انتخابات میں دھاندلی


پاکستان میں انتخابات میں دھاندلی تین مختلف سطحوں پر ہوتی ہے۔ ایک طریقہ انتخاب سے پہلے الیکشن کمیشن کے ذریعے کروائی جاتی ہے۔ حلقوں میں یونین کونسلوں کو تبدیل کیا جاتا ہے ۔ ووٹروں کو ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل کیا جاتا ہے۔ انتظامیہ کے افسروں کو منتقل کر کے اپنے پسندیدہ افسروں کو لگایا جاتا ہے۔ پولیس ایس ایچ او سے لے کر آئی جی، پٹواری سے لے کر چیف سیکرٹری سطح تک تبدیلی راتوں رات کروائی جاتی ہے تاکہ پسندیدہ امیدواروں کو جتوایا جا سکے۔

پسندیدہ امیدواروں کو لیول پلیئنگ فیلڈ مہیا کیا جاتا ہے۔ جبکہ دیگر امیدواروں کو ہرانے کے لیے منصوبہ بندیاں کی جاتی ہے۔ پسندیدہ امیدواروں کے لیے سرکاری سرپرستی میں انتخابی مہم چلائی جاتی ہیں۔ جبکہ غیر پسندیدہ امیدواروں کو تنگ کیا جاتا ہے۔ تاکہ وہ عوام تک نہ پہنچ سکے۔ بلکہ 2008 میں تو غیر پسندیدہ کے خلاف خودکش حملوں تک بات پہنچ گئے تھیں۔ کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کے سائے تلے سرکاری مشینری مل کر پسندیدہ امیدواروں کو جتوانے کے لیے الیکشن سے پہلے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔

میڈیا پر ناپسندیدہ امیدوار کے نام لینے پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ کرپشن کے نام نہاد کیسز اور بات فتووں تک چلی جاتی ہے۔ بلکہ اب تو مخالفت کے خلاف کتابیں لکھوائی جاتی ہے۔ جس علاقے میں کسی امیدوار یا پارٹی کی ووٹ بنک مضبوط ہو تو ان کو توڑنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔

دوسرا طریقہ الیکشن کے دن دھاندلی کا منصوبہ ہے۔ جس کو کس حد تک امیدواروں اور پارٹیاں کنٹرول کر سکتی ہے۔ الیکشن کے دن پہلا طریقہ واردات انتخابی عملے کے ساتھ مل کر یا انتخابی عملے کو زبردستی مجبور کر کے پولنگ سٹیشنوں پر قبضہ قائم کرنا۔ جس میں عام طور پر پولنگ ایجنٹوں سے کچی لکھائی سے فارم 45 پر دستخط لیا جاتا ہے۔ کسی بھی صورت میں فارم 45 پر کچی لکھائی سے دستخط نہ کریں اور دستخط آخر میں کرنا چاہیے جبکہ گنتی کا عمل مکمل ہو جائے تو پکی لکھائی سے دستخط کرنا چاہیے۔ کسی بھی صورت میں فارم 45 کو چھوڑ کر پولنگ اسٹیشنوں سے نہیں جانا چاہیے۔

دوسرا طریقہ واردات مخالف پولنگ ایجنٹوں کو تنگ کیا جاتا ہے۔ پولنگ ایجنٹوں کے گھروں پر چھاپے مارے جاتے ہیں۔ پولنگ ایجنٹوں اور ان کے خاندان والوں کو تنگ کیا جاتا ہے تاکہ پولنگ کے دن ایجنٹ تک مہیا نہ ہو۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ہر پولنگ اسٹیشن پر تین پولنگ ایجنٹوں کو لگائے۔ تاکہ بوقت مجبوری متبادل ایجنٹ دستیاب ہو۔ اور انتخابات کے دن دھاندلی کو روکا جا سکے۔ ہر پولنگ اسٹیشن پر پولنگ ایجنٹ کی تقرری ہر امیدوار کا قانونی حق ہے۔ تیسرا طریقہ انتخاب خواتین پولنگ سٹیشن پر قبضہ جمانا اور جعلی ووٹ پولنگ پول کرنا۔ چوتھا طریقہ واردات پولنگ افسر کی جانب سے شناختی کارڈ چیک نہ کرنا اگر ووٹروں کی شناخت چیک نہیں کی جا رہی ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایک شخص ایک سے زیادہ ووٹ ڈال سکتا ہے

پانچویں طریقہ واردات وہ مردہ افراد جن کا انتخابی فہرستوں سے اخراج نہیں ہوتا۔ ان انتخابی فہرستوں کے ذریعے سے دھاندلی کرنے والے اپنے امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالا جاتا ہے۔ چھٹا طریقہ واردات ووٹوں کی گنتی پر اثر انداز ہونا اور مخالف امیدواروں کے ووٹوں کو مسترد کرتے ہیں۔ تاکہ اپنے پسندیدہ امیدوار کو جتوایا جا سکے۔ ساتویں طریقہ واردات ووٹروں کو بطور رشوت 500 سے 5000 تک روپے دینا۔ عام طور پر پولنگ اسٹیشنز کے باہر خرید و فروخت کی منڈیاں لگ جاتی ہیں۔

آٹھویں طریقہ واردات الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق پولنگ ایجنٹوں سے دستخط کروائے جاتے ہیں۔ فارم 45 میں عام طور پر تبدیلی کی جاتی ہے۔ نویں طریقہ واردات جس پولنگ اسٹیشن پر کم ووٹ کا خدشہ ہو وہاں پر لڑائی جھگڑا کروا کر پولنگ کے عمل کو بند کرواتے ہیں۔ تاکہ مخالف امیدواروں کو ووٹ نہ پڑے۔ دسواں طریقہ واردات یہ ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے قریب موبائل ٹاورز کو بند کر کے زبردستی ووٹوں کے بکسوں کو چرایا جاتا ہے۔ یا بکسوں کو آگ لگائی جاتی ہے۔ یا عملے کو یرغمال بنایا جاتا ہے۔ گیارہواں طریقہ واردات پولنگ اسٹیشنز پر ووٹروں کو غلط معلومات فراہم کرنا، ووٹروں کی لاعلمی سے غلط فائدہ اٹھانا اور ووٹروں سے غلط ووٹ ڈالنا شامل ہیں۔

تیسرا طریقہ انتخاب کے بعد دھاندلی کا طریقہ شامل ہیں۔ جن میں جیتے ہوئے امیدواروں کو زبردستی اغواء کیا جاتا ہے اور ان سے پسندیدہ پارٹی کے حق میں ووٹ ڈالنے کا کہا جاتا ہے۔ یا وزیراعظم کی ووٹنگ کے دن ان کو اغواء کیا جاتا ہے۔ تاکہ ان کا ووٹ شمار نہ ہو سکے۔

Facebook Comments HS