عالمی ماحولیاتی تحریک اور غزہ کی جنگ

2018 میں سویڈن کی پارلیمنٹ کے سامنے ایک 15 سالہ بچی گریٹا تھنبرگ نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرے کو نظر انداز کرنے کے خلاف احتجاج شروع کیا وہ اسکول اسٹرائیک فار کلائمیٹ کا بینر لے کر اسٹاک ہوم میں سوئیڈش پارلیمنٹ کے سامنے بیٹھ گئیں۔ ایک معروف ماحولیاتی کارکن انگمار رینٹزوگ کے الفاظ میں وہ اس وقت دنیا کی تنہا ترین لڑکی لگ رہیں تھیں، لیکن رفتہ رفتہ گریٹا عالمی ماحولیاتی تحریک کی روح رواں بن گئیں۔ ان کی اس احتجاجی مہم نے پوری دنیا کے نوجوانوں میں ماحولیاتی شعور بیدار کیا۔ اور اس طرح نوجوانوں کی ایک عالمی تحریک کا آغاز ہو گیا۔ جس کے تحت ہر جمعے کے دن دنیا بھر میں نوجوان احتجاج کرنے لگے۔
اس تحریک کو فرائیڈیز فار فیوچر بھی کہا جاتا ہے۔ نوجوانوں کے ان احتجاجی اجتماعات میں ماحولیاتی انصاف کے معاملے کو بھی اٹھایا جاتا ہے اور سرمایہ دارملکوں کی طرف سے دنیا بھر کے ماحولیاتی وسائل کے بے دریغ استعمال اور دولت میں اضافے کی دوڑ کے فطری نظاموں پر مرتب ہونے والے تباہ کن اثرات پر بھی بات ہوتی ہے۔ نظریاتی طور پر ماحولیاتی تحریک ایک لحاظ سے سرمایہ داری نظام مخالف تحریک بھی ہے اور اس میں شامل ماحولیاتی کارکنوں کی ایک بڑی اکثریت سرمایہ داری نظام اور غریب ملکوں اور معیشتوں کے استحصال کو بھی ماحولیاتی تباہی کی ایک اہم وجہ سمجھتی ہے۔
اسی تناظر میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملے کی بھی بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے دانشوروں اور ماحولیاتی کارکنوں کی طرف سے مذمت کا سلسلہ جنگ کے آغاز سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ خود گریٹا تھنبرگ نے 20 اکتوبر کو اپنے اسکول اسٹرائیک کے 217 ویں ہفتے پر ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ آج ہم فلسطین اور غزہ کے لوگوں کے ساتھ احتجاج کر رہے ہیں۔ دنیا کو فوری طور پر جنگ بندی کے لئے بولنا چاہیے۔ اس پوسٹ کے ساتھ شایع ہونے والی تصویر میں گریٹا اور اس کے دوستوں نے ماحولیاتی انصاف کے ساتھ ساتھ فلسطین کی آزادی اور غزہ کے لوگوں کے حق میں بینر اٹھا رکھے تھے۔
گریٹا تھنبرگ کے اس موقف کی دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر پذیرائی ہوئی جب کہ اسرائیل سے ہمدردی رکھنے والے حلقوں کی طرف سے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا، جس کے جواب میں ایمسٹرڈم میں ایک احتجاج کے دوران گریٹا تھبنرگ کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی انصاف کی تحریک کو ان لوگوں کی آواز ضرور بننا چاہیے جو کہ ظلم کا شکار ہو رہے ہیں۔ آزادی اور انصاف کے لئے لڑ رہے ہیں۔ گریٹا نے یہ بات کرتے ہوئے فلسطینی اسکارف پہنا ہوا تھا۔
گریٹا کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر اس قسم کی یکجہتی کے بنا ماحولیاتی انصاف کا کوئی تصور نہیں ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ایک فلسطینی ماحولیاتی کارکن کو اسٹیج پر بھی بلایا اور اسی دوران پورا اجتماع جنگ مخالف نعروں سے گونج اٹھا۔ اس احتجاج کے دوران ایک موقع پر گریٹا سے مائیک چھیننے کی کوشش بھی کی گئی، جب کہ ان کے اس موقف کے بعد اسرائیل کے حامی حلقوں کی جانب سے ماحولیاتی تحریک کے عالمی رہنما کی حیثیت سے ان کی شخصیت کو متنازع بنانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔
انہیں اور ان کے حامیوں کو سوشل میڈیا پر جہادی بھی قرار دیا گیا ہے۔ لیکن مقبوضہ زمینوں پر ماحولیاتی انصاف کا کوئی تصور نہیں ٍ؛ دنیا بھر کے ماحولیاتی کارکنوں کا مقبول ترین نعرہ بن گیا ہے۔ اور انصاف پسند ماحولیاتی کارکن گریٹا کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کلائمیٹ جسٹس الائنس اور ماحولیاتی انصاف کے لئے جدوجہد کرنے والی دوسری تنظیموں کی طرف سے بھی کی طرف سے بھی مقبوضہ زمینوں پر آبادکاری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ماحولیاتی انصاف اور فلسطین کی آزادی کی تحریک کو ایک دوسرے سے منسلک تحریکیں قرار دیا گیا ہے۔ فلسطینیوں کی حمایت پر اٹھائے جانے والے سوالات کا جواب دیتے ہوئے گریٹا تھنبرگ کا کہنا ہے کہ اس جنگ میں بے گناہ فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد تاریخی طور پر غیر معمولی ہے۔ کچھ ہفتوں کے دوران ہزاروں بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس تشدد کے خاتمے کا مطالبہ انسانیت کا بنیادی تقاضا ہے۔ خاموشی کا مطلب ان جرائم میں شراکت ہو گا۔ آپ اپنے سامنے نظر آنے والی نسل کشی پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ اس لیے ہم غزہ کے لوگوں کی تکالیف پر بات کرتے رہیں گے۔ کیونکہ انسانی حقوق کے تحفظ کے بغیر ماحولیاتی انصاف کا کوئی تصور نہیں ہے۔

