاتا ہے جیسے چھوٹے بچے کو کھلونے دے کر خوش کیا جاتا ہے۔ یہ ایسا کیوں کرتے ہیں، تاکہ استاد بھاگ نہ جائیں۔ کیسی نے کیا خوب کہا تھا ”A salary is a drug they give you to forget your dreams“ ( تنخواہ ایک نشہ ہے جو آپ کو اپنے خواب بھولنے کے لیے دیا جاتا ہے ) ہاں وہ چند ماہ یا ایک سال پرائیویٹ ٹیچنگ کر کے اپنے بڑے بڑے خواب ہمیشہ کے لیے بھول جاتے ہیں۔ وہ اس جال میں پھنس جاتے ہیں۔
اگر موازنہ کریں اُن طالب علم کے جو یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد اپنے سلیبس کو دہرایا کرتے ہیں اور دوسرے پرائیویٹ ٹیچنگ کرتے ہیں تو اس میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ اپنے سلیبس پر عبور حاصل کرنا زیادہ کامیابی ہے نہ کہ پرائیویٹ ٹیچنگ۔ دوسری بات یہ کہ کہتے ہیں کہ پرائیویٹ ٹیچنگ سے تجربہ حاصل ہوتا ہے تو میں آپ پر واضح کرو کہ یونیورسٹی سے فارغ طالب علم پہلے سے تجربہ کار ہوتے ہیں وہ اپنی یونیورسٹی میں اتنے پریزنٹیشن کرتے ہیں کہ انھیں پرائیویٹ ٹیچنگ کے تجربے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ریگولر گریجویٹ طالب علم کے گھر والوں سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ خدارا ان کی خوابوں کو داؤ پر نہ لگائیں۔ ان طالب علم کو مزید تھوڑا وقت دیں تاکہ وہ سکون سے اپنے سلیبس کو دہرائیں اور آنے والے ٹیسٹ کے لئے صحیح معنوں میں تیار ہو جائیں۔ ان کو ٹارچر نہ کریں، ان پر پریشر نہ ڈالیں کہ وہ پرائیویٹ ٹیچنگ شروع کریں اور اپنے خواب بھول جائیں۔


